رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ.
رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
حضرت لوط (علیہ السلام) نے دعا کی[1] کہ پروردگار! اس مفسد قوم پر میری مدد فرما.
اس دعا میں «اُنْصُرْنِي» فعلِ امر ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے قومِ سدوم کے خلاف دعا کی، جو بدکاری میں ڈوبی ہوئی اور زمین میں فساد پھیلانے والی تھی۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
ان کے نبی کو ان سے مایوسی ہوگئی اور انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں۔ ان کے شدید انکار سے وہ رنجیدہ ہوئے، چنانچہ انہوں نے ان کے خلاف دعا کی اور کہا: «اے میرے رب! مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما۔» پس اللہ نے ان کی دعا قبول فرما لی۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
سب سے خراب عادت ٭٭ لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خصلت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے، قتل وفساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے، مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے۔
گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے، مینڈھے لڑواتے، مرغ لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ راہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ [مسند احمد:241/6:ضعیف]
سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے، ننگے ہو جاتے تھے، کفر عنادسرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آ کر لوط علیہ السلام نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔ صفحہ نمبر6689
تفسیر البغوی
لوط نے کہا: «اے میرے رب! مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما»، یعنی عذاب کے بارے میں میری بات کو سچ ثابت کرکے۔
صحیح البخاری (حدیث نمبر 3373) میں ان فرشتوں کا واقعہ بیان ہوا ہے جو ابراہیم اور لوط علیہما السلام کے پاس آئے تھے۔