دعا 49 شفا اور غم 11 منٹ مطالعہ

جنت میں حمد اور شکر

جنت میں داخل ہونے والے اہلِ ایمان 35:34–35
عربی متن

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ، إِنَّ. رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ، فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ، وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ.

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ فاطر 35:34–35
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Al-ḥamdu lillāhi alladhī adh-haba ʿannā al-ḥazana inna rabbanā la-ghafūrun shakūrun alladhī aḥallanā dāra al-muqāmati min faḍlihi lā yamassunā fīhā naṣabun wa lā yamassunā fīhā lughūb
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا۔ بےشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے واﻻ، بڑا قدردان ہے، جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے مقام میں ﻻ اتارا، جہاں نہ ہم کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہم کو کوئی خستگی پہنچے گی۔

مفہوم اور خصوصیت

نوعیت: نیک لوگوں کی جنت کے باغات میں داخلے کے وقت حمد اور دعائیہ شکر (حمد)۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

(جس نے ہمیں ٹھہرایا) یعنی ہمیں وہاں عارضی گزرنے اور عبرت حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ مستقل قیام اور سکونت کے ساتھ اتارا۔ (ہمیشہ رہنے کا مقام) یعنی وہ گھر جہاں قیام ہمیشہ باقی رہے گا، اور جہاں اس کی بے شمار بھلائیوں، یکے بعد دیگرے آنے والی خوشیوں اور ہر قسم کی ناگواریوں کے زائل ہوجانے کے باعث قیام کی رغبت ہوگی۔ یہ ٹھکانہ ہمیں (اپنے فضل سے) عطا ہوا ہے؛ یہ ہمارے اعمال کی بدولت نہیں، بلکہ اللہ کے فضل اور کرم سے ہے۔ اگر اس کا فضل نہ ہوتا تو ہم اس مقام تک نہ پہنچتے جہاں پہنچے ہیں۔

(نہ ہمیں وہاں کوئی تکان پہنچے گی اور نہ وہاں ہمیں تھکن پہنچے گی) یعنی نہ جسموں کو، نہ دلوں اور قوتوں کو تھکاوٹ ہوگی، اور نہ نعمتوں سے کثرتِ لطف اندوزی کی وجہ سے کوئی تھکن لاحق ہوگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہلِ جنت کے جسموں کو کامل ساخت میں پیدا کرے گا اور ان کے لیے ہمیشہ راحت کے ایسے اسباب مہیا کرے گا کہ وہ اس حال میں ہوں گے کہ نہ انہیں تکان پہنچے گی، نہ تھکن، نہ فکر اور نہ غم۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنت میں نہیں سوئیں گے، کیونکہ نیند کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے تھکن دور اور راحت حاصل ہوتی ہے، جبکہ اہلِ جنت کی حالت اس کے برخلاف ہوگی۔ نیز نیند ایک چھوٹی موت ہے، اور اہلِ جنت کو موت نہیں آئے گی۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان میں شامل فرمائے۔

اور جب ان کی نعمتیں مکمل اور ان کی لذتیں پوری ہوجائیں گی تو (وہ کہیں گے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے غم دور کردیا) یہ ہر قسم کے غم کو شامل ہے۔ ان کے حسن میں کمی، کھانے پینے، لذتوں، جسموں یا وہاں ہمیشہ رہنے کے بارے میں انہیں کوئی غم نہیں ہوگا۔ وہ ایسی نعمتوں میں ہوں گے جن سے بڑھ کر کوئی نعمت ان کے تصور میں نہ ہوگی، اور یہ نعمتیں ہمیشہ بڑھتی رہیں گی۔ (بے شک ہمارا رب یقیناً بہت بخشنے والا، بہت قدر کرنے والا ہے) وہ ہماری لغزشیں معاف کرتا ہے، ہماری نیکیوں کو قبول کرکے ان کا اجر کئی گنا بڑھاتا ہے، اور اپنے فضل سے ہمیں وہ کچھ عطا کرتا ہے جس تک ہمارے اعمال اور آرزوئیں نہیں پہنچ سکتی تھیں۔

اس کی مغفرت سے وہ ہر ناپسندیدہ اور خوف ناک چیز سے نجات پا گئے، اور اس کے شکر و فضل سے انہیں ہر پسندیدہ اور محبوب نعمت حاصل ہوئی۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

اللہ کی کتاب کے وارث لوگ ٭٭ فرماتا ہے جن برگزیدہ لوگوں کو ہم نے اللہ کی کتاب کا وارث بنایا ہے انہیں قیامت کے دن ہمیشہ والی ابدی نعمتوں والی جنتوں میں لے جائیں گے۔ جہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک ہو گا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ [صحیح مسلم:250] ان کا لباس وہاں پر خاص ریشمی ہو گا۔

جس سے دنیا میں وہ ممانعت کر دیئے گئے تھے۔ حدیث میں ہے جو شخص یہاں دنیا میں حریر و ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔ [صحیح بخاری:5834] صفحہ نمبر7291 اور حدیث میں ہے یہ ریشم کافروں کے لیے دنیا میں ہے اور تم مومنوں کے لیے آخرت میں ہے۔ [صحیح بخاری:5831] اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جنت کے زیوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا انیہں سونے چاندی کے زیور پہنائے جائیں گے جو موتیوں سے جڑاؤ کئے ہوئے ہوں گے۔

ان پر موتی اور یاقوت کے تاج ہوں گے۔ جو بالکل شاہانہ ہوں گے۔ وہ نوجوان ہوں گے بغیر بالوں کے سرمیلی آنکھوں والے، ] ابو نعیم فی صفۃ الجنۃ: [267وہ جناب باری عزوجل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ اللہ کا احسان ہے جس نے ہم سے خوف ڈر زائل کر دیا اور دنیا اور آخرت کی پریشانیوں اور پشمانیوں سے ہمیں نجات دے دی حدیث شریف میں ہے کہ لا الہٰ الا اللہ کہنے والوں پر قبروں میں میدان محشر میں کوئی دہشت و وحشت نہیں۔ میں تو گویا انہیں اب دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں پر سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے ہیں اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا۔

[ابن حبان فی المجروحین:202/1:ضعیف] صفحہ نمبر7292 طبرانی میں ہے موت کے وقت بھی انہیں کوئی گھبراہٹ نہیں ہو گی۔ [مجمع الزوائد:18324] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ان کی بڑی بڑی اور بہت سی خطائیں معاف کر دی گئیں اور چھوٹی چھوٹی اور کم مقدار نیکیاں قدر دانی کے ساتھ قبول فرمائی گئیں، یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے فضل و کرم،لطف و رحم سے یہ پاکیزہ بلند ترین مقامات عطا فرمائے ہمارے اعمال تو اس قابل تھے ہی نہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے تم میں سے کسی کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے پوچھا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا ہاں مجھے بھی اسی صورت اللہ کی رحمت ساتھ دے گی۔

[صحیح بخاری:5673] وہ کہیں گے یہاں تو ہمیں نہ کسی طرح کی مشقت و محنت ہے نہ تھکان اور کلفت ہے۔ روح الگ خوش ہے جسم الگ راضی راضی ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو دنیا میں اللہ کی راہ میں تکلیفیں انہیں اٹھانی پڑی تھیں آج راحت ہی راحت ہے۔ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ پسند اور دل پسند کھاتے پیتے رہو اور اس کے بدلے جو دنیا میں تم نے میری فرماں برداریاں کیں۔ صفحہ نمبر7293

اللہ کی کتاب کے وارث لوگ ٭٭ فرماتا ہے جن برگزیدہ لوگوں کو ہم نے اللہ کی کتاب کا وارث بنایا ہے انہیں قیامت کے دن ہمیشہ والی ابدی نعمتوں والی جنتوں میں لے جائیں گے۔ جہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک ہو گا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ [صحیح مسلم:250] ان کا لباس وہاں پر خاص ریشمی ہو گا۔

جس سے دنیا میں وہ ممانعت کر دیئے گئے تھے۔ حدیث میں ہے جو شخص یہاں دنیا میں حریر و ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔ [صحیح بخاری:5834] صفحہ نمبر7291 اور حدیث میں ہے یہ ریشم کافروں کے لیے دنیا میں ہے اور تم مومنوں کے لیے آخرت میں ہے۔ [صحیح بخاری:5831] اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جنت کے زیوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا انیہں سونے چاندی کے زیور پہنائے جائیں گے جو موتیوں سے جڑاؤ کئے ہوئے ہوں گے۔

ان پر موتی اور یاقوت کے تاج ہوں گے۔ جو بالکل شاہانہ ہوں گے۔ وہ نوجوان ہوں گے بغیر بالوں کے سرمیلی آنکھوں والے، ] ابو نعیم فی صفۃ الجنۃ: [267وہ جناب باری عزوجل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ اللہ کا احسان ہے جس نے ہم سے خوف ڈر زائل کر دیا اور دنیا اور آخرت کی پریشانیوں اور پشمانیوں سے ہمیں نجات دے دی حدیث شریف میں ہے کہ لا الہٰ الا اللہ کہنے والوں پر قبروں میں میدان محشر میں کوئی دہشت و وحشت نہیں۔ میں تو گویا انہیں اب دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں پر سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے ہیں اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا۔

[ابن حبان فی المجروحین:202/1:ضعیف] صفحہ نمبر7292 طبرانی میں ہے موت کے وقت بھی انہیں کوئی گھبراہٹ نہیں ہو گی۔ [مجمع الزوائد:18324] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ان کی بڑی بڑی اور بہت سی خطائیں معاف کر دی گئیں اور چھوٹی چھوٹی اور کم مقدار نیکیاں قدر دانی کے ساتھ قبول فرمائی گئیں، یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے فضل و کرم،لطف و رحم سے یہ پاکیزہ بلند ترین مقامات عطا فرمائے ہمارے اعمال تو اس قابل تھے ہی نہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے تم میں سے کسی کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے پوچھا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا ہاں مجھے بھی اسی صورت اللہ کی رحمت ساتھ دے گی۔

[صحیح بخاری:5673] وہ کہیں گے یہاں تو ہمیں نہ کسی طرح کی مشقت و محنت ہے نہ تھکان اور کلفت ہے۔ روح الگ خوش ہے جسم الگ راضی راضی ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو دنیا میں اللہ کی راہ میں تکلیفیں انہیں اٹھانی پڑی تھیں آج راحت ہی راحت ہے۔ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ پسند اور دل پسند کھاتے پیتے رہو اور اس کے بدلے جو دنیا میں تم نے میری فرماں برداریاں کیں۔ صفحہ نمبر7293

تفسیر البغوی

(اور وہ کہیں گے) یعنی جب جنت میں داخل ہوں گے تو کہیں گے: (سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے غم دور کردیا)۔ الحَزَن اور الحُزْن ایک ہی معنی رکھتے ہیں، جیسے البُخْل اور البَخَل۔ ابن عباس نے کہا: اس سے مراد آگ کا غم ہے۔ قتادہ نے کہا: موت کا غم۔

مقاتل نے کہا: وہ اس لیے غمگین تھے کہ انہیں معلوم نہ تھا کہ اللہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ عکرمہ نے کہا: گناہوں اور برائیوں کا غم، اور اطاعت کے اعمال کے رد کیے جانے کا خوف۔ قاسم نے کہا: نعمتوں کے زائل ہوجانے اور دل کے پلٹ جانے کا غم، اور انجام کا خوف۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد قیامت کے ہول ناک حالات کا غم ہے۔

کلبی نے کہا: دنیا میں قیامت کے معاملے سے متعلق جو کچھ انہیں غمگین کرتا تھا، وہ مراد ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا: دنیا میں روٹی کی فکر۔ ایک قول یہ ہے کہ معاش کی فکر مراد ہے۔ زجاج نے کہا: اللہ نے اہلِ جنت سے ہر قسم کے غم دور کردیے، خواہ وہ معاش سے متعلق ہو یا آخرت سے۔

ہمیں ابو الحسن علی بن محمد بن الضحاک الخطیب نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو اسحاق ابراہیم بن محمد الاسفرایینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں ابو بکر احمد بن ابراہیم الاسماعیلی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو العباس احمد بن محمد الترابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن عبد الحمید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں عبد الرحمن بن زید بن اسلم نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن عمر سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لا إله إلا الله» کہنے والوں کو نہ اپنی قبروں میں وحشت ہوگی اور نہ دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت؛ گویا میں «لا إله إلا الله» کہنے والوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے ہیں: سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے غم دور کردیا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (بے شک ہمارا رب یقیناً بہت بخشنے والا، بہت قدر کرنے والا ہے)۔

(جس نے ہمیں ٹھہرایا) یعنی ہمیں اتارا۔ (ہمیشہ رہنے کا مقام) یعنی قیام گاہ۔ (اپنے فضل سے؛ نہ ہمیں وہاں کوئی تکان پہنچے گی) یعنی وہاں ہمیں مشقت اور دشواری نہیں پہنچے گی۔ (اور نہ ہمیں وہاں تھکن پہنچے گی) یعنی تھکاوٹ سے پیدا ہونے والی ناتوانی۔

تائیدی حدیث

صحیح البخاری (حدیث نمبر 6549) میں روایت ہے: «جنت میں ایک منادی پکار کر کہے گا: بے شک تم ہمیشہ تندرست رہو گے اور کبھی بیمار نہ پڑو گے، زندہ رہو گے اور کبھی نہیں مرو گے!»

نشانیاں
  • #حمد
  • #شکر
  • #جنت
  • #غم کا خاتمہ
  • #اللہ کی مغفرت
  • #ہمیشہ کی راحت

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →