أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ، وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ.
أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے۔
نوعیت: اپنی حالتِ پریشانی کا بیان (الحَالُ لِسَانٌ)۔ نبوی ادب کی معراج: حضرت ایوب علیہ السلام نے کوئی مطالبہ نہیں کیا، بلکہ عاجزی سے اپنی بیماری کا حال بیان کیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی تعریف کی۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
یعنی اپنے بندے اور رسول ایوب علیہ السلام کا ذکر کیجیے، ان کی مدح و تعظیم کرتے ہوئے اور ان کا مرتبہ بلند کرتے ہوئے، جب اللہ نے انہیں سخت آزمائش میں مبتلا کیا تو انہیں صبر کرنے والا اور اللہ کی تقدیر پر راضی پایا۔ یہ اس طرح ہوا کہ اللہ کی طرف سے آزمائش اور امتحان کے طور پر شیطان کو ان کے جسم پر مسلط کیا گیا، چنانچہ اس نے ان کے جسم میں پھونک ماری اور ان کے جسم پر بڑے بڑے پھوڑے نکل آئے۔ وہ ایک طویل مدت تک اسی حالت میں رہے اور ان کی آزمائش سخت ہوگئی۔ ان کے اہل و عیال وفات پاگئے اور ان کا مال جاتا رہا۔
تب انہوں نے اپنے رب کو پکارا: «اَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» یعنی ’’مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔‘‘ انہوں نے اپنی حالت بیان کرکے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ پکڑا، اور بتایا کہ تکلیف انہیں پوری طرح آ پہنچی ہے۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
آزمائش اور مصائب ایوب علیہ السلام ٭٭ حضرت ابوب علیہ السلام کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال ومتاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے۔
شہر کے ایک ویران کونے میں آپ علیہ السلام کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ سوائے آپ علیہ السلام کی ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے اور کوئی آپ علیہ السلام کے پاس نہ رہا، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ کر لیا۔ یہی ایک تھیں جو ان کی خدمت کرتی تھیں ساتھ ہی محنت مزدوری کر کے پیٹ پالنے کو بھی لایا کرتی تھیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح لوگوں کا پھر ان سے نیچے کے درجے والوں کا پھر ان سے کم درجے والوں کا ۔ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ ہر شخص کا امتحان اس کے دین کے انداز سے ہوتا ہے اگر وہ دین میں مضبوط ہے امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے ۔ ؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایوب علیہ السلام بڑے ہی صابر تھے یہاں تک کہ صبر ایوب زبان زد عام ہے۔ صفحہ نمبر5486 یزید بن میسرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ” جب آپ علیہ السلام کی آزمائش شروع ہوئی اہل و عیال مرگئے مال فنا ہوگیا کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی۔
آپ علیہ السلام اللہ کے ذکر میں اور بڑھ گئے کہنے لگے ” اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے مال دیا اولاد دی اس وقت میرا دل بہت ہی مشغول تھا اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان فکروں سے پاک کر دیا اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہ رہا اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لیتا تو وہ مجھ پر بہت ہی حسد کرتا۔ “ ابلیس لعین اس قول سے اور اس وقت کی اس حمد سے جل بھن کر رہ گیا۔ [الدر المنشور للسیوطی:589/4:ضعیف]
آپ علیہ السلام کی دعاؤں میں یہ بھی دعا تھی ” اے اللہ تو نے جب مجھے توانگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا تو خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں نے نہ کبھی غرور و تکبر کیا نہ کبھی کسی پر ظلم ستم کیا۔ میرے پروردگار تجھ پر روشن ہے کہ میرا نرم و گرم بستر تیار ہوتا اور میں راتوں کو تیری عبادتوں میں گزارتا اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا کہ تو اس لیے پیدا نہیں کیا گیا تیری رضا مندی کی طلب میں میں اپنی راحت و آرام کو ترک کر دیا کرتا۔ “ [ ابن ابی حاتم ]
اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ایک بہت لمبا قصہ ہے جسے بہت سے پچھلے مفسیرین نے بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن اس میں غرابت ہے اور اس کے طول کی وجہ سے ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ مدتوں تک آپ علیہ السلام ان بلاؤں میں مبتلا رہے۔ صفحہ نمبر5487 حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ” سات سال اور کئی ماہ آپ علیہ السلام بیماری میں مبتلا رہے۔
بنو اسرائیل کے کوڑے پھینکنے کی جگہ آپ علیہ السلام کو ڈال رکھا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے، پھر اللہ نے آپ علیہ السلام پر رحم و کرم کیا تمام بلاؤں سے نجات دی اجر دیا اور تعریفیں کیں۔ “
وہب بن منبہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ” پورے تین سال آپ علیہ السلام اس تکلیف میں رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا تھا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑا رہ گیا۔ آپ علیہ السلام دکھ میں پڑے رہتے تھے صرف ایک بیوی صاحبہ تھیں جو آپ علیہ السلام کے پاس تھیں۔
جب زیادہ زمانہ گزر گیا تو ایک روز عرض کرنے لگیں کہ ” اے نبی اللہ علیہ السلام آپ علیہ السلام اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔ “ آپ علیہ السلام فرمانے لگے ” سنو ستر برس تک اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت وعافیت میں رکھا تو اگر ستر سال تک میں اس حالت میں رہوں اور صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے۔ “ اس پر بیوی صاحبہ کانپ اٹھیں آپ شہر میں جاتیں، لوگوں کا کام کاج کرتیں اور جو ملتا وہ لے آتیں اور آپ علیہ السلام کو کھلاتیں پلاتیں۔
صفحہ نمبر5488 آپ علیہ السلام کے دو دوست اور دلی خیرخواہ دوست تھے انہیں فلسطین میں جاکر شیطان نے خبر دی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے تم جاؤ ان کی خبرگیری کرو اور اپنے ہاں کی کچھ شراب اپنے ساتھ لے جاؤ وہ پلادینا اس سے انہیں شفاء ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ دونوں آئے ایوب علیہ السلام کی حالت دیکھتے ہی ان کے آنسو نکل آئے بلبلا کر رونے لگے۔
آپ علیہ السلام نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ علیہ السلام خوش ہوئے انہیں مرحبا کہا وہ کہنے لگے ” اے جناب آپ شاید کچھ چھپاتے ہوں گے اور ظاہر اس کے خلاف کرتے ہوں گے؟ “ آپ علیہ السلام نے نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا ” اللہ خوب جانتا ہے کہ میں کیا چھپاتا تھا اور کیا ظاہر کرتا تھا میرے رب نے مجھے اس میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بے صبری؟ “
وہ کہنے لگے اچھا ہم آپ کے واسطے دوا لائے ہیں آپ اسے پی لیجئے شفاء ہو جائے گی یہ شراب ہے۔ ہم اپنے ہاں سے لائے ہیں۔ یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام سخت غضبناک ہوئے اور فرمانے لگے ” تمہیں شیطان خبیث لایا ہے تم سے کلام کرنا تمہارا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے۔ “ یہ دونوں آپ علیہ السلام کے پاس سے چلے گئے۔
صفحہ نمبر5489 ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ایک گھر والوں کی روٹیاں پکائیں ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا تو انہوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا انہیں دے دی یہ لے کر ایوب علیہ السلام کے پاس آئیں۔ آپ علیہ السلام نے کہا ” یہ آج کہاں سے لائیں؟ “ انہوں نے ساراواقعہ بیان کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ” ابھی ابھی واپس جاؤ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کی ضد کرتا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کرتا ہو۔ “
آپ روٹی واپس لے کرچلیں ان کی ڈیوڑھی میں بکری بندھی ہوئی تھی اس نے زور سے آپ کو ٹکر ماری آپ کی زبان سے نکل گیا دیکھو ایوب کیسے غلط خیال والے ہیں۔ پھر اوپر گئیں تو دیکھا واقعی بچہ جاگا ہوا ہے اور ٹکیا کے لیے مچل رہا ہے اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے یہ دیکھ کر بے ساختہ زبان سے نکلا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے، اچھے موقعہ پر پہنچی۔ ٹکیا دے دی اور واپس لوٹیں راستے میں شیطان بہ صورت طبیب ملا اور کہنے لگا کہ تیرے خاوند سخت تکلیف میں ہیں مرض پر مدتیں گزر گئیں تم انہیں سمجھاؤ فلاں قبیلے کے بت کے نام پر ایک مکھی مار دیں شفاء ہو جائے گی پھر توبہ کر لیں۔
جب آپ ایوب علیہ السلام کے پاس پہنچیں تو ان سے یہ کہا آپ علیہ السلام نے فرمایا ” شیطان خبیث کاجادو تجھ پر چل گیا۔ میں تندرست ہو گیا تو تجھے سو کوڑے لگاؤں گا۔ “
ایک دن آپ حسب معمول تلاش معاش میں نکلیں گھر گھر پھر آئیں کہیں کام نہ لگا مایوس ہوگئیں شام کو پلٹنے وقت ایوب علیہ السلام کی بھوک کا خیال آیا تو آپ نے اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک امیر لڑکی کے ہاتھ فروخت کر دی اس نے آپ کو بہت کچھ کھانے پینے کا اسباب دیا۔ جسے لے کر آپ آئیں، ایوب علیہ السلام نے پوچھا ” یہ آج اتنا سارا اور اتنا اچھا کھانا کیسے مل گیا؟ “ فرمایا میں نے ایک امیر گھر کا کام کر دیا تھا۔
آپ علیہ السلام نے کھا لیا دوسرے روز بھی اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور آپ نے اپنے بالوں کی دوسری لٹ کاٹ کر فروخت کر دی اور کھانا لے آئیں آج بھی یہی کھانا دیکھ کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ” واللہ میں ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک تو مجھے یہ نہ بتا دے کہ کیسے لائی؟ “ اب آپ نے اپنا دوپٹہ سر سے اتار دیا دیکھا کہ سرکے بال سب کٹ چکے ہیں اس وقت سخت گھبراہٹ اور بے چینی ہوئی اور اللہ سے دعا کی کہ ” مجھے ضرر پہنچا اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے۔ “ صفحہ نمبر5490 حضرت نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ” جو شیطان ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔
ایوب علیہ السلام کی بیوی صاحبہ عموماً آپ علیہ السلام سے عرض کیا کرتی تھیں کہ اللہ سے دعا کرو۔ لیکن آپ علیہ السلام نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن بنو اسرائیل کے کچھ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس سے نکلے اور آپ علیہ السلام کو دیکھ کر کہنے لگے اس شخص کو یہ تکلیف ضرور کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے اس وقت بےساختہ آپ علیہ السلام کی زبان سے یہ دعا نکل گئی۔ “
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ” ایوب علیہ السلام کہ دو بھائی تھے ایک دن وہ ملنے کے لیے آئے۔ لیکن جسم کی بدبو کی وجہ سے قریب نہ آسکے دور ہی سے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر اس شخص میں بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت میں نہ ڈالتا اس بات نے ایوب علیہ السلام کو وہ صدمہ پہنچایا جو آج تک آپ علیہ السلام کو کسی چیز سے نہ ہوا تھا اس وقت کہنے لگے ” اللہ کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گزری کہ کوئی بھوکا شخص میرے علم میں ہو اور میں نے پیٹ بھرلیا ہو پروردگار اگر میں اپنی اس بات میں تیرے نزدیک سچا ہوں تو میری تصدیق فرما۔
“ اُسی وقت آسمان سے آپ علیہ السلام کی تصدیق کی گئی تھی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔
پھر فرمایا کہ ” پروردگار کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اور میں نے کسی ننگے کو نہ دیے ہوں اگر میں اس میں سچا ہوں تو میری تصدیق آسمان سے کر۔ “ اس پر بھی آپ کی تصدیق ان کے سنتے ہوئے کی گئی۔
پھر یہ دعا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے کہ ” اے اللہ میں تو اب سجدے سے سر نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے ان تمام مصیبتوں کو دور نہ کر دے جو مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ “ چنانچہ یہ دعاقبول ہوئی۔ اور اس سے پہلے کہ آپ علیہ السلام سر اٹھائیں تمام تکلیفیں اور بیماریاں دور ہو گئیں جو آپ علیہ السلام پر اتری تھیں۔
صفحہ نمبر5491 ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام اٹھارہ برس تک بلاؤں میں گھرے رہے پھر ان کے دو دوستوں کے آنے اور بدگمانی کرنے کا ذکر ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت تھی کہ راستہ چلتے دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھتا اور ان میں سے کسی کو قسم کھاتے سن لیتا تو گھر آکر اس کی طرف سے کفارہ ادا کر دیتا کہ ایسا نہ ہو کہ اس نے نام ناحق لیا ہو۔ آپ علیہ السلام اپنی اس بیماری میں اس قدر نڈھال ہو گئے تھے کہ آپ کی بیوی صاحبہ ہاتھ تھام کر پاخانہ پیشاب کے لیے لے جاتی تھیں۔
ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کو حاجت تھی آپ نے آواز دی لیکن انہیں آنے میں دیر لگی آپ کو سخت تکلیف ہوئی اسی وقت آسمان سے ندا آئی کہ ” اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو اسی پانی کو پی بھی لو اور اسی سے نہا بھی لو “ اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل غریب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/23:] صفحہ نمبر5492 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے جنت کا حلہ نازل فرما دیا جسے پہن کر آپ علیہ السلام یکسو ہو کر بیٹھ گئے۔ جب آپ کی بیوی آئیں اور آپ علیہ السلام کو نہ پہچان سکیں تو، آپ علیہ السلام سے پوچھنے لگیں اے اللہ کے بندے یہاں ایک بیمار بے کس، بے بس تھے تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیا ہوئے؟ کہیں انہیں بھیڑئیے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں؟
تب آپ علیہ السلام نے فرمایا ” نہیں نہیں وہ بیمار ایوب (علیہ السلام) میں ہی ہوں۔ “ بیوی صاحبہ کہنے لگی اے شخص تو مجھ دکھیا عورت سے ہنسی کر رہا ہے اور مجھے بنا رہا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ” نہیں نہیں مجھے اللہ نے شفا دے دی اور یہ رنگ روپ بھی۔ “
آپ علیہ السلام کا مال آپ کو واپس دیا گیا، آپ علیہ السلام کی اولاد وہی آپ علیہ السلام کو واپس ملی اور ان کے ساتھ ہی ویسی ہی اور بھی وحی میں یہ خوشخبری بھی سنا دی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ ” قربانی کرو اور استغفار کرو، تیرے اپنوں نے تیرے بارے میں میری نافرمانی کرلی تھی “ ۔
اور روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو عافیت عطا فرمائی آسمان سے سونے کی ٹڈیاں ان پر برسائیں جنہیں لے کر آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کر دیں تو آواز دی گئی کہ اے ایوب کیا تو اب تک آسودہ نہیں ہوا؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ” اے میرے پروردگار تیری رحمت سے آسودہ کون ہوسکتا ہے؟ “ [مسند احمد:314/2:]
پھر فرماتا ہے ” ہم نے اسے اس کے اہل عطا فرمائے “ ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں ” وہی لوگ واپس کئے گئے۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:506/18:] آپ علیہ السلام کی بیوی کا نام رحمت تھا۔ یہ قول اگر آیت سے سمجھا گیا ہے تو یہ بھی دور از کار امر ہے اور اگر اہل کتاب سے لیا گیا ہے تو وہ تصدیق تکذیب کے قابل ہے چیز نہیں۔
ابن عساکر نے ان کا نام اپنی تاریخ میں “ لیا “ بتایا ہے۔ یہ منشا بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔ صفحہ نمبر5493 ایک قول یہ بھی ہے کہ ” لیا “ یعقوب علیہ السلام کی بیٹی ایوب علیہ السلام کی بیوی ہیں جو شفیعہ کی زمین میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھیں۔ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ ” تیری اہل سب جنت میں ہیں تم کہو تو میں ان سب کو یہاں دنیا میں لادوں اور کہے تو وہیں رہنے دوں اور دنیا میں ان کا عوض دوں “ آپ علیہ السلام نے دوسری بات پسند فرمائی۔
پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ علیہ السلام کو ملا۔ ” یہ سب کچھ ہماری رحمت کا ظہور تھا۔ اور ہمارے سچے عابدوں کے لیے نصیحت وعبرت تھی “ ، آپ علیہ السلام اہل بلا کے پیشوا تھے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے لیے آپ کی ذات میں عبرت دیکھیں، بے صبری سے ناشکری نہ کرنے لگیں اور لوگ انہیں اللہ کے برے بندے نہ سمجھیں۔
ایوب علیہ السلام صبر کا پہاڑ ثابت قدمی کا نمونہ تھے اللہ کے لکھے پر، اس کے امتحان پر انسان کو صبر و برداشت کرنی چاہیئے نہ جانیں قدرت درپردہ اپنی کیا کیا حکمتیں دکھا رہی ہے۔ صفحہ نمبر5494
تفسیر البغوی
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: «وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ» یعنی اور ایوب کو یاد کیجیے، جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا۔ یعنی اپنے رب سے دعا کی۔ وہب بن منبہ نے کہا: حضرت ایوب علیہ السلام رومیوں میں سے تھے۔ ان کا نسب ایوب بن اموص بن رازخ بن روم بن عیص بن اسحاق بن ابراہیم تھا، اور ان کی والدہ لوط بن ہاران کی اولاد میں سے تھیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں برگزیدہ کیا اور نبوت عطا فرمائی، اور دنیا میں ان پر فراخی کی۔ شام کے علاقے بطنیہ کی پوری ہموار اور پہاڑی زمین ان کی ملکیت تھی۔ ان کے پاس ہر قسم کے مال، یعنی گائیں، اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور گدھے اس قدر تھے کہ کسی آدمی کے پاس اتنی کثرت اور سامان نہ تھا۔ ان کے پاس پانچ سو کھیت تھے، ہر کھیت کے ساتھ پانچ سو غلام تھے، اور ہر غلام کی بیوی، اولاد اور مال تھا۔
ہر کھیت کے سامان کے لیے ایک گدھی تھی، اور ہر گدھی کے دو، تین، چار، پانچ یا اس سے بھی زیادہ بچے ہوتے تھے۔ اللہ عزوجل نے انہیں مردوں اور عورتوں میں سے اہل و عیال اور اولاد بھی عطا کی تھی۔ وہ نیک، پرہیزگار اور مسکینوں پر رحم کرنے والے تھے؛ مسکینوں کو کھانا کھلاتے، بیواؤں اور یتیموں کی کفالت کرتے، مہمان کی عزت کرتے اور مسافر کی مدد کرتے۔ وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار اور اللہ کے حقوق ادا کرنے والے تھے۔
اللہ کے دشمن ابلیس کو ان کے پاس کوئی ایسا راستہ نہ ملا جس سے وہ انہیں اس طرح دھوکے اور غفلت میں مبتلا کرسکتا جیسے مال دار لوگوں کو دنیا کی مشغولیت کے سبب اللہ کے حکم سے غافل کردیتا ہے۔ ان کے ساتھ تین آدمی تھے جو ان پر ایمان لائے اور ان کی تصدیق کرتے تھے: یمن کا ایک آدمی جسے الیقن کہا جاتا تھا، اور ان کے شہر کے دو آدمی، جن میں سے ایک کا نام یلدد اور دوسرے کا صافر تھا۔ وہ عمر رسیدہ تھے۔
ابلیس کو آسمانوں میں آنے جانے سے نہیں روکا جاتا تھا اور وہ جہاں چاہتا وہاں کھڑا ہوتا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا، تو اسے چار آسمانوں سے روک دیا گیا۔ پھر جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اسے باقی تین آسمانوں سے بھی روک دیا گیا۔ ابلیس نے فرشتوں کو حضرت ایوب علیہ السلام کے لیے دعا کرتے ہوئے سنا۔ یہ اس وقت ہوا جب اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا اور ان کی تعریف فرمائی۔
ابلیس حسد اور سرکشی میں مبتلا ہوکر تیزی سے اوپر چڑھا اور آسمان پر اسی مقام پر جا کھڑا ہوا جہاں وہ کھڑا ہوا کرتا تھا۔ اس نے کہا: ’’اے میرے معبود! میں نے تیرے بندے ایوب کے معاملے پر غور کیا ہے۔ وہ تیرا ایسا بندہ ہے جسے تو نے نعمتیں دیں، تو اس نے تیرا شکر ادا کیا؛ تو نے اسے عافیت دی، تو اس نے تیری حمد کی۔
اگر تو اس سے وہ نعمتیں چھین کر اسے آزمائے جو تو نے اسے عطا کی ہیں، تو وہ اپنی شکرگزاری اور عبادت کی حالت بدل دے گا اور تیری اطاعت سے نکل جائے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جاؤ، میں نے تمہیں اس کے مال پر مسلط کردیا ہے۔‘‘
اللہ کا دشمن ابلیس نیچے زمین پر آ گرا، پھر اس نے جنوں کے عفریتوں اور سرکش شیاطین کو جمع کیا اور کہا: ’’تمہارے پاس کتنی طاقت ہے؟ مجھے ایوب کے مال پر مسلط کردیا گیا ہے؛ یہ بہت بڑی مصیبت اور ایسا امتحان ہے جس پر مرد صبر نہیں کرسکتے۔‘‘ شیاطین میں سے ایک عفریت نے کہا: ’’مجھے اتنی طاقت دی گئی ہے کہ جب چاہوں آگ کے بگولے کی صورت اختیار کرکے جس چیز کے پاس سے گزروں اسے جلا دوں۔‘‘ ابلیس نے کہا: ’’اونٹوں اور ان کے چرواہوں کے پاس جاؤ۔‘‘
وہ اونٹوں کے پاس اس وقت پہنچا جب انہوں نے چرنے کی جگہوں پر سر جھکا رکھے تھے۔ لوگوں کو کچھ خبر نہ ہوئی کہ زمین کے نیچے سے آگ کا بگولا اٹھا؛ جو اس کے قریب جاتا جل جاتا۔ اس نے اونٹوں اور ان کے چرواہوں کو جلا دیا، یہاں تک کہ سب ختم ہوگئے۔ پھر اللہ کا دشمن ابلیس ایک بدصورت شکل میں، ایک اونٹ پر سوار ہوکر حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آیا، اور انہیں کھڑے نماز پڑھتے پایا۔
اس نے کہا: ’’اے ایوب! آگ آئی اور تمہارے اونٹوں اور ان میں موجود لوگوں کو گھیر کر جلا گئی، میرے سوا کوئی نہ بچا۔‘‘ ایوب علیہ السلام نے فرمایا: ’’تمام حمد اللہ کے لیے ہے، جس نے انہیں عطا کیا تھا اور وہی انہیں لے گیا۔ میں نے پہلے ہی اپنے مال اور اپنی جان کو فنا کے لیے تیار کر رکھا تھا۔‘‘
ابلیس نے کہا: ’’تمہارے رب نے آسمان سے آگ بھیجی تھی، جس نے انہیں جلا دیا۔ لوگ حیران رہ گئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے: کچھ نے کہا، ایوب کسی چیز کی عبادت نہیں کرتے تھے، وہ تو دھوکے میں تھے۔ کچھ نے کہا، اگر ایوب کا معبود کچھ کرنے کی قدرت رکھتا تو اسے روک دیتا۔ اور کچھ نے کہا، بلکہ اس نے خود ایسا کیا تاکہ اپنے دشمن کو خوش اور اپنے دوست کو غم زدہ کرے۔‘‘
ایوب علیہ السلام نے فرمایا: ’’اللہ کی حمد ہے، اس وقت بھی جب اس نے مجھے دیا، اور اس وقت بھی جب اس نے مجھ سے لے لیا۔ میں اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا نکلا تھا، ننگا ہی مٹی میں واپس جاؤں گا اور ننگا ہی اللہ کے حضور اٹھایا جاؤں گا۔ جب اس نے تمہیں مال عاریتاً دیا تو تمہیں خوش ہونے کا حق نہیں، اور جب اس نے اپنی امانت واپس لی تو تمہیں بے صبری کرنے کا حق نہیں۔ اے بندے، اللہ تم سے اور جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے، اس سے بڑھ کر حق دار ہے۔
اگر اللہ تمہارے اندر کوئی بھلائی جانتا تو تمہاری روح کو بھی ان روحوں کے ساتھ لے جاتا اور تم شہید ہوجاتے؛ لیکن اس نے تم میں شر جانا، اس لیے تمہیں پیچھے رکھا۔‘‘ ابلیس اپنے ساتھیوں کے پاس ذلیل و خوار لوٹا اور بولا: ’’تمہارے پاس کتنی طاقت ہے؟ میں اس کے دل کو نہ ہلا سکا۔‘‘
ایک عفریت نے کہا: ’’میرے پاس اتنی طاقت ہے کہ جب چاہوں ایسی چیخ ماروں جسے کوئی ذی روح سن لے تو اس کی جان نکل جائے۔‘‘ ابلیس نے کہا: ’’بکریوں اور ان کے چرواہوں کے پاس جاؤ۔‘‘ وہ ان کے درمیان پہنچا اور چیخ ماری، تو سب بکریاں اور چرواہے مردہ ہوکر گر پڑے۔ پھر ابلیس چرواہوں کے نگران کی شکل میں حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آیا، جب وہ نماز پڑھ رہے تھے، اور پہلے جیسی بات کہی۔
ایوب علیہ السلام نے بھی پہلے جیسا جواب دیا۔ پھر ابلیس اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آیا اور پوچھا: ’’تمہارے پاس کیا طاقت ہے؟ میں ایوب کے دل کو نہ ہلا سکا۔‘‘ ایک عفریت نے کہا: ’’میرے پاس اتنی طاقت ہے کہ جب چاہوں ایسی تیز آندھی بن جاؤں جو جس چیز کے پاس سے گزرے اسے اڑا دے۔‘‘
ابلیس نے کہا: ’’کھیتوں اور ہل چلائی ہوئی زمین پر جاؤ۔‘‘ لوگ کچھ سمجھ پاتے اس سے پہلے تیز آندھی چلی اور سب کچھ اس طرح اڑا لے گئی جیسے کبھی موجود ہی نہ تھا۔ پھر ابلیس کھیتوں کے نگران کی شکل میں حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آیا، جب وہ نماز پڑھ رہے تھے، اور پہلے جیسی بات کہی۔ ایوب علیہ السلام نے بھی پہلے جیسا جواب دیا۔
جب بھی ان کے مال میں سے کچھ تباہ ہوتا تو وہ اللہ کی حمد کرتے، بہترین ثنا بیان کرتے، اس کی تقدیر پر راضی رہتے اور آزمائش پر صبر کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھتے، یہاں تک کہ ان کے پاس کوئی مال نہ بچا۔
جب ابلیس نے دیکھا کہ وہ ان کا سارا مال ختم کرچکا ہے تو وہ اوپر چڑھا اور کہا: ’’اے میرے معبود! ایوب سمجھتے ہیں کہ جب تک تو نے انہیں اولاد سے نوازا ہے، تو انہیں مال بھی عطا کرے گا۔ کیا تو مجھے ان کی اولاد پر مسلط کرے گا؟ یہ وہ مصیبت ہے جسے مردوں کے دل برداشت نہیں کرسکتے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جاؤ، میں نے تمہیں ان کی اولاد پر مسلط کردیا ہے۔‘‘ اللہ کا دشمن تیزی سے آیا اور حضرت ایوب علیہ السلام کی اولاد تک پہنچا، جو اپنے محل میں تھی۔ اس نے ان کے گرد زمین ہلائی، یہاں تک کہ محل کی بنیادیں ٹوٹنے لگیں۔ پھر اس نے دیواروں کو ایک دوسرے پر گرانا شروع کیا اور ان پر لکڑیاں اور پتھر پھینکے۔
جب اس نے انہیں بری طرح زخمی کردیا تو محل کو اٹھا کر الٹ دیا، اور وہ سر کے بل گرے۔ پھر وہ اس استاد کی شکل میں حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آیا جو ان کے بچوں کو حکمت سکھاتا تھا۔ اس کا چہرہ زخمی اور خراشوں سے بھرا ہوا تھا، اور اس سے خون اور دماغ بہہ رہا تھا۔ اس نے خبر دی اور کہا: ’’کاش تم دیکھتے کہ تمہارے بیٹوں کو کیسے عذاب دیا گیا اور الٹا دیا گیا، وہ سر کے بل گرے ہوئے تھے اور ان کا خون اور دماغ بہہ رہا تھا۔
کاش تم دیکھتے کہ ان کے پیٹ چاک ہوئے اور ان کی انتڑیاں باہر نکل پڑیں، تو تمہارا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔‘‘ وہ مسلسل ایسی باتیں کہتا رہا، یہاں تک کہ ایوب علیہ السلام کا دل نرم ہوگیا۔ وہ روئے، مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر سر پر ڈالی اور کہا: ’’کاش میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا۔‘‘
ابلیس نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا، تیزی سے اوپر چڑھا اور ایوب علیہ السلام کی بے صبری کی خبر لے کر خوشی خوشی گیا۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد ایوب علیہ السلام سنبھل گئے، ہوش میں آئے اور استغفار کیا۔ ان کے ساتھی فرشتے ان کی توبہ لے کر اوپر چڑھے، اور ان کی توبہ اللہ کے حضور پہنچ گئی، حالاں کہ اللہ اسے خوب جانتا تھا۔ ابلیس ذلیل ہوکر کھڑا ہوا اور کہا: ’’اے میرے معبود!
مال اور اولاد نے ایوب کے لیے آزمائش کو آسان کردیا، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جب تک تو نے اسے زندہ رکھا ہے، اس کا مال اور اولاد بھی واپس دے گا۔ کیا تو مجھے اس کے جسم پر مسلط کرے گا؟‘‘ اللہ عزوجل نے فرمایا: ’’جاؤ، میں نے تمہیں اس کے جسم پر مسلط کیا، لیکن اس کی زبان اور دل پر تمہارا کوئی اختیار نہیں۔‘‘ اللہ عزوجل اس کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
اس نے ابلیس کو ایوب پر صرف اس لیے مسلط کیا کہ یہ ان کے لیے رحمت تھی، ان کا اجر عظیم ہو، انہیں صبر کرنے والوں کے لیے مثال اور عبادت گزاروں کے لیے نصیحت بنا دے، تاکہ ہر آزمائش میں مبتلا شخص ان کی طرح صبر اور اجر کی امید رکھے۔
اللہ کا دشمن تیزی سے آیا اور حضرت ایوب علیہ السلام کو سجدے میں پایا۔ اس نے ان کے سر اٹھانے سے پہلے جلدی کی، سامنے کی طرف سے آیا اور ان کے نتھنوں میں پھونک ماری۔ اس سے ان کا جسم بھڑک اٹھا، سر سے پاؤں تک ان پر بھیڑوں کی تھنوں جیسی گلٹیاں نکل آئیں۔ پھر انہیں خارش ہوئی؛ انہوں نے ناخنوں سے کھجایا، یہاں تک کہ ناخن گر گئے۔
پھر موٹے ٹاٹ سے کھجایا، یہاں تک کہ جلد کٹ گئی۔ پھر مٹی کے برتنوں اور کھردرے پتھروں سے کھجایا۔ وہ کھجاتے رہے، یہاں تک کہ ان کا گوشت سڑنے لگا، پھٹ گیا، رنگ بدل گیا اور بدبودار ہوگیا۔ گاؤں والوں نے انہیں وہاں سے نکال کر کوڑے کے ڈھیر پر ڈال دیا اور ان کے لیے ایک چھپر بنا دیا۔
ان کی بیوی کے سوا تمام لوگ ان سے دور ہوگئے۔ ان کی بیوی رحمہ بنت افراثیم بن یوسف بن یعقوب تھیں۔ وہ ان کی ضروریات لے کر ان کے پاس آتیں اور ان کی خدمت میں لگی رہتیں۔
جب ان کے تین ساتھی، یقیْن، یلدد اور صافر، نے دیکھا کہ اللہ نے انہیں آزمائش میں مبتلا کیا ہے تو انہوں نے انہیں بدگمان ہوکر چھوڑ دیا، اگرچہ انہوں نے اپنا دین نہیں چھوڑا تھا۔ جب آزمائش طویل ہوگئی تو وہ ان کے پاس آئے، انہیں ملامت کی اور کہا: ’’اللہ سے اس گناہ کی توبہ کرو جس کے سبب تمہیں سزا دی گئی ہے۔‘‘ ان کے ساتھ ایک نوجوان بھی حاضر تھا، جو ان پر ایمان لایا تھا اور ان کی تصدیق کرتا تھا۔ اس نے ان سے کہا: ’’اے عمر رسیدہ لوگو!
تم نے بات کی ہے، اور اپنی عمر کے سبب تمہیں بات کرنے کا زیادہ حق تھا، لیکن تم نے جو کہا اس سے بہتر بات چھوڑ دی، اور تمہاری رائے سے زیادہ درست رائے اور تمہارے طرزِ عمل سے زیادہ اچھا طریقہ چھوڑ دیا۔ ایوب کا تم پر جو حق اور ذمہ داری تھی، وہ اس سے بڑھ کر ہے جو تم نے بیان کیا۔ اے بزرگوں، کیا تم جانتے ہو کہ تم نے کس کے حق کو پامال کیا، کس حرمت کو توڑا، اور کس شخص پر عیب لگایا اور تہمت باندھی؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ایوب اللہ کے نبی، اس کی مخلوق میں اس کے برگزیدہ، اور تمہارے زمانے تک زمین والوں میں اس کے منتخب بندے ہیں؟
اس کے باوجود تمہیں ان کے معاملے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، اور اللہ نے تمہیں یہ نہیں بتایا کہ جب سے اس نے انہیں نعمتیں دیں، آج تک انہوں نے کوئی ایسا کام کیا ہو جس پر وہ ناراض ہوا ہو؛ نہ یہ کہ اللہ نے ان سے کوئی عزت واپس لی ہو جو انہیں عطا کی تھی، اور نہ یہ کہ تمہاری رفاقت کے طویل عرصے میں ایوب نے اللہ کے بارے میں کوئی خلافِ حق بات کہی ہو۔ اگر آزمائش ہی نے تمہاری نگاہ میں انہیں گرا دیا ہے اور تمہارے دلوں میں ان کا مقام کم کردیا ہے، تو تم جانتے ہو کہ اللہ مؤمنوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کو آزماتا ہے۔
ان کی آزمائش اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ ان سے ناراض ہے یا انہیں حقیر سمجھتا ہے؛ بلکہ یہ ان کے لیے عزت اور خیر کا انتخاب ہے۔ اگر ایوب کا اللہ کے ہاں یہ مقام نہ بھی ہوتا، اور وہ صرف تمہارے بھائی ہوتے جن سے تم نے رفاقت کے سبب محبت کی، تب بھی کسی بردبار شخص کے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ اس کا بھائی آزمائش میں مبتلا ہو تو وہ اسے عار دلائے، مصیبت پر ملامت کرے یا ایسی بات پر عیب لگائے جسے وہ جانتا نہیں۔ بلکہ اسے اس پر رحم کرنا، اس کے ساتھ رونا، اس کے لیے مغفرت مانگنا، اس کے غم میں شریک ہونا اور اسے درست راہ دکھانا چاہیے۔ جو یہ نہیں جانتا، وہ نہ بردبار ہے نہ راہ یافتہ۔
اللہ سے ڈرو، اے بزرگوں! اللہ کی عظمت و جلال اور موت کا ذکر ہی تمہاری زبانیں بند کرنے اور دل توڑنے کے لیے کافی ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جنہیں اللہ کا خوف خاموش کردیتا ہے، نہ کہ عجزِ بیان یا گونگاپن؟ وہ فصیح، بلیغ، شریف، عقل مند اور اللہ کو جاننے والے ہوتے ہیں، لیکن جب اللہ کی عظمت یاد کرتے ہیں تو ان کی زبانیں بند ہوجاتی ہیں، ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، ان کے دل ٹوٹ جاتے ہیں اور اللہ عزوجل کی تعظیم و جلال کے سبب ان کی عقلیں ماؤف ہوجاتی ہیں۔
جب وہ اس کیفیت سے سنبھلتے ہیں تو پاکیزہ اعمال کے ذریعے اللہ کی طرف سبقت کرتے ہیں، اپنے آپ کو ظالموں اور خطاکاروں میں شمار کرتے ہیں، حالاں کہ وہ نیک اور بے قصور ہوتے ہیں؛ اور کوتاہی کرنے والوں اور غفلت برتنے والوں میں شمار کرتے ہیں، حالاں کہ وہ زیرک اور مضبوط ہوتے ہیں۔‘‘
ایوب علیہ السلام نے کہا: ’’اللہ عزوجل اپنی رحمت سے چھوٹے اور بڑے کے دل میں حکمت پیدا کرتا ہے۔ جب حکمت دل میں اگتی ہے تو اللہ اسے زبان پر ظاہر کردیتا ہے۔ حکمت عمر اور بڑھاپے یا طویل تجربے سے نہیں آتی۔ جب اللہ کسی بندے کو بچپن ہی میں حکمت عطا کردے تو حکمت والے لوگوں کی نگاہ میں اس کا مقام کم نہیں ہوتا؛ وہ اس پر اللہ کی طرف سے عزت کا نور دیکھتے ہیں۔‘‘
پھر ایوب علیہ السلام ان سے منہ پھیر کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے، اس سے فریاد اور عاجزی کرنے لگے: ’’اے میرے رب! تو نے مجھے کس لیے پیدا کیا؟ کاش تو نے مجھے ناپسند کیا تھا تو پیدا ہی نہ کیا ہوتا! کاش مجھے معلوم ہوتا کہ مجھ سے کون سا گناہ ہوا اور میں نے کون سا عمل کیا جس کے سبب تو نے اپنا کریم چہرہ مجھ سے پھیر لیا۔
کاش تو نے مجھے موت دے دی ہوتی اور اپنے بزرگ آباؤ اجداد سے ملا دیا ہوتا؛ موت میرے لیے زیادہ مناسب تھی۔ کیا میں مسافر کے لیے ٹھکانا، مسکین کے لیے قرار، یتیم کا سرپرست اور بیوہ کا کفیل نہ تھا؟ اے میرے معبود! میں تیرا بندہ ہوں؛ اگر میں نے نیکی کی تو احسان تیرا ہے، اور اگر میں نے برائی کی تو سزا تیرے ہاتھ میں ہے۔
تو نے مجھے آزمائش کا نشانہ اور فتنے کا ہدف بنا دیا۔ مجھ پر ایسی مصیبت آئی ہے کہ اگر اسے پہاڑ پر ڈالا جاتا تو وہ اسے اٹھانے سے عاجز ہوجاتا؛ پھر میری کمزور ذات اسے کیسے اٹھا سکتی ہے؟ تیری تقدیر نے مجھے ذلیل کیا، اور تیرے اقتدار نے مجھے بیمار اور کمزور کردیا۔ اگر میرا رب میرے سینے سے وہ ہیبت ہٹا دیتا اور میری زبان کھول دیتا، تاکہ میں پورے منہ سے وہ بات کہہ سکوں جو بندے کو اپنے دفاع میں کہنی چاہیے، تو مجھے امید ہوتی کہ اس وقت تو میری اس تکلیف کو دور کردے گا۔
لیکن تو نے مجھے گرا دیا اور مجھ سے دور ہوگیا؛ تو مجھے دیکھتا ہے اور میں تجھے نہیں دیکھتا، تو میری بات سنتا ہے اور میں تیری بات نہیں سنتا۔ نہ تو نے میری طرف دیکھا کہ مجھ پر رحم کرتا، نہ میرے قریب آیا اور نہ مجھے اپنے قریب کیا، تاکہ میں اپنا عذر پیش کروں، اپنی براءت بیان کروں اور اپنا دفاع کرسکوں۔‘‘
جب ایوب علیہ السلام نے یہ بات کہی اور ان کے ساتھی ان کے پاس تھے تو ان پر ایک بادل سایہ فگن ہوا، یہاں تک کہ ان کے ساتھیوں نے خیال کیا کہ یہ دردناک عذاب ہے۔ پھر آواز دی گئی: ’’اے ایوب! اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں تیرے قریب آگیا ہوں اور ہمیشہ سے تیرے قریب تھا۔ اٹھ، اپنا عذر پیش کر، اپنی براءت بیان کر اور اپنا دفاع کر۔
کمر کس لے اور ایک ایسے جابر کے مقابلے میں کھڑا ہو جو جابر سے بحث کرتا ہے، اگر تو اس کی طاقت رکھتا ہے؛ کیونکہ مجھ سے صرف میرے جیسا جابر ہی حجت کرسکتا ہے۔ اے ایوب! تیرے نفس نے تجھے ایک ایسی بات کی امید دلائی ہے جس تک تو اپنی طاقت سے نہیں پہنچ سکتا۔ جب میں نے زمین کو پیدا کرکے اس کی بنیادیں رکھیں، اس وقت تو کہاں تھا؟
کیا تو میرے ساتھ تھا اور اس کے کناروں کو تھام رہا تھا؟ کیا تو جانتا تھا کہ میں نے اس کا اندازہ کس مقدار سے کیا اور اس کے اطراف کس چیز پر رکھے؟ کیا زمین نے تیرے حکم سے پانی کو اٹھایا، یا تیری حکمت سے زمین پانی کے لیے ڈھکنا بنی؟ جب میں نے آسمان کو فضا میں چھت کی طرح بلند کیا، جس کا اوپر سے کوئی سہارا نہیں اور نیچے سے کوئی ستون اسے تھامے ہوئے نہیں، تو تو کہاں تھا؟
کیا تیری حکمت اتنی ہے کہ اس کی روشنی جاری کرے، اس کے ستاروں کو چلائے یا رات دن کو اپنے حکم سے بدل دے؟ جب دریا جاری ہوئے اور سمندر بند کیے گئے، اس وقت تو کہاں تھا؟ کیا تیرا اقتدار سمندروں کی موجوں کو ان کی حدوں پر روکے ہوئے ہے؟ یا تیری قدرت نے رحموں کو اس وقت کھولا جب ان کی مدت پوری ہوئی؟
جب میں نے پانی کو مٹی پر برسایا اور بلند پہاڑ کھڑے کیے، تو تو کہاں تھا؟ کیا تجھے معلوم ہے کہ میں نے انہیں کس چیز پر قائم کیا، کس وزن سے تولا، یا تیرے پاس ایسا بازو ہے جو انہیں اٹھا سکے؟ کیا تو جانتا ہے کہ آسمان سے برسنے والا پانی کہاں سے آتا ہے؟ بادل کس چیز سے بنائے جاتے ہیں؟
برف کے خزانے کہاں ہیں؟ اولوں کے پہاڑ کہاں ہیں؟ رات کا خزانہ دن میں کہاں ہے؟ ہوا کا خزانہ کہاں ہے؟ درخت کس زبان میں بات کرتے ہیں؟ مردوں کے سینوں میں عقل کس نے رکھی؟ سماعت اور بینائی کس نے پیدا کی؟ فرشتے کس کے اقتدار کے سامنے جھکے، جابروں کو کس نے اپنے جلال سے مغلوب کیا اور اپنی حکمت سے روزیاں کس نے تقسیم کیں؟‘‘ اس نے اپنی قدرت کے بہت سے آثار گنوائے۔
ایوب علیہ السلام نے کہا: ’’میری حیثیت چھوٹی، میری زبان اور عقل کمزور، اور میری قوت اس معاملے سے عاجز ہے جو مجھ پر آ پڑا۔ اے میرے معبود! میں جانتا ہوں کہ جو کچھ تو نے بیان کیا، وہ تیرے ہاتھوں کا بنایا اور تیری حکمت کی تدبیر ہے؛ بلکہ اس سے بھی زیادہ عظیم اور عجیب ہے۔ اگر تو چاہے تو پیدا کرے، کوئی چیز تجھے عاجز نہیں کرسکتی اور کوئی بات تجھ سے پوشیدہ نہیں۔
جب مجھ پر آزمائش آئی تو میں بول پڑا اور اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکا؛ آزمائش ہی نے مجھے بولنے پر آمادہ کیا۔ کاش زمین میرے لیے پھٹ جاتی، میں اس میں چلا جاتا اور ایسی کوئی بات نہ کہتا جس سے میرا رب ناراض ہوتا۔ کاش میں اس سے پہلے، اپنی سخت ترین آزمائش میں غم ہی سے مر گیا ہوتا۔ میں نے صرف اس لیے بات کی کہ تو مجھے معذور سمجھے، اور اس وقت خاموش رہا جب تو نے مجھ پر رحم کیا۔
میری زبان سے ایک لغزش ہوگئی، اب میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔ میں نے اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھا، زبان کو دانتوں میں دبایا اور اپنا رخسار مٹی سے لگا دیا۔ آج میں تجھ ہی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، سخت آزمائش سے تیری پناہ چاہتا ہوں، پس مجھے پناہ دے؛ تیرے عذاب سے فریاد کرتا ہوں، پس میری فریاد سن؛ اپنے معاملے میں تجھ سے مدد مانگتا ہوں، پس میری مدد کر؛ تجھ پر بھروسا کرتا ہوں، پس میرے لیے کافی ہوجا؛ تیری پناہ پکڑتا ہوں، پس میری حفاظت فرما؛ تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں، پس مجھے بخش دے۔ میں پھر کبھی ایسا کام نہیں کروں گا جو تجھے ناپسند ہو۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے ایوب! میرا علم تیرے بارے میں پہلے سے نافذ تھا اور میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے گئی۔ میں نے تجھے بخش دیا، تیرے اہل و عیال اور مال تجھے واپس کیے اور ان کے ساتھ ان جیسے مزید بھی عطا کیے، تاکہ تو میری مخلوق کے لیے نشانی اور آزمائش والوں کے لیے عبرت، اور صبر کرنے والوں کے لیے تسلی بنے۔ اپنے پاؤں کو زمین پر مار؛ یہ ٹھنڈا غسل کا پانی ہے اور پینے کی چیز ہے، اس میں تیری شفا ہے۔
اپنے ساتھیوں کی طرف قربانی پیش کر اور ان کے لیے مغفرت مانگ، کیونکہ انہوں نے تیرے معاملے میں میری نافرمانی کی ہے۔‘‘ ایوب علیہ السلام نے پاؤں مارا تو ان کے لیے ایک چشمہ پھوٹ نکلا۔ وہ اس میں غسل کرنے داخل ہوئے، پھر اللہ نے ان کی ساری آزمائش دور کردی۔ وہ باہر آئے اور بیٹھ گئے۔
ان کی بیوی انہیں ان کے بستر پر تلاش کرتی ہوئی آئی، مگر وہاں انہیں نہ پایا۔ وہ بے قرار ہوکر ادھر ادھر پھرنے لگی اور کہنے لگی: ’’اے اللہ کے بندے! کیا تمہیں اس بیمار آدمی کا کچھ پتا ہے جو یہاں تھا؟‘‘ انہوں نے پوچھا: ’’کیا تم اسے دیکھو تو پہچان لو گی؟‘‘
اس نے کہا: ’’ہاں، میں اسے کیوں نہ پہچانوں؟‘‘ وہ مسکرائے اور کہا: ’’میں ہی وہ ہوں۔‘‘ اس نے ان کے قہقہے سے انہیں پہچان لیا اور ان سے لپٹ گئی۔ ابن عباس نے کہا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عبداللہ کی جان ہے، وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے کہ ان کے پاس ان کا سارا مال اور اولاد لوٹ آئے۔‘‘
اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ» یعنی ’’اور ایوب کو یاد کیجیے، جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا: مجھے تکلیف پہنچی ہے۔‘‘ ان کے پکارنے کے وقت، یہ کہنے کی وجہ کہ ’’مجھے تکلیف پہنچی ہے‘‘، اور ان کی آزمائش کی مدت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ابن شہاب نے انس سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ ایوب علیہ السلام اٹھارہ سال اپنی آزمائش میں رہے۔ وہب نے کہا: ایوب تین سال آزمائش میں رہے، ایک دن بھی زیادہ نہیں۔
کعب نے کہا: ایوب سات سال، سات مہینے اور سات دن آزمائش میں رہے۔ حسن نے کہا: ایوب بنی اسرائیل کے کوڑے کے ڈھیر پر سات سال اور کچھ مہینے پڑے رہے۔ جانور ان کے پاس سے آتے جاتے، مگر اللہ کی رحمت [ان کی بیوی] کے سوا کوئی ان کے قریب نہ آتا۔ وہ ان کے ساتھ سچائی سے صبر کرتی، ان کے لیے کھانا لاتی، اور جب وہ اللہ کی حمد کرتے تو وہ بھی حمد کرتی۔
ایوب علیہ السلام اس حال میں بھی اللہ کے ذکر اور اس کی آزمائش پر صبر سے غافل نہ ہوتے۔
ابلیس نے ایک چیخ ماری اور زمین کے گوشوں سے اپنے لشکروں کو جمع کیا۔ جب سب اس کے پاس جمع ہوگئے تو انہوں نے پوچھا: ’’تجھے کس بات نے غمگین کیا؟‘‘ اس نے کہا: ’’یہ بندہ مجھے عاجز کرچکا ہے۔ میں نے اس کا مال اور اولاد چھین لی، مگر وہ اور زیادہ صبر کرنے لگا۔
پھر میں اس کے جسم پر مسلط ہوا اور اسے کوڑے کے ڈھیر پر پڑا چھوڑ دیا، اس کے قریب اس کی بیوی کے سوا کوئی نہیں آتا۔ میں نے تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ تم اس کے معاملے میں میری مدد کرو۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’تیری وہ مکاری کہاں گئی جس سے تو نے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا؟‘‘ اس نے کہا: ’’ایوب کے معاملے میں وہ سب ناکام ہوگئی۔
مجھے کوئی مشورہ دو۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’ہم تجھے بتاتے ہیں کہ آدم کو جنت سے کیسے نکالا تھا؟‘‘ اس نے کہا: ’’ان کی بیوی کے ذریعے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’ایوب کے معاملے میں بھی ان کی بیوی کے ذریعے کام لے، کیونکہ وہ ان کی بات نہیں ٹال سکیں گی اور ان کے قریب بھی وہی جاتی ہے۔‘‘
اس نے کہا: ’’تم نے درست کہا۔‘‘ وہ گیا اور ایوب کی بیوی کے پاس پہنچا، جو سچ بولتی تھیں۔ اس نے ایک آدمی کی صورت اختیار کی اور پوچھا: ’’اے اللہ کی بندی! تمہارا شوہر کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’وہاں ہے، اپنے پھوڑوں کو کھجا رہا ہے، اور جانور اس کے جسم پر آتے جاتے ہیں۔‘‘
یہ سن کر اسے طمع ہوئی کہ شاید ان کے منہ سے بے صبری کا کوئی لفظ نکلے۔ اس نے انہیں وسوسہ ڈالا اور یاد دلایا کہ وہ پہلے کتنی نعمتوں اور مال میں تھیں، ایوب کا حسن اور جوانی یاد دلائی، اور بتایا کہ ان کی تکلیف کبھی ختم نہیں ہوگی۔ حسن نے کہا: وہ چیخ اٹھیں۔ جب وہ چیخیں تو ابلیس سمجھ گیا کہ وہ بے صبر ہوگئی ہیں۔
وہ ان کے پاس ایک میمنا لے آیا اور کہا: ’’ایوب اسے میرے لیے ذبح کردیں تو وہ شفا پا جائیں گے۔‘‘ وہ روتی ہوئی آئیں اور بولیں: ’’اے ایوب! کب تک تمہارا رب تمہیں عذاب دیتا رہے گا؟ مال کہاں ہے، اولاد کہاں ہے، دوست کہاں ہیں، تمہارا اچھا رنگ کہاں ہے، تمہارا جسم کہاں ہے؟
اس میمنے کو ذبح کردو اور راحت پاؤ۔‘‘ ایوب علیہ السلام نے کہا: ’’اللہ کا دشمن تیرے پاس آیا اور تجھے بہکایا ہے۔ افسوس تجھ پر! جس مال، اولاد اور صحت کے لیے تو رو رہی ہے، وہ کس نے مجھے دی تھی؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’اللہ نے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ہمیں یہ نعمتیں کتنی مدت ملیں؟‘‘
انہوں نے کہا: ’’اسی سال۔‘‘ فرمایا: ’’اور ہم کتنے عرصے سے آزمائش میں ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’سات سال اور کچھ مہینے۔‘‘ فرمایا: ’’افسوس تجھ پر! کیا یہ انصاف ہے کہ آسودگی میں اسی سال گزارنے کے بعد آزمائش میں اسی سال صبر نہ کیا جائے؟
اللہ کی قسم! اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں تجھے سو کوڑے ماروں گا۔ تو نے مجھے حکم دیا کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ذبح کروں۔ جو کھانا اور پینا تو میرے لیے لائی ہے، اب تیرے یہ کہنے کے بعد میرے لیے حرام ہے کہ میں اس میں سے کچھ کھاؤں۔
مجھ سے دور ہوجا، میں تجھے نہ دیکھوں۔‘‘ پھر انہوں نے انہیں نکال دیا اور وہ چلی گئیں۔
جب ایوب علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کے پاس نہ کھانا ہے، نہ پینا اور نہ کوئی دوست، تو وہ سجدے میں گر گئے اور کہا: «رَبِّ إِنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» یعنی ’’اے میرے رب! مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پھر ان سے کہا گیا: ’’سر اٹھاؤ، تمہاری دعا قبول ہوگئی۔ اپنے پاؤں سے زمین پر مارو۔‘‘
انہوں نے پاؤں مارا تو ایک چشمہ پھوٹ نکلا۔ انہوں نے اس سے غسل کیا، تو ان کی بیماری کی کوئی ظاہری علامت باقی نہ رہی؛ سب کچھ جھڑ گیا اور ان کی جوانی اور حسن پہلے سے بھی بہتر حالت میں لوٹ آئے۔ پھر انہوں نے پاؤں مارا تو ایک اور چشمہ پھوٹ نکلا۔ انہوں نے اس کا پانی پیا تو ان کے اندر کوئی بیماری باقی نہ رہی، سب نکل گئی۔
وہ تندرست ہوکر کھڑے ہوئے اور انہیں ایک لباس پہنایا گیا۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگے، مگر ان کے اہل و عیال اور مال میں سے کچھ نظر نہ آیا، حالاں کہ اللہ نے ان کی ہر چیز کئی گنا کردی تھی۔ یہاں تک کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ غسل کے پانی کے قطرے ان کے سینے پر گرے تو وہ سونے کی ٹڈیوں میں بدل گئے۔ وہ انہیں اپنے ہاتھ سے سمیٹنے لگے۔
اللہ نے ان سے وحی کے ذریعے فرمایا: ’’اے ایوب! کیا میں نے تجھے غنی نہیں کردیا؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’کیوں نہیں، لیکن یہ تیری برکت ہے، اس سے کون سیر ہوسکتا ہے؟‘‘
پھر وہ ایک بلند جگہ پر جاکر بیٹھ گئے۔ ان کی بیوی نے کہا: ’’اگر اس نے مجھے نکال دیا ہے تو اب اسے کون کھلائے گا؟ کیا میں اسے بھوک سے مرنے اور ضائع ہونے دوں کہ درندے اسے کھا جائیں؟ میں ضرور اس کے پاس واپس جاؤں گی۔‘‘ وہ لوٹیں تو نہ کوڑے کا ڈھیر تھا اور نہ وہ حالت جو پہلے تھی؛ حالات بدل چکے تھے۔
وہ اسی جگہ کے گرد گھومنے لگیں جہاں پہلے کوڑے کا ڈھیر تھا اور رونے لگیں۔ یہ سب ایوب علیہ السلام کی نظر میں تھا۔ لباس والے شخص سے ڈر کر وہ اس کے پاس نہ گئیں کہ اس سے پوچھتیں۔ ایوب علیہ السلام نے انہیں بلایا اور کہا: ’’اے اللہ کی بندی!
تم کیا چاہتی ہو؟‘‘ وہ روئیں اور کہا: ’’میں اس بیمار آدمی کو ڈھونڈ رہی ہوں جو کوڑے کے ڈھیر پر پھینکا گیا تھا؛ مجھے نہیں معلوم وہ کھو گیا ہے یا اس کے ساتھ کیا ہوا۔‘‘ ایوب علیہ السلام نے کہا: ’’اگر تم اسے دیکھو تو پہچان لو گی؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’کیا کوئی اسے دیکھ کر نہ پہچانے گا؟‘‘
وہ انہیں دیکھتی رہیں، مگر ان سے خوفزدہ تھیں۔ پھر بولیں: ’’جب وہ تندرست تھا تو اللہ کی مخلوق میں تم سے زیادہ مشابہ کوئی نہ تھا۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں ہی ایوب ہوں۔ میں نے تیری بات نہیں مانی کہ ابلیس کے لیے ذبح کروں؛ میں نے اللہ کی اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کی، پھر اللہ سے دعا کی اور اس نے مجھے وہ کچھ واپس دے دیا جو تو دیکھ رہی ہے۔‘‘
وہب نے کہا: ایوب تین سال آزمائش میں رہے۔ جب ایوب نے ابلیس کو مغلوب کردیا اور ابلیس ان کے معاملے میں کچھ نہ کرسکا تو وہ ان کی بیوی کے سامنے ایسی صورت میں آیا جو انسانی قامت، جسم اور حسن جیسی نہ تھی۔ وہ ایسے سوار پر تھا جو عام لوگوں کی سواریوں جیسا نہ تھا، بلکہ جسامت، شان اور کمال رکھتا تھا۔ اس نے کہا: ’’کیا تم اس آزمائش میں مبتلا آدمی ایوب کی بیوی ہو؟‘‘
انہوں نے کہا: ’’ہاں۔‘‘ اس نے کہا: ’’کیا تم مجھے پہچانتی ہو؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’نہیں۔‘‘ اس نے کہا: ’’میں زمین کا معبود ہوں، اور میں نے تمہارے شوہر کے ساتھ جو کچھ کیا، وہ اسی لیے کیا کہ وہ آسمان کے معبود کی عبادت کرتا ہے اور مجھے چھوڑ دیتا ہے، جس سے میں ناراض ہوا۔
اگر وہ مجھے ایک سجدہ کرلے تو میں تم دونوں کا سارا مال اور اولاد واپس کردوں گا، وہ میرے پاس ہیں۔‘‘ پھر اس نے انہیں اس وادی میں اپنا مال اور اولاد دکھا دی جہاں وہ ان سے ملا تھا۔ وہب نے کہا: میں نے یہ بھی سنا ہے کہ اس نے ان سے کہا تھا: ’’اگر تمہارے شوہر نے اللہ کا نام لیے بغیر کھانا کھا لیا تو وہ اس آزمائش سے شفا پا جائے گا۔‘‘ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
بعض کتابوں میں ہے کہ ابلیس نے ان سے کہا: ’’مجھے ایک سجدہ کردو تو میں تمہارا مال اور اولاد واپس کردوں گا اور تمہارے شوہر کو عافیت دوں گا۔‘‘ وہ واپس ایوب علیہ السلام کے پاس آئیں اور انہیں اس کی بات بتائی۔ انہوں نے کہا: ’’اللہ کا دشمن تیرے پاس آیا ہے تاکہ تجھے تیرے دین سے پھیر دے۔‘‘ پھر انہوں نے قسم کھائی کہ انہیں سو کوڑے ماریں گے۔
اسی موقع پر انہوں نے کہا: ’’مجھے تکلیف پہنچی ہے‘‘، کیونکہ ابلیس نے ان کی بیوی کو اپنے لیے سجدہ کرنے کی ترغیب دی اور اسے اور ایوب علیہ السلام کو کفر کی طرف بلایا تھا۔
پھر اللہ عزوجل نے ایوب کی بیوی پر رحم کیا، کیونکہ انہوں نے آزمائش میں ان کے ساتھ صبر کیا تھا۔ اللہ نے ان پر آسانی فرمائی اور چاہا کہ ایوب اپنی قسم پوری کرلیں۔ چنانچہ اسے حکم دیا کہ سو چھوٹی شاخوں پر مشتمل ایک جھاڑو لے کر اسے ایک ہی بار ماریں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ» (ص: 44) یعنی ’’اپنے ہاتھ میں گھاس کا ایک مٹھا لے لو، پھر اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔‘‘ روایت ہے کہ ابلیس نے ایک صندوق بنایا، اس میں دوائیں رکھیں اور راستے میں بیٹھ کر لوگوں کا علاج کرنے لگا۔
ایوب کی بیوی اس کے پاس سے گزریں اور کہا: ’’میرا ایک بیمار ہے، کیا تم اس کا علاج کرو گے؟‘‘ اس نے کہا: ’’ہاں، مگر میں کچھ نہیں چاہتا، بس وہ کہہ دے کہ جب میں نے اسے شفا دی تو تو نے مجھے شفا دی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بات ایوب علیہ السلام کو بتائی۔ انہوں نے کہا: ’’یہ ابلیس ہے، اس نے تجھے دھوکا دیا ہے۔‘‘
پھر انہوں نے قسم کھائی کہ اگر اللہ انہیں شفا دے گا تو انہیں سو کوڑے ماریں گے۔ وہب وغیرہ نے کہا: ایوب کی بیوی لوگوں کے لیے کام کرتی تھیں اور ان کے لیے کھانا لاتی تھیں۔ جب آزمائش طویل ہوگئی اور لوگ ان سے اکتا گئے تو کسی نے انہیں کام پر نہ رکھا۔ ایک دن انہوں نے ایوب کو کھلانے کے لیے کچھ ڈھونڈا مگر کچھ نہ ملا، تو اپنے سر کی ایک چوٹی کاٹ کر روٹی کے بدلے بیچ دی اور وہ روٹی ان کے پاس لے آئیں۔
انہوں نے پوچھا: ’’تمہاری چوٹی کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے حقیقت بتادی۔ اسی وقت انہوں نے کہا: «مَسَّنِيَ الضُّرُّ» یعنی ’’مجھے تکلیف پہنچی ہے۔‘‘
کچھ لوگوں نے کہا: انہوں نے یہ اس وقت کہا جب کیڑے ان کے دل اور زبان تک پہنچ گئے اور انہیں خوف ہوا کہ کہیں ذکر اور غوروفکر سے باز نہ رہ جائیں۔ حبیب بن ابی ثابت نے کہا: انہوں نے اللہ سے آزمائش دور کرنے کی دعا اس وقت تک نہیں کی جب تک تین باتیں پیش نہ آئیں۔ پہلی یہ کہ ان کے دو دوست ان کی خبر سن کر ان کے پاس آئے۔ ان کے پاس صرف آنکھیں باقی رہ گئی تھیں۔
انہوں نے ایک ہولناک حال دیکھا اور کہا: ’’اگر اللہ کے ہاں تمہارا کوئی مقام ہوتا تو تم پر یہ مصیبت نہ آتی۔‘‘ دوسری یہ کہ ان کی بیوی نے کھانے کی درخواست کی مگر کھلانے کے لیے کچھ نہ پایا، تو اپنی چوٹی بیچ کر کھانا لائیں۔ تیسری یہ کہ ابلیس نے کہا: ’’میں اس کا علاج اس شرط پر کروں گا کہ وہ کہے: تو نے مجھے شفا دی ہے۔‘‘ یہ بھی کہا گیا کہ ابلیس نے انہیں وسوسہ دیا کہ ان کی بیوی نے زنا کیا ہے، تو انہوں نے اس کی چوٹی کاٹ دی۔
اس وقت ان کا صبر ختم ہوا، انہوں نے دعا کی اور قسم کھائی کہ اسے سو کوڑے ماریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ انہیں دشمنوں کے شماتت اور خوشی منانے سے تکلیف پہنچی ہے۔ یہاں تک کہ روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: ’’تمہاری آزمائش میں سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز کیا تھی؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’دشمنوں کا شماتت کرنا۔‘‘
یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب ان کی ران سے ایک کیڑا گرا۔ انہوں نے اسے واپس اسی جگہ رکھ کر کہا: ’’کھا، اللہ نے مجھے تیرا کھانا بنایا ہے۔‘‘ اس نے انہیں ایسا کاٹا کہ اس کا درد ان تمام کیڑوں کے کاٹنے سے بڑھ گیا جن کی تکلیف وہ پہلے سہہ چکے تھے۔
اگر کہا جائے کہ اللہ نے انہیں صابر کہا ہے، حالاں کہ انہوں نے «إِنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ» اور «مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ» (ص: 41) کہہ کر شکایت اور بے صبری ظاہر کی، تو جواب یہ ہے کہ یہ شکایت نہیں بلکہ دعا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاسْتَجَبْنَا لَهُ» یعنی ’’پس ہم نے اس کی دعا قبول کی۔‘‘ بے صبری تو مخلوق سے شکایت کرنے میں ہوتی ہے؛ اللہ عزوجل سے شکایت کرنا بے صبری یا صبر چھوڑنا نہیں، جیسا کہ یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: «إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ» (یوسف: 86) یعنی ’’میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد صرف اللہ ہی سے کرتا ہوں۔‘‘
سفیان بن عیینہ نے کہا: اسی طرح اگر کوئی شخص لوگوں کے سامنے اپنی تکلیف ظاہر کرے، مگر اللہ کی تقدیر پر راضی ہو، تو یہ بے صبری نہیں۔ جیسے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں آپ کے پاس آئے اور پوچھا: ’’آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں غمگین اور رنجیدہ ہوں۔‘‘ اور جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’ہائے میرا سر!‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’بلکہ ہائے میرا سر!‘‘
صحیح البخاری (حدیث نمبر 3391) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو صحت لوٹائی اور آسمان سے ان پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں۔