دعا 31 علم اور آسانی 8 منٹ مطالعہ

علم میں اضافے کی دعا

نبی محمد ﷺ 20:114
عربی متن

رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا.

رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ طه 20:114
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbi zidnī ʿilmā
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

پس اللہ عالی شان واﻻ سچا اور حقیقی بادشاه[1] ہے۔ تو قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر اس سے پہلے کہ تیری طرف جو وحی کی جاتی ہے وه پوری کی جائے[2]، ہاں یہ دعا کر کہ پروردگار! میرا علم بڑھا.[3]

مفہوم اور خصوصیت

اس دعا میں «زِدْنِي» امر کا صیغہ ہے، یعنی: میرے لیے اضافہ فرما۔ قرآن میں واحد چیز جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اضافے کی دعا کرنے کا حکم دیا، وہ دینی علم (عِلْم) ہے۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے بارے میں اپنے جزائی فیصلے اور اپنے دینی، شرعی حکم کا ذکر فرمایا، جسے اس نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے، اور یہ اس کی بادشاہی کے آثار میں سے ہے، تو فرمایا: «پس اللہ بلند و برتر ہے» یعنی وہ ہر نقص اور آفت سے بلند، پاک اور منزہ ہے۔ «بادشاہ» وہ ہے جس کی صفت بادشاہی ہے، اور تمام مخلوق اس کی مملوک ہے؛ بادشاہ کے تقدیری اور شرعی احکام ان سب میں نافذ ہیں۔ «حقیقی» یعنی اس کا وجود، اس کی بادشاہی اور اس کا کمال برحق ہے۔ کمال کی صفات حقیقتاً صرف صاحبِ جلال ہی کے لیے ہیں۔

ان میں سے ایک بادشاہی بھی ہے۔ مخلوق میں سے کسی کو اگر بعض اوقات، بعض چیزوں پر بادشاہی حاصل ہو بھی جائے تو وہ محدود، باطل اور زائل ہونے والی ہے؛ لیکن رب کی بادشاہی ہمیشہ قائم رہنے والی ہے، وہ زندہ، سب کو قائم رکھنے والا اور عظمت والا ہے، اور اس کی بادشاہی کبھی زائل نہیں ہوتی۔

«اور قرآن کے بارے میں جلدی نہ کرو، اس سے پہلے کہ اس کی وحی تمہاری طرف پوری کر دی جائے» یعنی جبریل تمہیں قرآن سنائیں تو اسے جلدی سے ساتھ ساتھ لینے اور پڑھنے میں سبقت نہ کرو، بلکہ صبر کرو یہاں تک کہ وہ تلاوت سے فارغ ہو جائیں۔ جب وہ فارغ ہو جائیں تو پھر اسے پڑھو۔ اللہ نے تمہارے سینے میں اسے جمع کر دینے اور تمہیں اس کی قراءت کرانے کی ضمانت دی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اسے جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ۔ اسے جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمے ہے۔

پھر جب ہم اسے پڑھوا چکیں تو تم اس کی قراءت کی پیروی کرو، پھر اس کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے»۔

چونکہ آپ ﷺ کا وحی کو جلدی سے لینے اور اس کی طرف سبقت کرنے کا عمل علم سے آپ کی کامل محبت اور اس کے حصول کی شدید حرص پر دلالت کرتا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ اس سے علم میں اضافے کی دعا کریں۔ علم خیر ہے، اور خیر کی کثرت مطلوب ہے؛ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ علم تک پہنچنے کا راستہ کوشش، علم کا شوق، اللہ سے دعا، اس سے مدد طلب کرنا اور ہر وقت اس کے سامنے اپنی محتاجی ظاہر کرنا ہے۔

اس بابرکت آیت سے علم حاصل کرنے کے آداب بھی معلوم ہوتے ہیں: علم سننے والے کو چاہیے کہ ٹھہراؤ اور صبر سے کام لے، یہاں تک کہ املاء کرانے والا اور استاد اپنا مسلسل کلام مکمل کر لے۔ جب وہ فارغ ہو جائے تو اگر کوئی سوال ہو تو پوچھے، اور علم پیش کرنے والے کی بات کاٹ کر جلدی سے سوال نہ کرے، کیونکہ یہ محرومی کا سبب ہے۔ اسی طرح جس سے سوال کیا جائے، اسے چاہیے کہ سوال کرنے والے کی بات پوری طرح سنے اور جواب دینے سے پہلے اس کا مقصود سمجھ لے، کیونکہ اس طرح درست جواب تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

وعدہ حق وعید حق ٭٭ چونکہ قیامت کا دن آنا ہی ہے اور اس دن نیک و بد اعمال کا بدلہ ملنا ہی ہے، لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لیے ہم نے بشارت والا اور دھمکانے والا اپنا پاک کلام عربی صاف زبان میں اتارا تاکہ ہر شخص سمجھ سکے اور اس میں گو ناگوں طور پر لوگوں کو ڈرایا، طرح طرح سے ڈراوے سنائے۔ تاکہ لوگ برائیوں سے بچیں، بھلائیوں کے حاصل کرنے میں لگ جائیں یا ان کے دلوں میں غور و فکر نصیحت و پند پیدا ہو، اطاعت کی طرف جھک جائیں، نیک کاموں کی کوشش میں لگ جائیں۔

پس پاک اور برتر ہے وہ اللہ جو حقیقی شہنشاہ ہے، دونوں جہاں کا تنہا مالک ہے، وہ خود حق ہے، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اس کے رسول علیہم السلام حق ہیں، جنت دوزخ حق ہے، اس کے سب فرمان اور اس کی طرف سے جو ہو سراسر عدل و حق ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ آگاہ کئے بغیر کسی کوسزا دے، وہ سب کے عذر کاٹ دیتا ہے کسی کے شبہ کو باقی نہیں رکھتا، حق کو کھول دیتا ہے پھر سرکشوں کو عدل کے ساتھ سزا دیتا ہے۔ جب ہماری وحی اتر رہی ہو، اس وقت تم ہمارے کلام کو پڑھنے میں جلدی نہ کرو، پہلے پوری طرح سن لیا کرو۔

جیسے سورۃ القیامہ میں فرمایا «لَا تُحَرِّكْ بِهِ * لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ * فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ * ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ» [75-القيامة:16-19] ” یعنی جلدی کر کے بھول جانے کے خوف سے وحی اترتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ اسے نہ پڑھنے لگو۔ اس کا آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے تلاوت کرانا ہمارے ذمے ہے۔ جب ہم اسے پڑھیں تو آپ اس پڑھنے کے تابع ہو جائیں پھر اس کا سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ “ صفحہ نمبر5340 حدیث میں ہے کہ پہلے آپ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے جس میں آپ کودقت ہوتی تھی، جب یہ آیت اتری تو آپ اس مشقت سے چھوٹ گئے [صحیح بخاری:5]

اور اطمینان ہو گیا کہ وحی الٰہی جتنی نازل ہو گی، مجھے یاد ہو جایا کرے گی۔ ایک حرف بھی نہ بھولوں گا کیونکہ اللہ کا وعدہ ہو چکا۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ فرشتے کی قرأت چپکے سے سنو۔ جب وہ پڑھ چکے پھر تم پڑھو اور مجھ سے اپنے علم کی زیادتی کی دعا کیا کرو۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اللہ نے قبول کی اور انتقال تک علم میں بڑھتے ہی رہے۔ حدیث میں ہے کہ وحی برابر پے در پے آتی رہی یہاں تک کہ جس دن آپ فوت ہونے کو تھے، اس دن بھی بکثرت وحی اتری۔ [صحیح بخاری:4982]

ابن ماجہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا منقول ہے «اللَّهُمَّ اِنْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعنِي وَزِدْنِي عِلْمًا وَالْحَمْد لِلَّهِ عَلَى كُلّ حَال» ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں «وَأَعُوذ بِاَللَّهِ مِنْ حَال أَهْل النَّار» ۔ [سنن ترمذي:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف] صفحہ نمبر5341

تفسیر البغوی

«پس اللہ بلند و برتر ہے، بادشاہ، حقیقی» یعنی اللہ ملحدوں کی گمراہی اور مشرکوں کی کہی ہوئی باتوں سے بلند اور پاک ہے۔

«اور قرآن کے بارے میں جلدی نہ کرو» اس سے مراد نبی ﷺ ہیں۔ جب جبریل آپ پر قرآن لے کر نازل ہوتے تو آپ ﷺ ان کے ساتھ ساتھ پڑھنے میں جلدی کرتے، اس سے پہلے کہ جبریل تلاوت کا جو حصہ پہنچانا چاہتے اسے مکمل کر لیں؛ یہ اس اندیشے سے کہ کہیں قرآن بھول نہ جائے یا ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ پس اللہ نے آپ کو اس سے منع فرمایا اور ارشاد کیا:

«اور قرآن کے بارے میں جلدی نہ کرو» یعنی اس کی قراءت میں جلدی نہ کرو، «اس سے پہلے کہ اس کی وحی تمہاری طرف پوری کر دی جائے» یعنی اس سے پہلے کہ جبریل پیغام پہنچانا مکمل کریں۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «اسے جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ» (سورۃ القیامۃ: 16)۔ یعقوب نے «نَقْضِيَ» نون پر زبر، ضاد کے نیچے زیر اور یا پر زبر کے ساتھ پڑھا ہے، اور «وَحْيَهُ» کو منصوب پڑھا ہے۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے صحابہ کو قرآن نہ پڑھاؤ اور نہ انہیں املاء کراؤ، یہاں تک کہ اس کے معانی تم پر واضح ہو جائیں۔

«اور کہو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما» یعنی قرآن اور اس کے معانی کے علم میں۔ ایک قول یہ ہے کہ جو علم تمہیں عطا کیا جا چکا ہے، اس کے ساتھ مزید علم عطا فرما۔ ابن مسعود جب یہ آیت پڑھتے تو کہتے: «اے اللہ، اے میرے رب! میرے علم، ایمان اور یقین میں اضافہ فرما»۔

تائیدی حدیث

سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 925) میں اُمّ سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فجر کی نماز کے بعد ہمیشہ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں!»

نشانیاں
  • #علم
  • #قرآن
  • #وحی
  • #دعا
  • #تعلیم
  • #آدابِ علم

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →