رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ، وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ، وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا.
رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
اور دعا کیا کریں کہ اے میرے پروردگار مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لئے اپنے پاس سے غلبہ اور امداد مقرر فرما دے.[1]
صیغہ: «أَدْخِلْنِي» (ادخلنی)، «أَخْرِجْنِي» (اخرجنی) اور «اجْعَلْ لِي» (اجعل لی) کے صیغے امر ہیں۔ یہ مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
اور کہو: اے میرے رب! مجھے سچائی کے ساتھ داخل فرما اور سچائی کے ساتھ نکال، یعنی میرے تمام داخلے اور نکلنے اپنی اطاعت اور اپنی رضا کے مطابق بنا دے؛ کیونکہ ان میں اخلاص اور حکمِ الٰہی کی موافقت شامل ہے۔ اور میرے لیے اپنے پاس سے ایسا مددگار غلبہ عطا فرما، یعنی ہر اس کام میں جو میں کروں یا چھوڑوں، واضح حجت اور فیصلہ کن دلیل عطا فرما۔ یہ بندے کا بلند ترین مقام ہے کہ اس کے تمام حالات خیر پر مشتمل ہوں اور اسے اپنے رب کے قریب کریں، اور اس کے ہر حال میں اس کے پاس واضح دلیل ہو۔ اس میں نفع بخش علم اور نیک عمل، نیز مسائل اور دلائل کا علم شامل ہے۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
حکم ہجرت ٭٭ مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں تھے پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور یہ آیت اتری۔ [مسند احمد:223/1] امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي:3139،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفار مکہ نے مشورہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں یا نکال دیں یا قید کر لیں پس اللہ کا یہی ارادہ ہوا کہ اہل مکہ کو ان کی بداعمالیوں کا مزہ چکھا دے۔ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے جانے کا حکم فرمایا۔ یہی اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مدینہ میں داخل ہونا اور مکہ سے نکلنا یہی قول سب سے زیادہ مشہور ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سچائی کے داخلے سے مراد موت ہے اور سچائی سے نکلنے سے مراد موت کے بعد کی زندگی ہے اور اقوال بھی ہیں لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ امام ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ پھر حکم ہوا کہ غلبے اور مدد کی دعا ہم سے کرو۔ اس دعا پر اللہ تعالیٰ نے فارس اور روم کا ملک اور عزت دینے کا وعدہ فرما لیا۔
اتنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معلوم کر چکے تھے کہ بغیر غلبے کے دین کی اشاعت اور زور ناممکن ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ سے مدد و غلبہ طلب کیا تاکہ کتاب اللہ اور حدود اللہ، فرائض شرع اور قیام دین آپ کر سکیں۔
یہ غلبہ بھی اللہ کی ایک زبردست رحمت ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ایک دوسرے کو کھا جاتا۔ ہر زور آور کمزور کا شکار کر لیتا۔ «سُلْطَانًا نَّصِيرًا» سے مراد کھلی دلیل بھی ہے لیکن پہلا قول پہلا ہی ہے اس لیے کہ حق کے ساتھ غلبہ اور طاقت بھی ضروری چیز ہے تاکہ مخالفین حق دبے رہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے لوہے کے اتارنے کے احسان کو قرآن میں خاص طور پر ذکر کیا ہے «لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ» [57-الحديد:25]
” یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت وقوت ہے اور لوگوں کے لیے اور بھی (بہت سے) فائدے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بے دیکھے کون کرتا ہے۔ “ صفحہ نمبر4778 ایک حدیث میں ہے کہ سلطنت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بہت سی برائیوں کو روک دیتا ہے جو صرف قرآن سے نہیں رک سکتی تھیں۔ یہ بالکل واقعہ ہے بہت سے لوگ ہیں کہ قرآن کی نصیحتیں اس کے وعدے وعید ان کو بدکاریوں سے نہیں ہٹا سکتے۔ لیکن اسلامی طاقت سے مرعوب ہو کر وہ برائیوں سے رک جاتے ہیں۔
پھر کافروں کی گوشمالی کی جاتی ہے کہ اللہ کی جانب سے حق آچکا۔ سچائی اتر آئی، جس میں کوئی شک شبہ نہیں، قرآن ایمان نفع دینے والا سچا علم منجانب اللہ آگیا، کفر برباد و غارت اور بے نام و نشان ہو گیا، وہ حق کے مقابلہ میں بے دست و پا ثابت ہوا، حق نے باطل کا دماغ پاش پاش کر دیا اور وہ نابود اور بے وجود ہوگیا۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں آئے بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے، آپ اپنے ہاتھ کی لکڑی سے انہیں کچوکے دے رہے تھے اور یہی آیت «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» [17-الإسراء:81] پڑھتے تھے اور فرماتے جاتے تھے حق آ چکا باطل نہ دوبارہ آ سکتا ہے نہ لوٹ سکتا ہے۔ [صحیح بخاری:2478]
ابو یعلیٰ میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے میں آئے، بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے، جن کی پوجا پاٹ کی جاتی تھی، آپ نے فوراً حکم دیا کہ ان سب کو اوندھے منہ گرا دو پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن ابی شیبة فی المصنف:534/8:حسن] صفحہ نمبر4779
تفسیر البغوی
اللہ عزوجل کے فرمان «اور کہو: اے میرے رب! مجھے سچائی کے ساتھ داخل فرما اور سچائی کے ساتھ نکال» میں «داخل کرنے» اور «نکالنے» سے مراد داخل کرنا اور نکالنا ہے۔ اس کے مفہوم کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ ابن عباس، حسن اور قتادہ نے کہا: «مجھے سچائی کے ساتھ داخل فرما» سے مراد مدینہ ہے، اور «مجھے سچائی کے ساتھ نکال» سے مراد مکہ ہے۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم دیا گیا۔ ضحاک نے کہا: «مجھے سچائی کے ساتھ نکال» یعنی مکہ سے مشرکین سے امن کی حالت میں نکال، اور «مجھے سچائی کے ساتھ داخل فرما» یعنی فتح کے ساتھ مکہ میں غالب ہو کر داخل فرما۔ مجاہد نے کہا: مجھے اس معاملے میں داخل فرما جس کے ساتھ تو نے مجھے نبوت دے کر بھیجا ہے، ایسی سچی شروعات کے ساتھ جو جنت تک پہنچائے، اور مجھے دنیا سے اس حالت میں نکال کہ میں اس کے حق کے جو فرائض مجھ پر تھے انہیں ادا کر چکا ہوں، سچی رخصتی کے ساتھ۔ حسن سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: «مجھے سچائی کے ساتھ داخل فرما» یعنی جنت میں، اور «مجھے سچائی کے ساتھ نکال» یعنی مکہ سے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے: مجھے اپنی اطاعت میں داخل فرما اور ممنوعات سے نکال۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا مطلب ہے: جہاں بھی مجھے داخل کرے، سچائی کے ساتھ داخل کرے اور سچائی کے ساتھ نکالے؛ یعنی مجھے ان لوگوں میں نہ بنا جو ایک چہرے کے ساتھ داخل ہوتے اور دوسرے چہرے کے ساتھ نکلتے ہیں، کیونکہ دو رُخا شخص اللہ کے نزدیک نہ امن والا ہوتا ہے، نہ عزت والا۔ داخلے اور خروج کو سچائی سے موصوف کیا گیا، کیونکہ ان سے فتح، عزت اور دین کی حکومت کا نتیجہ نکلتا ہے؛ جیسے «قَدَم» کو بھی سچائی سے موصوف کیا گیا ہے: «بے شک ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچائی کا مقام ہے» (یونس، 2)۔
«اور میرے لیے اپنے پاس سے ایسا مددگار غلبہ عطا فرما»۔ مجاہد نے کہا: واضح حجت۔ حسن نے کہا: ایسی مضبوط حکومت جس کے ذریعے تو ان لوگوں کے مقابلے میں میری مدد کرے جو میری مخالفت کریں، اور نمایاں عزت جس کے ذریعے میں تیرے دین کو قائم کروں۔ پس اللہ نے آپ سے وعدہ کیا کہ وہ فارس، روم اور دوسری سلطنتوں کی حکومت آپ کے حوالے کرے گا۔
قتادہ نے کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اس معاملے کی طاقت انہیں مددگار اقتدار کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی، چنانچہ انہوں نے مددگار اقتدار مانگا: اللہ کی کتاب، اس کی حدود اور اس کے دین کو قائم کرنا۔ «نصیر» یعنی مددگار۔
سنن الترمذی (حدیث نمبر 3139) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ دعا اس وقت نازل ہوئی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا۔