دعا 04 علم اور آسانی 9 منٹ مطالعہ

رسول کی بعثت کی دعا

ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی دعا 2:129
عربی متن

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ، وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ، وَالْحِكْمَةَ، وَيُزَكِّيهِمْ، إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ.

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ البقرة 2:129
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbanaa wab‘ath fiihim rasoolan minhum yatloo ‘alayhim aayaatika wa yu‘allimuhumul-kitaaba wal-hikmata wa yuzakkiihim innaka antal-‘aziizul-hakiim
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج[1] جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت[2] سکھائے اور انہیں پاک کرے[3]، یقیناً تو غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔

مفہوم اور خصوصیت

اس دعا میں امر کا صیغہ «اِبْعَثْ» (بھیج) آیا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے آخری رسول، محمد صلی اللہ علیہ وسلم، کی بعثت کی دعا کی۔ یہ دعا اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دعا کے ثمرات کئی صدیوں بعد بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

«اے ہمارے رب! ان میں بھیج» یعنی ہماری اولاد میں، «انہی میں سے ایک رسول» تاکہ ان دونوں کا مرتبہ بلند ہو، لوگ اس کی اطاعت کریں اور اسے صحیح طور پر پہچانیں۔ «جو ان کے سامنے تیری آیتیں پڑھے» یعنی ان کے الفاظ کی تلاوت کرے، انہیں یاد کرے اور یاد کروائے۔ «اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے» یعنی ان کے معانی سکھائے۔

«اور انہیں پاک کرے» نیک اعمال کی تربیت دے کر اور برے اعمال سے بیزاری سکھا کر، کیونکہ برے اعمال سے نفوس پاکیزہ نہیں ہوتے۔ «یقیناً تو ہی غالب ہے» یعنی ہر چیز پر قابو رکھنے والا، جس کی قوت کے سامنے کوئی چیز مزاحمت نہیں کر سکتی۔ «حکمت والا» یعنی ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے والا۔ پس اپنی عزت اور حکمت کے وسیلے سے ان میں یہ رسول بھیج۔

اللہ نے ان دونوں کی دعا قبول فرمائی اور یہ بزرگ رسول بھیجا، جن کے ذریعے اللہ نے خاص طور پر ان دونوں کی اولاد پر اور عمومی طور پر تمام مخلوق پر رحم فرمایا۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «میں اپنے والد ابراہیم کی دعا ہوں۔» پھر جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو یہ عظیم مرتبہ عطا فرمایا اور ان کی کامل صفات کا ذکر کیا تو ارشاد فرمایا:

امام ابن کثیر کی تفسیر

دعائے ابراہیم علیہ السلام کا ماحصل ٭٭ اہل حرم کے لیے یہ دعا بھی ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہی رسول ان میں آئے چنانچہ یہ بھی پوری ہوئی۔ مسند احمد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں “ میں اللہ جل شانہ کے نزدیک آخری نبی اس وقت سے ہوں جبکہ آدم علیہ السلام ابھی مٹی کی صورت میں تھے “ میں تمہیں ابتدائی امر بتاؤں میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی ماں کا خواب ہوں۔ “ انبیا علیہ السلام کی واکدہ کو ایسے ہی خواب آتے ہیں۔ [مسند احمد:127/4:ضعیف] سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ !

صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کا شروع تو ہمیں بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور میری خوشخبری جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی اور میری ماں نے دیکھا کہ گویا ان میں سے ایک نور نکلا، جس سے شام کے محل چمکا دئیے۔ [مسند احمد:262/5:صحیح لغیرہ] مطلب یہ ہے کہ دنیا میں شہرت کا ذریعہ یہ چیزیں ہوئی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ صاحبہ کا خواب بھی عرب میں پہلے ہی مشہور ہو گیا تھا اور وہ کہتے ہیں کہ بطن آمنہ سے کوئی بڑا شخص پیدا ہو گا بنی اسرائیل کے نبیوں کے ختم کرنے والے روح اللہ نے تو بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف نام بھی لے دیا اور فرمایا لوگو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، مجھ سے پہلے کی کتاب توراۃ کی میں تصدیق کرتا ہوں اور میرے بعد آنے والے نبی کی میں تمہیں بشارت دیتا ہوں جن کا نام احمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم [61-الصف:6] اسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے، خواب میں نور سے شام کے محلات کا چمک اٹھنا اشارہ ہے، اس امر کی طرف کہ دین وہاں جم جائے گا۔

بلکہ روایتوں سے ثابت ہے کہ آخر زمانہ میں شام اسلام اور اہل اسلام کا مرکز بن جائے گا۔ شام کے مشہور شہر دمشق ہی میں عیسیٰ علیہ السلام شرقی سفید مینارہ پر نازل ہوں گے۔ بخاری مسلم میں ہے “ میری امت کی ایک جماعت حق پر قائم رہے گی، ان کے مخالفین انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ امر اللہ آ جائے “ [صحیح بخاری:7460] صحیح بخاری میں اتنی زیادتی اور ہے کہ “ وہ شام میں ہوں گے۔ “ [صحیح بخاری:3641]

ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ یہ بھی اسی مقبول دعا کا ایک حصہ ہے کہ اور یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آخر زمانہ میں مبعوث ہوں گے۔ “ کتاب سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے حسن اور قتادہ اور مقاتل بن حیان اور ابومالک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی فرمان ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:390/1] اور حکمت سے مراد دین کی سمجھ بوجھ بھی ہے۔ پاک کرنا یعنی طاعت و اخلاص سیکھنا، بھلائیاں کرانا، برائیوں سے بچانا، اطاعت الٰہی کر کے رضائے رب حاصل کرنا، نافرمانی سے بچ کر ناراضگی سے محفوظ رہنا۔

اللہ عزیز ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی جو ہر چیز پر غالب ہے وہ حکیم ہے یعنی اس کا کوئی قول و فعل حکمت سے خالی نہیں، وہ ہر چیز کو اپنے محل پر ہی حکمت وعدل و علم کے ساتھ رکھتا ہے۔ صفحہ نمبر531

تفسیر البغوی

«اے ہمارے رب! ان میں بھیج» یعنی ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی اولاد سے امتِ مسلمہ میں؛ اور کہا گیا ہے کہ اہلِ مکہ میں۔ «انہی میں سے ایک رسول» یعنی ان میں مبعوث ہونے والا رسول، اس سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

سید ابو القاسم علی بن موسیٰ الموسوی نے ہم سے روایت بیان کی، انہوں نے کہا: ابو بکر احمد بن محمد بن عباس البلخی نے مجھے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: امام ابو سلیمان حمد بن محمد بن ابراہیم الخطابی نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: محمد بن المکی نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ابنِ اخو ابن وہب نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میرے چچا نے ہمیں حدیث بیان کی، معاویہ سے، صالح سے، سعید بن سوید سے، عبد الاعلیٰ بن ہلال السلمی سے، عرباض بن ساریہ سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: «میں اللہ کے ہاں خاتم النبیین لکھا ہوا تھا، جبکہ آدم ابھی اپنی مٹی کی تخلیق میں تھے۔

میں تمہیں اپنے معاملے کی ابتدا بتاتا ہوں: میں ابراہیم کی دعا، عیسیٰ کی بشارت، اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا تھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔» ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے مراد یہی دعا ہے، کیونکہ انہوں نے دعا کی تھی کہ بنی اسماعیل میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث ہو۔ ابن عباس نے کہا: «تمام انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں، سوائے دس کے: نوح، ہود، صالح، شعیب، لوط، ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور محمد؛ ان سب پر درود و سلام ہو۔» «تلاوت کرے» یعنی پڑھے۔

«ان کے سامنے تیری آیتیں» یعنی تیری کتاب، مراد قرآن ہے۔ قرآن کی آیت وہ متصل کلام ہے جو ایک مقام پر ختم ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت حروف کے ایک مجموعے کو کہتے ہیں؛ عرب کہتے ہیں: «قوم اپنی آیت کے ساتھ نکلی»، یعنی اپنے گروہ کے ساتھ نکلی۔ «اور انہیں کتاب سکھائے» یعنی قرآن۔

«اور حکمت» مجاہد نے کہا: «قرآن کی سمجھ»۔ مقاتل نے کہا: «قرآن کی نصیحتیں اور اس کے احکام»۔ ابن قتیبہ نے کہا: «علم اور عمل؛ آدمی اس وقت تک حکمت والا نہیں ہوتا جب تک ان دونوں کو جمع نہ کرے۔» یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکمت سے مراد سنت ہے؛ اور یہ بھی کہ احکام اور فیصلے؛ اور یہ بھی کہ فقہ۔

ابو بکر بن درید نے کہا: «ہر وہ بات جو تمہیں نصیحت کرے، کسی خوبی کی طرف بلائے یا برائی سے روکے، حکمت ہے۔» «اور انہیں پاک کرے» یعنی انہیں شرک اور گناہوں سے پاک کرے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے مال سے زکوٰۃ لے۔ ابن کیسان نے کہا: «اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ انبیاء کے حق میں تبلیغ کی گواہی دیں گے تو قیامت کے دن ان کے عادل ہونے کی گواہی دے گا»؛ تزکیہ سے مراد عدالت کی گواہی دینا ہے۔

«یقیناً تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔» ابن عباس نے کہا: «العزیز وہ ہے جس جیسا کوئی نہیں۔» کلبی نے کہا: «انتقام لینے والا؛ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: “اور اللہ غالب، بدلہ لینے والا ہے” (آل عمران، 14)۔» یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ ہے جو ناقابلِ دسترس ہے، جس تک ہاتھ نہیں پہنچتے اور جس تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد قوت والا ہے؛ عزت کے معنی قوت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «تو ہم نے تیسرے کے ذریعے انہیں قوت دی» (یس، 23)، یعنی ہم نے انہیں قوت بخشی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ غالب، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا: «اور وہ گفتگو میں مجھ پر غالب آ گیا» (ص، 23)، یعنی وہ مجھ پر غالب ہو گیا۔ کہاوت میں ہے: «جو غالب آئے، وہ چھین لے»۔

تائیدی حدیث

امام احمد کے «مسند» (نمبر 17163) میں روایت ہے کہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: «ہمیں اپنے بارے میں بتائیے!» آپ نے فرمایا: «میں اپنے والد ابراہیم کی دعا ہوں…»

نشانیاں
  • #دعا
  • #ابراہیم
  • #اسماعیل
  • #رسالت
  • #قرآن
  • #تزکیہ

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →