رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي، وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي، وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي.
رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے. اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے. اور میری زبان کی گره بھی کھول دے. تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں.
اس دعا میں لگاتار چار صیغۂ امر ہیں: «اشْرَحْ» (کھول دے)، «يَسِّرْ» (آسان کر دے)، «احْلُلْ» (گرہ کھول دے) اور «يَفْقَهُوا» (وہ سمجھ لیں)۔ یہ فصاحت، اطمینانِ قلب اور دشوار کاموں میں آسانی کے لیے قرآن کی بنیادی دعا ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
«اور میرا کام میرے لیے آسان کر دے» یعنی میرے لیے ہر اس کام کو سہل کر دے جسے میں انجام دوں، اور ہر اس راستے کو آسان کر دے جس پر میں تیری راہ میں چلوں۔ میرے سامنے آنے والی سختیوں کو میرے لیے ہلکا کر دے۔ کام میں آسانی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ دعا کرنے والے کو تمام معاملات ان کے مناسب طریقوں سے انجام دینے کی توفیق دے، وہ ہر شخص سے اس کے شایانِ حال بات کرے، اور اسے حق قبول کرنے تک پہنچانے کے قریب ترین طریقے سے دعوت دے۔
آیات ۲۷ اور ۲۸ کی تفسیر: «اور میری زبان کی گرہ کھول دے، تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں۔» مفسرین کے بیان کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں لکنت تھی، یہاں تک کہ ان کی بات بمشکل سمجھی جاتی تھی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کو نقل فرمایا: «اور میرا بھائی ہارون، وہ مجھ سے زیادہ فصیح زبان والا ہے»۔ چنانچہ انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے، تاکہ لوگ ان کی بات سمجھیں اور گفتگو، جواب و سوال اور معانی کی وضاحت کا پورا مقصد حاصل ہو۔
آیات ۲۴ اور ۲۵ کی تفسیر: جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی، انہیں نبوت عطا کی اور انہیں روشن نشانیاں دکھائیں تو انہیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف بھیجا اور فرمایا: «فرعون کے پاس جاؤ، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے۔» یعنی اس نے کفر، فساد، زمین میں سرکشی اور کمزوروں پر جبر میں حد سے تجاوز کیا تھا، یہاں تک کہ اس نے ربوبیت اور الوہیت کا دعویٰ کر لیا تھا—اللہ اسے رسوا کرے۔ اس کی سرکشی ہی اس کی ہلاکت کا سبب تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت، حکمت اور عدل کا تقاضا ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک رسولوں کے ذریعے حجت قائم نہ ہو جائے۔
تب موسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ ان پر ایک بہت بھاری ذمہ داری ڈالی گئی ہے: انہیں اس سرکش اور ہٹ دھرم جابر کے پاس بھیجا گیا تھا، جس کا مصر میں مخلوق میں کوئی حریف نہ تھا، جبکہ موسیٰ علیہ السلام اکیلے تھے اور ان سے پہلے قتل کا واقعہ بھی پیش آ چکا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور اسے کشادہ دلی سے قبول کیا، پھر مدد اور اسباب کی آسانی طلب کی، جو دعوت کے تقاضوں میں سے ہیں۔ انہوں نے کہا: «اے میرے رب! میرا سینہ میرے لیے کھول دے۔»
یعنی اسے وسیع اور کشادہ کر دے تاکہ میں قولی اور فعلی اذیت برداشت کر سکوں، میرا دل اس سے مکدر نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ پڑے؛ کیونکہ جب سینہ تنگ ہو تو اس کا صاحب لوگوں کی رہنمائی اور انہیں دعوت دینے کے لائق نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «پس اللہ کی رحمت ہی سے آپ ان کے لیے نرم خو ہوئے، اور اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو وہ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔» امید ہے کہ لوگ نرمی، کشادہ دلی اور ان کے لیے سینہ فراخ رکھنے کے ساتھ حق قبول کریں گے۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭ جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟
جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔
پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔ صفحہ نمبر5209 سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟
اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔
اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔
تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔ صفحہ نمبر5210
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭ جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟
جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔
پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔ صفحہ نمبر5209 سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟
اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔
اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔
تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔ صفحہ نمبر5210
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭ جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟
جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔
پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔ صفحہ نمبر5209 سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟
اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔
اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔
تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔ صفحہ نمبر5210
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭ جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟
جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔
پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔ صفحہ نمبر5209 سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟
اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔
اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔
تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔ صفحہ نمبر5210
تفسیر البغوی
«موسیٰ نے کہا: اے میرے رب! میرا سینہ میرے لیے کھول دے۔» یعنی اسے حق کے لیے وسیع کر دے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان کی مراد یہ تھی کہ میں تیرے سوا کسی سے نہ ڈروں۔ موسیٰ علیہ السلام فرعون سے بہت زیادہ خوف زدہ تھے، کیونکہ اس کی طاقت بہت مضبوط اور اس کے لشکر بہت زیادہ تھے۔
انہیں اس بات سے بھی سینہ تنگ ہوتا تھا کہ انہیں اکیلے فرعون کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ ان کا دل حق کے لیے کشادہ کر دے، تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ جب انہیں یہ معلوم ہو جائے گا تو وہ فرعون، اس کی سخت قوت اور اس کے لشکروں کی کثرت سے نہیں ڈریں گے۔
«اور میرا کام میرے لیے آسان کر دے۔» یعنی فرعون تک رسالت پہنچانے کا جو حکم تو نے مجھے دیا ہے، اسے میرے لیے سہل کر دے۔
«تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں۔» یعنی گرہ کھول دے، تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔
«اور میری زبان کی ایک گرہ کھول دے۔» اس کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک دن بچپن میں موسیٰ علیہ السلام فرعون کی گود میں تھے۔ انہوں نے فرعون کو ایک طمانچہ مارا اور اس کی داڑھی پکڑ لی۔ فرعون نے اپنی بیوی آسیہ سے کہا: یہ میرا دشمن ہے، اور اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔
آسیہ نے کہا: یہ تو بچہ ہے، نہ سمجھتا ہے نہ پہچانتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کا دودھ چھڑایا گیا تو ان کی والدہ نے انہیں واپس کر دیا۔ پھر وہ فرعون اور اس کی بیوی آسیہ کی گود میں پرورش پانے لگے، دونوں نے انہیں بیٹا بنا لیا۔ ایک روز وہ فرعون کے سامنے کھیل رہے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے وہ کھیل رہے تھے۔
انہوں نے چھڑی اٹھا کر فرعون کے سر پر مار دی۔ فرعون غضب ناک ہوا اور اس ضرب کو بدشگونی سمجھا، یہاں تک کہ انہیں قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ آسیہ نے کہا: اے بادشاہ! یہ چھوٹا بچہ ہے، سمجھتا نہیں۔ اگر چاہو تو اسے آزما لو۔ پھر وہ دو طشت لائیں؛ ایک میں انگارے تھے اور دوسرے میں جواہرات۔
دونوں طشت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے رکھے گئے۔ انہوں نے جواہرات لینے کا ارادہ کیا، مگر جبریل علیہ السلام نے ان کا ہاتھ پکڑ کر آگ پر رکھ دیا۔ انہوں نے انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا، جس سے ان کی زبان جل گئی اور اس پر گرہ پڑ گئی۔
«تفسیر ابن کثیر» میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اہم تقاریر، اسباق اور خطبات سے پہلے یہ دعا پڑھنی چاہیے۔