رَبِّ إِنِّي، وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي، وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ. رَبِّ شَقِيًّا، وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ، وَرَائِي، وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا، فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ، وَلِيًّا يَرِثُنِي، وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ، وَاجْعَلْهُ. رَبِّ رَضِيًّا.
رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
کہ اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے[1] ، لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا.[2] مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے[1] ، میری بیوی بھی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے[2] وارث عطا فرم. جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کا بھی جانشین اور میرے رب! تو اسے مقبول بنده بنا لے.
اس دعا میں اپنی کمزوری کا حال بیان کرنا (لسان الحال)، «ہَبْ لِي» (مجھے عطا فرما) اور «اجْعَلْهُ» (اسے بنا دے) کی درخواست شامل ہے۔ جسمانی ناتوانی اور بڑھاپے کے باوجود نیک اولاد کی دعا کرنے کا یہ نمونہ ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
(يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا) یعنی ایسا نیک بندہ جس سے تو راضی ہو اور اسے اپنے بندوں کے دلوں میں محبوب بنا دے۔ حاصل یہ ہے کہ انہوں نے اللہ سے ایک لڑکا مانگا جو ان کی وفات کے بعد باقی رہے اور ان کے بعد سرپرست بنے، اور اللہ اور اس کی مخلوق کے نزدیک پسندیدہ نبی ہو۔ اولاد میں یہ سب سے افضل صورت ہے۔ بندے پر اللہ کی رحمت میں سے یہ بھی ہے کہ اسے نیک اولاد عطا فرمائے جو اعلیٰ اخلاق اور عمدہ خصلتوں کی جامع ہو۔ پس ان کے رب نے ان پر رحم فرمایا اور ان کی دعا قبول کی۔
(رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي) یعنی میری ہڈیاں کمزور اور ناتواں ہوگئی ہیں۔ جب جسم کا ستون، یعنی ہڈیاں، کمزور ہوجائیں تو جسم کے دوسرے اعضا بھی کمزور ہوجاتے ہیں۔ (وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا) یعنی سر کے بال بڑھاپے کی سفیدی سے بھڑک اٹھے ہیں، کیونکہ سفید بال کمزوری اور بڑھاپے کی علامت، موت کا پیغام رساں اور اس کا پیش خیمہ اور تنبیہ کرنے والے ہیں۔ پس انہوں نے اپنی کمزوری اور بے بسی کا وسیلہ پیش کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔
یہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین وسیلوں میں سے ہے، کیونکہ اس سے بندہ اپنی طاقت اور قوت سے بیزاری ظاہر کرتا اور اپنا دل اللہ کی طاقت اور قوت سے وابستہ کرتا ہے۔ (وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا) یعنی اے میرے رب! تو نے مجھے کبھی نامراد نہیں لوٹایا اور نہ جواب سے محروم رکھا؛ بلکہ تو ہمیشہ مجھ پر مہربان رہا، میری دعا قبول کرتا رہا، تیری عنایتیں مجھ پر مسلسل ہوتی رہیں اور تیرا احسان مجھ تک پہنچتا رہا۔ اس میں اللہ کی ان نعمتوں اور سابقہ دعاؤں کی قبولیت کا وسیلہ پیش کیا گیا ہے؛ گویا انہوں نے اس ذات سے سوال کیا جس نے پہلے ان پر احسان فرمایا تھا کہ وہ آئندہ بھی اپنا احسان مکمل فرمائے۔
(وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي) یعنی مجھے اندیشہ ہے کہ میری وفات کے بعد جو لوگ بنی اسرائیل کے معاملات سنبھالیں گے، وہ تیرے دین کی صحیح طور پر پاسداری نہ کریں گے اور تیرے بندوں کو تیری طرف نہ بلائیں گے۔ ظاہرِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان میں کسی کو دینی پیشوائی کے لائق نہ پاتے تھے۔ اس میں حضرت زکریا علیہ السلام کی شفقت اور خیر خواہی ظاہر ہوتی ہے۔ ان کی اولاد طلبی دوسروں کی طرح محض دنیاوی فائدے کے لیے نہ تھی، بلکہ ان کا مقصود دین کا فائدہ اور اس کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ تھا۔
انہوں نے دوسروں کو اس کام کے لائق نہ سمجھا۔ ان کا گھرانہ دین میں معروف، رسالت کا مرکز اور خیر کی امید رکھنے والا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ انہیں ایسا بیٹا عطا فرمائے جو ان کے بعد دین کی ذمہ داری سنبھالے۔ انہوں نے یہ بھی عرض کیا کہ ان کی بیوی بانجھ ہے، یعنی بالکل اولاد نہیں جنتی، اور وہ بڑھاپے کی انتہائی حد کو پہنچ چکے ہیں؛ یعنی ایسی عمر میں ہیں جس میں خواہش اور اولاد کا ہونا شاذ و نادر ہوتا ہے۔
(فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا) یہ سرپرستی دین کی سرپرستی اور نبوت، علم اور عمل کی میراث ہے۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
تفسیر سورۃ مریم: اسی سورت کے شروع کی آیتیں سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شاہ حبشہ کے دربار میں بادشاہ کے درباریوں کے سامنے تلاوت فرمائی تھیں۔ [مسند احمد:461/1] (مسند احمد اور سیرت محمد بن اسحاق) دعا اور قبولیت ٭٭ اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔
ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے، آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2379]
رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
صفحہ نمبر5020 بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ” اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب! “ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ” لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں “ ۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ” اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔
میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔ “
«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ” میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں “ ۔
پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ” چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے “ ۔
یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔
انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔ صفحہ نمبر5021 تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے ۔ [صحیح بخاری:3094]
ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا ۔ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ” مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو “ ، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ” وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔ “
جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ” سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے “ ۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔
چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے ۔
مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔
زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔ صفحہ نمبر5022 عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور ” اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔ “ صفحہ نمبر5023
تفسیر سورۃ مریم: اسی سورت کے شروع کی آیتیں سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شاہ حبشہ کے دربار میں بادشاہ کے درباریوں کے سامنے تلاوت فرمائی تھیں۔ [مسند احمد:461/1] (مسند احمد اور سیرت محمد بن اسحاق) دعا اور قبولیت ٭٭ اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔
ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے، آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2379]
رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
صفحہ نمبر5020 بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ” اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب! “ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ” لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں “ ۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ” اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔
میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔ “
«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ” میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں “ ۔
پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ” چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے “ ۔
یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔
انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔ صفحہ نمبر5021 تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے ۔ [صحیح بخاری:3094]
ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا ۔ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ” مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو “ ، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ” وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔ “
جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ” سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے “ ۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔
چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے ۔
مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔
زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔ صفحہ نمبر5022 عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور ” اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔ “ صفحہ نمبر5023
تفسیر سورۃ مریم: اسی سورت کے شروع کی آیتیں سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شاہ حبشہ کے دربار میں بادشاہ کے درباریوں کے سامنے تلاوت فرمائی تھیں۔ [مسند احمد:461/1] (مسند احمد اور سیرت محمد بن اسحاق) دعا اور قبولیت ٭٭ اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔
ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے، آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2379]
رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
صفحہ نمبر5020 بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ” اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب! “ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ” لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں “ ۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ” اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔
میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔ “
«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ” میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں “ ۔
پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ” چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے “ ۔
یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔
انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔ صفحہ نمبر5021 تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے ۔ [صحیح بخاری:3094]
ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا ۔ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ” مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو “ ، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ” وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔ “
جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ” سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے “ ۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔
چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے ۔
مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔
زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔ صفحہ نمبر5022 عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور ” اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔ “ صفحہ نمبر5023
تفسیر البغوی
(قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ) کمزور اور ناتواں ہوگیا۔ (الْعَظْمُ مِنِّي) بڑھاپے کی وجہ سے۔ قتادہ نے کہا: انہوں نے دانت گرنے کی شکایت کی تھی۔
(وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ) یعنی سر کے بال سفید ہوگئے۔ (شَيْبًا) یعنی سفیدی پھیل گئی۔
(وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا) ان کا مطلب ہے: تو نے ماضی میں میری دعا قبول کرنے کی عادت فرمائی ہے اور مجھے نامراد نہیں کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا مطلب ہے: جب تو نے مجھے ایمان کی دعوت دی تو میں ایمان لے آیا، اس لیے ایمان چھوڑنے کے سبب بدبخت نہ ہوا۔
(يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ) ابو عمرو اور کسائی نے دونوں افعال کو جزم کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی یہ دعا کے جواب میں ہیں؛ جبکہ دوسرے قراء نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی یہ «وَلِيًّا» کی حالت یا صفت ہے، مطلب: ایسا وارث ولی۔ اس وراثت کے بارے میں اختلاف ہے۔ حسن نے کہا: اس سے مراد ہے کہ وہ میرے مال کا وارث ہو اور آلِ یعقوب کی نبوت اور حبریٰ [احبار کے منصب] کا وارث ہو۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے نبوت اور علم کی میراث مراد ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ حبریٰ کا منصب ورثے میں ملنا مراد ہے، کیونکہ زکریا احبار کے سردار تھے۔ زجاج نے کہا: بہتر یہ ہے کہ اسے مال کے سوا کسی اور چیز کی میراث پر محمول کیا جائے، کیونکہ یہ بعید ہے کہ زکریا، جو اللہ کے نبیوں میں سے تھے، اس بات پر فکرمند ہوں کہ ان کے چچا زاد بھائی ان کے مال کے وارث بنیں۔ مطلب یہ ہے کہ انہیں اندیشہ تھا کہ ان کے چچا زاد بھائی اللہ کے دین کو ضائع کردیں گے اور اس کے احکام بدل ڈالیں گے، جیسا کہ انہوں نے بنی اسرائیل میں دین بدلنے اور انبیاء کو قتل کرنے کے واقعات دیکھے تھے۔
چنانچہ انہوں نے اپنے رب سے ایسا نیک وارث مانگا جس کے سپرد وہ اپنی امت کو کرکے مطمئن ہوں، اور جو ان کی نبوت اور علم کا وارث ہو، تاکہ دین ضائع نہ ہو۔ عطاء کی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کا بھی یہی مفہوم ہے۔
(وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا) یعنی اسے نیک، پرہیزگار اور پسندیدہ بنا دے۔
(وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ) «الموالي» سے مراد چچا زاد بھائی ہیں۔ مجاہد نے کہا: عصَبہ [باپ کی طرف کے قریبی رشتہ دار]۔ ابو صالح نے کہا: کلالہ [ایسے ورثاء جو نہ اصول ہوں نہ فروع]۔ کلبی نے کہا: وارث۔
(مِنْ وَرَائِي) یعنی میری وفات کے بعد۔ ابن کثیر نے «مِنْ وَرَائِي» میں یاء کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے، جبکہ دوسرے قراء نے اسے ساکن پڑھا ہے۔
(وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا) یعنی وہ اولاد نہیں جنتی تھی۔ (فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ) یعنی اپنے پاس سے مجھے عطا فرما۔ (وَلِيًّا) یعنی ایک بیٹا۔
صحیح البخاری (حدیث نمبر 3087) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے: «ہم انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے۔ ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔»