شرک سے حفاظت اور نماز کی پابندی
رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا، وَاجْنُبْنِي، وَبَنِيَّ، أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ. رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ، فَمَنْ تَبِعَنِي، فَإِنَّهُ مِنِّي، وَمَنْ عَصَانِي، فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ. رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ. رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ، وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ. رَبَّنَا، إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي، وَمَا نُعْلِنُ، وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ، وَلَا فِي السَّمَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي، وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ، وَإِسْحَاقَ، إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ. رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ، وَمِنْ ذُرِّيَّتِي. رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ. رَبَّنَا اغْفِرْ لِي، وَلِوَالِدَيَّ، وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ.
رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
(ابراہیم کی یہ دعا بھی یاد کرو) جب انہوں نے کہا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن واﻻ بنادے[1] ، اور مجھے اور میری اوﻻد کو بت پرستی سے پناه دے. اے میرے پالنے والے معبود! انہوں نے بہت سے لوگوں کو راه سے بھٹکا دیا ہے[1] ۔ پس میری تابعداری کرنے واﻻ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو بہت ہی معاف اور کرم کرنے واﻻ ہے. اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اوﻻد[1] اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وه نماز قائم رکھیں[2]، پس تو کچھ لوگوں[3] کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے۔ اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما[4] تاکہ یہ شکر گزاری کریں. اے ہمارے پروردگار! تو خوب جانتا ہے جو ہم چھپائیں اور جو ﻇاہر کریں۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اللہ پر پوشیده نہیں.[1] اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسماعیل واسحاق (علیہما السلام) عطا فرمائے۔ کچھ شک نہیں کہ میرا پالنہار اللہ دعاؤں کا سننے واﻻ ہے. اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اوﻻد سے بھی[1] ، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما. اے ہمارے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی بخش[1] اور دیگر مومنوں کو بھی بخش جس دن حساب ہونے لگے.
یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کا ایک جامع سلسلہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ سے شرک سے حفاظت، نماز قائم رکھنے اور اہلِ ایمان کی مغفرت کی درخواست کی گئی ہے۔ ان دعاؤں میں «اجنبني» یعنی مجھے بچا لے، «اجعلني» یعنی مجھے بنا دے، اور «اغفر لي» یعنی مجھے بخش دے جیسے الفاظ شامل ہیں۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
ابراہیم علیہ السلام ہاجرہ، جو اسماعیل علیہ السلام کی والدہ تھیں، اور شیرخوار اسماعیل علیہ السلام کو شام سے لے کر آئے اور انہیں مکہ میں چھوڑ دیا۔ اس وقت وہاں کوئی آباد نہیں تھا، نہ کوئی پکارنے والا تھا اور نہ جواب دینے والا۔ جب آپ نے ان دونوں کو وہاں چھوڑا تو اپنے رب سے یہ دعا کی۔ آپ نے اپنے رب پر بھروسا کرتے اور عاجزی سے عرض کیا: «اے ہمارے رب!
میں نے اپنی اولاد میں سے کچھ کو» — یعنی اپنی تمام اولاد کو نہیں، کیونکہ اسحاق اور آپ کی باقی اولاد شام میں تھی؛ مکہ میں آپ نے صرف اسماعیل اور ان کی اولاد کو بسایا — «ایک ایسی وادی میں بسایا ہے جہاں کھیتی نہیں ہوتی»، کیونکہ مکہ کی زمین کھیتی باڑی کے لیے موزوں نہیں۔
«اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں» یعنی انہیں توحید اختیار کرنے والا اور نماز قائم رکھنے والا بنا، کیونکہ نماز قائم کرنا دینی عبادات میں سب سے نمایاں اور افضل عبادات میں سے ہے۔ جو نماز قائم کرتا ہے، وہ اپنا دین قائم رکھتا ہے۔ «پس لوگوں کے کچھ دلوں کو ان کی طرف مائل کردے» یعنی انہیں ان سے محبت کرنے والا اور اس جگہ سے محبت کرنے والا بنا جہاں وہ رہتے ہیں۔
اللہ نے اس کی دعا قبول فرمائی، چنانچہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ نے اپنی قوم کو اسلام اور اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دین کی طرف بلایا، تو انہوں نے آپ کی دعوت قبول کی اور نماز قائم کرنے والے بن گئے۔ اللہ نے اس گھر کا حج فرض کیا جہاں ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو بسایا، اور اس میں ایک عجیب راز رکھا جو دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ لوگ اس کا حج کرتے ہیں، مگر ان کی طلب کبھی پوری نہیں ہوتی؛ بندہ جتنی بار وہاں آتا ہے، اس کا شوق، لگاؤ اور اشتیاق بڑھتا ہی جاتا ہے۔
یہی اس گھر کو اللہ تعالیٰ کی اپنی ذاتِ مقدس کی طرف منسوب کرنے کا راز ہے۔
«اور انہیں پھلوں سے رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر کریں۔» اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی، چنانچہ ہر چیز کے پھل وہاں پہنچائے جانے لگے۔ آپ مکہ مکرمہ کو ہر وقت دیکھیں گے کہ وہاں پھل موجود ہیں اور ہر طرف سے رزق مسلسل آتا رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑھاپے میں اولاد عطا فرمائی، جب اولاد کی امید باقی نہ رہی تھی؛ یہ ایک اور نعمت تھی۔ پھر ان کا نیک نبی ہونا اس سے بھی بڑی اور افضل نعمت ہے۔ «بے شک میرا رب دعا سننے والا ہے» یعنی جو اس سے دعا کرے، وہ اس کی دعا قبول فرمانے کے قریب ہے۔ میں نے اس سے دعا کی، تو اس نے میری امید کو نامراد نہیں کیا۔
یعنی بتوں کے سبب بہت سے لوگ گمراہ ہوگئے۔ «پس جس نے میری پیروی کی تو وہ مجھ سے ہے» یعنی توحید اور تمام جہانوں کے رب کے لیے اخلاص کے اس دین میں جسے میں لے کر آیا ہوں، میری پیروی کرنے والا مجھ سے ہے۔ کامل موافقت کی بنا پر وہ مجھ سے ہے؛ جو کسی قوم سے محبت کرے اور ان کی پیروی کرے، وہ انہی میں شامل ہوجاتا ہے۔ «اور جس نے میری نافرمانی کی تو بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔»
یہ خلیل اللہ علیہ السلام کی شفقت ہے کہ آپ نے نافرمانوں کے لیے اللہ سے مغفرت اور رحمت مانگی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں پر آپ سے بھی زیادہ رحم فرمانے والا ہے؛ وہ صرف اسی کو عذاب دیتا ہے جو اس کے مقابلے میں سرکشی کرے۔
«اے ہمارے رب! حساب کے قائم ہونے کے دن مجھے، میرے والدین اور تمام مؤمنوں کو بخش دے۔» اللہ نے آپ کی یہ دعائیں قبول فرمائیں، البتہ اپنے والد کے لیے آپ کی دعا ایک وعدے کی بنا پر تھی جو آپ نے ان سے کیا تھا۔ پھر جب آپ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ نے اس سے بیزاری اختیار کرلی۔
اور ابراہیم علیہ السلام کو ان کی اس اچھی حالت میں یاد کرو، جب انہوں نے کہا: «اے میرے رب! اس شہر» یعنی حرم «کو امن والا بنا دے۔» اللہ نے ان کی دعا شرعی اور تقدیری دونوں طور پر قبول فرمائی۔ اس نے شرعاً اسے حرم قرار دیا اور تقدیراً اس کی حرمت کے اسباب مہیا فرمائے جو معلوم ہیں، یہاں تک کہ کوئی ظالم اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ اسے توڑ دیتا ہے، جیسا کہ اصحابِ فیل اور دیگر کے ساتھ کیا۔
جب آپ نے شہر کے لیے امن کی دعا کی تو اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے بھی امن کی دعا کرتے ہوئے کہا: «اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے دور رکھ کہ ہم بتوں کی عبادت کریں» یعنی مجھے اور انہیں بتوں کی عبادت اور ان کے قریب جانے سے بہت دور رکھ۔ پھر آپ نے بتایا کہ آپ کو اپنے اور اپنی اولاد کے بارے میں خوف کیوں تھا: بہت سے لوگ ان کی عبادت کے فتنے میں مبتلا ہوچکے تھے۔
پھر آپ نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے دعا کی: «اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی کچھ کو؛ اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما۔»
یعنی تو ہمارے حال کو ہم سے زیادہ جانتا ہے۔ ہم تجھ سے تیرے انتظام اور پرورش کے وسیلے سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے لیے معلوم اور نامعلوم امور میں سے وہ چیزیں آسان فرما جو تیرے علم اور رحمت کا تقاضا ہیں۔ «اور زمین اور آسمان میں کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں۔» اس میں یہ دعا بھی شامل ہے، جس سے خلیل اللہ علیہ السلام کا مقصد صرف خیر اور تمام جہانوں کے رب کا کثرت سے شکر ادا کرنا تھا۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
حرمت وعظمت کا مالک شہر ٭٭ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ علیہ السلام اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے۔ انہی نے اس شہر کے با امن ہونے کی دعا کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی “ ۔
«أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ» [29-العنکبوت:67] ۔ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ» «فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:96-97] ” سب سے پہلا با برکت اور با ہدایت اللہ کا گھر مکے شریف کا ہی ہے، جس میں بہت سی واضح نشانیوں کے علاوہ مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس شہر میں جو پہنچ گیا، امن و امان میں آ گیا “ ۔
اس شہر کو بنانے کے بعد خلیل اللہ نے دعا کی کہ ” اے اللہ اس شہر کو پر امن بنا۔ “ اسی لیے فرمایا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ» [14-ابراھیم:39] ” اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسے بچے عطا فرمائے “ ۔
اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پیتا اس کی والدہ کے ساتھ لے کر یہاں آئے تھے تب بھی آپ علیہ السلام نے اس شہر کے با امن ہونے کی دعا کی تھی لیکن اس وقت کے الفاظ یہ تھے «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [2-البقرة:126] ۔ پس اس دعا میں «بَلَدَ» پر لام نہیں ہے، اس لیے کہ یہ دعا شہر کی آبادی سے پہلے کی ہے اور اب چونکہ شہر بس چکا تھا۔ «بلد» کو معرف بلام لائے۔ سورۃ البقرہ میں ہم ان چیزوں کو وضاحت و تفصیل کے ساتھ ذکر کر آئے ہیں۔
پھر دوسری دعا میں اپنی اولاد کو بھی شریک کیا۔ انسان کو لازم ہے کہ اپنی دعاؤں میں اپنے ماں باپ کو اور اولاد کو بھی شامل رکھے۔ پھر آپ علیہ السلام نے بتوں کی گمراہی ان کا فتنہ اکثر لوگوں کا بہکا جانا بیان فرما کر ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور انہیں اللہ کے حوالے کیا کہ وہ چاہے بخشے، چاہے سزا دے۔ جیسے روح اللہ علیہ السلام بروز قیامت کہیں گے کیا اگر تو انہیں عذاب کرے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے۔
یہ یاد رہے کہ اس میں صرف اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے کی طرف لوٹنا ہے نہ کہ اس کے واقع ہونے کو جائز سمجھنا ہے۔ حضور علیہ السلام نے خلیل اللہ کا یہ قول اور روح اللہ کا قول آیت «اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [5-المائدة:118] ، تلاوت کر کے رو رو کر اپنی امت کو یاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ جا کر دریافت کرو کہ کیوں رو رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب بیان کیا حکم ہوا کہ جاؤ اور کہہ دو کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں خوش کر دیں گے ناراض نہ کریں گے۔ [صحیح مسلم:202] صفحہ نمبر4251
حرمت وعظمت کا مالک شہر ٭٭ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ علیہ السلام اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے۔ انہی نے اس شہر کے با امن ہونے کی دعا کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی “ ۔
«أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ» [29-العنکبوت:67] ۔ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ» «فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:96-97] ” سب سے پہلا با برکت اور با ہدایت اللہ کا گھر مکے شریف کا ہی ہے، جس میں بہت سی واضح نشانیوں کے علاوہ مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس شہر میں جو پہنچ گیا، امن و امان میں آ گیا “ ۔
اس شہر کو بنانے کے بعد خلیل اللہ نے دعا کی کہ ” اے اللہ اس شہر کو پر امن بنا۔ “ اسی لیے فرمایا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ» [14-ابراھیم:39] ” اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسے بچے عطا فرمائے “ ۔
اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پیتا اس کی والدہ کے ساتھ لے کر یہاں آئے تھے تب بھی آپ علیہ السلام نے اس شہر کے با امن ہونے کی دعا کی تھی لیکن اس وقت کے الفاظ یہ تھے «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [2-البقرة:126] ۔ پس اس دعا میں «بَلَدَ» پر لام نہیں ہے، اس لیے کہ یہ دعا شہر کی آبادی سے پہلے کی ہے اور اب چونکہ شہر بس چکا تھا۔ «بلد» کو معرف بلام لائے۔ سورۃ البقرہ میں ہم ان چیزوں کو وضاحت و تفصیل کے ساتھ ذکر کر آئے ہیں۔
پھر دوسری دعا میں اپنی اولاد کو بھی شریک کیا۔ انسان کو لازم ہے کہ اپنی دعاؤں میں اپنے ماں باپ کو اور اولاد کو بھی شامل رکھے۔ پھر آپ علیہ السلام نے بتوں کی گمراہی ان کا فتنہ اکثر لوگوں کا بہکا جانا بیان فرما کر ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور انہیں اللہ کے حوالے کیا کہ وہ چاہے بخشے، چاہے سزا دے۔ جیسے روح اللہ علیہ السلام بروز قیامت کہیں گے کیا اگر تو انہیں عذاب کرے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے۔
یہ یاد رہے کہ اس میں صرف اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے کی طرف لوٹنا ہے نہ کہ اس کے واقع ہونے کو جائز سمجھنا ہے۔ حضور علیہ السلام نے خلیل اللہ کا یہ قول اور روح اللہ کا قول آیت «اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [5-المائدة:118] ، تلاوت کر کے رو رو کر اپنی امت کو یاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ جا کر دریافت کرو کہ کیوں رو رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب بیان کیا حکم ہوا کہ جاؤ اور کہہ دو کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں خوش کر دیں گے ناراض نہ کریں گے۔ [صحیح مسلم:202] صفحہ نمبر4251
دوسری دعا ٭٭ یہ دوسری دعا ہے پہلی دعا اس شہر کے آباد ہونے سے پہلے جب آپ اسماعیل علیہ السلام کو مع ان کی والدہ صاحبہ کے یہاں چھوڑ کرگئے تھے۔ تب کی تھی اور یہ دعا اس شہر کے آباد ہو جانے کے بعد کی اسی لیے یہاں «بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ» کا لفظ لائے اور نماز کے قائم کرنے کا بھی ذکر فرمایا۔
ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ” یہ متعلق ہے لفظ المحرم ساتھ یعنی اسے باحرمت اس لیے بنایا ہے کہ یہاں والے بااطمینان یہاں نمازیں ادا کر سکیں۔ “ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ” کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے “ ، اگر سب لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکانے کی دعا ہوتی تو فارس و روم یہود و نصاری غرض تمام دنیا کے لوگ یہاں الٹ پڑتے۔ آپ علیہ السلام نے صرف مسلمانوں کے لیے یہ دعا کی۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ” انہیں پھل بھی عنایت فرما۔
“ یہ زمین زراعت کے قابل بھی نہیں اور دعا ہو رہی ہے پھلوں کی زوزی کی اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی جیسے ارشاد ہے «اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ» [28-القصص:57] یعنی ” کیا ہم نے انہیں حرمت و امن والی ایسی جگہ عنایت نہیں فرمائی؟ جہاں ہر چیز کے پھل ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جو خاص ہمارے پاس کی روزی ہے “ ۔
پس یہ بھی اللہ کا خاص لطف و کرم عنایت و رحم ہے کہ شہر کی پیداوار کچھ بھی نہیں اور پھل ہر قسم کے وہاں موجود، چاروں طرف سے وہاں چلے آئیں۔ یہ ہے ابراہیم خلیل الرحمن صلوات اللہ وسلامہ علیہ کی دعا کی قبولیت۔ صفحہ نمبر4253
مناجات ٭٭ خلیل الرحمن علیہ السلام اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ ” اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔
تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ “
«وَلِوَالِدَيَّ» کی قرأت بعض نے «وَالِوَالِدِیْ» بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پہلے کی ہے کہ آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے معلوم ہو جائے کہ آپ علیہ السلام کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ علیہ السلام اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ علیہ السلام اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔ صفحہ نمبر4254
مناجات ٭٭ خلیل الرحمن علیہ السلام اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ ” اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔
تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ “
«وَلِوَالِدَيَّ» کی قرأت بعض نے «وَالِوَالِدِیْ» بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پہلے کی ہے کہ آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے معلوم ہو جائے کہ آپ علیہ السلام کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ علیہ السلام اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ علیہ السلام اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔ صفحہ نمبر4254
مناجات ٭٭ خلیل الرحمن علیہ السلام اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ ” اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔
تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ “
«وَلِوَالِدَيَّ» کی قرأت بعض نے «وَالِوَالِدِیْ» بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پہلے کی ہے کہ آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے معلوم ہو جائے کہ آپ علیہ السلام کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ علیہ السلام اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ علیہ السلام اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔ صفحہ نمبر4254
مناجات ٭٭ خلیل الرحمن علیہ السلام اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ ” اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔
تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ “
«وَلِوَالِدَيَّ» کی قرأت بعض نے «وَالِوَالِدِیْ» بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پہلے کی ہے کہ آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے معلوم ہو جائے کہ آپ علیہ السلام کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ علیہ السلام اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ علیہ السلام اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔ صفحہ نمبر4254
تفسیر البغوی
اللہ تعالیٰ کے فرمان «اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد میں سے کچھ کو بسایا ہے» میں «مِن» تبعیض کے لیے ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے اپنی اولاد میں سے ایک بیٹے کو بسایا ہے۔ «ایک ایسی وادی میں جہاں کھیتی نہیں» اس سے مراد مکہ ہے، کیونکہ مکہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک وادی ہے۔
«تیرے حرمت والے گھر کے پاس» اسے حرمت والا اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے پاس کچھ چیزیں حرام ہیں جو دوسری جگہوں پر حرام نہیں۔
ہمیں عبد الواحد بن احمد ملیحی نے خبر دی، انہیں احمد بن عبد اللہ نعیمی نے، انہیں محمد بن یوسف نے، انہیں محمد بن اسماعیل نے، انہیں عبد اللہ بن محمد نے، انہیں عبد الرزاق نے، انہیں معمر نے، ایوب سختیانی اور کثیر بن مطلب بن ابی وداعہ سے، جن میں سے ایک نے دوسرے سے زیادہ روایت کی، سعید بن جبیر سے روایت کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عورتوں نے سب سے پہلے چادر باندھنے کا طریقہ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ سے سیکھا۔ انہوں نے سارہ سے اپنے قدموں کے نشان چھپانے کے لیے چادر باندھی۔
پھر ابراہیم علیہ السلام انہیں اور ان کے بیٹے اسماعیل کو، جو شیرخوار تھے، لے آئے اور بیت اللہ کے پاس مسجد کے بالائی حصے میں زمزم کے اوپر ایک درخت کے پاس چھوڑ دیا۔ اس وقت مکہ میں کوئی شخص نہیں تھا اور وہاں پانی بھی نہیں تھا۔ آپ نے انہیں وہیں چھوڑا، ان کے پاس کھجوروں سے بھری ایک تھیلی اور پانی کی ایک مشک رکھ دی، پھر واپس روانہ ہوگئے۔
اسماعیل علیہ السلام کی والدہ آپ کے پیچھے چلیں اور کہنے لگیں: اے ابراہیم! آپ کہاں جارہے ہیں؟ کیا ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر جارہے ہیں جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی اور چیز؟ انہوں نے کئی بار یہی بات کہی، مگر ابراہیم علیہ السلام نے ان کی طرف رخ نہ کیا۔
پھر انہوں نے پوچھا: کیا اللہ نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: تب وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ پھر وہ واپس آگئیں۔ ابراہیم علیہ السلام آگے چلتے رہے، یہاں تک کہ ایک گھاٹی پر پہنچے جہاں سے وہ انہیں نظر نہیں آتے تھے۔
آپ نے اپنا رخ بیت اللہ کی طرف کیا، ہاتھ اٹھائے اور یہ دعائیں مانگیں: «اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد میں سے کچھ کو ایک ایسی وادی میں بسایا ہے جہاں کھیتی نہیں ہوتی» یہاں تک کہ «تاکہ وہ شکر کریں» تک پہنچے۔
اسماعیل علیہ السلام کی والدہ اسماعیل کو دودھ پلاتی رہیں اور اس پانی میں سے پیتی رہیں، یہاں تک کہ مشک کا پانی ختم ہوگیا۔ وہ پیاسی ہوئیں اور ان کا بیٹا بھی پیاسا ہوا۔ وہ اسے دیکھ رہی تھیں کہ وہ تڑپ رہا تھا، یا آپ نے فرمایا کہ وہ لوٹ پوٹ ہورہا تھا۔ وہ اس سے نظریں ہٹانے کے لیے چل پڑیں۔
صفا کو اپنے قریب ترین پہاڑ پایا تو اس پر چڑھیں، پھر وادی کی طرف رخ کرکے دیکھنے لگیں کہ کوئی نظر آتا ہے یا نہیں، مگر کسی کو نہ دیکھا۔ صفا سے نیچے اتریں، وادی تک پہنچیں تو اپنے کپڑے کا کنارہ اٹھایا اور سخت مشقت کرنے والے انسان کی طرح دوڑیں، یہاں تک کہ وادی پار کرگئیں۔ پھر مروہ پر آئیں، اس پر چڑھیں اور دیکھا کہ کوئی نظر آتا ہے یا نہیں، مگر کسی کو نہ دیکھا۔ انہوں نے ایسا سات مرتبہ کیا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسی وجہ سے لوگ ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہیں۔»
جب وہ مروہ پر بلند ہوئیں تو ایک آواز سنی۔ انہوں نے کہا: خاموش! — اپنی ذات سے کہہ رہی تھیں — پھر کان لگا کر سنا تو دوبارہ آواز آئی۔ انہوں نے کہا: اگر تیرے پاس مدد ہے تو میں نے تیری آواز سن لی ہے۔ اچانک وہاں زمزم کے مقام پر فرشتہ موجود تھا۔
اس نے اپنی ایڑی سے، یا اپنے پر سے، زمین کھودی، یہاں تک کہ پانی ظاہر ہوگیا۔ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ پانی کو ہاتھوں سے روکنے لگیں اور اپنی مشک میں بھرنے لگیں، جب بھی پانی نکالتیں وہ پھر ابل پڑتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہ اسماعیل کی والدہ پر رحم فرمائے! اگر وہ زمزم کو چھوڑ دیتیں» یا فرمایا: «اگر وہ پانی کو نہ روکتیں تو زمزم ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔»
پھر انہوں نے پانی پیا اور اپنے بچے کو دودھ پلایا۔ فرشتے نے ان سے کہا: تم ضائع ہونے سے نہ ڈرو، یہاں اللہ کا گھر ہے، جسے یہ بچہ اور اس کا والد تعمیر کریں گے، اور اللہ اپنے گھر والوں کو ضائع نہیں کرتا۔
بیت اللہ کی جگہ زمین سے ابھری ہوئی تھی، جیسے کوئی ٹیلہ۔ سیلاب آتا تو اس کے دائیں اور بائیں سے گزر جاتا۔ اسی حالت میں وہ رہے، یہاں تک کہ قبیلہ جرہم کا ایک قافلہ، یا جرہم کے ایک گھرانے کے لوگ، کداء کے راستے سے آئے۔ وہ مکہ کے نچلے حصے میں اترے۔
انہوں نے ایک پرندہ دیکھا جو ایک جگہ منڈلا رہا تھا۔ کہنے لگے: یہ پرندہ پانی کے گرد چکر لگا رہا ہے، حالانکہ ہمیں اس وادی کے بارے میں معلوم ہے کہ یہاں پانی نہیں۔ انہوں نے ایک یا دو آدمی بھیجے، تو وہ پانی کے پاس پہنچ گئے۔ وہ واپس آئے اور لوگوں کو پانی کی خبر دی۔
وہ سب وہاں آگئے۔ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ پانی کے پاس تھیں۔ انہوں نے کہا: کیا آپ ہمیں یہاں اترنے کی اجازت دیتی ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، مگر پانی میں تمہارا کوئی حق نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جرہم کے آنے سے اسماعیل علیہ السلام کی والدہ خوش ہوئیں، کیونکہ وہ لوگوں سے میل جول پسند کرتی تھیں۔
وہ وہاں آباد ہوگئے اور اپنے گھر والوں کو بھی بلوا لیا، یہاں تک کہ وہاں ان کے کئی گھرانے آباد ہوگئے۔ لڑکا جوان ہوا اور ان سے عربی سیکھی۔ وہ ان کی نگاہ میں قدر و منزلت والا اور انہیں پسند آنے والا ہوگیا۔ جب وہ بالغ ہوئے تو انہوں نے اپنے قبیلے کی ایک عورت سے ان کا نکاح کردیا۔
اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام اسماعیل کے نکاح کے بعد اپنے چھوڑے ہوئے گھر والوں کا حال معلوم کرنے آئے۔۔۔ یہ قصہ ہم نے سورۂ بقرہ میں ذکر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان «اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں، پس لوگوں کے کچھ دلوں کو» میں «افئدہ» فؤاد کی جمع ہے۔ «ان کی طرف مائل کردے» یعنی ان کے لیے شوق اور محبت پیدا کردے۔ سدی نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کے دل اس جگہ کی طرف مائل کردے۔
مجاہد نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ «لوگوں کے دل» فرماتا تو فارس، روم، ترک اور ہند کے لوگ تم پر ہجوم کرلیتے۔ سعید بن جبیر نے کہا: یہود، نصاریٰ اور مجوس حج کرنے آتے، لیکن اللہ نے فرمایا: «لوگوں کے کچھ دل»، یعنی مسلمان۔ «اور انہیں پھلوں سے رزق عطا فرما» یعنی انہیں وہ پھل عطا فرما جو پانی والی بستیوں میں رہنے والوں کو ملتے ہیں۔ «تاکہ وہ شکر کریں۔»
«اے میرے رب! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا» یعنی بہت سے لوگ ان کے سبب ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے اور ان کی عبادت کرنے لگے۔ یہ کلام کا ایک اسلوب ہے، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے» (آل عمران 3:175)، یعنی وہ انہیں اپنے دوستوں کے ذریعے ڈراتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ گمراہ کرنے کی نسبت بتوں کی طرف اس لیے کی گئی ہے کہ وہ گمراہی کا سبب ہیں، جیسے کوئی کہتا ہے: دنیا نے مجھے فتنے میں ڈال دیا؛ فتنے کی نسبت دنیا کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ اس کا سبب بنی۔
«پس جس نے میری پیروی کی تو وہ مجھ سے ہے» یعنی وہ میرے دین والوں میں سے ہے۔ «اور جس نے میری نافرمانی کی تو بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔» سدی نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ جس نے میری نافرمانی کی، پھر توبہ کرلی۔ مقاتل بن حیان نے کہا: جس نے شرک کے علاوہ کسی بات میں میری نافرمانی کی۔
ایک قول یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات اس سے پہلے کہی تھی کہ اللہ نے انہیں آگاہ فرمایا کہ شرک معاف نہیں کیا جائے گا۔
«اے ہمارے رب! بے شک تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں» یعنی ہمارے معاملات میں سے۔ ابن عباس اور مقاتل نے کہا: اس سے مراد اسماعیل اور ان کی والدہ کو بے کھیتی والی وادی میں بسانے کی وجہ سے دل میں پیدا ہونے والی کیفیت ہے۔ «اور زمین و آسمان میں کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں۔»
ایک قول کے مطابق یہ ابراہیم علیہ السلام کے کلام کا حصہ ہے۔ اکثر اہلِ علم نے کہا ہے کہ یہ اللہ عزوجل کا کلام ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان «اور جب ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! اس شہر کو» سے مراد حرم ہے۔ «امن والا بنا دے» یعنی ایسا امن والا مقام جہاں لوگ محفوظ ہوں۔ «اور مجھے دور رکھ» یعنی مجھ سے دور کردے۔ «اور میری اولاد کو بھی، اس بات سے کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔»
عربی میں کسی چیز سے دور کرنا اور اس سے اجتناب کرانا ایک ہی مفہوم میں آتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ ابراہیم علیہ السلام بتوں کی عبادت سے معصوم تھے، تو پھر ان کی دعا کا کیا مطلب ہے؟ اور ان کی اولاد میں سے بہت سے لوگوں نے بتوں کی عبادت کی، تو دعا کیسے قبول ہوئی؟ جواب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لیے دعا مزید حفاظت اور ثابت قدمی کے لیے کی تھی۔
جہاں تک اپنی اولاد کے لیے دعا کا تعلق ہے، تو مراد اپنی صلبی اولاد تھی، جن میں سے کسی نے بت کی عبادت نہیں کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کی مراد اپنی اولاد میں سے اہلِ ایمان تھے۔
«اے ہمارے رب! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے۔» اگر پوچھا جائے کہ آپ نے اپنے والدین کے لیے استغفار کیسے کیا، جبکہ وہ مؤمن نہیں تھے؟ جواب یہ ہے کہ کہا گیا ہے کہ آپ کی والدہ اسلام لے آئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کی مراد یہ تھی کہ اگر وہ اسلام قبول کریں اور توبہ کریں تو انہیں بخش دے۔
ایک قول یہ ہے کہ آپ نے اپنے والد کے معاملے کی حقیقت واضح ہونے سے پہلے یہ کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ توبہ میں اپنے خلیل علیہ السلام کے اپنے والد کے لیے استغفار کرنے کا عذر بیان فرمایا ہے۔ «اور مؤمنوں کو بھی» یعنی تمام مؤمنوں کو بخش دے۔ «جس دن حساب قائم ہوگا» یعنی ظاہر ہوجائے گا۔
ایک قول یہ ہے کہ مراد وہ دن ہے جب لوگ حساب کے لیے کھڑے ہوں گے؛ مفہوم واضح ہونے کی وجہ سے صرف حساب کا ذکر کیا گیا ہے۔
«سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے بڑھاپے میں مجھے اسماعیل اور اسحاق عطا کیے» یعنی مجھے یہ دونوں بیٹے دیے۔ «بے شک میرا رب دعا سننے والا ہے۔» ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب اسماعیل پیدا ہوئے تو ابراہیم علیہ السلام کی عمر ننانوے برس تھی، اور جب اسحاق پیدا ہوئے تو آپ کی عمر ایک سو بارہ برس تھی۔ سعید بن جبیر نے کہا: ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق کی بشارت اس وقت دی گئی جب آپ کی عمر ایک سو سترہ برس تھی۔
«اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا» یعنی مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نماز کے ارکان ادا کرتے اور اس کی پابندی کرتے ہیں۔ «اور میری اولاد میں سے بھی» یعنی میری اولاد میں سے کچھ لوگوں کو نماز قائم کرنے والا بنا۔ «اے ہمارے رب!
میری دعا قبول فرما» یعنی میرے عمل اور عبادت کو قبول فرما؛ عبادت کو دعا کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے: «دعا عبادت کا مغز ہے۔» ایک قول یہ ہے کہ اس کا مطلب ہے: میری دعا قبول فرما۔
صحیح مسلم (حدیث نمبر 2697) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مؤمن کا اپنے والدین اور اپنے دینی بھائیوں کے لیے دعا کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوتی ہے۔