والدین کے لیے رحمت کی دعا
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا.
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا[1] اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے.
صیغہ: «اِرْحَمْهُمَا» (ان دونوں پر رحم فرما) امر کا صیغہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے والدین کے لیے دعا کرنے کا صریح قرآنی حکم ہے، اور اس میں ان کی پرورش اور نگہداشت کے احسان کا اعتراف بھی شامل ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
«اور ان دونوں کے لیے رحمت کے ساتھ عاجزی کا بازو پست رکھو» یعنی ان دونوں کے ساتھ فروتنی اور نرمی اختیار کرو، ان پر شفقت کرتے ہوئے اور اجر کی امید رکھتے ہوئے؛ نہ کہ ان سے خوف کی وجہ سے، یا ان کے مال کی امید میں، یا اس طرح کے دوسرے مقاصد کے لیے جن پر بندے کو اجر نہیں دیا جاتا۔ «اور کہو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما» یعنی ان دونوں کے لیے زندگی میں بھی اور وفات کے بعد بھی رحمت کی دعا کرو، اس کے بدلے میں کہ انہوں نے بچپن میں تمہاری پرورش کی۔ اس سے یہ بات بھی سمجھی جاتی ہے کہ پرورش جتنی زیادہ ہو، حق بھی اتنا ہی بڑھتا ہے۔
اسی طرح جو شخص والدین کے علاوہ کسی انسان کی دین و دنیا کے معاملے میں اچھی تربیت کرے، اس تربیت کرنے والے کا بھی اس شخص پر حق ہے جس کی اس نے پرورش کی۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
اٹل فیصلے محکم حکم ٭٭ یہاں «قَضَىٰ» معنی میں حکم فرمانے کے ہے تاکیدی حکم الٰہی جو کبھی ٹلنے والا نہیں یہی ہے کہ عبادت اللہ ہی کی ہو اور والدین کی اطاعت میں ہمیشہ فرق نہ آئے۔ سیدنا ابی ابن کعب، ابن مسعود اور سیدنا ضحاک بن مزاحم رضی اللہ عنہم کی قرأت میں «قَضَىٰ» کے بدلے «وصی» ہے۔ یہ دونوں حکم ایک ساتھ جیسے یہاں ہیں ایسے ہی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14] ” میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا بھی احسان مند رہ۔“
خصوصا ان کے بڑھاپے کے زمانے میں ان کا پورا ادب کرنا، کوئی بری بات زبان سے نہ نکالنا یہاں تک کہ ان کے سامنے ہوں بھی نہ کرنا، نہ کوئی ایسا کام کرنا جو انہیں برا معلوم ہو، اپنا ہاتھ ان کی طرف بےادبی سے نہ بڑھانا، بلکہ ادب، عزت اور احترام کے ساتھ ان سے بات چیت کرنا، نرمی اور تہذیب سے گفتگو کرنا، ان کی رضا مندی کے کام کرنا، دکھ نہ دینا، ستانا نہیں، ان کے سامنے تواضع، عاجزی، فروتنی اور خاکساری سے رہنا۔ ان کے لیے ان کے بڑھاپے میں ان کے انتقال کے بعد دعائیں کرتے رہنا۔ خصوصا یہ دعا کہ اے اللہ ان پر رحم کر جیسے رحم سے انہوں نے میرے بچپن کے زمانے میں میری پرورش کی۔
ہاں ایمانداروں کو کافروں کے لیے دعا کرنا منع ہو گئی ہے گو وہ ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں؟ صفحہ نمبر4673 ماں باپ سے سلوک و احسان کے احکام کی حدیثیں بہت سی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھتے ہوئے تین دفعہ آمین کہی، جب آپ سے وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، جس کے پاس تیرا ذکر ہو اور اس نے تجھ پر درود بھی نہ پڑھا ہو۔ کہئے آمین چنانچہ میں نے آمین کہی۔
پھر فرمایا اس شخص کی ناک بھی اللہ تعالیٰ خاک آلود کرے جس کی زندگی میں ماہ رمضان آیا اور چلا بھی گیا اور اس کی بخشش نہ ہوئی۔ آمین کہئے چنانچہ میں نے اس پر بھی آمین کہی۔ پھر فرمایا اللہ اسے بھی برباد کرے۔ جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو پا لیا اور پھر بھی ان کی خدمت کر کے جنت میں نہ پہنچ سکا کہئے آمین میں نے کہا آمین۔
[سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح] صفحہ نمبر4674 مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچہ کو پالا اور کھلایا پلایا یہاں تک کہ وہ بے نیاز ہو گیا اس کے لیے یقیناً جنت واجب ہے اور جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا اللہ اسے جہنم سے آزاد کرے گا اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم سے آزاد ہو گا۔ [مسند احمد:29/5:صحیح باشواھد]
اس حدیث کی ایک سند میں ہے جس نے اپنے ماں باپ کو یا دونوں میں سے کسی ایک کو پا لیا پھر بھی دوزخ میں گیا اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے۔ [مسند احمد:29/5:صحیح باشواھد]
مسند احمد کی ایک روایت میں یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوئی ہیں یعنی گردن آزاد کرنا خدمت والدین اور پرورش یتیم۔ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ]
ایک روایت میں ماں باپ کی نسبت یہ بھی ہے کہ اللہ اسے دور کرے اور اسے برباد کرے الخ۔ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ]
ایک روایت میں تین مرتبہ اس کے لیے یہ بدعا ہے۔ [صحیح مسلم:2551]
ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر درود نہ پڑھنے والے اور ماہ رمضان میں بخشش الٰہی سے محروم رہ جانے والے اور ماں باپ کی خدمت اور رضا مندی سے جنت میں نہ پہنچنے والے کے لیے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بدعا کرنا منقول ہے۔ [سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک انصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ میں کوئی سلوک کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں چار سلوک (١) ان کے جنازے کی نماز (٢) ان کے لیے دعا و استغفار (٣) ان کے وعدوں کو پورا کرنا (٤) ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور وہ صلہ رحمی جو صرف ان کی وجہ سے ہو۔ یہ ہے وہ سلوک جو ان کی موت کے بعد بھی تو ان کے ساتھ کر سکتا ہے [سنن ابوداود:5142،قال الشيخ الألباني:ضعیف] صفحہ نمبر4675 ایک شخص نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جہاد کے ارادے سے آپ کی خدمت میں خوشخبری لے کر آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا تیری ماں ہے؟
اس نے کہا ہاں فرمایا جا اسی کی خدمت میں لگا رہ۔ جنت اسی کے پیروں کے پاس ہے۔ دو بارہ سہ بارہ اس نے مختلف مواقع پر اپنی یہی بات دہرائی اور یہی جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دہرایا۔ [سنن نسائی:3106،قال الشيخ الألباني:صحیح]
آپ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تمہیں تمہارے باپوں کی نسبت وصیت فرماتا ہے اللہ تمہیں تمہاری ماؤں کی نسبت وصیت فرماتا ہے۔ پچھلے جملے کو تین بار بیان فرماکر فرمایا اللہ تمہیں تمہارے قرابت داروں کی بابت وصیت کرتا ہے، سب سے زیادہ نزدیک والا پھر اس کے پاس والا۔ [سنن ابن ماجه:3661،قال الشيخ الألباني:حسن]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دینے والے کا ہاتھ اونچا ہے اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر جو اس کے بعد ہو اسی طرح درجہ بدرجہ۔ [مسند احمد:64/4:صحیح]
بزار کی مسند میں ضعیف سند سے مروی ہے کہ ایک صاحب اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے طواف کرا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے لگے کہ اب تو میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ایک شمہ بھی نہیں۔ [طبرانی صغیر:255:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صفحہ نمبر4676
تفسیر البغوی
«اور ان دونوں کے لیے عاجزی کا بازو پست رکھو» یعنی ان کے سامنے اپنا پہلو نرم رکھو اور ان کے تابع رہو۔ عروہ بن زبیر نے کہا: ان کے ساتھ نرمی اختیار کرو، یہاں تک کہ جس چیز کو وہ پسند کریں، اس سے انکار نہ کرو۔ «رحمت کے ساتھ» یعنی شفقت اور مہربانی کے ساتھ۔ «اور کہو: اے میرے رب!
ان دونوں پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی» اس سے مراد یہ ہے کہ یہ دعا اس وقت ہو جب والدین مسلمان ہوں۔ ابن عباس نے کہا: یہ حکم اس آیت سے منسوخ ہے: «نبی اور ایمان والوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں» (التوبہ: 113)۔
ہمیں ابو عبد اللہ احمد بن عبد اللہ صالحی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو سعید محمد بن موسیٰ صیرفی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ صفّار نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو جعفر محمد بن غالب بن تمتام ضبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں عبد العزیز بن مسلم نے یزید بن ابی زیاد سے، انہوں نے مجاہد سے، اور انہوں نے ابو سعید خدری سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «والد جنت کے درمیانی دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے؛ پس اگر چاہو تو اس دروازے کی حفاظت کرو اور اگر چاہو تو اسے ضائع کر دو۔»
ہمیں ابو طاہر محمد بن علی زرّاد نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو بکر محمد بن ادریس جرجانی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو الحسن علی بن حسین مالینی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حسن بن سفیان نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حبیب بن عدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں خالد بن حارث نے شعبہ سے، انہوں نے یعلیٰ بن عطاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے عبد اللہ بن عمرو سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔»
ہمیں امام ابو علی حسین بن محمد قاضی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو محمد عبد اللہ بن یوسف بن محمد بن بامویہ اصفہانی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو سعید احمد بن زیاد بصری نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں ربعی بن علیہ نے عبد الرحمن بن اسحاق سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے، اور انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے؛ اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس پر رمضان کا مہینہ آئے، پھر اس کی مغفرت نہ ہو؛ اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے والدین بڑھاپے کو پہنچیں اور وہ اسے جنت میں داخل نہ کرائیں۔»
صحیح مسلم (حدیث نمبر 1631) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی محمد ﷺ نے فرمایا: «جب انسان وفات پا جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔»