مستقبل میں اللہ پر بھروسا
عَسَىٰ، أَنْ يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَٰذَا رَشَدًا.
عَسَىٰ أَنْ يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَٰذَا رَشَدًا
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
مگر ساتھ ہی انشاءاللہ کہہ لینا[1] ۔ اور جب بھی بھولے، اپنے پروردگار کی یاد کر لیا کرنا[2] اور کہتے رہنا کہ مجھے پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیاده ہدایت کے قریب کی بات کی رہبری کرے.[3]
اس دعا میں امید اور درخواست کا انداز ہے: «عَسَىٰ أَنْ يَهْدِيَنِ» یعنی «امید ہے کہ وہ میری رہنمائی فرمائے»۔ اس میں مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے کہ مستقبل کے کاموں کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اللہ پر بھروسا کریں اور «ان شاء اللہ» کہیں۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
آیات 23 اور 24 کی تفسیر: یہ ممانعت بھی دوسری ممانعتوں کی طرح ہے۔ اگرچہ اس کا سبب خاص تھا اور خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا، لیکن حکم تمام مکلفین کے لیے عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے کہ بندہ مستقبل کے کسی کام کے بارے میں یہ کہے: «میں یہ کام کرنے والا ہوں»، اور اس کے ساتھ اللہ کی مشیت کو نہ جوڑے۔ اس میں کئی قابلِ ممانعت باتیں ہیں: ایک یہ کہ وہ مستقبل کے غیب کے بارے میں بات کرتا ہے، حالانکہ اسے معلوم نہیں کہ وہ یہ کام کر پائے گا یا نہیں، اور یہ کام ہوگا بھی یا نہیں۔
دوسری یہ کہ وہ کام کے وقوع کو گویا صرف اپنی ہی مشیت کی طرف منسوب کرتا ہے، اور یہ ممنوع ہے، کیونکہ تمام مشیت اللہ ہی کی ہے: «اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ، تمام جہانوں کا رب، چاہے۔»
اللہ کی مشیت کا ذکر کرنے سے کام آسان اور سہل ہوتا ہے، اس میں برکت حاصل ہوتی ہے اور بندہ اپنے رب سے مدد مانگتا ہے۔ چونکہ بندہ انسان ہے اور لازماً کبھی بھول کر مشیت کا ذکر چھوڑ دیتا ہے، اس لیے اللہ نے حکم دیا کہ جب اسے یاد آئے تو اس کے بعد استثنا کرے، تاکہ مطلوب حاصل ہو اور قابلِ ممانعت بات سے بچا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ کے عام فرمان «اور جب بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرو» سے یہ حکم بھی اخذ ہوتا ہے کہ بھول کے وقت اللہ کو یاد کیا جائے، کیونکہ اس سے بھول دور ہوتی ہے اور بندے کو وہ بات یاد آ جاتی ہے جو اس سے رہ گئی تھی۔
اسی طرح جو شخص اللہ کے ذکر کو بھول جائے یا غفلت میں پڑ جائے، اسے اپنے رب کو یاد کرنے کا حکم ہے اور اسے غافلوں میں سے نہیں ہونا چاہیے۔
چونکہ بندہ اپنے اقوال و اعمال میں درست رہنمائی پانے اور غلطی سے بچنے کے لیے اللہ کا محتاج ہے، اس لیے اللہ نے اسے یہ کہنے کا حکم دیا: «امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیادہ درست راہ کی ہدایت فرمائے گا۔» چنانچہ اسے حکم دیا کہ اللہ سے دعا کرے، اس سے امید رکھے اور اس پر بھروسا کرے کہ وہ اسے رشد تک پہنچانے والے زیادہ قریب راستے کی رہنمائی فرمائے گا۔ ایسا بندہ، جس کی یہ کیفیت ہو، پھر وہ اپنی پوری کوشش اور طاقت ہدایت اور رشد کی طلب میں صرف کرے، تو بجا ہے کہ اسے اس کی توفیق دی جائے، اس کے رب کی طرف سے اس کی مدد آئے اور اس کے تمام معاملات میں اسے درست راہ پر رکھا جائے۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
ان شاء اللہ کہنے کا حکم ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ختم المرسلین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ جس کام کو کل کرنا چاہو تو یوں نہ کہہ دیا کرو کہ کل کروں گا بلکہ اس کے ساتھ ہی ان شاءاللہ کہہ لیا کرو کیونکہ کل کیا ہو گا؟ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ علام الغیوب اور تمام چیزوں پر قادر صرف وہی ہے۔ اس کی مدد طلب کر لیا کرو۔
بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی نوے بیویاں تھیں۔ ایک روایت میں ہے سو تھیں۔ ایک میں ہے بہتر [ ٧٢ ] تھیں۔ تو آپ علیہ السلام نے ایک بار کہا کہ آج رات میں ان سب کے پاس جاؤں گا ہر عورت کو بچہ ہو گا تو سب اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔
اس وقت فرشتے نے کہا ان شاءاللہ کہہ مگر سلیمان علیہ السلام نے نہ کہا۔ اپنے ارادے کے مطابق وہ سب بیویوں کے پاس گئے، مگر سوائے ایک بیوی کے کسی کے ہاں بچہ نہ ہوا اور جس ایک کے ہاں ہوا بھی، وہ بھی آدھے جسم کا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے تو یہ ارادہ ان کا پورا ہوتا اور ان کی حاجت روائی ہو جاتی۔ اور یہ سب بچے جوان ہو کر راہ حق کے مجاہد بنتے۔
[صحیح بخاری:5242] صفحہ نمبر4877 اسی سورت کی تفسیر کے شروع میں اس آیت کا شان نزول بیان ہو چکا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب کہف کا قصہ دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کل تمہیں جواب دوں گا۔ ان شاءاللہ نہ کہا اس بنا پر پندرہ دن تک وحی نازل نہ ہوئی۔ اس حدیث کو پوری طرح ہم نے اس سورت کی تفسیر کے شروع میں بیان کر دیا ہے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی حاجت نہیں۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ جب بھول جائے تب اپنے رب کو یاد کر، یعنی ان شاءاللہ کہنا اگر موقعہ پر یاد نہ آیا تو جب یاد آئے کہہ لیا کر۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو حلف کھائے کہ اسے پھر بھی ان شاءاللہ کہنے کا حق ہے گو سال بھر گزر چکا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے کلام میں یا قسم میں ان شاءاللہ کہنا بھول گیا تو جب بھی یاد آئے کہہ لے، گو کتنی مدت گزر چکی ہو اور گو اس کا خلاف بھی ہو چکا ہو۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ اب اس پر قسم کا کفارہ نہیں رہے گا اور اسے قسم توڑنے کا اختیار ہے۔ یہی مطلب اس قول کا امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے اور یہی بالکل ٹھیک ہے۔
اسی پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کا کلام محمول کیا جا سکتا ہے، ان سے اور حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مراد ان شاءاللہ کہنا بھول جانا ہے۔ اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے،
دوسرا کوئی تو اپنی قسم کے ساتھ ہی متصل طور پر ان شاءاللہ کہے تو معتبر ہے۔ یہ بھی ایک مطلب ہے کہ جب کوئی بات بھول جاؤ تو اللہ کا ذکر کرو کیونکہ بھول شیطانی حرکت ہے اور ذکر الٰہی یاد کا ذریعہ ہے۔ پھر فرمایا کہ تجھ سے کسی ایسی بات کا سوال کیا جائے کہ تجھے اس کا علم نہ ہو تو تو اللہ تعالیٰ سے دریافت کر لیا کر اور اس کی طرف توجہ کر تاکہ وہ تجھے ٹھیک بات اور ہدایت والی راہ بتا اور دکھا دے۔ اور بھی اقوال اس بارے میں مروی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صفحہ نمبر4878
تفسیر البغوی
«اور جب بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرو۔» ابن عباس، مجاہد اور حسن نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم «ان شاء اللہ» کہنا بھول جاؤ، پھر یاد آئے، تو استثنا کہہ لو۔ ابن عباس نے کچھ مدت گزر جانے کے بعد بھی استثنا کہنے کو جائز قرار دیا، خواہ ایک سال گزر چکا ہو۔ حسن نے اسے اسی وقت تک جائز کہا جب تک مجلس باقی ہو، جبکہ بعض لوگوں نے کہا کہ قریب کا وقت ہو تو جائز ہے، لیکن زیادہ وقت گزر جائے تو درست نہیں۔
ایک جماعت نے یہ شرط رکھی کہ استثنا کلام کے ساتھ متصل ہو۔ عکرمہ نے کہا: آیت کا مطلب ہے کہ جب تم غصہ کرو تو اپنے رب کو یاد کرو۔ وہب نے کہا: انجیل میں لکھا ہے: «اے ابن آدم! جب تو غصہ کرے تو مجھے یاد کر، میں بھی تجھے اس وقت یاد کروں گا جب غضب ناک ہوں۔» ضحاک اور سدی نے کہا: یہ حکم نماز کے بارے میں ہے۔
ہمیں عبدالواحد ملیحی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حسن بن احمد مخلدی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے ابو العباس سراج نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو عوانہ نے قتادہ سے، اور انہوں نے انس سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جو شخص نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے، اسے پڑھ لے۔»
«اور کہو: امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیادہ درست راہ کی ہدایت فرمائے گا۔» یعنی وہ مجھے ایسے راستے پر ثابت قدم رکھے جو اس کے زیادہ قریب اور زیادہ ہدایت والا ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ جب وہ کوئی بات بھول جائیں تو اللہ کو یاد کریں اور اس سے دعا کریں کہ وہ اس بھولی ہوئی بات کو یاد کرنے سے بہتر چیز کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب لوگوں نے اصحابِ کہف کا واقعہ آپ سے ضد کے طور پر پوچھا تو اللہ عزوجل نے آپ کو حکم دیا کہ انہیں بتا دیں کہ اللہ آپ کو آپ کی نبوت کی سچائی کے ایسے دلائل عطا فرمائے گا جو ان کے لیے اصحابِ کہف کے واقعے سے زیادہ واضح ہوں گے۔ ایسا ہی ہوا: اللہ نے اپنے رسولوں کو غیب کا جو علم عطا فرمایا، وہ دلیل میں ان کے لیے اصحابِ کہف کی خبر سے زیادہ واضح اور رشد کے زیادہ قریب تھا۔
بعض نے کہا: اللہ نے اسے حکم دیا کہ جب بھولنے کے بعد استثنا یاد آئے تو «ان شاء اللہ» کہنے کے ساتھ یہ بھی کہے۔ جب انسان «ان شاء اللہ» کہنا بھول جائے تو اس کی توبہ یہ ہے کہ کہے: «امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیادہ درست راہ کی ہدایت فرمائے گا۔» اور استثنا کہنا جائز ہے۔
صحیح البخاری (حدیث نمبر 3424) میں نبی سلیمان علیہ السلام کا واقعہ روایت ہوا ہے۔ آپ «ان شاء اللہ» کہنا بھول گئے تھے، جو اس بات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے کہ خالق پر ہمیشہ بھروسا رکھا جائے۔