صراطِ مستقیم کی ہدایت
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ، غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ، وَلَا الضَّالِّينَ.
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
ہمیں سیدھی (اور سچی) راه دکھا۔[1] ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا[1] ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی[2] (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه حق سے برگشتہ ہوگئے)۔
یہ دعا امر کے صیغے میں ہے، مگر اس سے عاجزی کے ساتھ درخواست مراد ہے (الأَمْرِ فِعْلُ). یہ اسلام کی سب سے جامع اور کثرت سے دہرائی جانے والی دعا ہے (الدعَاءِ جَامِعُ). اس میں حق کی رہنمائی (الإِرْشَادِ) اور اس پر کامیابی کے ساتھ چلنے کی توفیق (التوْفِيقِ هِدَايَةُ)، دونوں طلب کیے گئے ہیں۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ» یعنی ہمیں راستہ دکھا، ہماری رہنمائی فرما اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔ یہ وہ واضح راستہ ہے جو اللہ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، اور اس سے مراد حق کی معرفت حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ پس ہمیں صراط کی طرف بھی ہدایت دے اور صراط پر بھی ثابت قدم رکھ۔ صراط کی طرف ہدایت کا مطلب دینِ اسلام کو لازم پکڑنا اور اس کے سوا تمام ادیان کو چھوڑ دینا ہے؛ اور صراط پر ہدایت میں دین کی تمام تفصیلات کا علم اور عمل کے اعتبار سے سیکھنا شامل ہے۔
یہ دعا بندے کے لیے جامع ترین اور نفع بخش ترین دعاؤں میں سے ہے۔ اسی لیے انسان پر لازم ہے کہ اپنی نماز کی ہر رکعت میں اللہ سے یہ دعا مانگے، کیونکہ اسے اس کی سخت ضرورت ہے۔
یہ صراطِ مستقیم ان لوگوں کا راستہ ہے «صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ» جن پر تو نے انعام فرمایا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ «غَيْرِ» یعنی ان لوگوں کے راستے کے سوا «الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» جنہوں نے حق کو پہچانا، پھر اسے چھوڑ دیا، جیسے یہود اور ان جیسے دوسرے لوگ؛ اور نہ ان «الضَّالِّينَ» کا راستہ جنہوں نے جہالت اور گمراہی کے باعث حق کو چھوڑ دیا، جیسے نصاریٰ اور ان جیسے دوسرے لوگ۔
یہ سورت مختصر ہونے کے باوجود قرآن کی کسی دوسری سورت میں موجود نہ ہونے والے مضامین کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس میں توحید کی تینوں قسمیں شامل ہیں: توحیدِ ربوبیت، جو «رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے ثابت ہوتی ہے؛ توحیدِ الوہیت، یعنی عبادت کو صرف اللہ کے لیے خاص کرنا، جو لفظ «اللَّهِ» اور «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» سے ثابت ہوتی ہے؛ اور توحیدِ اسماء و صفات، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے کمال کی ان صفات کو ثابت کرنا جنہیں اس نے اپنے لیے ثابت کیا ہے اور اس کے رسول نے بھی ثابت کیا ہے، بغیر تعطیل، تمثیل یا تشبیہ کے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا، لفظ «الْحَمْدُ» اس پر دلالت کرتا ہے۔
اس میں «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ» سے نبوت کا اثبات بھی ہے، کیونکہ رسالت کے بغیر یہ ہدایت ممکن نہیں۔ «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» میں اعمال کے بدلے کا اثبات ہے، اور یہ بھی کہ بدلہ عدل کے ساتھ دیا جائے گا، کیونکہ «الدِّينِ» کا معنی عدل کے ساتھ جزا دینا ہے۔ اس میں تقدیر کا اثبات بھی ہے، اور یہ کہ بندہ حقیقتاً اپنے افعال کرتا ہے؛ اس کے برخلاف قدریہ اور جبریہ کا موقف ہے۔ بلکہ «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ» میں تمام اہلِ بدعت کی تردید بھی ہے، کیونکہ اس کا مطلب حق کو جاننا اور اس پر عمل کرنا ہے، اور ہر بدعتی اس کی مخالفت کرتا ہے۔
«إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» میں دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے، عبادت اور استعانت دونوں میں اسی کو خاص کرنے کا مضمون ہے۔ پس تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
حصول مقصد کا بہترین طریقہ ٭٭ جمہور نے «صِّرَاطَ» پڑھا ہے۔ بعض نے «ِسرَاطَ» کہا ہے اور «زے» کی بھی ایک قراۃ ہے۔ فراء کہتے ہیں بنی عذرہ اور بنی کلب کی قراۃ یہی ہے چونکہ پہلے ثنا و صفت بیان کی تو اب مناسب تھا کہ اپنی حاجت طلب کرے۔
جیسے کہ پہلے حدیث میں گزر چکا ہے کہ اس کا آدھا حصہ میرے لیے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ طلب کرے۔ خیال کیجئے کہ اس میں کس قدر لطافت اور عمدگی ہے کہ پہلے پروردگار عالم کی تعریف و توصیف کی، پھر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حاجت طلب کی۔ یہ وہ لطیف انداز ہے جو مقصود کو حاصل کرنے اور مراد کو پا لینے کے لیے تیر بہدف ہے، اس کامل طریقہ کو پسند فرما کر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی ہدایت کی۔ کبھی سوال اس طرح ہوتا ہے کہ سائل اپنی حالت اور حاجت کو ظاہر کر دیتا ہے۔
جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا: «رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ» [28-القصص:24] الخ یعنی ”پروردگار جو بھلائیاں تو میری طرف نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں“ ۔
یونس علیہ السلام نے بھی اپنی دعا میں کہا: «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:87] الخ یعنی ”الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں ظالموں میں سے ہوں“ ۔
کبھی سوال اس طرح بھی ہوتا ہے کہ سائل صرف تعریف اور بزرگی بیان کر کے چپ ہو جاتا ہے جیسے کسی شاعر کا قول ہے «أَأَذْكُرُ حَاجَتِي أَمْ قَدْ كَفَانِي ... حَيَاؤُكَ إِنَّ شِيمَتَكَ الْحَيَاءُ ... إِذَا أَثْنَى عَلَيْكَ الْمَرْءُ يَوْمًا ... كَفَاهُ مِنْ تَعَرُّضِهِ الثَّنَاءُ» کہ مجھے اپنی حاجت کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تیری مہربانیوں بھری بخشش مجھے کافی ہے میں جانتا ہوں کہ داد و دہش تیری پاک عادتوں میں داخل ہے لیکن تیری پاکیزگی بیان کر دینا، تیری حمد و ثنا کرنا ہی مجھے اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہدایت کے معنی یہاں پر ارشاد اور توفیق کے ہیں۔
کبھی تو ہدایت بنفسہ متعدی ہوتی ہے جیسے یہاں ہے تو معنی «أَلْهِمْنَا، وَفِّقْنَا، ارْزُقْنَا» اور «اعْطِنَا» یعنی ہمیں عطا فرمائے ہوں گے
اور جگہ ہے: «وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» [90-البلد:10] الخ یعنی ”ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے“ بھلائی اور برائی دونوں کے۔
اور کبھی ہدایت «الیٰ» کے ساتھ متعدی ہوتی ہے، جیسے فرمایا: «اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» [16-النحل:121]
اور فرمایا: «فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:23]
یہاں ہدایت ارشاد اور دلالت کے معنی میں ہے۔ اسی طرح فرمان ہے: «وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [42-الشورى:52] الخ یعنی ”تو البتہ سیدھی راہ دکھاتا ہے“ ،
اور کبھی ہدایت «لام» کے ساتھ متعدی ہوتی ہے جیسے جنتیوں کا قول قرآن کریم میں ہے: «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا» [7-الأعراف:43] الخ یعنی ”اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی یعنی توفیق دی اور ہدایت والا بنایا“ ۔
«صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کے معنی سنئے۔ امام ابو جعفر بن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے واضح اور صاف راستہ ہے جو کہیں سے ٹیڑھا نہ ہو۔ عرب کی لغت میں اور شاعروں کے شعر میں یہ معنی صاف طور پر پائے جاتے ہیں اور اس پر بےشمار شواہد موجود ہیں۔
«صِّرَاطَ» کا استعمال بطور استعارہ کے قول اور فعل پر بھی آتا ہے اور پھر اس کا وصف استقامت اور ٹیڑھ پن کے ساتھ بھی آتا ہے۔ سلف اور متاخرین مفسرین سے اس کی بہت سی تفسیریں منقول ہیں اور ان سب کا خلاصہ ایک ہی ہے اور وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور تابعداری ہے۔ صفحہ نمبر50 صراط مستقیم کیا ہے؟ ٭٭ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ صراط مستقیم کتاب اللہ ہے ۔
[تفسیر ابن جریر الطبری:174:ضعیف جدا] ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے بھی روایت کی ہے۔
فضائل قرآن کے بارے میں پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی، حکمتوں والا ذکر اور سیدھی راہ یعنی صراط مستقیم یہی اللہ کی کتاب قرآن کریم ہے ۔ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعيف] سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول بھی یہی ہے اور مرفوع حدیث کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ مشابہ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ» کہئے یعنی ہمیں ہدایت والے راستہ کا الہام کر اور اس دین قیم کی سمجھ دے جس میں کوئی کجی نہیں۔ آپ سے یہ قول بھی مروی ہے کہ اس سے مراد اسلام ہے۔ سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» سے مراد اسلام ہے جو ہر اس چیز سے جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے زیادہ وسعت والا ہے۔ ابن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جس کے سوا اور دین مقبول نہیں۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» اسلام ہے۔
صفحہ نمبر51 مسند احمد کی ایک حدیث میں بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی کہ «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں، ان میں کئی ایک کھلے ہوئے دروازے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں، «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کے دروازے پر ایک پکارنے والا مقرر ہے، جو کہتا ہے کہ اے لوگو! تم سب کے سب اسی سیدھی راہ پر چلے جاؤ، ٹیڑھی ترچھی ادھر ادھر کی راہوں کو نہ دیکھو نہ ان پر جاؤ۔ اور اس راستے سے گزرنے والا کوئی شخص جب ان دروازوں میں سے کسی ایک کو کھولنا چاہتا ہے تو ایک پکارنے والا کہتا ہے خبردار اسے نہ کھولنا۔
اگر کھولا تو اس راہ لگ جاؤ گے اور «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» سے ہٹ جاؤ گے۔ پس «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» تو اسلام ہے اور دیواریں اللہ کی حدیں ہیں اور کھلے ہوئے دروازے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور دروازے پر پکارنے والا قرآن کریم ہے، اور راستے کے اوپر سے پکارنے والا زندہ ضمیر ہے جو ہر ایماندار کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور واعظ کے ہوتا ہے ۔ [سنن ترمذي:2859،قال الشيخ الألباني:صحيح] یہ حدیث ابن ابی حاتم، ابن جریر، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور اس کی اسناد حسن صحیح ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر52 مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد حق ہے۔
ان کا قول سب سے زیادہ مقبول ہے اور مذکورہ اقوال کا کوئی مخالف نہیں۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے آپ کے دونوں خلیفہ ہیں۔ حسن رحمہ اللہ اس قول کی تصدیق اور تحسین کرتے ہیں۔
دراصل یہ سب اقوال صحیح ہیں اور ایک دوسرے سے ملے جلے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں خلفاء صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما کا تابعدار حق کا تابع ہے اور حق کا تابع اسلام کا تابع ہے اور اسلام کا تابع قرآن کا مطیع ہے اور قرآن اللہ کی کتاب اس کی طرف سے مضبوط رسی اور اس کی سیدھی راہ ہے۔ لہٰذا «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کی تفسیر میں یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» صفحہ نمبر53 سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» وہ ہے جس پر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا۔
امام ابوجعفر بن جریر رحمہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ میرے نزدیک اس آیت کی تفسیر میں سب سے اولیٰ یہ ہے کہ ہم کو توفیق دی جائے اس کی جو اللہ کی مرضی کی ہو اور جس پر چلنے کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں سے راضی ہوا ہو اور ان پر انعام کیا ہو، «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» یہی ہے۔ اس لیے کہ جس شخص کو اس کی توفیق مل جائے، جس کی توفیق اللہ کے نیک بندوں کو تھی جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا تھا جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ تھے انہوں نے اسلام کی اور رسولوں کی تصدیق کی، کتاب اللہ کو مضبوط تھام رکھا، اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لائے۔
اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے رک گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چاروں خلیفوں رضی اللہ عنہم اور تمام نیک بندوں کی راہ کی توفیق مل جائے گی تو یہی «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» ہے۔ صفحہ نمبر54 اگر یہ کہا جائے کہ مومن کو تو اللہ کی طرف سے ہدایت حاصل ہو چکی ہے پھر نماز اور غیر نماز میں ہدایت مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ مراد اس سے ہدایت پر ثابت قدمی اور رسوخ اور بینائی اور ہمیشہ کی طلب ہے اس لیے کہ بندہ ہر ساعت اور ہر حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا محتاج ہے وہ خود اپنی جان کے نفع نقصان کا مالک نہیں بلکہ دن رات اپنے اللہ کا محتاج ہے اسی لیے اسے سکھایا کہ ہر وقت وہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرتا رہے اور ثابت قدمی اور توفیق چاہتا رہے۔ بھلا اور نیک بخت انسان وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے در کا بھکاری بنا لے وہ اللہ ہر پکارنے والے کی پکار کے قبول کرنے کا کفیل ہے۔ بالخصوص بےقرار محتاج اور اس کے سامنے اپنی حاجت دن رات پیش کرنے والے کی ہر پکار کو قبول کرنے کا ضامن ہے۔
اور جگہ قرآن کریم میں ہے: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ» [4-النساء:136] الخ یعنی ”اے ایمان والو! اللہ پر، اس کے رسولوں پر، اس کی اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول کی طرف نازل فرمائی اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئیں، سب پر ایمان لاؤ۔ صفحہ نمبر55 اس آیت میں ایمان والوں کو ایمان لانے کا حکم دینا اور ہدایت والوں کو ایمان لانے کا حکم دینا ایسا ہی ہے جیسے یہاں ہدایت والوں کو ہدایت کی طلب کرنے کا حکم دینا۔
مراد دونوں جگہ ثابت قدمی اور اور استمرار ہے اور ایسے اعمال پر ہمیشگی کرنا جو اس مقصد کے حاصل کرنے میں مدد پہنچائیں۔ اس پر یہ اعتراض وارد ہو بھی نہیں سکتا کہ یہ حاصل شدہ چیز کا حاصل کرنا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور دیکھئیے اللہ رب العزت نے اپنے ایماندار بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کہیں: «رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ» [3-آل عمران:8] الخ یعنی ”اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما تو بہت بڑا دینے والا اور عطا کرنے والا ہے“ ۔
یہ بھی وارد ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز مغرب کی تیسری رکعت سورۃ فاتحہ کے بعد اس آیت کو پوشیدگی سے پڑھا کرتے تھے پس «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ» کے معنی یہ ہوئے کہ الہٰ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ اور اس سے ہمیں نہ ہٹا۔ صفحہ نمبر56
انعام یافتہ کون؟ ٭٭ اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے کہ بندے کے اس قول پر اللہ کریم فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو کچھ وہ مانگے یہ آیت «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کی تفسیر ہے اور نحویوں کے نزدیک یہ اس سے بدل ہے اور عطف بیان بھی ہو سکتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور جن پر اللہ کا انعام ہوا ان کا بیان سورۃ نساء میں آ چکا ہے فرمان ہے: «وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا» * «ذَٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّـهِ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ عَلِيمًا» [4-النساء:69-70] الخ یعنی ”اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے پر عمل کرنے والے ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ کا انعام ہے جو نبی، صدیق، شہید، صالح لوگ ہیں، یہ بہترین ساتھی اور اچھے رفیق ہیں۔ یہ فضل ربانی ہے اور اللہ جاننے والا کافی ہے“ ۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ تو مجھے ان فرشتوں، نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کی راہ پر چلا جن پر تو نے اپنی اطاعت و عبادت کی وجہ سے انعام نازل فرمایا۔ یہ آیت ٹھیک «وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ» [4-النساء:69] کی طرح ہے۔
ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد انبیاء ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مومن ہیں۔ وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں مسلمان مراد ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مراد ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول زیادہ معقول اور قابل تسلیم ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر57 جمہور کی قرأت میں «غَيْرِ» «رے» کے زیر کے ساتھ ہے اور صفت ہے۔ زمحشری کہتے ہیں «رے» کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور حال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قرأت یہی ہے اور ابن کثیر رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت کی گئی ہے۔
«عَلَيْهِمْ» میں جو ضمیر ہے وہ اس کا ذوالحال ہے اور «أَنْعَمْتَ» عامل ہے۔ معنی یہ ہوئے کہ اللہ جل شانہ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ جو ہدایت اور استقامت والے تھے اور اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار، اس کے حکموں پر عمل کرنے والے، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک رہنے والے تھے۔ صفحہ نمبر58 مغضوب کون؟
٭٭ ان کی راہ سے بچا، جن پر غضب و غصہ کیا گیا، جن کے ارادے فاسد ہو گئے، حق کو جان کر پھر اس سے ہٹ گئے اور گم گشتہ راہ لوگوں کے طریقے سے بھی ہمیں بچا لے جو سرے سے علم نہیں رکھتے مارے مارے پھرتے ہیں راہ سے بھٹکے ہوئے حیران و سرگرداں ہیں اور راہ حق کی طرف رہنمائی نہیں کئے جاتے «لَا» کو دوبارہ لا کر کلام کی تاکید کرنا اس لیے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ یہاں دو غلط راستے ہیں، ایک یہود کا دوسرا نصاریٰ کا۔
بعض نحوی کہتے ہیں کہ «غَيْرَ» کا لفظ یہاں پر استثناء کے لیے ہے تو استثناء منقطع ہو سکتا ہے کیونکہ جن پر انعام کیا گیا ہے ان میں سے استثناء ہونا تو درست ہے۔ مگر یہ لوگ انعام والوں میں داخل ہی نہ تھے لیکن ہم نے جو تفسیر کی ہے یہ بہت اچھی ہے۔
عرب شاعروں کے شعر میں ایسا پایا جاتا ہے کہ وہ موصوف کو حذف کر دیتے ہیں اور صرف صفت بیان کر دیا کرتے ہیں۔ اسی طرح اس آیت میں بھی صفت کا بیان ہے اور موصوف محذوف ہے۔ «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ» سے مراد «غَيْرِ صِرَاطِ الْمَغْضُوبِ» ہے۔ مضاف «إِلَيْهِ» کے ذکر سے کفایت کی گئی اور مضاف بیان نہ کیا گیا اس لیے کہ نشست الفاظ ہی اس پر دلالت کر رہی ہے۔ پہلے دو مرتبہ یہ لفظ آ چکا ہے۔
بعض کہتے ہیں «وَلَا الضَّالِّينَ» میں «لَا» زائد ہے اور ان کے نزدیک تقدیر کلام اس طرح ہے «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَالضَّالِّينَ» اور اس کی شہادت عرب شاعروں کے شعر سے بھی ملتی ہے لیکن صحیح بات وہی ہے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ صفحہ نمبر59 سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَغَيْرِ الضَّالِّينَ» پڑھنا صحیح سند سے مروی ہے اور اسی طرح سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے اور یہ محمول ہے اس پر کہ ان بزرگوں سے یہ بطور تفسیر صادر ہوا۔
تو ہمارے قول کی تائید ہوئی کہ «لَا» نفی کی تاکید کے لیے ہی لایا گیا ہے تاکہ یہ وہم ہی نہ ہو کہ یہ «أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ» پر عطف ہے اور اس لیے بھی کہ دونوں راہوں کا فرق معلوم ہو جائے تاکہ ہر شخص ان دونوں سے بھی بچتا رہے۔
اہل ایمان کا طریقہ تو یہ ہے کہ حق کا علم بھی ہو اور حق پر عمل بھی ہو۔ یہودیوں کے ہاں علم نہیں اور نصاریٰ کے ہاں عمل نہیں اسی لیے یہودیوں پر غضب ہوا اور نصرانیوں کو گمراہی ملی۔ اس لیے کہ علم کے باوجود عمل کو چھوڑنا غضب کا سبب ہے اور نصرانی گو ایک چیز کا قصد تو کرتے ہیں مگر اس کے باوجود صحیح راستہ کو نہیں پا سکتے اس لیے کہ ان کا طریقہ کار غلط ہے اور اتباع حق سے ہٹے ہوئے ہیں یوں تو غضب اور گمراہی ان دونوں جماعتوں کے حصہ میں ہے لیکن یہودی غضب کے حصہ میں پیش پیش ہیں۔ جیسے کہ اور جگہ قرآن کریم میں ہے: «مَنْ لَعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ» [5-المائدة:60] الخ اور نصرانی ضلالت میں بڑھے ہوئے ہیں۔
فرمان الٰہی ہے: «قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ» [5-المائدة:77] الخ یعنی ”یہ پہلے ہی سے گمراہ ہیں اور بہتوں کو گمراہ کر بھی چکے ہیں اور سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں“ ۔ اس کی تائید میں بہت سی حدیثیں اور روایتیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ صفحہ نمبر60 مسند احمد میں ہے۔
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے میری پھوپھی اور چند اور لوگوں کو گرفتار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو میری پھوپھی نے کہا میری خبرگیری کرنے والا غائب ہے اور میں عمر رسیدہ بڑھیا ہوں جو کسی خدمت کے لائق نہیں آپ مجھ پر احسان کیجئے اور مجھے رہائی دیجئیے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر بھی احسان کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ تیری خیر خبر لینے والا کون ہے؟ اس نے کہا عدی بن حاتم آپ نے فرمایا وہی جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگتا پھرتا ہے؟
پھر آپ نے اسے آزاد کر دیا۔ جب لوٹ کر آپ آئے تو آپ کے ساتھ ایک شخص تھے اور غالباً وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے آپ نے فرمایا: لو ان سے سواری مانگ لو۔ میری پھوپھی نے ان سے درخواست کی جو منظور ہوئی اور سواری مل گئی۔ وہ یہاں سے آزاد ہو کر میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت نے تیرے باپ حاتم کی سخاوت کو بھی ماند کر دیا۔
آپ کے پاس جو آتا ہے وہ خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا۔ یہ سن کر میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ چھوٹے بچے اور بڑھیا عورتیں بھی آپ کی خدمت میں آتی جاتی ہیں اور آپ ان سے بھی بےتکلفی کے ساتھ بولتے چالتے ہیں۔ اس بات نے مجھے یقین دلایا دیا کہ آپ قیصر و کسریٰ کی طرح بادشاہت اور وجاہت کے طلب کرنے والے نہیں۔ آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا: ” عدی «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہنے سے کیوں بھاگتے ہو؟
کیا اللہ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق ہے؟ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہنے سے کیوں منہ موڑتے ہو؟ کیا اللہ عزوجل سے بھی بڑا کوئی ہے؟ “ مجھ پر ان کلمات نے آپ کی سادگی اور بےتکلفی نے ایسا اثر کیا کہ میں فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔
جس سے آپ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے «الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» سے مراد یہود ہیں اور «الضَّالِّينَ» سے مراد نصاریٰ ہیں ۔ [سنن ترمذي:2954،قال الشيخ الألباني:حسن]
ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تفسیر ارشاد فرمائی تھی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:209،195:حسن] اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں اور مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ بنوقین کے ایک شخص نے وادی القریٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ نے جواب میں یہی فرمایا ۔ [مسند احمد:5/32:حسن بالشواھد] بعض روایتوں میں ان کا نام عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ہے۔
«وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر61 ابن مردویہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بہت سے صحابیوں رضی اللہ عنہم سے بھی یہ تفسیر منقول ہے۔ ربیع بن انس، عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں بلکہ ابن ابی حاتم تو فرماتے ہیں مفسرین میں اس بارے میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔ ان ائمہ کی اس تفسیر کی دلیل ایک تو وہ حدیث ہے جو پہلے گزری۔
دوسری سورۃ البقرہ کی یہ آیت جس میں بنی اسرائیل کو خطاب کر کے کہا گیا ہے: «بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّـهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّـهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ» [2-البقرة:90] اس آیت میں ہے کہ ان پر غضب پر غضب نازل ہوا۔
اور سورۃ المائدہ کی آیت «قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللَّـهِ مَنْ لَعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولَـٰئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ» [5-المائدة:60] میں بھی ہے کہ ان پر غضب الہٰی نازل ہوا
اور جگہ فرمان الہٰی ہے: «لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ * كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ» [5-المائدة:79] یعنی ”بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی۔ دواؤد علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی زبانی یہ ان کی نافرمانی اور حد سے گزر جانے کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ کسی برائی کے کام سے آپس میں روک ٹوک نہیں کرتے تھے یقیناً ان کے کام بہت برے تھے“ ۔
اور تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل جو کہ دین خالص کی تلاش میں اپنے ساتھیوں سمیت نکلے اور ملک شام میں آئے تو ان سے یہودیوں نے کہا کہ آپ ہمارے دین میں تب تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک غضب الہٰی کا ایک حصہ نہ پا لو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس سے بچنے کے لیے تو دین حق کی تلاش میں نکلے ہیں پھر اسے کیسے قبول کر لیں؟ پھر نصرانیوں سے ملے انہوں نے کہا جب تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مزا نہ چکھ لو تب تک آپ ہمارے دین میں نہیں آ سکتے۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں کر سکتے چنانچہ وہ اپنی فطرت پر ہی رہے۔
بتوں کی عبادت اور قوم کا دین چھوڑ دیا لیکن یہودیت یا نصرانیت اختیار نہ کی۔ البتہ زید کے ساتھیوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ اس لیے کہ یہودیوں کے مذہب سے یہ ملتا جلتا تھا۔ انہی میں ورقہ بن نوفل تھے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ ملا اور ہدایت الہٰی نے ان کی رہبری کی اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور جو وحی اس وقت تک اتری تھی اس کی تصدیق کی (رضی اللہ عنہ) ۔
صفحہ نمبر62 مسئلہ ٭٭ «ضَّادِ» اور «ظَّاءِ» کی قرأت میں بہت باریک فرق ہے اور ہر ایک کے بس کا نہیں۔ اس لیے علمائے کرام کا صحیح مذہب یہ ہے کہ یہ فرق معاف ہے، «ضَّادِ» کا صحیح مخرج تو یہ ہے کہ زبان کا اول کنارہ اور اس کے پاس کی داڑھیں اور «ظَّاءِ» کا مخرج زبان کا ایک طرف اور سامنے والے اوپر کے دو دانت کے کنارے۔ دوسرے یہ کہ یہ دونوں حرف «مَجْهُورَةِ» اور «رِّخْوَةِ» اور «مُطْبَقَةِ» ہیں پس اس شخص کو جسے ان دونوں میں تمیز کرنی مشکل معلوم ہو، اسے معاف ہے کہ «ضَّادِ» کو «ظَّاءِ» کی طرح پڑھ لے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میں «ضَّادِ» کو سب سے زیادہ صحیح پڑھنے والا ہوں [کشف الخفاء:200/1:لااصل لہ] لیکن یہ حدیث بالکل بے اصل اور لاپتہ ہے۔ صفحہ نمبر63 الحمد کا تعارف و مفہوم ٭٭ یہ مبارک سورت نہایت کار آمد مضامین کا مجموعہ ہے ان سات آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کی بزرگی، اس کی ثنا و صفت اور اس کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں کا بیان ہے ساتھ ہی قیامت کے دن کا ذکر ہے اور بندوں کو ارشاد ہے کہ وہ اس مالک سے سوال کریں اس کی طرف تضرع و زاری کریں اپنی مسکینی اور بےکسی اور بےبسی کا اقرار کریں اور اس کی عبادت خلوص کے ساتھ کریں اور اس کی توحید الوہیت کا اقرار کریں۔ اسے شریک، نظیر اور مثل سے پاک اور برتر جانیں۔
صراط مستقیم اور اس پر ثابت قدمی اس سے طلب کریں تاکہ یہی ہدایت انہیں قیامت والے دن پل صراط سے بھی پار اتارے اور نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں کے پڑوس میں جنت الفردوس میں جگہ دلائے۔ ساتھ ہی اس سورت میں نیک اعمال کی ترغیب ہے تاکہ قیامت کے دن نیکوں کا ساتھ ملے اور باطل راہوں پر چلنے سے ڈراوا پیدا ہو تاکہ قیامت کے دن بھی یہ باطل پرست یہود و نصاریٰ کی جماعت سے دور ہی رہیں۔
صفحہ نمبر64 اس باریک نکتہ پر بھی غور کیجئے کہ انعام کی اسناد تو اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی اور «أَنْعَمْتَ» کہا گیا لیکن غضب کی اسناد اللہ کی طرف نہیں کی گئی یہاں فاعل حذف کر دیا اور «الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» کہا گیا اس میں پروردگار عالم کی جناب میں ادب کیا گیا ہے۔ دراصل حقیقی فاعل اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
جیسے اور جگہ ہے: «غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ» [58-المجادلة:14] اور اسی طرح ضلالت کی اسناد بھی ان کی طرف کی کئی جو گمراہ ہیں۔
حالانکہ اور جگہ ہے: «وَمَنْ يَهْدِ اللَّـهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ» [17-الإسراء:97] الخ یعنی ”اللہ جسے راہ دکھائے وہ راہ یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا رہنما کوئی نہیں“ ۔
اور جگہ فرمایا: «مَنْ يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ» [7-الأعراف:186] الخ یعنی ”جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ تو اپنی سرکشی میں بہکے رہتے ہیں“ ۔
اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ راہ دکھانے والا گمراہ کرنے والا صرف سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے۔ صفحہ نمبر65 قدریہ فرقہ جو ادھر ادھر کی متشابہ آیتوں کو دلیل بنا کر کہتا ہے کہ بندے خود مختار ہیں وہ خود جو پسند کرتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ یہ غلط ہے، صریح اور صاف صاف آیتیں ان کے رد میں موجود ہیں لیکن باطل پرست فرقوں کا یہی قاعدہ ہے کہ صراحت کو چھوڑ کر متشابہ کے پیچھے لگا کرتے ہیں۔
صحیح حدیث میں ہے کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے لگتے ہیں تو سمجھ لو کہ انہی لوگوں کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے تم ان کو چھوڑ دو ۔ [صحیح بخاری:4547]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اس فرمان میں اس آیت شریف کی طرف ہے «فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ» [3-آل عمران:7] الخ یعنی ”جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ متشابہ ہے کے پیچھے لگتے ہیں فتنوں اور تاویل کو ڈھونڈنے کے لیے“ ۔
پس «الْحَمْدُ لِلَّـه» بدعتیوں کے لیے قرآن پاک میں صحیح دلیل کوئی نہیں۔ قرآن کریم تو حق و باطل ہدایت و ضلالت میں فرق کرنے کے لیے آیا ہے اس میں تناقض اور اختلاف نہیں۔ یہ تو اللہ حکیم و حمید کا نازل کردہ ہے۔ صفحہ نمبر66 آمین اور سورہ فاتحہ ٭٭ سورۃ فاتحہ کو ختم کر کے آمین کہنا مستحب ہے۔
آمین مثل «یاسین» کے ہے اور آمین بھی کہا گیا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ ” اے اللہ تو قبول فرما۔ “
آمین کہنے کے مستحب ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد، ابوداؤد اور ترمذی میں سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کہہ کر «آمِينَ» کہتے تھے اور آواز دراز کرتے تھے ۔ [سنن ترمذي:248،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے آواز بلند کرتے تھے ۔ [سنن ابوداود:392،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو حسن کہتے ہیں۔
سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمین پہلی صف والے لوگ جو آپ کے قریب ہوتے سن لیتے ۔ [سنن ابوداود:934،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ابوداؤد اور ابن ماجہ میں یہ حدیث ہے۔
ابن ماجہ میں یہ بھی ہے کہ آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی ۔ [سنن ابن ماجہ:853،قال الشيخ الألباني:ضعيف] دارقطنی میں بھی یہ حدیث ہے ۔ [دارقطنی:335/1:حسن]
اور امام دارقطنی رحمہ اللہ بتاتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے۔ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے ۔ [سنن ابوداود:937،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
حسن بصری اور جعفر صادق رحمہ اللہ علیہم سے آمین کہنا مروی ہے۔ جیسے کہ «آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ» [5-المائدة:2] قرآن میں ہے۔ صفحہ نمبر67 ہمارے اصحاب وغیرہ کہتے ہیں جو نماز میں نہ ہو اسے بھی آمین کہنا چاہیئے۔ ہاں جو نماز میں ہو اس پر تاکید زیادہ ہے۔
نمازی خود اکیلا ہو، خواہ مقتدی ہو، خواہ امام ہو، ہر حالت میں آمین کہے۔
صحیحین میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں “ ۔ [صحیح بخاری:786]
صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں آمین کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں اور ایک کی آمین دوسرے کی آمین سے مل جاتی ہے تو اس کے تمام پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں “ ۔ [صحیح مسلم:410]
مطلب یہ ہے کہ اس کی آمین کا اور فرشتوں کی آمین کا وقت ایک ہی ہو جائے یا موافقت سے مراد قبولیت میں موافق ہونا ہے یا اخلاص میں۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو آمین کہو اللہ قبول فرمائے گا ۔ [صحیح مسلم:404] صفحہ نمبر68 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آمین کے کیا معنی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے اللہ تو کر “ ۔ [تفسیر کشاف:18/1:ضعیف] جوہری کہتے ہیں اس کے معنی ” اسی طرح ہو “ ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں اس کے معنی ہیں کہ ” ہماری امیدوں کو نہ توڑ۔ “
اکثر علماء فرماتے ہیں اس کے معنی ” اے اللہ تو ہماری دعا قبول فرما “ کے ہیں۔
مجاہد، جعفر صادق، ہلال بن سیاف رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی یہ مروی ہے لیکن صحیح نہیں ۔ [عبدالرزاق:2651]
امام مالک رحمہ اللہ کے اصحاب کا مذہب ہے کہ امام آمین نہ کہے مقتدی آمین کہے کیونکہ موطا مالک کی حدیث میں ہے کہ جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو ۔ [صحیح بخاری:796]
اسی طرح ان کی دلیل کی تائید میں صحیح مسلم والی سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بھی آتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو “ ۔ [صحیح مسلم:404]
لیکن بخاری و مسلم کی حدیث پہلے بیان ہو چکی کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو ۔ [صحیح بخاری:786]
اور یہ بھی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «وَلَا الضَّالِّينَ» پڑھ کر آمین کہتے تھے ۔ [سنن ترمذي:248،قال الشيخ الألباني:صحیح] صفحہ نمبر69 آمین باآواز بلند ٭٭ جہری نمازوں میں مقتدی اونچی آواز سے آمین کہے یا نہ کہے، اس میں ہمارے ساتھیوں کا اختلاف ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر امام آمین کہنی بھول گیا ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین کہیں۔ اگر امام نے خود اونچی آواز سے آمین کہی ہو تو نیا قول یہ ہے کہ مقتدی باآواز بلند نہ کہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔
اور ایک روایت میں امام مالک رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے اس لیے کہ نماز کے اور اذکار کی طرح یہ بھی ایک ذکر ہے تو نہ وہ صرف بلند آواز سے پڑھے جاتے ہیں نہ یہ بلند آواز سے پڑھا جائے۔
لیکن پہلا قول یہ ہے کہ آمین بلند آواز سے کہی جائے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کا بھی دوسری روایت کے اعتبار سے یہی مذہب ہے اور اس کی دلیل وہی حدیث ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی۔ ہمارے یہاں پر ایک تیسرا قول بھی ہے کہ اگر مسجد چھوٹی ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین نہ کہیں اس لیے کہ وہ امام کی قرأت سنتے ہیں اور اگر بڑی ہو تو اونچی آواز سے آمین کہیں تاکہ مسجد کے کونے کونے میں آمین پہنچ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (صحیح مسئلہ یہ ہے کہ جن نمازوں میں اونچی آواز سے قرأت پڑھی جاتی ہے ان میں اونچی آواز سے آمین کہنی چاہیئے۔
خواہ مقتدی ہو خواہ امام ہو، خواہ منفرد، مترجم) صفحہ نمبر70 مسند احمد میں صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودیوں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ہماری تین چیزوں پر یہودیوں کو اتنا بڑا حسد ہے کہ کسی اور چیز پر نہیں۔ ایک تو جمعہ پر کہ اللہ نے ہمیں اس کی ہدایت کی اور یہ بہک گئے دوسرے قبلہ، تیسرے ہمارا امام کے پیچھے آمین کہنا ۔ [سلسلة احادیث صحيحہ البانی:691،صحيح بالشواھد]
ابن ماجہ کی حدیث میں یوں ہے کہ یہودیوں کو سلام پر اور آمین پر جتنی چڑ ہے اتنی کسی اور چیز پر نہیں ۔ [سنن ابن ماجہ:856،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا جس قدر حسد یہودی آمین پر کرتے ہیں اس قدر حسد اور امر پر نہیں کرتے تم بھی آمین بکثرت کہا کرو ۔ [سنن ابن ماجہ:857،قال الشيخ الألباني:ضعيف جدا] اس کی اسناد میں طلحہ بن عمرو راوی ضعیف ہیں۔
ابن مردویہ میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا آمین اللہ تعالیٰ کی مہر ہے اپنے مومن بندوں پر ۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1487،ضعيف]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ نماز میں آمین کہنی اور دعا پر آمین کہنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی۔ ہاں اتنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی ایک خاص دعا پر ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے۔ تم اپنی دعاؤں کو آمین پر ختم کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے حق میں قبول فرمایا کرے گا ۔ [ابن خزیمہ:1586:ضعیف]
اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر قرآن کریم کے ان الفاظ کو دیکھئے جن میں موسیٰ علیہ السلام کی دعا: «رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:88] ہے الخ یعنی ”الہٰی تو نے فرعون اور فرعونیوں کو دنیا کی زینت اور مال دنیا زندگانی میں عطا فرمایا ہے جس سے وہ تیری راہ سے دوسروں کو بہکا رہے ہیں۔ اللہ ان کے مال برباد کر اور ان کے دل سخت کر، جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں یہ ایمان نہ لائیں“ ۔
موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کی قبولت کا اعلان ان الفاظ میں ہوتا ہے: «قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [10-يونس:89] الخ یعنی ”تم دونوں کی دعا قبول کی گئی، تم مضبوط رہو اور بےعلموں کی راہ نہ جاؤ“ ۔ دعا صرف موسیٰ علیہ السلام کرتے تھے اور ہارون علیہ السلام صرف آمین کہتے تھے لیکن قرآن نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔ صفحہ نمبر71 اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ جو شخص کسی دعا پر آمین کہے وہ گویا خود وہ دعا کر رہا ہے۔
اب اس استدلال کو سامنے رکھ کر وہ قیاس کرتے ہیں کہ مقتدی قرأت نہ کرے، اس لیے کہ اس کا سورۃ فاتحہ کے بعد آمین کہنا پڑھنے کے قائم مقام ہے اور اس حدیث کو بھی دلیل میں لاتے ہیں کہ جس کا امام ہو تو اس کے امام کی قرأت اس کی قرأت ہے۔ [ مسند احمد ]
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آمین میں مجھ سے سبقت نہ کیا کیجئے اس کھینچا تانی سے مقتدی پر جہری نمازوں میں «الْحَمْدُ» کا نہ پڑھنا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (یہ یاد رہے کہ اس کی مفصل بحث پہلے گزر چکی ہے)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب امام «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کہہ کر آمین کہتا ہے آسمان والوں کی آمین زمین والوں کی آمین سے مل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بندے کے تمام پہلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ آمین نہ کہنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص ایک قوم کے ساتھ مل کر غزوہ کرے، غالب آئے، مال غنیمت جمع کرے، اب قرعہ ڈال کر حصہ لینے لگے تو اس شخص کے نام قرعہ نکلے ہی نہیں اور کوئی حصہ نہ ملے وہ کہے ” یہ کیوں؟ “ تو جواب ملے تیرے آمین نہ کہنے کی وجہ سے “ ۔ [ابویعلی فی مسندہ:6411:ضعیف] صفحہ نمبر72
تفسیر البغوی
اللہ تعالیٰ کا فرمان «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ» ہے۔ «اهْدِنَا» کا مطلب ہے: ہماری رہنمائی فرما۔ علی اور اُبی بن کعب رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «ہمیں ثابت قدم رکھ»۔ یہ اس طرح ہے جیسے کسی کھڑے ہوئے شخص سے کہا جائے: «کھڑے رہو، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس واپس آؤں»، یعنی اپنی موجودہ حالت پر قائم رہو۔
اہلِ ایمان کے ہدایت یافتہ ہونے کے باوجود ان کی یہ دعا ثابت قدم رکھنے اور مزید ہدایت طلب کرنے کے معنی میں ہے، کیونکہ اہلِ سنت کے مسلک کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لطف اور ہدایت کی کوئی انتہا نہیں۔
«الصراط» کو «سِراط» بھی پڑھا گیا ہے؛ اویس نے یعقوب سے یہ قراءت نقل کی ہے، اور یہی اصل ہے۔ اسے صراط اس لیے کہا گیا کہ یہ چلنے والوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ اسے زاء کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اور حمزہ نے زاء کی آواز کی طرف امالہ کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ یہ سب درست لغات ہیں۔
اکثر قراء کے نزدیک اختیار صاد کے ساتھ پڑھنا ہے، کیونکہ یہ مصحف کے رسم کے مطابق ہے۔ «الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ» کے بارے میں ابن عباس اور جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «اس سے مراد اسلام ہے»؛ یہ مقاتل کا بھی قول ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «اس سے مراد قرآن ہے»۔ علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: «صراطِ مستقیم اللہ کی کتاب ہے»۔
سعید بن جبیر نے فرمایا: «جنت کا راستہ»۔ سہل بن عبداللہ نے فرمایا: «سنت اور جماعت کا راستہ»۔ بکر بن عبداللہ مزنی نے فرمایا: «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ»۔ ابو العالیہ اور حسن نے فرمایا: «رسول اللہ، آپ کے اہل، اور آپ کے دونوں صحابی»۔ لغت میں اس کا اصل معنی واضح راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان «صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ» کا مطلب ہے: جن پر تو نے ہدایت اور توفیق عطا کرکے احسان فرمایا۔ عکرمہ نے کہا: «تو نے انہیں ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت عطا کرکے احسان فرمایا؛ یہ انبیاء علیہم السلام ہیں»۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جسے اللہ نے ایمان پر ثابت قدم رکھا، یعنی انبیاء اور اہلِ ایمان، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے: «فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ» (پس یہی لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا، یعنی انبیاء)۔
ابن عباس نے فرمایا: «اس سے مراد موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کی قومیں ہیں، اس سے پہلے کہ وہ اپنے دین کو بدل دیں»۔ عبدالرحمن بن زید نے کہا: «اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والے لوگ ہیں»۔ ابو العالیہ نے کہا: «اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اور آپ کے گھر والے ہیں»۔ شہر بن حوشب نے کہا: «اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور آپ کے اہلِ بیت ہیں»۔
حمزہ نے «عَلَيْهِمْ»، «لَدَيْهِمْ» اور «إِلَيْهِمْ» کی ہاء کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعقوب ہر اس ہاء کو پیش دیتے ہیں جس سے پہلے تثنیہ یا جمع میں ساکن یاء ہو، سوائے «بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ» کے۔ دیگر قراء نے ان ہاؤں کو زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ جنہوں نے پیش پڑھا، انہوں نے ہاء کو اس کی اصل کی طرف لوٹایا ہے، کیونکہ الگ ہونے کی صورت میں وہ مضموم ہوتی ہے؛ اور جنہوں نے زیر پڑھا، انہوں نے ساکن یاء کی مناسبت سے ایسا کیا، کیونکہ زیر، یاء کے مناسب ہے۔
ابن کثیر اور ابو جعفر نے وصل میں ہر جمع کے میم کو پورا ادا کرتے ہوئے پیش دی ہے، جب اس کے بعد ساکن حرف نہ ہو؛ اگر ساکن حرف آجائے تو اسے پورا نہیں کھینچتے۔ نافع کو اختیار ہے۔ ورش ہمزۂ قطع سے پہلے میم کو پیش دیتے ہیں۔ جب اس کے بعد ہمزۂ وصل آئے اور ہاء سے پہلے زیر یا ساکن یاء ہو تو حمزہ اور کسائی ہاء اور میم دونوں کو پیش دیتے ہیں، جبکہ ابو عمرو دونوں کو زیر دیتے ہیں؛ اسی طرح یعقوب بھی، جب اس سے پہلے حرف زیر والا ہو۔
دیگر قراء ہر جگہ میم کو پیش اور ہاء کو زیر کے ساتھ پڑھتے ہیں، یاء یا ماقبل کی زیر کے باعث، جبکہ میم اپنی اصل کے مطابق مضموم رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» کا مطلب ہے: ان لوگوں کے راستے کے سوا جن پر غضب کیا گیا۔ غضب سے مراد نافرمانوں سے بدلہ لینے کا ارادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا غضب گناہ گار اہلِ ایمان کو لاحق نہیں ہوتا؛ یہ صرف کافروں کو لاحق ہوتا ہے۔ «وَلَا الضَّالِّينَ» کا مطلب ہے: نہ ان لوگوں کے راستے پر جو ہدایت سے بھٹک گئے۔
«ضلال» کا سب سے شدید معنی ہلاکت اور اوجھل ہوجانا ہے۔ کہا جاتا ہے: «دودھ میں پانی گم ہوگیا»، جب وہ اس میں ہلاک اور نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ یہاں «غَيْر» کا معنی «لا» ہے، اور «لا» کا معنی «غیر» ہے؛ اسی لیے اس پر عطف کرنا درست ہے، جیسے کہا جائے: «فلاں نہ نیکوکار ہے نہ خوش اخلاق»۔ لیکن جب «غَيْر» کا معنی «سوا» ہو تو اس کے بعد «لا» کے ذریعے عطف کرنا درست نہیں؛ اس لیے یہ کہنا درست نہیں: «میرے پاس عبداللہ کے سوا زید بھی نہیں»۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے «صِرَاطَ مَنْ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَغَيْرِ الضَّالِّينَ» پڑھا ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ «المَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» سے مراد یہود اور «الضَّالِّينَ» سے مراد نصاریٰ ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہود کے بارے میں غضب کا فیصلہ فرمایا: «مَنْ لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ» (جس پر اللہ نے لعنت کی اور اس پر غضب فرمایا)؛ اور نصاریٰ کے بارے میں گمراہی کا فیصلہ فرمایا: «وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ» (اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہوچکے)۔ سہل بن عبداللہ نے کہا: «غیر المغضوب علیہم» سے مراد بدعت کے ذریعے غضب کا راستہ، اور «ولا الضالین» سے مراد سنت سے بھٹکنے کا راستہ ہے۔
قاری کے لیے سنت یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر اس سے الگ وقفے کے بعد «آمین» کہے۔ اسے ہلکی آواز سے پڑھا جائے؛ اہلِ نحو کے نزدیک اسے کھینچ کر اور مختصر، دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ اس کا مطلب ہے: «اے اللہ! سن لے اور قبول فرما»۔ ابن عباس اور قتادہ نے کہا: «اس کا مطلب ہے: اسی طرح ہو»۔
مجاہد نے کہا: «یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے»۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دعا کی مہر ہے، اور یہ بھی کہ یہ اللہ کی جانب سے اپنے بندوں پر ایک مہر ہے جس کے ذریعے وہ ان سے آفات کو دور کرتا ہے، جیسے خط پر لگی مہر اسے خراب ہونے اور اس کے اندر کی بات ظاہر ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔
امام ابو علی الحسین بن محمد القاضی اور ابو حامد احمد بن عبداللہ صالحی نے ہمیں خبر دی؛ ان دونوں نے کہا: ہمیں ابو بکر احمد بن حسن حیری نے خبر دی؛ انہوں نے کہا: ہمیں ابو علی محمد بن احمد بن محمد بن معقل میدانی نے خبر دی؛ انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن یحییٰ نے بیان کیا؛ انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے بیان کیا؛ انہوں نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے ابن مسیب سے، اور انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب امام «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم «آمین» کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے۔
جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں»۔ (69۔ النساء؛ 12۔ الممتحنہ؛ 60۔ المائدہ؛ 77۔ المائدہ؛ صحیح)
صحیح مسلم (حدیث نمبر 395) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے… اور جب بندہ کہتا ہے: “اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ…” تو اللہ فرماتا ہے: “یہ میرے بندے کے لیے ہے، اور میرے بندے کو وہ ملے گا جو اس نے مانگا ہے!”»