لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ.
لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
مچھلی والے[1] (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وه غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالﺂخر وه اندھیروں[2] کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں ﻇالموں میں ہو گیا.
اس دعا میں توحید (لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ)، تسبیح (سُبْحَانَكَ) اور گناہ کا اعتراف (إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ) یکجا ہیں۔ یہ مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام کی دعا کے طور پر مشہور ہے، جسے دعائے ذوالنون کہا جاتا ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
یعنی ہمارے بندے اور رسول ذوالنون کو یاد کیجیے۔ ذوالنون سے مراد یونس علیہ السلام ہیں، یعنی مچھلی والے، کیونکہ نون مچھلی کو کہتے ہیں۔ ان کا اچھے ذکر اور عمدہ تعریف کے ساتھ تذکرہ کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی قوم کی طرف بھیجا، تو انہوں نے قوم کو دعوت دی، مگر وہ ایمان نہ لائے۔
چنانچہ یونس علیہ السلام نے انہیں ایک مقررہ مدت کے بعد عذاب نازل ہونے کی خبر دی۔ پھر انہوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب کو آتے دیکھا، تو اللہ کی طرف عاجزی سے رجوع کیا، فریاد کی اور توبہ کی۔ پس اللہ نے ان سے عذاب دور کردیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لاتی اور اس کا ایمان اسے فائدہ دیتا، سوائے یونس کی قوم کے؛ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوائی کا عذاب دور کردیا اور انہیں ایک مدت تک فائدہ اٹھانے دیا» (سورۂ یونس، 10:98)۔
اور فرمایا: «اور ہم نے انہیں ایک لاکھ، بلکہ اس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا، پھر وہ ایمان لے آئے، تو ہم نے انہیں ایک مدت تک فائدہ اٹھانے دیا» (سورۂ صافات، 37:147-148)۔ یہ عظیم امت، جس نے یونس علیہ السلام کی دعوت پر ایمان قبول کیا، ان کے بڑے فضائل میں سے ہے۔
لیکن یونس علیہ السلام اپنی قوم پر ناراض ہو کر چلے گئے اور اپنے رب کی اجازت کے بغیر روانہ ہوگئے۔ یہ ان کے ان گناہوں میں سے ایک تھا جن کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں ہمارے لیے نہیں کیا، اور ہمیں ان کی تعیین کی کوئی ضرورت نہیں۔ بظاہر انہوں نے جلدی کی، اپنی قوم پر ناراضی کا اظہار کیا اور اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے درمیان سے نکل گئے۔ انہوں نے گمان کیا کہ اللہ ان پر تنگی نہیں کرے گا، یعنی مچھلی کے پیٹ میں ان کے لیے تنگی نہ ہوگی، یا یہ گمان کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نکلیں گے۔
کامل ترین مخلوق سے بھی ایسا گمان عارضی طور پر پیدا ہوسکتا ہے، لیکن وہ اس پر قائم نہیں رہتا اور نہ برقرار رہتا ہے۔
پھر وہ کچھ لوگوں کے ساتھ کشتی پر سوار ہوئے۔ جب انہیں اندیشہ ہوا کہ اگر سب کشتی میں رہے تو ڈوب جائیں گے، تو انہوں نے قرعہ ڈالا کہ ان میں سے کس کو سمندر میں ڈالا جائے۔ قرعہ یونس علیہ السلام کے نام نکلا، چنانچہ مچھلی نے انہیں نگل لیا اور سمندروں کی تاریکیوں میں لے گئی۔ ان تاریکیوں میں انہوں نے پکارا: «تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا» (الأنبياء، 21:87)۔
یوں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے کمال کا اقرار کیا، اسے ہر نقص، عیب اور آفت سے پاک قرار دیا، اور اپنی جان کے ظلم اور اپنی خطا کا اعتراف کیا۔ اسی لیے ان کے بارے میں فرمایا: «جب وہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کی طرف گیا» (الصافات، 37:140)، اور «جب وہ ملامت کا مستحق کام کرنے والا تھا» (الصافات، 37:142)۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
یونس علیہ السلام اور ان کی امت ٭٭ یہ واقعہ یہاں بھی مذکور ہے اور سورۃ الصافات میں بھی ہے اور سورۃ نون میں بھی ہے۔ [37-الصافات:139-148] [68-القلم:48-50] یہ پیغمبر یونس بن متی علیہ السلام تھے۔ انہیں موصل کے علاقے کی بستی نینوا کی طرف نبی بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کی راہ کی دعوت دی لیکن قوم ایمان نہ لائی۔
آپ علیہ السلام وہاں سے ناراض ہو کرچل دئے اور ان لوگوں سے کہنے لگے کہ ” تین دن میں تم پر عذاب الٰہی آ جائے گا۔ “ جب انہیں اس بات کی تحقیق ہوگئی اور انہوں نے جان لیا کہ انبیاء علیہم السلام جھوٹے نہیں ہوتے تو یہ سب کے سب چھوٹے بڑے مع اپنے جانوروں اور مویشوں کے جنگل میں نکل کھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے جدا کردیا اور بلک بلک کر نہایت گریہ وزاری سے جناب باری تعالیٰ میں فریاد شروع کر دی۔
ادھر ان کی آہ وبکاء ادھر جانوروں کی بھیانک صدا غرض اللہ کی رحمت متوجہ ہوگئی عذاب اٹھا لیا گیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ» [10-یونس:98] یعنی ” عذابوں کی تحقیق کے بعد کے ایمان نے کسی کو نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے کہ ان کے ایمان کی وجہ سے ہم نے ان پر سے عذاب ہٹالیے اور دنیا کی رسوائی سے انہیں بچا لیا اور موت تک کی مہلت دے دی “ ۔ صفحہ نمبر5501 حضرت یونس علیہ السلام یہاں سے چل کر ایک کشتی میں سوار ہوئے آگے جاکر طوفان کے آثار نمودار ہوئے۔ قریب تھا کہ کشتی ڈوب جائے مشورہ یہ ہوا کہ کسی آدمی کو دریا میں ڈال دینا چاہے کہ وزن کم ہو جائے۔
قرعہ یونس علیہ السلام کا نکلا لیکن کسی نے آپ علیہ السلام کو دریا میں ڈالنا پسند نہ کیا۔ دوبارہ قرعہ اندازی ہوئی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا تیسری مرتبہ پھر قرعہ ڈالا اب کی مرتبہ بھی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا۔
چنانچہ خود قرآن میں ہے آیت «فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ» [37-الصافات:141] اب کہ یونس علیہ السلام خود کھڑے ہو گئے کپڑے اتار کر دریا میں کود پڑے۔ بحر اخضر سے بحکم الٰہی ایک مچھلی پانی کاٹتی ہوئی آئی اور آپ علیہ السلام کو لقمہ کرگئی۔ لیکن بحکم اللہ نے آپ علیہ السلام کی ہڈی توڑی نہ جسم کو کچھ نقصان پہچایا۔
آپ علیہ السلام اس کے لیے غذا نہ تھے بلکہ اس کا پیٹ آپ علیہ السلام کے لیے قید خانہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نسبت مچھلی کی طرف کی گئی عربی میں مچھلی کو نون کہتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا غضب وغصہ آپ کی قوم پر تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:511/18:]
خیال یہ تھا کہ اللہ آپ کو تنگ نہ پکڑے گا پس یہاں «نَقُدِرَ» کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہدرحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ نے کئے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:514/18:] امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کی تائید آیت «وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّـهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا» [65-الطلاق:7] سے بھی ہوتی ہے۔ صفحہ نمبر5502 حضرت عطیہ عوفی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ معنی کئے ہیں کہ ” ہم اس پر مقدر نہ کریں گے۔
“ «قَدَرَ» اور «قَدَّرَ» دونوں لفظ ایک معنی میں بولے جاتے ہیں اس کی سند میں عربی کے شعر کے علاوہ آیت «فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلٰٓي اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ» [54-القمر:12] بھی پیش کی جا سکتی ہے۔
ان اندھیریوں میں پھنس کر اب یونس علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا۔ سمندر کے نیچے کا اندھیرا پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا پھر رات کا اندھیرا یہ اندھیرے سب جمع تھے۔ [تفسیر قرطبی:333/11:]
آپ علیہ السلام نے سمندر کی تہہ کی کنکریوں کی تسبیح سنی اور خود بھی تسبیح کرنی شروع کی۔ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں جا کر پہلے تو سمجھے کہ میں مرگیا پھر پیر کو ہلایا تو یقین ہوا کہ میں زندہ ہوں۔ وہیں سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے ” بارالٰہی میں نے تیرے لیے اس جگہ کو مسجد بنایا جسے اس سے پہلے کسی نے جائے سجود نہ بنایا ہوگا۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:518/18:] حسن بصری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں ” چالیس دن آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔
“ صفحہ نمبر5503 ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کے قید کا ارادہ کیا تو مچھلی کو حکم دیا کہ آپ علیہ السلام کو نگل لے لیکن اس طرح کے نہ ہڈی ٹوٹے نہ جسم پر خراش آئے۔ جب آپ علیہ السلام سمندر کی تہہ میں پہنچے تو وہاں تسبیح سن کر حیران رہ گئے وحی آئی کہ ” یہ سمندر کے جانوروں کی تسبیح ہے “ ۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے بھی اللہ کی تسبیح شروع کر دی اسے سن کر فرشتوں نے کہا بار الٰہا! یہ آواز تو بہت دور کی اور بہت کمزورہے کس کی ہے؟
ہم تو نہیں پہچان سکے۔ جواب ملا کہ ” یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے اس نے میری نافرمانی کی میں نے اسے مچھلی کے پیٹ کے قید خانے میں ڈال دیا ہے “ ۔ انہوں نے کہا پروردگار ان کے نیک اعمال تو دن رات کے ہر وقت چڑھتے ہی رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی سفارش قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو کنارے پر اگل دے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24778:ضعیف]
تفسیر ابن کثیر کے ایک نسخے میں یہ روایت بھی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے تیئں یونس بن متع سے افضل کہے۔ اللہ کے اس بندے نے اندھیریوں میں اپنے رب کی تسبیح بیان کی ہے ۔ [ابن ابی شیبة:156/12] اوپر جو روایت گزری اس کی وہی ایک سند ہے۔ صفحہ نمبر5504 ابن ابی حاتم میں ہے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب یونس علیہ السلام نے یہ دعا کی تو یہ کلمات عرش کے اردگرد گھومنے لگے، فرشتے کہنے لگے بہت دور دراز کی یہ آواز ہے لیکن کان اس سے پہلے آشنا ضرور ہیں آواز بہت ضعیف ہے۔
جناب باری نے فرمایا کیا ” تم نے پہچانا نہیں؟ “ انہوں نے کہا نہیں۔ فرمایا ” یہ میرے بندے یونس کی آوازہے “ ۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس (علیہ السلام) جس کے پاک عمل قبول شدہ ہر روز تیری طرف چڑھتے تھے اور جن کی دعائیں تیرے پاس مقبول تھیں، اے اللہ جیسے وہ آرام کے وقت نیکیاں کرتا تھا تو اس مصیبت کے وقت اس پر رحم کر۔
اسی وقت اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو بغیر کسی تکلیف کے کنارے پر اگل دے ۔ [الدر المنشور للسیوطی:599/4:ضعیف] صفحہ نمبر5505 استغفار موجب نجات ہے ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور غم سے نجات دے دی ان اندھیروں سے نکال دیا۔ اسی طرح ہم ایمان داروں کو نجات دیا کرتے ہیں، وہ مصیبتوں میں گھر کر ہمیں پکارتے ہیں اور ہم ان کی دستگیری فرما کرتمام مشکلیں آسان کر دیتے ہیں “ ۔ خصوصاً جو لوگ اس دعائے یونس ہی کو پڑھیں جسکی تاکید سید الانبیاء رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
مسند احمد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں گیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وہاں تھے۔ میں نے سلام کیا آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے بغور دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہ دیا میں نے امیر المؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے آکر شکایت کی آپ رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے کہا کہ ” آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہ دیا؟ “ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” نہ یہ آئے، نہ انہوں نے سلام کیا، نہ یہ کہ میں نے انہیں جواب نہ دیا ہو۔ “ اس پر میں قسم کھائی تو، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی میرے مقابلے میں قسم کھالی۔
پھر کچھ خیال کر کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے توبہ استغفار کیا اور فرمایا ” ٹھیک ہے۔ آپ نکلے تھے لیکن میں اس وقت اپنے دل سے وہ بات کہہ رہا تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے سنی تھی۔ واللہ مجھے جب وہ یاد آتی ہے میری آنکھوں پر ہی نہیں بلکہ میرے دل پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے “ ۔ صفحہ نمبر5506 سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” میں آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی خبردیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اول دعا کا ذکر کیا ہی تھا جو ایک اعرابی آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی باتوں میں مشغول کرلیا۔
بہ وقت گزرتا گیا اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے اور مکان کی طرف تشریف لے چلے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہولیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے قریب پہنچ گئے مجھے ڈر لگا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر نہ چلے جائیں اور میں رہ جاؤں تو میں نے زور زور سے پاؤں مارمار کر چلنا شروع کیا میری جوتیوں کی آہٹ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: کون ابواسحاق؟ میں نے کہا جی ہاں یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں وہ دعا ذوالنون علیہ السلام کی تھی جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یعنی «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» [21-الأنبياء:87] سنو جو بھی مسلمان جس کسی معاملے میں جب کبھی اپنے رب سے یہ دعا کرے اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول فرماتا ہے ۔
ابن ابی حاتم میں ہے جو بھی یونس علیہ السلام اس دعا کے ساتھ دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول کی جائے گی ۔
ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” اسی آیت میں اس کے بعد ہی فرمان ہے ہم اسی طرح مؤمنوں کو نجات دیتے ہیں۔ “
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کا وہ نام جس سے وہ پکارا جائے تو قبول فرمالے اور جو مانگا جائے وہ عطا فرمائے وہ یونس بن متع علیہ السلام کی دعا میں ہے ۔ صفحہ نمبر5507 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ یونس علیہ السلام کے لیے ہی خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ فرمایا: ان کے لیے خاص اور تمام مسلمانوں کے لیے عام جو بھی یہ دعا کرے، کیا تو نے قرآن میں نہیں پڑھا کہ ” ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اسے غم سے چھڑایا اور اسی طرح ہم مومنوں کو چھڑاتے ہیں “ ۔ پس جو بھی اس دعا کو کرے اس سے اللہ کا قبولیت کا وعدہ ہو چکا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24779:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کثیر بن سعید فرماتے ہیں ” میں نے امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ابوسعید! اللہ کا وہ اسم اعظم کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرمالے اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے کیا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ برادر زادے ” کیا تم نے قرآن کریم میں اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا؟
“ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی دو آیتیں «وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» تلاوت فرمائیں اور فرمایا ” بھتیجے یہی اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے وہ قبول فرماتا ہے اور جب اس کے ساتھ اس سے مانگا جائے وہ عطا فرماتا ہے۔ “ صفحہ نمبر5508
تفسیر البغوی
اللہ عزوجل کا فرمان «اور ذوالنون کو» یعنی مچھلی والے کو یاد کیجیے، اور وہ یونس بن متی ہیں۔
«جب وہ غصے میں چل دیے»—اس کے معنی میں اہلِ علم کے مختلف اقوال ہیں۔ ضحاک نے کہا: وہ اپنی قوم پر ناراض ہوکر گئے تھے۔ ابن عباس سے عوفی اور دیگر راویوں کی روایت بھی یہی ہے۔ انہوں نے کہا: یونس اور ان کی قوم فلسطین میں رہتے تھے۔
ایک بادشاہ نے ان پر حملہ کرکے ان کے ساڑھے نو قبیلے قیدی بنا لیے، اور ڈیڑھ قبیلہ باقی رہ گیا۔ اللہ نے نبی شعیا علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ حزقیل بادشاہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ایک طاقت ور نبی کو بھیجے؛ میں ان لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دوں گا کہ وہ ان کے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردیں۔ بادشاہ نے پوچھا: تم کس کو مناسب سمجھتے ہو؟ اس کی سلطنت میں پانچ نبی تھے۔
شعیا نے کہا: یونس طاقت ور اور امانت دار ہیں۔ بادشاہ نے یونس علیہ السلام کو بلایا اور انہیں جانے کا حکم دیا۔ یونس نے پوچھا: کیا اللہ نے تمہیں مجھے بھیجنے کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ یونس نے پوچھا: کیا اس نے تمہیں میرا نام لے کر بتایا ہے؟
اس نے کہا: نہیں۔ یونس نے کہا: یہاں میرے سوا دوسرے طاقت ور نبی بھی ہیں۔ انہوں نے ان پر اصرار کیا، تو وہ نبی، بادشاہ اور اپنی قوم پر ناراض ہوکر ان کے درمیان سے نکل گئے اور روم کے سمندر کے پاس آکر ایک کشتی پر سوار ہوگئے۔
عروہ بن زبیر، سعید بن جبیر اور ایک جماعت نے کہا: وہ اپنی قوم کو چھوڑ کر اپنے رب پر ناراض ہوکر چلے گئے تھے، کیونکہ اللہ نے ان کی قوم سے عذاب دور کردیا تھا، حالانکہ یونس علیہ السلام نے انہیں اس کے نازل ہونے کی خبر دی تھی۔ وہ ایسی قوم کے درمیان رہنا پسند نہ کرتے تھے جس نے ان کے بارے میں یہ بات دیکھی ہو کہ ان کی وعید پوری نہ ہوئی۔ انہیں اس بات سے حیا محسوس ہوئی، اور وہ اس سبب سے واقف نہ تھے جس کی بنا پر عذاب اٹھا لیا گیا تھا۔ ان کی ناراضی اس خیال سے تھی کہ ان کی وعید پوری نہ ہونے پر انہیں جھوٹا کہا جائے گا؛ یہ اللہ کے حکم کو ناپسند کرنے کی وجہ سے نہ تھی۔
بعض روایات میں ہے کہ ان کی قوم کا دستور تھا کہ جس شخص کو وہ جھوٹا ثابت کردیتے، اسے قتل کردیتے۔ یونس علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ جب وعدہ شدہ عذاب نہ آیا تو وہ انہیں قتل کردیں گے، چنانچہ وہ ناراض ہوئے۔ یہاں «مغاضبہ» کا صیغہ ایسا ہے جو کبھی ایک ہی شخص کے فعل کے لیے آتا ہے، جیسے «مسافرہ» اور «معاقبہ»؛ لہٰذا «مغاضباً» کا مطلب ہے: غصے میں۔
حسن نے کہا: ان کے رب عزوجل کی ناراضی اس وجہ سے ہوئی کہ اللہ نے انہیں اپنی قوم کی طرف جانے، انہیں اپنے عذاب سے خبردار کرنے اور اپنی طرف بلانے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے اپنے رب سے مہلت مانگی تاکہ روانہ ہونے کی تیاری کرلیں۔ ان سے کہا گیا کہ معاملہ اس سے زیادہ جلدی کا ہے۔ انہوں نے یہاں تک مہلت مانگی کہ ایک جوتا پہن لیں، مگر انہیں مہلت نہ دی گئی۔
ان کی طبیعت میں تنگی تھی۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام یونس کے پاس آئے اور کہا: نینویٰ کے لوگوں کے پاس جائیے اور انہیں خبردار کیجیے۔ یونس نے کہا: میں سواری تلاش کرلوں۔ جواب ملا: معاملہ اس سے زیادہ جلدی کا ہے۔
وہ ناراض ہوئے اور کشتی کی طرف چل دیے۔ وہب بن منبہ نے کہا: یونس بن متی نیک بندے تھے، مگر ان کی طبیعت میں تنگی تھی۔ جب نبوت کی بھاری ذمہ داریاں ان پر ڈالیں گئیں تو وہ اس بوجھ کے نیچے اس طرح دب گئے جیسے جوان اونٹ بھاری بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ انہوں نے یہ ذمہ داری اپنے ہاتھ سے ڈال دی اور اس سے بھاگ نکلے۔
اسی لیے اللہ نے انہیں اولوالعزم رسولوں میں شمار نہیں کیا اور اپنے نبی سے فرمایا: «پس آپ اسی طرح صبر کیجیے جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا» (الأحقاف، 46:35)، اور فرمایا: «اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے» (القلم، 68:48)۔
اللہ عزوجل کا فرمان «پس اس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہیں کریں گے»—مجاہد، قتادہ، ضحاک اور کلبی نے کہا: یعنی اس نے گمان کیا کہ ہم اسے سزا دینے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ ابن عباس سے عوفی کی روایت بھی یہی ہے۔ عربی میں «قَدَرَ اللہُ الشَّيْءَ تَقْدِيراً» اور «قَدَرَ يَقْدِرُ قَدْراً» دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «ہم نے تمہارے درمیان موت مقرر کردی» (الواقعہ، 56:60)، ان لوگوں کی قراءت میں جنہوں نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔
اس تاویل کی دلیل عمر بن عبدالعزیز اور زہری کی قراءت ہے: «فَظَنَّ أَنْ لَنْ نُقَدِّرَ عَلَيْهِ»—یعنی تشدید کے ساتھ۔ عطا اور بہت سے اہلِ علم نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے گمان کیا کہ ہم اسے قید میں تنگی میں نہیں ڈالیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان «اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے» (الرعد، 13:26) سے ہے۔ ابن زید نے کہا: یہ استفہام ہے، یعنی کیا اس نے گمان کیا کہ وہ اپنے رب کو عاجز کردے گا، پس وہ اس پر قادر نہ ہوگا؟ یعقوب نے اسے مجہول کے صیغے میں تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔
حسن سے روایت ہے کہ انہیں خبر پہنچی: جب یونس سے خطا ہوئی تو وہ اپنے رب سے ناراض ہوکر چلے گئے، اور شیطان نے انہیں بہکا کر یہ گمان دلایا کہ اللہ ان پر قدرت نہیں رکھے گا۔ ان کی سابقہ نیکیاں اور عبادت تھیں، اس لیے اللہ نے انہیں شیطان کے حوالے نہ کیا، بلکہ مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا۔ وہ اس میں چالیس دن اور رات رہے۔ عطا نے کہا: سات دن۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ مچھلی انہیں چھ ہزار سال کا سفر لے گئی، اور یہ بھی کہ انہیں زمین کے ساتویں طبقے کی انتہا تک لے گئی۔ یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں اپنے رب کے حضور توبہ کی اور اپنا محاسبہ کیا، پھر کہا: «تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا»—یعنی جب میں نے تیری نافرمانی کی اور جو کچھ کیا، اس کے بعد اب تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کروں گا۔ اللہ نے اپنی رحمت سے انہیں مچھلی کے پیٹ سے باہر نکال دیا۔ اس بارے میں پہلے بیان کی گئی تاویلات انبیاء کے مقام کے زیادہ مناسب ہیں: یعنی یہ کہ وہ اپنی قوم یا بادشاہ پر ناراض ہوکر گئے تھے۔
«پس اس نے تاریکیوں میں پکارا» یعنی رات کی تاریکی، سمندر کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں: «تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا۔»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ اللہ نے مچھلی کی طرف وحی کی: اسے نگل لے، مگر اس کا گوشت نہ زخمی کرنا اور نہ اس کی کوئی ہڈی توڑنا۔ مچھلی نے انہیں نگل لیا، پھر انہیں لے کر سمندر میں اپنی جائے قیام کی طرف چلی گئی۔ جب وہ انہیں سمندر کی تہہ تک لے گئی تو یونس علیہ السلام نے ایک آواز سنی۔ انہوں نے دل میں کہا: یہ کیا ہے؟
اللہ نے ان کی طرف وحی کی کہ یہ سمندر کے جانوروں کی تسبیح ہے۔ یونس علیہ السلام نے بھی مچھلی کے پیٹ میں تسبیح کی۔ فرشتوں نے ان کی تسبیح سنی اور کہا: اے ہمارے رب! ہم ایک اجنبی سرزمین میں مدھم آواز سن رہے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: ایک نامانوس جگہ سے جانی پہچانی آواز۔
اللہ نے فرمایا: یہ میرا بندہ یونس ہے؛ اس نے میری نافرمانی کی، اس لیے میں نے اسے مچھلی کے پیٹ میں قید کردیا ہے۔ فرشتوں نے کہا: کیا یہ وہ نیک بندہ نہیں جس کا نیک عمل ہر دن اور رات آپ کی طرف چڑھتا تھا؟ اللہ نے فرمایا: ہاں۔ پس انہوں نے ان کے لیے شفاعت کی۔
پھر اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں ساحل پر ڈال دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «پھر ہم نے اسے کھلے میدان میں ڈال دیا، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا» (الصافات، 37:145)۔
سنن الترمذی (حدیث نمبر 3505) میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب کوئی مسلمان مصیبت کے وقت ان الفاظ کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے تو اللہ ضرور اس کی دعا قبول فرماتا ہے!»