رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ، أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ، وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي، وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ.
رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
نوح نے کہا میرے پالنہار میں تیری ہی پناه چاہتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وه مانگوں جس کا مجھے علم ہی نہ ہو اگر تو مجھے نہ بخشے گا اور تو مجھ پر رحم نہ فرمائے گا، تو میں خساره پانے والوں میں ہو جاؤں گا۔[1]
اس دعا میں «أَعُوذُ بِكَ» کے الفاظ کے ذریعے اللہ کی پناہ طلب کی گئی ہے اور اپنی کمزوری کا عاجزانہ اعتراف کیا گیا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے یہ دعا اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے کافر بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنے پر تنبیہ فرمائی۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
اس وقت حضرت نوح علیہ السلام کو اپنی بات پر سخت ندامت ہوئی، اور انہوں نے کہا: «اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے ایسی چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔» مغفرت اور رحمت ہی کے ذریعے بندہ خسارہ اٹھانے والوں میں شامل ہونے سے نجات پاتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو یہ علم نہیں تھا کہ اپنے بیٹے کی نجات کے لیے اپنے رب سے سوال کرنا حرام ہے اور اس حکم میں داخل ہے: «اور ان لوگوں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا جنہوں نے ظلم کیا، یقیناً وہ غرق کیے جائیں گے۔» بلکہ ان کے سامنے دونوں باتیں متعارض ہو گئی تھیں، اور انہوں نے گمان کیا کہ ان کا بیٹا «اور تمہارے گھر والوں» کے حکم میں شامل ہے۔ بعد میں ان پر واضح ہوا کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہے جن کے حق میں دعا کرنے اور ان کے بارے میں بات کرنے سے منع کیا گیا تھا۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی دعا اور جواب ٭٭ یاد رہے کہ یہ دعا نوح علیہ السلام کی محض اس غرض سے تھی کہ آپ علیہ السلام کو صحیح طور پر اپنے ڈوبے ہوئے لڑکے کا حال معلوم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ ” پروردگار یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے تھا۔ اور میرے اہل کو بچانے کا تیرا وعدہ تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ تیرا وعدہ غلط ہو۔ پھر یہ میرا بچہ کفار کے ساتھ کیسے غرق کر دیا گیا؟ “
جواب ملا کہ ” تیری جس اہل کو نجات دینے کا میرا وعدہ تھا ان میں تیرا یہ بچہ داخل نہ تھا، میرا یہ وعدہ ایمانداروں کی نجات کا تھا۔ میں کہہ چکا تھا کہ «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ» [11-ھود:40] یعنی ” تیرے اہل کو بھی تو کشتی میں چڑھا لے مگر جس پر میری بات بڑھ چکی ہے، وہ بوجہ اپنے کفر کے انہیں میں سے تھا جو میرے سابق علم میں کفر والے اور ڈوبنے والے مقرر ہو چکے تھے “ “ ۔
یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض لوگوں نے کہا ہے یہ دراصل نوح علیہ السلام کا لڑکا تھا ہی نہیں کیونکہ آپ علیہ السلام کے بطن سے نہ تھا۔ بلکہ بدکاری سے تھا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آپ علیہ السلام کی بیوی کا اگلے گھر کا لڑکا تھا۔ یہ دونوں قول غلط ہیں بہت سے بزرگوں نے صاف لفظوں میں اسے غلط کہا ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے سلف سے منقول ہے کہ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی۔ پس یہاں اس فرمان سے کہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں یہی مطلب ہے کہ ” تیرے جس اہل کی نجات کا میرا وعدہ ہے یہ ان میں سے نہیں “ ۔
یہی بات سچ ہے اور یہی قول اصلی ہے۔ اس کے سوا اور طرف جانا محض غلطی ہے اور ظاہر خطا ہے۔ صفحہ نمبر3853 اللہ تعالیٰ کی غیرت اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ اپنے کسی نبی علیہ السلام کے گھر میں زانیہ عورت دے۔ خیال فرمائیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جنہوں نے بہتان بازی کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ کس قدر غضبناک ہوا اس لڑکے کے اہل میں سے نکل جانے کی وجہ خود قرآن نے بیان فرما دی ہے کہ ” اس کے عمل نیک نہ تھے “ ۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک قرأت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ہے
مسند کی حدیث میں ہے اسماء بنت یزید فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» پڑھتے سنا ہے اور آیت «يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا» [39-الزمر:53] پڑھتے سنا ہے ۔ [مسند احمد:359/6:صحیح بالشواهد]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ «فَخَانَتَاهُمَا» [66-التحريم:10] کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا ” اس سے مراد زنا نہیں بلکہ نوح علیہ السلام کی بیوی کی خیانت تو یہ تھی کہ لوگوں سے کہتی تھی یہ مجنون ہے۔ اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ جو مہمان آپ علیہ السلام کے ہاں آتے اپنی قوم کو خبر کر دیتی۔ “ پھر آپ نے یہ آیت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» پڑھی۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب نوح علیہ السلام کے لڑکے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ” اللہ سچا ہے اس نے اسے نوح علیہ السلام کا لڑکا فرما دیا ہے۔ پس وہ یقیناً نوح علیہ السلام کا ثابت النسب لڑکا ہی تھا۔ “ دیکھو اللہ فرماتا ہے کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی، اور یہ بھی یاد رہے کہ بعض علماء کا قول ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی ایسا ہی مجاہدرحمہ اللہ سے مروی ہے۔ اور یہی ابن جریررحمہ اللہ کا پسندیدہ ہے۔ اور فی الواقع ٹھیک اور صحیح بات بھی یہی ہے۔ صفحہ نمبر3854
تفسیر البغوی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «حضرت نوح نے کہا: اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے ایسی چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔»
صحیح البخاری (حدیث نمبر 4712) میں قیامت کے دن عظیم شفاعت کے واقعے کا ذکر ہے، جہاں حضرت نوح علیہ السلام اپنی اسی دعا کو یاد کریں گے۔