ظالموں سے نجات کی دعا
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ، وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ.
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم کو ان ﻇالموں کے لئے فتنہ نہ بنا. اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے.[1]
اس دعا میں ممانعت کا صیغہ «لَا تَجْعَلْنَا» (ہمیں نہ بنا) اور درخواست کا صیغہ «نَجِّنَا» (ہمیں نجات دے) آیا ہے۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے ان مظلوم نوجوانوں کی دعا ہے جنہوں نے اللہ پر توکل کیا۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
پس انہوں نے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کہا: «ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا۔ اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا»؛ یعنی انہیں ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں آزمائش میں ڈالیں، یا ہم پر غالب آجائیں، پھر اس بات کی وجہ سے وہ خود آزمائش میں پڑ جائیں اور کہیں: اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔
«اور اپنی رحمت سے ہمیں کافر لوگوں سے نجات دے» تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ رہیں اور اپنے دین کو اس طرح قائم کر سکیں کہ اس کے احکام نافذ کر سکیں اور اسے کسی مخالف یا مدِمقابل کے بغیر ظاہر کر سکیں۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح ٭٭ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ» [39-الزمر:36] ” اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو “ ، «وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» [65-الطلاق:3] ” جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے “ ، عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔
فرمان رب العالمین ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» [11-ھود:123] ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ “ ۔
ایک اور آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» [67-الملک:29] ” کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا “ ۔
فرماتا ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ” مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز بنا لے “ ۔
تمام ایمانداروں کو جو سورت پانچوں نمازوں میں تلاوت کرنے کا حکم ہوا اس میں بھی ان کی زبانی اقرار کرایا گیا ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» [1-الفاتحة:5] ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں “ ۔
بنو اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کا یہ حکم سن کر اطاعت کی اور جواباً عرض کیا کہ ” ہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہے۔ پروردگار تو ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کہ وہ ہم پر غالب رہ کر یہ سمجھنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے اور ہم باطل پر ہوتے تو ہم ان پر غالب کیسے رہ سکتے۔ “
یہ مطلب بھی اس دعا کا بیان کیا گیا ہے کہ ” اللہ ہم پر ان کے ہاتھوں عذاب مسلط نہ کرانا، نہ اپنے پاس سے کوئی عذاب ہم پر نازل فرما کہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر بنی اسرائیل حق پر ہوتے تو ہماری سزائیں کیوں بھگتتے یا اللہ کے عذاب ان پر کیوں اترتے؟
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ ہم پر غالب رہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ کہیں ہمارے سچے دین سے ہمیں ہٹانے کے لیے کوششیں کریں۔ اور اے پروردگار ان کافروں سے جنہوں نے حق سے انکار کر دیا ہے حق کو چھپایا لیا تو ہمیں نجات دے، ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے۔ صفحہ نمبر3756
اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح ٭٭ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ» [39-الزمر:36] ” اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو “ ، «وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» [65-الطلاق:3] ” جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے “ ، عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔
فرمان رب العالمین ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» [11-ھود:123] ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ “ ۔
ایک اور آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» [67-الملک:29] ” کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا “ ۔
فرماتا ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ” مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز بنا لے “ ۔
تمام ایمانداروں کو جو سورت پانچوں نمازوں میں تلاوت کرنے کا حکم ہوا اس میں بھی ان کی زبانی اقرار کرایا گیا ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» [1-الفاتحة:5] ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں “ ۔
بنو اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کا یہ حکم سن کر اطاعت کی اور جواباً عرض کیا کہ ” ہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہے۔ پروردگار تو ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کہ وہ ہم پر غالب رہ کر یہ سمجھنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے اور ہم باطل پر ہوتے تو ہم ان پر غالب کیسے رہ سکتے۔ “
یہ مطلب بھی اس دعا کا بیان کیا گیا ہے کہ ” اللہ ہم پر ان کے ہاتھوں عذاب مسلط نہ کرانا، نہ اپنے پاس سے کوئی عذاب ہم پر نازل فرما کہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر بنی اسرائیل حق پر ہوتے تو ہماری سزائیں کیوں بھگتتے یا اللہ کے عذاب ان پر کیوں اترتے؟
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ ہم پر غالب رہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ کہیں ہمارے سچے دین سے ہمیں ہٹانے کے لیے کوششیں کریں۔ اور اے پروردگار ان کافروں سے جنہوں نے حق سے انکار کر دیا ہے حق کو چھپایا لیا تو ہمیں نجات دے، ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے۔ صفحہ نمبر3756
تفسیر البغوی
«پس انہوں نے کہا: ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا»؛ یعنی اسی پر اعتماد کیا۔ پھر انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا: «اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا»؛ یعنی انہیں ہم پر غالب نہ کر اور نہ ہمیں ان کے ہاتھوں ہلاک کر، ورنہ وہ گمان کریں گے کہ ہم حق پر نہ تھے، اور اس سے ان کی سرکشی مزید بڑھ جائے گی۔ مجاہد نے کہا: ہمیں اپنی طرف سے عذاب دے کر نہ آزما، ورنہ فرعون کی قوم کہے گی: اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو عذاب نہ دیے جاتے؛ اور وہ خود کو ہم سے بہتر سمجھ کر آزمائش میں پڑ جائیں گے۔ «اور اپنی رحمت سے ہمیں کافر لوگوں سے نجات دے۔»
صحیح البخاری (حدیث نمبر 6347) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ آزمائشوں کی سختی اور دشمنوں کے غالب آجانے سے پناہ مانگتے تھے۔