رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا، وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ، وَلِيًّا، وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا.
رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راه میں اور ان ناتواں مردوں، عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لئے جہاد نہ کرو؟ جو یوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ﻇالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خود اپنے پاس سے حمایتی مقرر کر دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا۔[1]
افعال کی صورتیں: «أَخْرِجْنَا» (ہمیں نکال دے) اور «اجْعَلْ» (مقرر فرما)۔ یہ ان مظلوم اور کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی دعا ہے جو مکہ میں ظلم و جبر کے تحت تھے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کو اس کی راہ میں جنگ کرنے کی ترغیب اور ابھارنا ہے، اور یہ بتانا ہے کہ یہ کام ان پر لازم ہو چکا ہے، نیز اسے چھوڑنے پر ان پر سخت ملامت کی گئی ہے۔ چنانچہ فرمایا: «اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جنگ نہیں کرتے؟» حالاں کہ کمزور مرد، عورتیں اور بچے ہیں جو نہ کوئی تدبیر کر سکتے ہیں اور نہ راستہ پا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے دشمنوں نے ان پر بدترین ظلم کیا ہے۔
وہ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں اس بستی سے نکال دے جس کے باشندے خود کفر و شرک کے ذریعے اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں، اور اہلِ ایمان کو اذیت پہنچا کر، اللہ کے راستے سے روک کر، انہیں اپنے دین کی دعوت دینے اور ہجرت کرنے سے باز رکھ کر ان پر ظلم کرتے ہیں۔ وہ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنی طرف سے ان کے لیے کوئی سرپرست اور مددگار مقرر فرما دے جو انہیں اس بستی سے نجات دلائے جس کے باشندے ظالم ہیں۔ پس اس مقصد کے لیے تمہارا جہاد تمہارے اہل و عیال، بچوں اور محرم عورتوں کے دفاع اور حفاظت کی خاطر جنگ کرنے کے باب سے ہے، نہ کہ کافروں پر غلبہ پانے کی خواہش کے باب سے۔
اگرچہ اس جہاد میں بھی بڑی فضیلت ہے اور اس سے پیچھے رہنے والے پر سخت ملامت کی جاتی ہے، لیکن تم میں سے کمزوروں کو نجات دلانے کے لیے کیا جانے والا جہاد اجر میں بڑا اور فائدے میں زیادہ ہے، کیونکہ یہ دشمنوں کو دفع کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
شیطان کے دوستوں سے جنگ لازم ہے ٭٭ اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی راہ کے جہاد کی رغبت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ کمزور بے بس لوگ جو مکہ میں ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی ہیں جو وہاں کے قیام سے اکتا گئے ہیں جن پر کفار نت نئی مصیبتیں توڑ رہے ہیں۔ جو محض بے بال و پر ہیں انہیں آزاد کراؤ، جو بیکس دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اسی بستی یعنی مکہ سے ہمارا نکلنا ممکن ہو۔
مکہ شریف کو اس آیت میں بھی قریہ کہا گیا ہے «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِىَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» [47-محمد:13] ” بہت سی بستیاں اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس بستی سے (یعنی وہاں کے رہنے والوں نے) تمہیں نکالا “ ۔ اسی مکہ کے رہنے والے مسلمان کافروں کے ظلم کے شکایت بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی دعاؤں میں کہہ رہے ہیں کہ اے رب کسی کو اپنی طرف سے ہمارا ولی اور مددگار بنا کر ہماری امداد کو بھیج۔
صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما انہی کمزوروں میں تھے [صحیح بخاری:4587] اور روایت میں ہے کہ آپ نے «اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا» [4-النساء:98] پڑھ کر فرمایا میں اور میری والدہ صاحبہ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا۔ [صحیح بخاری:4588]
ارشاد ہے: ایماندار اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی رضا جوئی کے لیے جہاد کرتے ہیں اور کفار اطاعت شیطان میں لڑتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیئے کہ شیطان کے دوستوں سے جو اللہ کے دشمن ہیں دل کھول کر جنگ کریں اور یقین مانیں کہ شیطان کے ہتھکنڈے اور اس کے مکر و فریب سب نقش برآب ہیں۔ صفحہ نمبر1819
تفسیر البغوی
اللہ تعالیٰ کے فرمان «اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم جنگ نہیں کرتے» کا مطلب ہے: تم جہاد کیوں نہیں کرتے؟ «اللہ کی راہ میں» یعنی اللہ کی اطاعت میں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جہاد چھوڑنے پر ملامت فرما رہا ہے۔ «اور کمزوروں کے لیے» یعنی کمزوروں کی خاطر۔
ابن شہاب نے کہا: کمزوروں کو چھڑانے کے لیے، اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرکوں کے ہاتھوں سے کمزوروں کو چھڑانے کے لیے جہاد کرو۔ مکہ میں لوگوں کا ایک گروہ تھا، «مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے»، جنہیں مشرکوں کی طرف سے بہت اذیت پہنچائی جاتی تھی۔ وہ دعا کرتے اور کہتے ہیں: «اے ہمارے رب!
ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں»؛ اس سے مراد مکہ ہے۔ «ظالم» سے مراد مشرک ہے، اور «اس کے باشندے» سے مراد وہ بستی ہے جس کے باشندوں کی صفت یہ ہے کہ وہ مشرک ہیں۔ «الظالم» کو زیر اس لیے دی گئی ہے کہ وہ «الأهل» کی صفت ہے؛ پھر جب «اہل» کا تعلق بستی کی طرف لوٹایا گیا تو گویا فعل بستی ہی کی طرف منسوب ہو گیا، جیسے کہا جاتا ہے: «میں ایسے شخص کے پاس سے گزرا جس کی آنکھ خوب صورت تھی»۔ «اور اپنی طرف سے ہمارے لیے کوئی سرپرست مقرر فرما» یعنی ایسا شخص جو ہمارے معاملات کا ذمہ دار ہو۔
«اور اپنی طرف سے ہمارے لیے کوئی مددگار مقرر فرما» یعنی ایسا شخص جو دشمن کو ہم سے روکے۔ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو آپ نے عتاب بن اسید کو ان پر والی مقرر کیا، اور اللہ نے انہیں ایسا مددگار بنایا جو مظلوموں کو ظالموں سے ان کا حق دلاتا تھا۔
صحیح البخاری (حدیث نمبر 4587) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: «میں اور میری والدہ ان کمزور لوگوں میں سے تھے جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے…»