دعا 14 اخوت اور حسنِ خاتمہ 10 منٹ مطالعہ

حق سن کر ایمان کی دعا

نجاشی اور ان کے ساتھی 5:83–84
عربی متن

وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ. رَبَّنَا آمَنَّا، فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ، وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ، وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ، وَنَطْمَعُ، أَنْ يُدْخِلَنَا. رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ.

وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ المائدة 5:83–84
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Yaqooloona rabbanaa aamannaa faktubnaa ma‘a ash-shaahideen. Wa maa lanaa laa nu’minu billaahi wa maa jaa’anaa mina al-haqqi wa natma‘u an yudkhilanaa rabbunaa ma‘a al-qawmi as-saaliheen.
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اور جب وه رسول کی طرف نازل کرده (کلام) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وه کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں۔ اور ہمارے پاس کون سا عذر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو حق ہم کو پہنچا ہے اس پر ایمان نہ ﻻئیں اور ہم اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو نیک لوگوں کی رفاقت میں داخل کردے گا۔[1]

مفہوم اور خصوصیت

اس دعا میں امر کا صیغہ «اُکْتُبْنَا» ہے، یعنی «ہمیں لکھ لے»۔ یہ نیک لوگوں، مثلاً حبشہ کے حکمران نجاشی اور ان کے ساتھیوں کی دعا ہے، جو قرآن سن کر روئے اور اسلام قبول کیا۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

جب انہوں نے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والا کلام سنا تو اس نے ان کے دلوں کو متاثر کیا اور وہ اس کے سامنے خشوع اختیار کر گئے۔ جس حق کو انہوں نے یقینی طور پر پہچان لیا تھا، اسے سن کر ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ چنانچہ وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کرتے ہوئے کہنے لگے: «اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے»۔

اس سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے، جو اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی رسالت اور ان کے لائے ہوئے دین کی سچائی کی گواہی دیتی ہے، اور پہلی امتوں کے بارے میں تصدیق یا تکذیب کی گواہی دیتی ہے۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی قبول کی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیانی امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہوں»۔

گویا ان کے ایمان لانے اور اس میں جلدی کرنے پر انہیں ملامت کی گئی، تو انہوں نے کہا: «اور ہمارے لیے کیا عذر ہے کہ ہم اللہ پر اور اس حق پر ایمان نہ لائیں جو ہمارے پاس آیا ہے، جبکہ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے ساتھ داخل کرے گا؟» یعنی کون سی چیز ہمیں اللہ پر ایمان لانے سے روکتی ہے، حالانکہ ہمارے رب کی جانب سے ہمارے پاس ایسا حق آچکا ہے جس میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں؟ اور جب ہم ایمان لائیں گے اور حق کی پیروی کریں گے تو امید رکھتے ہیں کہ اللہ ہمیں صالح لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل کرے گا۔ پس کون سی چیز ہمیں روکتی ہے؟

کیا یہ بات ایمان کی طرف جلدی کرنے، اس کے آگے سر تسلیم خم کرنے اور اس سے پیچھے نہ رہنے کا تقاضا نہیں کرتی؟

امام ابن کثیر کی تفسیر

ایمان والو کی پہچان ٭٭ اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ” کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ “ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔ “ صفحہ نمبر2411 پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] یعنی ” اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں “ ۔

ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28۔ القصص:52 - 55] ۔

کہ ” یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں “ ۔

پس یہاں بھی فرمایا کہ ” وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے “ ۔ صفحہ نمبر2412

ایمان والو کی پہچان ٭٭ اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ” کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ “ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔ “ صفحہ نمبر2411 پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] یعنی ” اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں “ ۔

ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28۔ القصص:52 - 55] ۔

کہ ” یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں “ ۔

پس یہاں بھی فرمایا کہ ” وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے “ ۔ صفحہ نمبر2412

تفسیر البغوی

«اور ہمارے لیے کیا عذر ہے کہ ہم اللہ پر اور اس حق پر ایمان نہ لائیں جو ہمارے پاس آیا ہے؟» یہ اس لیے کہ یہودیوں نے انہیں طعنہ دیا اور کہا: تم ایمان کیوں لائے؟ تو انہوں نے اس کے جواب میں یہ بات کہی۔

«اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے ساتھ داخل کرے گا» یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «بے شک زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے» (الأنبياء، 105)۔

«اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر نازل کیا گیا ہے» یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر؛ «تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھیں بہہ پڑتی ہیں» یعنی آنسو جاری ہو جاتے ہیں؛ «اس حق کو پہچان لینے کی وجہ سے»۔ عطاء کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس سے مراد نجاشی اور ان کے ساتھی ہیں۔ جعفر نے حبشہ میں ان کے سامنے «كهيعص» کی تلاوت کی تو وہ اس وقت تک روتے رہے جب تک جعفر تلاوت سے فارغ نہ ہوگئے۔

«وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے» یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو» (البقرة، 143)۔

تائیدی حدیث

صحیح البخاری (حدیث نمبر 3877) میں روایت ہے کہ جب نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وفات کی خبر دی اور اس کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی۔

نشانیاں
  • #نجاشی
  • #ایمان
  • #قرآن
  • #گواہی
  • #صالحین
  • #دعا

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →