دعا 44 اخوت اور حسنِ خاتمہ 12 منٹ مطالعہ

شکر اور نیک عمل کی دعا

حضرت سلیمان علیہ السلام 27:19
عربی متن

رَبِّ أَوْزِعْنِي، أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ، وَعَلَىٰ، وَالِدَيَّ، وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ، وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ.

رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ النمل 27:19
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbi awzi‘ni an ashkura ni‘mataka allati an‘amta ‘alayya wa ‘ala walidayya wa an a‘mala salihan tardahu wa adkhilni birahmatika fi ‘ibadika as-salihin
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اس کی اس بات سے حضرت سلیمان مسکرا کر ہنس دیئے اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں[1] اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے.[2]

مفہوم اور خصوصیت

اس دعا میں امر کا صیغہ «أَوْزِعْنِي» ہے، یعنی مجھے شکر کی توفیق دے اور اس کی ترغیب میرے دل میں ڈال۔ یہ دعا نبی اور بادشاہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی بات سن کر مانگی۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

چیونٹی کی بات پر حضرت سلیمان علیہ السلام اس کی فصاحت، خیرخواہی اور عمدہ اندازِ بیان سے محظوظ ہو کر مسکرا دیے۔ انبیاء علیہم السلام کا یہی کامل ادب ہوتا ہے کہ تعجب کی جگہ پر تعجب کریں، مگر ان کی ہنسی مسکراہٹ ہی تک رہتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی بھی عموماً مسکراہٹ ہوتی تھی؛ کیونکہ قہقہہ عقل کی کمزوری اور بے ادبی کی علامت ہے، جبکہ تعجب کی بات پر نہ مسکرانا اور نہ تعجب ظاہر کرنا سخت مزاجی اور تکبر کی علامت ہے۔ انبیاء علیہم السلام ان باتوں سے پاک ہیں۔

اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے، جس نے انہیں اس مقام تک پہنچایا، انہوں نے عرض کیا: «اے میرے رب! مجھے توفیق دے» یعنی میرے دل میں یہ بات ڈال اور مجھے توفیق عطا فرما کہ «میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی»؛ کیونکہ والدین پر ہونے والی نعمت اولاد پر بھی نعمت ہوتی ہے۔ پس انہوں نے اپنے اور اپنے والدین پر اللہ کی دینی اور دنیاوی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق مانگی۔ «اور یہ کہ میں ایسا نیک عمل کروں جسے تو پسند کرے» یعنی مجھے ایسا نیک عمل کرنے کی توفیق دے جو تیرے حکم کے مطابق ہو، خالص تیری رضا کے لیے ہو، اور فساد و کمی سے محفوظ ہو۔

«اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما»—تیری رحمت میں سے جنت بھی ہے۔ رحمت نیک لوگوں کے لیے ہے، اگرچہ ان کے درجات اور مرتبے مختلف ہوں۔ یہ چیونٹی کی بات اور پکار سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی کیفیت کی ایک مثال ہے جسے اللہ نے بیان فرمایا ہے۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

داؤد اور سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ٭٭ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔ داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔

چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ [صحیح بخاری:3094] صفحہ نمبر6402 سلیمان اللہ علیہ السلام اللہ کی نعمتیں یاد کرتے ہیں فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان، جن، پرند سب تابع فرمان ہیں، پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔

یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت ہی کیا تھی۔

جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔

کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔ صفحہ نمبر6403 مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہو گئیں اور دوسروں کو دکھایا۔

آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آ گئے؟ اللہ کی قسم داؤد علیہ السلام بھی آ گئے آپ نے بھی انہیں کھڑا دیکھا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی دروازہ یا کوئی روک نہ سکے وہ جو کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔

سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ [مسند احمد:419/2:ضعیف]

سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔

صفحہ نمبر6404 جب ان لشکروں کو لے کر سلیمان علیہ السلام چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ سلیمان علیہ السلام لشکر کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان علیہ السلام کا لشکر چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔

مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔

سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ [صحیح بخاری:3019] صفحہ نمبر6405

تفسیر البغوی

اللہ تعالیٰ کے فرمان «پس وہ اس کی بات پر مسکراتے ہوئے ہنس پڑے» کے بارے میں زجاج نے کہا: انبیاء کی اکثر ہنسی مسکراہٹ ہوتی تھی۔ یہاں «ہنستے ہوئے» سے مراد مسکراتے ہوئے ہے۔ کہا گیا ہے کہ پہلے مسکرائے اور آخر میں ہنسے۔

ہمیں عبد الواحد ملیحی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں احمد بن عبد اللہ نعیمی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن یوسف نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں عمرو، یعنی ابن الحارث، نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں نضر نے سلیمان بن یسار سے حدیث بیان کی، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اس طرح بھرپور ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا اندرونی حصہ نظر آ جائے؛ آپ تو بس مسکرایا کرتے تھے۔

ہمیں عبد اللہ بن عبد الصمد جوزجانی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو القاسم خزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ہیثم بن کلیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن لہیعہ نے عبد اللہ بن مغیرہ سے، انہوں نے عبد اللہ بن حارث بن جزء سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو زیادہ مسکراتے نہیں دیکھا۔ مقاتل نے کہا: چیونٹی کی بات پر حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہنسنا تعجب کی وجہ سے تھا؛ کیونکہ انسان جب کوئی ایسی چیز دیکھتا ہے جس سے وہ پہلے واقف نہ ہو تو تعجب کرتا اور ہنستا ہے۔

پھر سلیمان علیہ السلام نے اپنے رب کی ان نعمتوں پر حمد کی جو اس نے انہیں عطا کی تھیں۔

«اور عرض کیا: اے میرے رب! مجھے توفیق دے» یعنی میرے دل میں ڈال «کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی، اور ایسا نیک عمل کروں جسے تو پسند کرے، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔» یعنی مجھے ان کے زمرے میں شامل کر، میرا نام ان کے ناموں کے ساتھ درج فرما اور مجھے ان کے گروہ میں اٹھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس سے مراد حضرت ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب علیہم السلام اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کے ساتھ ہونا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کرتے ہوئے جنت میں داخل فرما۔

تائیدی حدیث

صحیح مسلم (حدیث نمبر 2734) میں شکر (شکر) کی عظمت اور اس کے بدلے میں نیکیوں کے بڑھائے جانے کے بارے میں روایت ہے۔

نشانیاں
  • #شکر
  • #اللہ کی نعمتیں
  • #نیک اعمال
  • #حضرت سلیمان
  • #والدین
  • #اللہ کی رحمت

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →