رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي.
رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
پھر دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! میں نے خود اپنے اوپر ﻇلم کیا، تو مجھے معاف فرما دے[1] ، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا، وه بخشش اور بہت مہربانی کرنے واﻻ ہے.
اس دعا میں فوری توبہ کا اظہار ہے: «میں نے اپنی جان پر ظلم کیا» (ظَلَمْتُ نَفْسِي)، اور «پس مجھے بخش دے» (فَاغْفِرْ لِي) کی درخواست ہے۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی اس قبطی کے قتل کے بعد کی دعا ہے جو غیر ارادی طور پر واقع ہوا تھا۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
پھر انہوں نے اپنے رب سے بخشش طلب کی اور کہا: «اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے۔» چنانچہ اللہ نے انہیں بخش دیا۔ بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو عاجزی اختیار کرتے اور رجوع و توبہ میں جلدی کرتے ہیں، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام سے صادر ہوا۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
گھونسے سے موت ٭٭ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا “ ۔ یعنی نبوت دی۔ ” نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں “ ، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کا رخ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔
آپ علیہ السلام ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑرہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر آپ علیہ السلام کو غصہ آ گیا اور ایک گھونسہ اسے کھینچ مارا جس سے وہ اسی وقت مرگیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان دشمن اور گمراہ ہے اور اس کا دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہونا بھی ظاہر ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔ اللہ نے بھی بخش دیا وہ بخشنے والا مہربان ہی ہے۔ اب کہنے لگے ” اے اللہ تو نے جو جاہ وعزت بزرگی اور نعمت مجھے عطا فرمائی ہے میں اسے سامنے رکھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی نافرمان کی کسی امر میں موافقت اور امداد نہیں کرونگا۔ “ صفحہ نمبر6546
تفسیر البغوی
«انہوں نے کہا: اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا»؛ یعنی قبطی کو کسی حکم کے بغیر قتل کر کے۔ «پس مجھے بخش دے۔» چنانچہ اللہ نے انہیں بخش دیا۔ بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
صحیح البخاری (حدیث نمبر 7507) میں حدیثِ قدسی روایت کی گئی ہے: «ایک بندے نے گناہ کیا اور کہا: اے میرے رب! مجھے بخش دے۔ اللہ نے فرمایا: میرے بندے کو معلوم تھا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہوں کو بخش دیتا ہے۔۔۔ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا!»