دعا 09 توبہ اور مغفرت 5 منٹ مطالعہ

ایمان کے وسیلے سے مغفرت

ایمان والے دعا کرنے والے 3:16
عربی متن

رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا، فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.

رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ آل عمران 3:16
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbanā innanā āmannā faghfir lanā dhunūbanā waqinā ‘adhāban-nār
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اے ہمارے رب! ہم ایمان ﻻ چکے، پس ہمارے گناه معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

مفہوم اور خصوصیت

فعل «اغْفِرْ» اور «قِنَا» ہیں۔ یہ گناہوں کی بخشش کی دعا ہے، جس میں اپنے ایمان کو وسیلہ بنایا گیا ہے۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

«اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لے آئے ہیں، پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔» انہوں نے ایمان کی توفیق دے کر اپنے اوپر کیے ہوئے اللہ کے احسان کو وسیلہ بنایا کہ وہ ان کے گناہ بخش دے اور ان کے گناہوں کے برے انجام، یعنی آگ کے عذاب سے انہیں محفوظ رکھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے متقی لوگوں کے اوصاف تفصیل سے بیان فرمائے۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

متقیوں کا تعارف ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے پروردگار ہم تجھ پر اور تیری کتاب پر اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، ہمارے اس ایمان کے باعث جو تیری ذات اور تیری شریعت پر ہے تو ہمارے گناہوں کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے نجات دے، یہ متقی لوگ اللہ کی اطاعت بجا لاتے ہیں اور حرام چیزوں سے الگ رہتے ہیں، صبر کے سہارے کام لیتے ہیں اور اپنے ایمان کے دعوے میں بھی سچے ہیں۔

کل اچھے اعمال بجا لاتے ہیں خواہ وہ ان کے نفس کو کتنے بھاری پڑیں، اطاعت اور خشوع خضوع والے ہیں، اپنے مال اللہ کی راہ میں جہاں جہاں حکم ہے خرچ کرتے ہیں، صلہ رحمی میں رشتہ داری کا پاس رکھنے میں برائیوں کے روکنے آپس میں ہمدردی اور خیر خواہی کرنے میں حاجت مندوں، مسکینوں اور فقیروں کے ساتھ احسان کرنے میں سخاوت سے کام لیتے ہیں اور سحری کے وقت پچھلی رات کو اٹھ اٹھ کر استغفار کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت استغفار افضل ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں یعقوب نے اپنے بیٹوں سے یہی فرمایا تھا کہ «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ» [12-يوسف:98] میں ابھی تھوڑی دیر میں تمہارے لیے اپنے رب سے بخشش طلب کروں گا، اس سے مراد بھی سحری کا وقت ہے، اپنی اولاد سے فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت میں تمہارے لیے استغفار کروں گا۔ صفحہ نمبر1036 بخاری و مسلم وغیرہ کی حدیث میں جو بہت سے صحابیوں سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات آخری تہائی باقی رہتے ہوئے آسمان دنیا پر اترتا ہے اور فرماتا ہے کہ کوئی سائل ہے؟

جسے میں دوں، کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے کہ میں اسے بخشوں؟ [صحیح بخاری:1145]

حافظ ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ نے تو اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور اس میں حدیث کی تمام سندوں کو اور اس کے کل الفاظ کو وارد کیا ہے۔ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اول رات درمیانی اور آخری رات میں وتر پڑھے ہیں، سب سے آخری وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کا سحری تک تھا۔ [صحیح بخاری:996]

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو تہجد پڑھتے رہتے اور اپنے غلام نافع سے پوچھتے کیا سحر ہو گئی، جب وہ کہتے ہاں تو آپ صبح صادق کے نکلنے کی دعا استغفار میں مشغول رہتے، [تفسیر ابن ابی حاتم:2/145]

سیدنا حاطب رحمہ اللہ فرماتے ہیں سحری کے وقت میں نے سنا کہ کوئی شخص مسجد کے کسی گوشہ میں کہہ رہا ہے اے اللہ تو نے مجھے حکم کیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے مجھے بخش دے، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں حکم کیا جاتا تھا کہ ہم جب تہجد کی نماز پڑھیں تو سحری کے آخری وقت ستر مرتبہ استغفار کریں اللہ سے بخشش کی دعا کریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6754] صفحہ نمبر1037

تفسیر البغوی

«جو کہتے ہیں» — اگر چاہو تو «الَّذِينَ» کو زیر والی حالت میں رکھو، جو «لِلَّذِينَ اتَّقَوْا» پر عطف ہوگا؛ اور اگر چاہو تو اسے مبتدا ہونے کی وجہ سے پیش والی حالت میں رکھو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسے زبر والی حالت میں رکھا جائے، اور تقدیر یہ ہو: «میری مراد وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں»۔ «اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لے آئے ہیں» یعنی ہم نے تصدیق کی۔

«پس ہمارے گناہ بخش دے» یعنی انہیں ہم سے ڈھانپ لے اور ہم سے درگزر فرما۔ «اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا»۔

تائیدی حدیث

صحیح البخاری (حدیث: 1145) میں رات کے آخری تہائی حصے میں بخشش طلب کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے، جب ربّ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے۔

نشانیاں
  • #ایمان
  • #مغفرت
  • #گناہ
  • #جہنم کا عذاب
  • #دعا
  • #تقویٰ

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →