دعا 11 توبہ اور مغفرت 11 منٹ مطالعہ

مغفرت اور ثابت قدمی کی دعا

انبیاء کے نیک ساتھی 3:147
عربی متن

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا، وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا، وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا، وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ.

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ آل عمران 3:147
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbanā ighfir lanā dhunūbanā wa isrāfanā fī amrinā wa thabbit aqdāmanā wanṣurnā ʿalā al-qawmi al-kāfirīn
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہم سے ہمارے کاموں میں جو بے جا زیادتی ہوئی ہے اسے بھی معاف فرما، ہمیں ﺛابت قدمی عطا فرما اور کافروں کی قوم پر ہماری مدد فرما۔

مفہوم اور خصوصیت

صیغے: «اغْفِرْ» (اغفر)، «ثَبِّتْ» (ثبت) اور «انْصُرْ» (انصر)۔ یہ انبیاء کے نیک ساتھیوں (رِبِّيُّون) کی جنگوں کے دوران کی جانے والی دعا ہے۔ اس میں فتح کی درخواست سے پہلے اپنے گناہوں اور حد سے بڑھنے کا اعتراف شامل ہے۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بات اور اپنے رب سے مدد طلب کرنے کا ذکر فرمایا: «اور ان کی بات اس کے سوا کچھ نہ تھی» یعنی ان سخت مواقع پر وہ یہی کہتے تھے: «اے ہمارے رب! ہمارے گناہ اور اپنے معاملے میں ہماری حد سے بڑھی ہوئی زیادتی معاف فرما»۔ حد سے بڑھنا یہ ہے کہ حرام کاموں میں حد سے تجاوز کیا جائے۔ انہیں معلوم تھا کہ گناہ اور حد سے بڑھنا شکست کے سب سے بڑے اسباب میں سے ہیں، اور ان سے دست بردار ہونا فتح کے اسباب میں سے ہے، اس لیے انہوں نے اپنے رب سے ان کی مغفرت طلب کی۔

پھر انہوں نے صبر کے لیے اپنی کوشش پر بھروسا نہیں کیا، بلکہ اللہ پر اعتماد کیا اور اس سے دعا کی کہ کافر دشمنوں سے مقابلے کے وقت ان کے قدم جما دے اور ان کے مقابلے میں انہیں فتح عطا فرمائے۔ چنانچہ انہوں نے صبر، اس کی ضد کو چھوڑنے، توبہ و استغفار اور اپنے رب سے مدد طلب کرنے کو یکجا کر لیا۔ یقیناً اللہ نے ان کی مدد فرمائی اور دنیا و آخرت میں انجام ان کے حق میں کر دیا۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد ٭٭ میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بے اصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔

اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ قدرے زخمی ہو گیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کر دیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء علیہم السلہم کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کر دیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا

ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنا کام کر گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہو جاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری۔

[دلائل النبوۃ للبیهقی:248/3] صفحہ نمبر1308 پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں مضبوط ہو جائیں خواہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوں یا نہ ہوں،

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے عائشہ کے گھر پر آئے یہاں حضور علیہ السلام پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونہ چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آ چکی۔

اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہو جاؤ۔ صفحہ نمبر1309 انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔

پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے صلی اللہ علیہ وسلم صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، [صحیح بخاری:4454-4453]

سیدنا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر۔ اللہ کی قسم اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر آپ شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہو گا۔

[مستدرک حاکم:126/3:ضعیف] صفحہ نمبر1310 پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کر کے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے «ووَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ» [35-فاطر:11] نہ کوئی عمر بڑھائی جاتی ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا» [6-الأنعام:2] ، ” جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی “ اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ جوانمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔

موت تو اپنے وقت پر آ کر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ صفحہ نمبر1311 حجر بن عدی رضی اللہ عنہ جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آ جاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہو جاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بے اجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہو جاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔

وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چنانچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔

صفحہ نمبر1312 پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلب ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا «مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ» [42-الشورى:20] ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں

اور جگہ ہے «مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء: 19-18] جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ اس میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا بدلہ دے دیتے ہیں۔

صفحہ نمبر1313 احد کے مجاہدین کو خطاب ٭٭ پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی،

ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کر سکی پھر تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہو گئے «ربیون» کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ [تفسیر ابن جریر الطبری:266/7] ۔

پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔ صفحہ نمبر1314

تفسیر البغوی

اللہ تعالیٰ کا فرمان «اور ان کی بات» نحوی طور پر «كان» کی خبر کے طور پر منصوب ہے، جبکہ اس کا اسم «أن قالوا» ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے نبی کے قتل کیے جانے کے وقت ان کی بات اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انہوں نے کہا: «اے ہمارے رب! ہمارے گناہ معاف فرما» یعنی چھوٹے گناہ، «اور اپنے معاملے میں ہماری حد سے بڑھی ہوئی زیادتی بھی» یعنی بڑے گناہ، «اور ہمارے قدم جما دے» تاکہ وہ ڈگمگائیں نہیں، «اور کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما»۔ گویا فرمایا: اے محمد کے ساتھیو! تم نے بھی ایسا کیوں نہ کیا اور یہی دعا کیوں نہ کی؟

تائیدی حدیث

صحیح البخاری (نمبر 2824) میں جنگ کے دوران ثابت قدم رہنے اور سخت آزمائشوں کے وقت اخلاص کے ساتھ اللہ سے دعا کرنے کی فضیلت کے بارے میں روایت ہے۔

نشانیاں
  • #مغفرت
  • #گناہوں کا اعتراف
  • #ثابت قدمی
  • #اللہ کی مدد
  • #جہاد
  • #صبر

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →