دعا 07 توبہ اور مغفرت 37 منٹ مطالعہ

سورۂ بقرہ کی آخری دعائیں

رسول اللہ ﷺ اور اہلِ ایمان 2:285–286
عربی متن

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ، وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ، وَقَالُوا سَمِعْنَا، وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ. رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ، وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ. رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا، إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا. رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا. رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ، وَاعْفُ عَنَّا، وَاغْفِرْ لَنَا، وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا، فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ.

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ البقرة 2:285–286
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Ghufraanaka Rabbanaa wa ilaykal-maseer. Laa yukallifullaahu nafsan illaa wus'ahaa, lahaa maa kasabat wa 'alayhaa maktasabat. Rabbanaa laa tu'aakhidhnaa in naseenaa aw akhta'naa. Rabbanaa wa laa tahmil 'alaynaa isran kamaa hamaltahoo 'alal-ladheena min qablinaa. Rabbanaa wa laa tuhammilnaa maa laa taaqata lanaa bih. Wa'fu 'annaa, waghfir lanaa, warhamnaa. Anta mawlaanaa fansurnaa 'alal-qawmil-kaafireen.
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے، اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔

مفہوم اور خصوصیت

اس دعا میں مصدرِ قائم مقام «غُفْرَانَكَ» (ہم تیری مغفرت طلب کرتے ہیں) کے بعد نہی کے صیغے «لَا تُؤَاخِذْنَا» اور دعا کے الفاظ «وَاعْفُ عَنَّا» آتے ہیں۔ یہ سورۂ بقرہ کی دو عظیم اختتامی آیات ہیں۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: «اور اگر تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا» تو یہ بات مسلمانوں پر بھاری گزری، کیونکہ انہیں گمان ہوا کہ دل میں پیدا ہونے والے پختہ اور عارضی خیالات وغیرہ پر بھی ان کا مؤاخذہ ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انہیں بتایا کہ وہ کسی جان کو اس کی وسعت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتا، یعنی ایسا کام نہیں دیتا جس کی طاقت اس میں نہ ہو اور جو اس کے لیے دشوار ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی»۔

احکام اور ممانعتوں کی اصل ایسی چیزوں میں سے نہیں جو جانوں پر دشوار ہوں، بلکہ وہ روحوں کی غذا، جسموں کی دوا اور نقصان سے بچاؤ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جن باتوں کا حکم دیا ہے، وہ رحمت اور احسان کے طور پر دیا ہے۔ اس کے ساتھ، جب ایسی کوئی عذر والی حالت پیش آجائے جس میں مشقت کا اندیشہ ہو تو تخفیف اور آسانی عطا ہوتی ہے، خواہ مکلف سے حکم بالکل ساقط کردیا جائے یا اس کا کچھ حصہ ساقط ہو؛ جیسے بیمار، مسافر اور دیگر لوگوں کے لیے آسانی کی گئی ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ہر جان کے لیے وہ نیکی ہے جو اس نے کمائی، اور اسی کے ذمے وہ برائی ہے جو اس نے کمائی؛ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور بندے کی نیکیاں کسی دوسرے کے پاس نہیں چلی جائیں گی۔ بھلائی کے لیے «کَسَبَ» کا لفظ لانے میں یہ اشارہ ہے کہ انسان کو نیکی معمولی سی کوشش سے بھی حاصل ہوجاتی ہے، بلکہ محض دل کی نیت سے بھی؛ جبکہ برائی کے عمل کے لیے «اِکْتَسَبَ» کا لفظ لانے میں یہ اشارہ ہے کہ برائی انسان کے نامۂ اعمال میں اس وقت تک نہیں لکھی جاتی جب تک وہ اسے انجام نہ دے اور اس کے لیے کوشش نہ کرے۔

جب اللہ تعالیٰ نے رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کے ایمان کا ذکر فرمایا، اور بتایا کہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا، جبکہ انسان سے کوتاہی، غلطی اور بھول سرزد ہوسکتی ہے؛ نیز یہ بھی بتایا کہ وہ ہمیں صرف اسی چیز کا مکلف کرتا ہے جس کی ہم طاقت رکھتے ہیں اور جسے ہماری قوت برداشت کرسکتی ہے، تو اس نے اہلِ ایمان کی اس بارے میں دعا کا ذکر فرمایا۔ نبی ﷺ نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کے جواب میں فرمایا: «میں نے قبول کرلیا»۔ چنانچہ مومن کہتے ہیں: «اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کریں تو ہمارا مؤاخذہ نہ فرما»۔

بھول اور خطا میں فرق یہ ہے کہ بھول دل سے اس بات کا غائب ہوجانا ہے جس کا حکم دیا گیا ہو، جس کے نتیجے میں آدمی اسے بھول کر چھوڑ دے۔ اور خطا یہ ہے کہ آدمی کسی ایسے کام کا ارادہ کرے جس کا ارادہ کرنا جائز ہو، مگر اس کا فعل ایسی صورت میں واقع ہوجائے جو اس کے لیے جائز نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت سے ان دونوں صورتوں میں ہونے والے گناہ کو اپنی رحمت اور احسان کے سبب معاف کردیا ہے۔

چنانچہ جو شخص غصب کیے ہوئے یا ناپاک کپڑے میں نماز پڑھے، یا اپنے بدن پر لگی نجاست بھول جائے، یا نماز میں بھول کر بات کرلے، یا بھول کر روزہ توڑنے والا کوئی کام کرلے، یا احرام کی ایسی ممنوعات میں سے کوئی کام بھول کر کرے جس میں کسی چیز کو تلف کرنا شامل نہ ہو، تو اسے معاف کردیا جائے گا۔ اسی طرح قسم کھانے کے بعد بھول کر وہ کام کرلے جس سے بچنے کی قسم کھائی تھی تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ اور اگر اس سے غلطی سے کسی جان یا مال کو نقصان پہنچ جائے تو اس پر گناہ نہیں، البتہ محض نقصان پہنچانے کی بنا پر ضمان لازم ہوگا۔ اسی طرح جہاں تسمیہ لازم ہو، وہاں آدمی اگر اسے بھول کر چھوڑ دے تو اس سے نقصان نہیں ہوگا۔

«اے ہمارے رب! ہم پر کوئی بوجھ نہ ڈال» یعنی دشوار ذمہ داریاں نہ ڈال، «جیسے تو نے اسے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا»۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا؛ اس نے اس امت کے لیے طہارت کے احکام اور عبادات کی کیفیت میں وہ تخفیف فرمائی جو دوسروں کے لیے نہیں فرمائی تھی۔ «اے ہمارے رب!

ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو»؛ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا، اور اسی کے لیے حمد ہے۔

«اور ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما»۔ درگزر اور مغفرت سے تکلیف دہ امور اور برائیاں دور ہوتی ہیں، جبکہ رحمت سے معاملات درست ہوتے ہیں۔ «تو ہی ہمارا مولیٰ ہے» یعنی تو ہمارا رب، ہمارا مالک اور ہمارا معبود ہے۔ جب سے تو نے ہمیں وجود بخشا اور پیدا کیا، تیری ولایت ہمیشہ ہمارے شاملِ حال رہی ہے؛ ہر وقت تیری نعمتیں ہم پر مسلسل برس رہی ہیں۔

پھر تو نے ہمیں ایک عظیم نعمت اور بڑی بخشش سے نوازا، یعنی اسلام کی نعمت سے، جس کے تابع تمام دوسری نعمتیں ہیں۔ پس اے ہمارے رب اور مولیٰ! ہم تجھ سے اپنی نعمت کی تکمیل مانگتے ہیں کہ کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما؛ ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے تیرا اور تیرے رسولوں کا انکار کیا، تیرے دین والوں کی مخالفت کی اور تیرے حکم کو پسِ پشت ڈال دیا۔ دلیل و بیان اور تلوار و نیزے کے ذریعے ہماری مدد فرما؛ اس طرح کہ زمین میں ہمیں اقتدار دے، انہیں بے یارومددگار کردے، اور ہمیں ایسا ایمان اور اعمال عطا فرما جن کے ذریعے فتح حاصل ہوتی ہے۔

تمام جہانوں کے رب اللہ ہی کے لیے حمد ہے۔ اللہ کی مدد اور توفیق سے سورۂ بقرہ کی تفسیر مکمل ہوئی۔ اور اللہ محمد ﷺ پر رحمت اور سلام نازل فرمائے۔

اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کے ایمان، ان کی فرمانبرداری اور اطاعت، اور اس کے ساتھ مغفرت طلب کرنے کا ذکر فرماتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کی اپنی خبر اور اس کے رسولوں کی دی ہوئی خبر پر ایمان لانا شامل ہے: اس کی کمال کی صفات اور جلال کے اوصاف پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان، اور اسے تشبیہ، صفات کی نفی اور ہر قسم کی صفتِ نقص سے پاک ماننا۔

اس میں ان فرشتوں پر ایمان بھی شامل ہے جن کا شریعتوں میں اجمالاً یا تفصیلاً ذکر آیا ہے، اور تمام رسولوں اور کتابوں پر ایمان بھی؛ یعنی رسولوں کی بتائی ہوئی ہر خبر اور کتابوں کے مضامین میں شامل احکام، ممانعتوں اور خبروں پر ایمان۔ وہ رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، بلکہ سب پر ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطے ہیں۔ پس کسی ایک رسول کا انکار سب رسولوں، بلکہ اللہ کا انکار ہے۔

«اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا» یعنی وہ بات جو تو نے ہمیں حکم دی اور جس سے منع کیا؛ «اور ہم نے اطاعت کی» یعنی ہم نے اس معاملے میں تیری فرمانبرداری کی۔ وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جنہوں نے کہا: «ہم نے سنا اور نافرمانی کی»۔ بندے سے اللہ تعالیٰ کے حقوق میں کوتاہی لازماً ہوجاتی ہے اور وہ ہر وقت اس کی مغفرت کا محتاج رہتا ہے، اسی لیے انہوں نے کہا: «ہم تیری مغفرت طلب کرتے ہیں» یعنی ہم اپنے سے صادر ہونے والی کوتاہیوں اور گناہوں کی مغفرت اور ان عیبوں کو مٹانے کی درخواست کرتے ہیں جن سے ہم متصف ہوگئے ہیں۔ «اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے» یعنی تمام مخلوق کا لوٹنا تیری طرف ہے، پھر تو انہیں ان کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

بقرہ کی آخری آیات اور ان کی فضیلت ٭٭ ان دونوں آیتوں کی حدیثیں سنیے، صحیح بخاری میں ہے جو شخص ان دونوں آیتوں کو رات کو پڑھ لے اسے یہ دونوں کافی ہیں۔ [صحیح بخاری:5009:صحیح] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں عرش تلے کے خزانہ سے دیا گیا ہوں مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہیں دی گئیں۔

[مسند احمد:151/5:صحیح] صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی اور آپ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان میں ہے، جو چیز آسمان کی طرف چڑھتی ہے وہ یہیں تک ہی پہنچتی ہے اور یہاں سے ہی لے جائی جاتی ہے اور جو چیز اوپر سے نازل ہوتی ہے وہ بھی یہیں تک پہنچتی ہے، پھر یہاں سے آگے لے جائی جاتی ہے اور اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھکے ہوئے تھیں، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں دی گئیں۔ پانچ وقت کی نمازیں، سورۃ البقرہ کے خاتمہ کی آیتیں اور توحید والوں کے تمام گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:173:صحیح]

مسند میں ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ البقرہ کی ان دونوں آخری آیتوں کو پڑھتے رہا کرو، میں انہیں عرش کے نیچے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں، [مسند احمد:147/4:صحیح لغیرہ] ابن مردویہ میں ہے کہ ہمیں لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں، میں سورۃ البقرہ کی یہ آخری آیتیں عرش تلے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں جو نہ میرے پہلے کسی کو دی گئیں نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی، [مسند احمد:383/5:صحیح] ابن مردویہ میں ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نہیں جانتا کہ اسلام کے جاننے والوں میں سے کوئی شخص آیت الکرسی اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں پڑھے بغیر سو جائے،

یہ وہ خزانہ ہے جو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرش تلے کے خزانہ سے دئیے گئے ہیں، [ابن الضریس فی فضائل القرآن:169:موقوف]

اور حدیث ترمذی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے دو ہزار برس پہلے تک ایک کتاب لکھی جس میں سے دو آیتیں اتار کر سورۃ البقرہ ختم کی، جس گھر میں یہ تین راتوں تک پڑھی جائیں اس گھر کے قریب بھی شیطان نہیں جا سکتا۔ [سنن ترمذي:2882، قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں لیکن حاکم اپنی مستدرک میں اسے صحیح کہتے ہیں۔

صفحہ نمبر997 ابن مردویہ میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ البقرہ کا خاتمہ اور آیت الکرسی پڑھتے تو ہنس دیتے اور فرماتے یہ دونوں رحمٰن کے عرش تلے کا خزانہ ہیں اور جب «مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا» [4-النساء:123] اور آیت «وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» [ 53-النجم: 39-41 ] پڑھتے تو زبان سے «اناللہ» نکل جاتا اور سست ہو جاتے، [الدر المنثور للسیوطی:7/2:ضعیف] ابن مردویہ میں ہے کہ مجھے سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کی آخری آیتیں عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں، اور مزید مفصل کی سورتیں بھی وہاں سے ہی دی گئی ہیں۔ [مستدرک حاکم:568/1:ضعیف]

ایک اور حدیث میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جہاں جبرائیل علیہ السلام بھی تھے کہ اچانک ایک دہشت ناک بہت بڑے دھماکے کی آواز کے ساتھ آسمان کا وہ دروازہ کھلا جو آج تک کبھی نہیں کھلا تھا، اس سے ایک فرشتہ اترا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی مبارک ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دو نور دئیے جاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دئیے گئے سورۃ فاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں۔ ان کے ایک ایک حرف پر آپ کو نور دیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:805:صحیح] پس یہ دس حدیثیں ان مبارک آیتوں کی فضیلت ہیں۔

صفحہ نمبر998 مطلب آیت کا یہ ہے کہ رسول یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ایمان لائے جو ان کی طرف سے ان کے رب کی جانب سے نازل ہوا، اسے سن کر آپ نے فرمایا وہ ایمان لانے کا پورا مستحق ہے، [مستدرک حاکم:287/2:منقطع و ضعیف] اور دوسرے ایماندار بھی ایمان لائے، ان سب نے مان لیا کہ اللہ ایک ہے، وہ وحدانیت کا مالک ہے، وہ تنہا ہے، وہ بے نیاز ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنے والا ہے، یہ [ ایمان والے ] تمام انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں، تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں، آسمانی کتابوں کو انبیاء کرام پر جو اتری ہیں سچی جانتے ہیں۔

وہ نبیوں میں فرق نہیں سمجھتے کہ ایک کو مانیں دوسرے کو نہ مانیں بلکہ سب کو سچا جانتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ وہ پاکباز طبقہ رشد و ہدایت والا اور لوگوں کی خیر کی طرف رہبری کرنے والا ہے، گو بعض احکام ہر نبی کے زمانہ میں تبدیل ہوتے رہے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سب کی ناسخ ٹھہری،

خاتم الانبیاء و مرسلین آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت باقی رہے گی اور ایک جماعت اس کی اتباع بھی کرتی رہے گی۔ انہوں نے اقرار بھی کیا کہ ہم نے اللہ کا کلام سنا اور احکام الٰہی ہمیں تسلیم ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے رب ہمیں مغفرت رحمت اور لطف عنایت فرما، تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے یعنی حساب والے دِن۔

صفحہ نمبر999 حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعدار امت کے یہاں ثناء و صفت بیان ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر دعا کیجئے قبول کی جائے گی، مانگیے کہ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6498:مرسل و ضعیف] پھر فرمایا اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا یہ اس کا لطف و کرم اور احسان و انعام ہے۔ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کو جو کھٹکا ہوا تھا اور ان پر جو یہ فرمان گراں گزرا تھا کہ دِل کے خطرات پر بھی حساب لیا جائے گا وہ دھڑکا اس آیت سے اُٹھ گیا۔

مطلب یہ کہ گو حساب ہو، سوال ہو لیکن جو چیز طاقت سے باہر ہے اس پر عذاب نہیں کیونکہ دِل میں کسی خیال کا دفعتاً آ جانا روکے رُک نہیں سکتا بلکہ حدیث سے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ ایسے وسوسوں کو برا جاننا دلیل ایمان ہے، بلکہ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی، اعمال صالحہ کرو گے جزا پاؤ گے، برے اعمال کرو گے تو سزا بھگتو گے۔

صفحہ نمبر1000 پھر دعا کی تعلیم دی اور اس کی قبولیت کا وعدہ فرمایا، کہ اے اللہ بھولے چوکے جو احکام ہم سے چھوٹ گئے ہوں یا جو برے کام ہو گئے ہوں یا شرعی احکام میں غلطی کر کے جو خلاف شرع کام ہم سے ہوئے ہوں وہ معاف فرما، پہلے صحیح مسلم کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے کہ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں نے اسے قبول فرما لیا، [صحیح مسلم:125:صحیح] میں نے یہی کیا اور حدیث میں بھی آ چکا کہ میری امت کی بھول چوک معاف ہے اور جو کام زبردستی کرائے جائیں وہ بھی معاف ہیں۔ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح]

اے اللہ عز و جل ہم پر مشکل اور سخت اعمال کی مشقت نہ ڈال جیسے اگلے دین والوں پر سخت سخت احکام تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی رحمت بنا کر بھیج کر دور کیے گئے اور آپ کو ہر طرح سہولت اور آسانی دی گئی اسے بھی پروردگار نے قبول فرمایا، حدیث میں بھی ہے کہ میں یکسوئی والا اور آسان دین دے کر بھیجا گیا ہوں۔ [خطیب:209/7:صحیح بالشواھد]

اے اللہ تکلیفیں بلائیں اور مشقتیں ہم پر نہ ڈال جن کی برداشت کی طاقت ہم میں نہ ہو، حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فریب اور غلبہ شہوت ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1235/3] اس کے جواب میں بھی قبولیت کا اعلان رب عالم کی طرف سے کیا گیا۔ اور ہماری تقصیروں کو معاف فرما جو تیری نافرمانی کا کوئی کام نہ ہو، اس لیے بزرگوں کا قول ہے کہ گنہگار کو تین باتوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو اللہ کی معافی تاکہ عذاب سے نجات پائے، دوسرے پردہ پوشی تاکہ رسوائی سے بچے، تیسرے عصمت کی تاکہ دوسری بار گناہ میں مبتلا نہ ہو، اس پر بھی جناب باری نے قبولیت کا اعلان کیا۔

تو ہمارا ولی و ناصر ہے، تجھی پر ہمارا بھروسہ ہے، تجھی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں، تو ہی ہمارا سہارا ہے، تیری مدد کے سوا نہ تو ہم کسی نفع کے حاصل کرنے پر قادر ہیں نہ کسی برائی سے بچ سکتے ہیں، تو ہماری ان لوگوں پر مدد فرما جو تیرے دین کے منکر ہیں تیری وحدانیت کو نہیں مانتے، تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم نہیں کرتے، تیرے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، مشرک ہیں۔

اے اللہ تو ہمیں ان پر غالب کر دینا اور دین میں ہم ہی ان پر فاتح رہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں بھی فرمایا ہاں میں نے یہ بھی دعا قبول فرمائی۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما جب اس آیت کو ختم کرتے آمین کہتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:146/6] صفحہ نمبر1001

بقرہ کی آخری آیات اور ان کی فضیلت ٭٭ ان دونوں آیتوں کی حدیثیں سنیے، صحیح بخاری میں ہے جو شخص ان دونوں آیتوں کو رات کو پڑھ لے اسے یہ دونوں کافی ہیں۔ [صحیح بخاری:5009:صحیح] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں عرش تلے کے خزانہ سے دیا گیا ہوں مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہیں دی گئیں۔

[مسند احمد:151/5:صحیح] صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی اور آپ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان میں ہے، جو چیز آسمان کی طرف چڑھتی ہے وہ یہیں تک ہی پہنچتی ہے اور یہاں سے ہی لے جائی جاتی ہے اور جو چیز اوپر سے نازل ہوتی ہے وہ بھی یہیں تک پہنچتی ہے، پھر یہاں سے آگے لے جائی جاتی ہے اور اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھکے ہوئے تھیں، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں دی گئیں۔ پانچ وقت کی نمازیں، سورۃ البقرہ کے خاتمہ کی آیتیں اور توحید والوں کے تمام گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:173:صحیح]

مسند میں ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ البقرہ کی ان دونوں آخری آیتوں کو پڑھتے رہا کرو، میں انہیں عرش کے نیچے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں، [مسند احمد:147/4:صحیح لغیرہ] ابن مردویہ میں ہے کہ ہمیں لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں، میں سورۃ البقرہ کی یہ آخری آیتیں عرش تلے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں جو نہ میرے پہلے کسی کو دی گئیں نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی، [مسند احمد:383/5:صحیح] ابن مردویہ میں ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نہیں جانتا کہ اسلام کے جاننے والوں میں سے کوئی شخص آیت الکرسی اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں پڑھے بغیر سو جائے،

یہ وہ خزانہ ہے جو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرش تلے کے خزانہ سے دئیے گئے ہیں، [ابن الضریس فی فضائل القرآن:169:موقوف]

اور حدیث ترمذی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے دو ہزار برس پہلے تک ایک کتاب لکھی جس میں سے دو آیتیں اتار کر سورۃ البقرہ ختم کی، جس گھر میں یہ تین راتوں تک پڑھی جائیں اس گھر کے قریب بھی شیطان نہیں جا سکتا۔ [سنن ترمذي:2882، قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں لیکن حاکم اپنی مستدرک میں اسے صحیح کہتے ہیں۔

صفحہ نمبر997 ابن مردویہ میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ البقرہ کا خاتمہ اور آیت الکرسی پڑھتے تو ہنس دیتے اور فرماتے یہ دونوں رحمٰن کے عرش تلے کا خزانہ ہیں اور جب «مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا» [4-النساء:123] اور آیت «وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» [ 53-النجم: 39-41 ] پڑھتے تو زبان سے «اناللہ» نکل جاتا اور سست ہو جاتے، [الدر المنثور للسیوطی:7/2:ضعیف] ابن مردویہ میں ہے کہ مجھے سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کی آخری آیتیں عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں، اور مزید مفصل کی سورتیں بھی وہاں سے ہی دی گئی ہیں۔ [مستدرک حاکم:568/1:ضعیف]

ایک اور حدیث میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جہاں جبرائیل علیہ السلام بھی تھے کہ اچانک ایک دہشت ناک بہت بڑے دھماکے کی آواز کے ساتھ آسمان کا وہ دروازہ کھلا جو آج تک کبھی نہیں کھلا تھا، اس سے ایک فرشتہ اترا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی مبارک ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دو نور دئیے جاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دئیے گئے سورۃ فاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں۔ ان کے ایک ایک حرف پر آپ کو نور دیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:805:صحیح] پس یہ دس حدیثیں ان مبارک آیتوں کی فضیلت ہیں۔

صفحہ نمبر998 مطلب آیت کا یہ ہے کہ رسول یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ایمان لائے جو ان کی طرف سے ان کے رب کی جانب سے نازل ہوا، اسے سن کر آپ نے فرمایا وہ ایمان لانے کا پورا مستحق ہے، [مستدرک حاکم:287/2:منقطع و ضعیف] اور دوسرے ایماندار بھی ایمان لائے، ان سب نے مان لیا کہ اللہ ایک ہے، وہ وحدانیت کا مالک ہے، وہ تنہا ہے، وہ بے نیاز ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنے والا ہے، یہ [ ایمان والے ] تمام انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں، تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں، آسمانی کتابوں کو انبیاء کرام پر جو اتری ہیں سچی جانتے ہیں۔

وہ نبیوں میں فرق نہیں سمجھتے کہ ایک کو مانیں دوسرے کو نہ مانیں بلکہ سب کو سچا جانتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ وہ پاکباز طبقہ رشد و ہدایت والا اور لوگوں کی خیر کی طرف رہبری کرنے والا ہے، گو بعض احکام ہر نبی کے زمانہ میں تبدیل ہوتے رہے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سب کی ناسخ ٹھہری،

خاتم الانبیاء و مرسلین آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت باقی رہے گی اور ایک جماعت اس کی اتباع بھی کرتی رہے گی۔ انہوں نے اقرار بھی کیا کہ ہم نے اللہ کا کلام سنا اور احکام الٰہی ہمیں تسلیم ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے رب ہمیں مغفرت رحمت اور لطف عنایت فرما، تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے یعنی حساب والے دِن۔

صفحہ نمبر999 حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعدار امت کے یہاں ثناء و صفت بیان ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر دعا کیجئے قبول کی جائے گی، مانگیے کہ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6498:مرسل و ضعیف] پھر فرمایا اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا یہ اس کا لطف و کرم اور احسان و انعام ہے۔ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کو جو کھٹکا ہوا تھا اور ان پر جو یہ فرمان گراں گزرا تھا کہ دِل کے خطرات پر بھی حساب لیا جائے گا وہ دھڑکا اس آیت سے اُٹھ گیا۔

مطلب یہ کہ گو حساب ہو، سوال ہو لیکن جو چیز طاقت سے باہر ہے اس پر عذاب نہیں کیونکہ دِل میں کسی خیال کا دفعتاً آ جانا روکے رُک نہیں سکتا بلکہ حدیث سے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ ایسے وسوسوں کو برا جاننا دلیل ایمان ہے، بلکہ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی، اعمال صالحہ کرو گے جزا پاؤ گے، برے اعمال کرو گے تو سزا بھگتو گے۔

صفحہ نمبر1000 پھر دعا کی تعلیم دی اور اس کی قبولیت کا وعدہ فرمایا، کہ اے اللہ بھولے چوکے جو احکام ہم سے چھوٹ گئے ہوں یا جو برے کام ہو گئے ہوں یا شرعی احکام میں غلطی کر کے جو خلاف شرع کام ہم سے ہوئے ہوں وہ معاف فرما، پہلے صحیح مسلم کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے کہ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں نے اسے قبول فرما لیا، [صحیح مسلم:125:صحیح] میں نے یہی کیا اور حدیث میں بھی آ چکا کہ میری امت کی بھول چوک معاف ہے اور جو کام زبردستی کرائے جائیں وہ بھی معاف ہیں۔ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح]

اے اللہ عز و جل ہم پر مشکل اور سخت اعمال کی مشقت نہ ڈال جیسے اگلے دین والوں پر سخت سخت احکام تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی رحمت بنا کر بھیج کر دور کیے گئے اور آپ کو ہر طرح سہولت اور آسانی دی گئی اسے بھی پروردگار نے قبول فرمایا، حدیث میں بھی ہے کہ میں یکسوئی والا اور آسان دین دے کر بھیجا گیا ہوں۔ [خطیب:209/7:صحیح بالشواھد]

اے اللہ تکلیفیں بلائیں اور مشقتیں ہم پر نہ ڈال جن کی برداشت کی طاقت ہم میں نہ ہو، حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فریب اور غلبہ شہوت ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1235/3] اس کے جواب میں بھی قبولیت کا اعلان رب عالم کی طرف سے کیا گیا۔ اور ہماری تقصیروں کو معاف فرما جو تیری نافرمانی کا کوئی کام نہ ہو، اس لیے بزرگوں کا قول ہے کہ گنہگار کو تین باتوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو اللہ کی معافی تاکہ عذاب سے نجات پائے، دوسرے پردہ پوشی تاکہ رسوائی سے بچے، تیسرے عصمت کی تاکہ دوسری بار گناہ میں مبتلا نہ ہو، اس پر بھی جناب باری نے قبولیت کا اعلان کیا۔

تو ہمارا ولی و ناصر ہے، تجھی پر ہمارا بھروسہ ہے، تجھی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں، تو ہی ہمارا سہارا ہے، تیری مدد کے سوا نہ تو ہم کسی نفع کے حاصل کرنے پر قادر ہیں نہ کسی برائی سے بچ سکتے ہیں، تو ہماری ان لوگوں پر مدد فرما جو تیرے دین کے منکر ہیں تیری وحدانیت کو نہیں مانتے، تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم نہیں کرتے، تیرے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، مشرک ہیں۔

اے اللہ تو ہمیں ان پر غالب کر دینا اور دین میں ہم ہی ان پر فاتح رہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں بھی فرمایا ہاں میں نے یہ بھی دعا قبول فرمائی۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما جب اس آیت کو ختم کرتے آمین کہتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:146/6] صفحہ نمبر1001

تفسیر البغوی

اللہ تعالیٰ کا فرمان: «رسول ایمان لایا» یعنی اس نے تصدیق کی «اس چیز کی جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل کی گئی، اور مومن بھی»؛ «ہر ایک اللہ پر ایمان لایا» یعنی ان میں سے ہر ایک ایمان لایا، اسی لیے فعل واحد لایا گیا؛ «اور اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر»۔ حمزہ اور کسائی نے «اس کی کتاب» واحد کے صیغے میں پڑھا ہے، یعنی قرآن۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لفظ واحد ہونے کے باوجود اس کا معنی جمع ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «پس اللہ نے نبیوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب نازل کی» (البقرہ 2:213)۔

باقی قراء نے «اس کی کتابوں» جمع کے صیغے میں پڑھا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں ہے: «اور اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر» (النساء 4:136)۔

«ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے»؛ یعنی ہم بعض کو مانیں اور بعض کا انکار نہ کریں، جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کیا۔ یہاں ایک محذوف کلام ہے، جس کی تقدیر یہ ہے: وہ کہتے ہیں، ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ یعقوب نے «فرق نہیں کرتا» یاء کے ساتھ پڑھا ہے، تو یہ رسول کے بارے میں خبر ہوگی؛ یا اس کا مطلب ہے کہ سب لوگ فرق نہیں کرتے۔ یہاں «کسی ایک کے درمیان» کہا گیا، «چند افراد کے درمیان» نہیں، کیونکہ «اَحَد» واحد اور جمع دونوں کے لیے آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اور تم میں سے کوئی بھی اسے روکنے والا نہ ہوگا» (الحاقہ 69:47)۔ «اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا» یعنی تیرا فرمان؛ «اور اطاعت کی» یعنی تیرے حکم کی۔

حکیم نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے کہا: اللہ نے آپ کی اور آپ کی امت کی تعریف فرمائی ہے، پس آپ مانگیے، آپ کو عطا کیا جائے گا۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی تلقین سے دعا کی اور فرمایا: «ہم تیری مغفرت طلب کرتے ہیں»۔ یہ مصدر کے طور پر منصوب ہے، یعنی «ہمیں اپنی بخشش سے بخش دے» یا «ہم تجھ سے تیری مغفرت مانگتے ہیں»۔

«اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ کسی جان کو اس کی وسعت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتا»۔ آیت کا ظاہر حاجت پوری کرنے کا بیان ہے، مگر اس میں ایک سوال مقدر ہے؛ گویا انہوں نے کہا: ہمیں ہماری وسعت سے بڑھ کر مکلف نہ فرما، تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: «اللہ کسی جان کو اس کی وسعت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتا»؛ یعنی اس کی طاقت کے مطابق۔

«وسع» اس چیز کا نام ہے جو انسان کے لیے گنجائش رکھتی ہو اور اس پر تنگ نہ ہو۔ اس کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما، عطاء اور اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے مراد دل میں پیدا ہونے والی بات ہے، جس کا ذکر اس فرمان میں ہوا ہے: «اور اگر تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ»، جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اس سے خاص اہلِ ایمان مراد ہیں؛ ان کے دین کے معاملے میں ان کے لیے آسانی کی گئی اور انہیں صرف اسی چیز کا مکلف بنایا گیا جس کی وہ طاقت رکھتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا» (البقرہ 2:185)، اور فرمایا: «اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی» (الحج 22:78)۔

سفیان بن عیینہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان «اللہ کسی جان کو اس کی وسعت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتا» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: یعنی اس کی آسانی کے مطابق؛ اسے اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں کیا۔ یہ اچھی بات ہے، کیونکہ وسعت، طاقت سے کم درجے کی چیز ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان: «اس کے لیے ہے جو اس نے کمایا» یعنی جان کے لیے اس کا کیا ہوا نیک عمل اور اس کا اجر و ثواب ہے؛ «اور اسی پر ہے جو اس نے کمایا» یعنی برائی، اور اس کا وبال اسی پر ہے۔ «اے ہمارے رب! ہمارا مؤاخذہ نہ فرما» یعنی ہمیں سزا نہ دے؛ «اگر ہم بھول جائیں»۔ بعض نے اسے بھول چوک کے معنی میں لیا ہے۔

کلبی کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل جب اپنے حکم میں سے کوئی بات بھول جاتے یا خطا کرتے تو انہیں فوراً سزا دی جاتی؛ ان کے گناہ کے مطابق ان کے کھانے یا پینے کی کوئی چیز حرام کردی جاتی۔ اللہ نے اہلِ ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس سے درخواست کریں کہ اس طرح ان کا مؤاخذہ نہ کیا جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں نسیان سے مراد چھوڑ دینا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اس نے انہیں بھلا دیا» (التوبہ 9:67)۔

«یا ہم خطا کریں»۔ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ارادہ اور جان بوجھ کر کرنا ہے؛ عربی میں کہا جاتا ہے: فلاں نے خطا کی، جب اس نے جان بوجھ کر کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «بے شک ان کا قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے» (الإسراء 17:31)۔ عطاء نے کہا: «اگر ہم بھول جائیں یا خطا کریں» یعنی اگر ہم نہ جانیں یا جان بوجھ کر کریں۔

اکثر مفسرین نے اسے ایسی خطا کے معنی میں لیا ہے جو لاعلمی اور بھول چوک سے ہو، کیونکہ جان بوجھ کر کیا گیا گناہ معاف نہیں، بلکہ اللہ کی مشیت کے تحت ہے؛ اور خطا معاف ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: «میری امت سے خطا، بھول اور جس کام پر انہیں مجبور کیا گیا ہو، وہ اٹھا لیا گیا ہے»۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان: «اے ہمارے رب! ہم پر کوئی بوجھ نہ ڈال» یعنی بھاری عہد اور ایسا پختہ میثاق نہ ڈال جسے پورا کرنے کی ہم میں طاقت نہ ہو، ورنہ اسے توڑنے اور چھوڑنے پر ہمیں عذاب دے گا؛ «جیسے تو نے اسے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا» یعنی یہود پر؛ انہوں نے اسے پورا نہ کیا تو تو نے انہیں عذاب دیا۔ یہ مجاہد، عطاء، قتادہ، سدی، کلبی اور ایک جماعت کا قول ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «اور تم نے اس پر میرا عہد لیا تھا» (آل عمران 3:81)، یعنی میرا عہد۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے: ہم پر معاملہ سخت اور دشوار نہ کر، جیسے تو نے ہم سے پہلے یہود پر سختی کی تھی۔ اللہ نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی تھیں، زکوٰۃ میں اپنے مال کا چوتھائی حصہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے کپڑے پر نجاست لگ جاتی وہ اسے کاٹ دیتا، اور جس سے گناہ سرزد ہوتا اس کے دروازے پر صبح ہوتے ہی اس کا گناہ لکھا ہوا ہوتا، اور اس طرح کے دوسرے بوجھ اور پابندیاں تھیں۔ یہ عثمان، عطاء، مالک بن انس، ابو عبیدہ اور ایک جماعت کا قول ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «اور وہ ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق اتارتا ہے جو ان پر تھے» (الأعراف 7:157)۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ «اِصر» ایسے گناہ کو کہتے ہیں جس کی توبہ نہ ہو؛ اس معنی میں دعا ہے کہ ہمیں اس جیسے گناہ سے محفوظ رکھ۔ اس لفظ کی اصل باندھنا اور مضبوطی سے جکڑنا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان: «اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو» یعنی ہمیں ایسے اعمال کا مکلف نہ کر جنہیں ہم برداشت نہ کرسکیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے دل کے خیالات اور وسوسے مراد ہیں۔ مکحول سے نقل کیا گیا ہے کہ اس سے شہوت کی شدت مراد ہے۔

پوچھا گیا کہ «شہوت کی شدت» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: محبت۔ محمد بن عبد الوہاب نے کہا: عشق۔ ابن جریج نے کہا: بندر اور خنزیر کی صورت میں بدل دیا جانا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے دشمنوں کی خوشی مراد ہے، اور یہ بھی کہ جدائی اور قطع تعلق مراد ہے؛ ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

«اور ہم سے درگزر فرما» یعنی ہمارے گناہوں سے تجاوز فرما اور انہیں مٹا دے؛ «اور ہمیں بخش دے» یعنی ہمارے گناہوں پر پردہ ڈال اور ہمیں رسوا نہ کر؛ «اور ہم پر رحم فرما»، کیونکہ ہم تیرے حکم کی اطاعت کے بغیر عمل نہیں کرسکتے اور تیری رحمت کے بغیر گناہ نہیں چھوڑ سکتے۔ «تو ہی ہمارا مولیٰ ہے» یعنی ہمارا مددگار، محافظ اور کارساز؛ «پس کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما»۔

سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے فرمان «ہم تیری مغفرت طلب کرتے ہیں، اے ہمارے رب!» کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «میں نے تمہیں بخش دیا»۔ «اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کریں تو ہمارا مؤاخذہ نہ فرما» کے بارے میں فرمایا: «میں تمہارا مؤاخذہ نہیں کروں گا»۔

«اے ہمارے رب! ہم پر کوئی بوجھ نہ ڈال» کے بارے میں فرمایا: «میں تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالوں گا»۔ «اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو» کے بارے میں فرمایا: «میں تم پر وہ بوجھ نہیں ڈالوں گا»۔ «اور ہم سے درگزر فرما» سے آخر تک فرمایا: «میں نے تم سے درگزر کیا، تمہیں بخش دیا، تم پر رحم کیا اور کافر قوم کے مقابلے میں تمہاری مدد فرمائی»۔ معاذ بن جبل جب سورۂ بقرہ ختم کرتے تو «آمین» کہتے۔

ہمیں اسماعیل بن عبد القاہر نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو عبد الغافر بن محمد نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن عیسیٰ الجلودی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن محمد بن سفیان نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں مسلم بن حجاج نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو بکر بن ابی شیبہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو اسامہ نے بتایا، مالک بن مغول نے زبیر بن عدی سے، انہوں نے طلحہ بن علی بن مصرف سے، انہوں نے مرہ سے، اور انہوں نے عبد اللہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج پر لے جایا گیا تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا، جو چھٹے آسمان میں ہے۔

زمین سے اوپر لے جائی جانے والی چیزیں وہاں تک پہنچتی ہیں اور وہیں قبض کی جاتی ہیں، اور اوپر سے نیچے آنے والی چیزیں بھی وہیں تک پہنچتی اور وہیں قبض کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان «جب سدرہ کو ڈھانپنے والی چیز نے ڈھانپ لیا» (النجم 53:16) کے بارے میں انہوں نے کہا: وہ سونے کے پروانے تھے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں: پانچ نمازیں، سورۂ بقرہ کی آخری آیات، اور آپ کی امت میں سے جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے، اس کے بڑے ہلاکت خیز گناہ معاف کردیے گئے۔

تائیدی حدیث

صحیح مسلم (حدیث نمبر 126) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک فرشتہ آسمان سے اترا اور اس نے نبی ﷺ سے کہا: «دو نوروں کی بشارت قبول کیجیے… یہ سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات ہیں»۔

نشانیاں
  • #سورۂ بقرہ
  • #مغفرت
  • #رحمت
  • #آسانی
  • #بھول اور خطا
  • #دعا
  • #کافروں پر غلبہ

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →