رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا، وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ، وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ، وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ، وَاغْفِرْ لِأَبِي، إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ، وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ، وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ.
رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ وَاغْفِرْ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ[1] عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے. اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ.[1] مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے. اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا.[1] اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر.[1] جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی. لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے.[1]
اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی متعدد التجائیں یکجا ہیں: «هَبْ لِي» یعنی مجھے عطا فرما، «أَلْحِقْنِي» یعنی مجھے ملا دے، اور «اجْعَلْ لِي» یعنی میرے لیے مقرر فرما۔ «قلبِ سلیم» یعنی پاکیزہ دل کو آخرت میں نجات کا واحد ذریعہ بتایا گیا ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
«اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دے» یعنی مجھے جنت والوں میں شامل فرما، وہ جنت جس کا اللہ تعالیٰ انہیں وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور نعمتوں والی جنت میں ان کا مرتبہ بلند کیا۔
پھر ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی: «اے میرے رب! مجھے حکمت عطا فرما» یعنی مجھے بہت زیادہ علم عطا فرما، جس کے ذریعے میں احکام، حلال اور حرام کو پہچانوں اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کروں۔ «اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے» یعنی اپنے نبی اور رسول بھائیوں میں شامل فرما۔
«اور پچھلے لوگوں میں میرے لیے سچی نیک نامی مقرر فرما» یعنی ایسا سچا ذکرِ خیر عطا فرما جو زمانے کے آخر تک باقی رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، انہیں ایسا علم اور حکمت عطا کی کہ وہ افضل رسولوں میں سے ہوئے، انہیں اپنے رسول بھائیوں کے ساتھ ملا دیا، اور تمام ملتوں میں، ہر زمانے کے اندر انہیں محبوب، مقبول، معظم اور قابلِ تعریف بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اور ہم نے بعد میں آنے والوں میں ان کا ذکرِ خیر باقی رکھا۔ ابراہیم پر سلام ہو۔
ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے» (الصافات: 108–111)۔
«اور میرے والد کو بخش دے، بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔» یہ دعا اپنے والد سے کیے ہوئے اس وعدے کی بنا پر تھی: «میں اپنے رب سے آپ کے لیے بخشش طلب کروں گا، بے شک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے» (مریم: 47)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اور ابراہیم کا اپنے والد کے لیے بخشش طلب کرنا محض اس وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں نے اس سے کیا تھا؛ پھر جب ان پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگئے۔ بے شک ابراہیم بہت نرم دل، بردبار تھے» (التوبہ: 114)۔
«جس دن مال اور بیٹے فائدہ نہیں دیں گے، سوائے اس کے جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آئے۔» یہی چیز تیرے ہاں فائدہ دے گی، اسی کے ذریعے انسان عذاب سے نجات پائے گا اور بڑے اجر کا مستحق ہوگا۔ پاک دل وہ ہے جو شرک، شک، برائی کی محبت، بدعت پر اصرار اور گناہوں سے محفوظ ہو۔ جب دل ان چیزوں سے پاک ہوجاتا ہے تو لازماً ان کی ضد صفات بھی اس میں پیدا ہوتی ہیں: اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور اسے دل میں پسندیدہ پانا؛ نیز یہ کہ انسان کی چاہت اور محبت اللہ کی محبت کے تابع ہو، اور اس کی خواہش اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہدایت کے تابع ہو۔
«اور جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے، اس دن مجھے رسوا نہ کرنا» یعنی بعض گناہوں پر سرزنش، ان کی سزا اور رسوائی سے محفوظ رکھنا، بلکہ اس دن مجھے سعادت عطا فرمانا۔
«جس دن مال اور بیٹے فائدہ نہیں دیں گے، سوائے اس کے جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آئے۔» یہی چیز تیرے ہاں فائدہ دے گی، اسی کے ذریعے انسان عذاب سے نجات پائے گا اور بڑے اجر کا مستحق ہوگا۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
حکم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی ۔ [صحیح بخاری:4436]
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ «اللَّهُمَّ أَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَمِتْنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْر خَزَايَا وَلَا مُبَدِّلِينَ» ۔ یعنی اے اللہ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے ۔ [مسند احمد:424/3:صحیح] در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔
پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتداء کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ علیہ السلام پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔
ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ علیہ السلام کی تعریف وتوصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموماً ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ” میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔
اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ “ لیکن اپنے کافر باپ کے لیے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ علیہ السلام پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ علیہ السلام کے دل سے اس کی عزت ومحبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کر دیا۔
ابراہیم علیہ السلام بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اس بات میں ان کی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ ” مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔
آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گردوغبار سے آلودہ ہو رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ علیہ السلام جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا ” سن لے جنت تو کافر پر قطعاً حرام ہے “ ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ ” دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر “ باپ جواب دے گا کہ ” اچھا اب نہ کرونگا۔ “ آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ ” پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” میرے خلیل علیہ السلام میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے “ ، پھر فرمائے گا ” ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے؟
“ آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ایک بدصورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3350] صفحہ نمبر6210 حقیقتاً یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کر دئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیا بھر کے خزانے دیدے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔
جس کا دل صالح ہو یعنی شرک و کفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان واخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔ صفحہ نمبر6211
حکم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی ۔ [صحیح بخاری:4436]
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ «اللَّهُمَّ أَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَمِتْنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْر خَزَايَا وَلَا مُبَدِّلِينَ» ۔ یعنی اے اللہ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے ۔ [مسند احمد:424/3:صحیح] در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔
پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتداء کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ علیہ السلام پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔
ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ علیہ السلام کی تعریف وتوصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموماً ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ” میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔
اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ “ لیکن اپنے کافر باپ کے لیے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ علیہ السلام پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ علیہ السلام کے دل سے اس کی عزت ومحبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کر دیا۔
ابراہیم علیہ السلام بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اس بات میں ان کی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ ” مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔
آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گردوغبار سے آلودہ ہو رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ علیہ السلام جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا ” سن لے جنت تو کافر پر قطعاً حرام ہے “ ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ ” دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر “ باپ جواب دے گا کہ ” اچھا اب نہ کرونگا۔ “ آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ ” پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” میرے خلیل علیہ السلام میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے “ ، پھر فرمائے گا ” ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے؟
“ آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ایک بدصورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3350] صفحہ نمبر6210 حقیقتاً یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کر دئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیا بھر کے خزانے دیدے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔
جس کا دل صالح ہو یعنی شرک و کفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان واخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔ صفحہ نمبر6211
حکم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی ۔ [صحیح بخاری:4436]
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ «اللَّهُمَّ أَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَمِتْنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْر خَزَايَا وَلَا مُبَدِّلِينَ» ۔ یعنی اے اللہ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے ۔ [مسند احمد:424/3:صحیح] در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔
پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتداء کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ علیہ السلام پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔
ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ علیہ السلام کی تعریف وتوصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموماً ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ” میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔
اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ “ لیکن اپنے کافر باپ کے لیے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ علیہ السلام پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ علیہ السلام کے دل سے اس کی عزت ومحبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کر دیا۔
ابراہیم علیہ السلام بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اس بات میں ان کی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ ” مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔
آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گردوغبار سے آلودہ ہو رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ علیہ السلام جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا ” سن لے جنت تو کافر پر قطعاً حرام ہے “ ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ ” دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر “ باپ جواب دے گا کہ ” اچھا اب نہ کرونگا۔ “ آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ ” پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” میرے خلیل علیہ السلام میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے “ ، پھر فرمائے گا ” ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے؟
“ آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ایک بدصورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3350] صفحہ نمبر6210 حقیقتاً یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کر دئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیا بھر کے خزانے دیدے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔
جس کا دل صالح ہو یعنی شرک و کفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان واخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔ صفحہ نمبر6211
حکم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی ۔ [صحیح بخاری:4436]
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ «اللَّهُمَّ أَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَمِتْنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْر خَزَايَا وَلَا مُبَدِّلِينَ» ۔ یعنی اے اللہ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے ۔ [مسند احمد:424/3:صحیح] در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔
پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتداء کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ علیہ السلام پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔
ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ علیہ السلام کی تعریف وتوصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموماً ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ” میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔
اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ “ لیکن اپنے کافر باپ کے لیے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ علیہ السلام پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ علیہ السلام کے دل سے اس کی عزت ومحبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کر دیا۔
ابراہیم علیہ السلام بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اس بات میں ان کی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ ” مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔
آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گردوغبار سے آلودہ ہو رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ علیہ السلام جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا ” سن لے جنت تو کافر پر قطعاً حرام ہے “ ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ ” دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر “ باپ جواب دے گا کہ ” اچھا اب نہ کرونگا۔ “ آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ ” پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” میرے خلیل علیہ السلام میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے “ ، پھر فرمائے گا ” ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے؟
“ آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ایک بدصورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3350] صفحہ نمبر6210 حقیقتاً یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کر دئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیا بھر کے خزانے دیدے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔
جس کا دل صالح ہو یعنی شرک و کفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان واخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔ صفحہ نمبر6211
حکم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی ۔ [صحیح بخاری:4436]
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ «اللَّهُمَّ أَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَمِتْنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْر خَزَايَا وَلَا مُبَدِّلِينَ» ۔ یعنی اے اللہ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے ۔ [مسند احمد:424/3:صحیح] در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔
پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتداء کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ علیہ السلام پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔
ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ علیہ السلام کی تعریف وتوصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموماً ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ” میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔
اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ “ لیکن اپنے کافر باپ کے لیے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ علیہ السلام پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ علیہ السلام کے دل سے اس کی عزت ومحبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کر دیا۔
ابراہیم علیہ السلام بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اس بات میں ان کی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ ” مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔
آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گردوغبار سے آلودہ ہو رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ علیہ السلام جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا ” سن لے جنت تو کافر پر قطعاً حرام ہے “ ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ ” دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر “ باپ جواب دے گا کہ ” اچھا اب نہ کرونگا۔ “ آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ ” پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” میرے خلیل علیہ السلام میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے “ ، پھر فرمائے گا ” ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے؟
“ آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ایک بدصورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3350] صفحہ نمبر6210 حقیقتاً یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کر دئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیا بھر کے خزانے دیدے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔
جس کا دل صالح ہو یعنی شرک و کفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان واخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔ صفحہ نمبر6211
حکم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی ۔ [صحیح بخاری:4436]
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ «اللَّهُمَّ أَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَمِتْنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْر خَزَايَا وَلَا مُبَدِّلِينَ» ۔ یعنی اے اللہ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے ۔ [مسند احمد:424/3:صحیح] در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔
پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتداء کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ علیہ السلام پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔
ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ علیہ السلام کی تعریف وتوصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموماً ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ” میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔
اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ “ لیکن اپنے کافر باپ کے لیے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ علیہ السلام پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ علیہ السلام کے دل سے اس کی عزت ومحبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کر دیا۔
ابراہیم علیہ السلام بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اس بات میں ان کی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ ” مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔
آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گردوغبار سے آلودہ ہو رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ علیہ السلام جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا ” سن لے جنت تو کافر پر قطعاً حرام ہے “ ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ ” دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر “ باپ جواب دے گا کہ ” اچھا اب نہ کرونگا۔ “ آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ ” پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” میرے خلیل علیہ السلام میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے “ ، پھر فرمائے گا ” ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے؟
“ آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ایک بدصورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3350] صفحہ نمبر6210 حقیقتاً یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کر دئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیا بھر کے خزانے دیدے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔
جس کا دل صالح ہو یعنی شرک و کفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان واخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔ صفحہ نمبر6211
حکم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی ۔ [صحیح بخاری:4436]
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ «اللَّهُمَّ أَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَمِتْنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْر خَزَايَا وَلَا مُبَدِّلِينَ» ۔ یعنی اے اللہ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے ۔ [مسند احمد:424/3:صحیح] در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔
پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتداء کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ علیہ السلام پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔
ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ علیہ السلام کی تعریف وتوصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموماً ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ” میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔
اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ “ لیکن اپنے کافر باپ کے لیے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ علیہ السلام پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ علیہ السلام کے دل سے اس کی عزت ومحبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کر دیا۔
ابراہیم علیہ السلام بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اس بات میں ان کی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ ” مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔
آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گردوغبار سے آلودہ ہو رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ علیہ السلام جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا ” سن لے جنت تو کافر پر قطعاً حرام ہے “ ۔ [صحیح بخاری:4768]
اور روایت میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ ” دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر “ باپ جواب دے گا کہ ” اچھا اب نہ کرونگا۔ “ آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ ” پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” میرے خلیل علیہ السلام میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے “ ، پھر فرمائے گا ” ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے؟
“ آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ایک بدصورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3350] صفحہ نمبر6210 حقیقتاً یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کر دئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیا بھر کے خزانے دیدے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔
جس کا دل صالح ہو یعنی شرک و کفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان واخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔ صفحہ نمبر6211
تفسیر البغوی
«اے میرے رب! مجھے حکمت عطا فرما۔» ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس سے مراد اللہ کی حدود اور اس کے احکام کی معرفت ہے۔ مقاتل نے کہا: فہم اور علم۔ کلبی نے کہا: نبوت۔
«اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے» یعنی مرتبے اور درجے میں مجھ سے پہلے گزرنے والے انبیاء کے ساتھ ملا دے۔
«اور پچھلے لوگوں میں میرے لیے سچی نیک نامی مقرر فرما» یعنی عمدہ تعریف، اچھا ذکر اور میرے بعد آنے والی امتوں میں عمومی قبولیت۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ عطا فرمایا، چنانچہ تمام اہلِ ادیان ان سے محبت کرتے اور ان کی تعریف کرتے ہیں۔ قتیبی نے کہا: استعارے کے طور پر «زبان» کو «قول» کے معنی میں رکھا گیا ہے، کیونکہ قول زبان ہی سے ہوتا ہے۔
«اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دے» یعنی ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نعمتوں والی جنت عطا کرے گا۔
«اور جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے، اس دن مجھے رسوا نہ کرنا» یعنی مجھے بے نقاب نہ کرنا۔ «جس دن مال اور بیٹے فائدہ نہیں دیں گے۔»
«اور میرے والد کو بخش دے، بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔» انہوں نے یہ بات اس وقت کہی تھی، اس سے پہلے کہ ان پر واضح ہوتا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے، جیسا کہ پہلے سورۂ توبہ میں بیان ہوچکا ہے۔
«سوائے اس کے جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آئے» یعنی ایسا دل جو شرک اور شک سے خالص ہو۔ البتہ گناہوں سے کوئی بھی پوری طرح محفوظ نہیں رہتا۔ اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ سعید بن مسیب نے کہا: پاک دل سے مراد صحیح دل ہے، اور وہ مومن کا دل ہے، کیونکہ کافر اور منافق کا دل بیمار ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «ان کے دلوں میں بیماری ہے» (البقرۃ: 10)۔ ابن عثمان نیشاپوری نے کہا: اس سے مراد ایسا دل ہے جو بدعت سے خالی اور سنت پر مطمئن ہو۔
صحیح البخاری (حدیث نمبر 4768) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابراہیم علیہ السلام قیامت کے دن اپنے والد آزر سے ملیں گے، لیکن اس کے کفر کی وجہ سے اسے لکڑبگھے کی شکل میں بدل دیا جائے گا۔