دعا 42 خاندان اور اولاد 11 منٹ مطالعہ

نیک خاندان اور تقویٰ کی امامت

اللہ سے دعا کرنے والے نیک بندے 25:74
عربی متن

رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ، وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا.

رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ الفرقان 25:74
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbanā hab lanā min azwājinā wa dhurriyyātinā qurrata a‘yunin waj‘alnā lil-muttaqīna imāmā
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اوﻻد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما [1] اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا.[2]

مفہوم اور خصوصیت

اس دعا میں «ہَبْ لَنَا» اور «اجْعَلْنَا» کے صیغے آئے ہیں۔ یہ خاندانی سعادت، بیویوں اور اولاد کی نیکی، اور تقویٰ میں پیشوائی کے لیے ایک عظیم دعا ہے۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

اور وہ لوگ جو دعا کرتے ہیں: «اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما»؛ یعنی ہمارے ساتھیوں، ہم عمروں اور بیویوں کی طرف سے، اور ہماری اولاد کی طرف سے ایسی خوشی عطا فرما کہ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اگر ہم ان کے حالات اور اوصاف پر غور کریں تو ان کے بلند عزائم اور اعلیٰ مرتبے سے معلوم ہوگا کہ ان کی آنکھیں اس وقت تک ٹھنڈی نہیں ہوتیں جب تک وہ انہیں اپنے رب کے فرمانبردار، علم رکھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے نہ دیکھ لیں۔

جس طرح یہ دعا ان کی بیویوں اور اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، اسی طرح یہ خود ان کے لیے بھی دعا ہے، کیونکہ اس کا فائدہ انہی کی طرف لوٹتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے اسے اپنے لیے عطیہ قرار دیا اور کہا: «ہمیں عطا فرما»۔ بلکہ ان کی دعا تمام مسلمانوں کے فائدے کی طرف بھی لوٹتی ہے، کیونکہ جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے ان کی اصلاح بہت سے ایسے لوگوں کی اصلاح کا سبب بنتی ہے جو ان سے وابستہ ہوں اور ان سے فائدہ اٹھائیں۔

«اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا»؛ یعنی اے ہمارے رب! ہمیں اس بلند مرتبے تک پہنچا دے، جو اللہ کے نیک بندوں میں صدیقین اور کامل لوگوں کا مرتبہ ہے۔ یہ دین میں پیشوائی کا مقام ہے: وہ متقیوں کے لیے اپنے اقوال اور اعمال میں نمونہ ہوں، ان کے اعمال کی پیروی کی جائے، ان کی باتوں پر اطمینان کیا جائے، اور اہلِ خیر ان کے پیچھے چلیں؛ چنانچہ وہ ہدایت دیں اور خود بھی ہدایت یافتہ ہوں۔

یہ بات معلوم ہے کہ کسی چیز کے حصول کی دعا میں ان اسباب کی دعا بھی شامل ہوتی ہے جن کے بغیر وہ چیز حاصل نہیں ہو سکتی۔ دین میں پیشوائی کا یہ مرتبہ صبر اور یقین کے بغیر حاصل نہیں ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اور ہم نے ان میں سے امام بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے، جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے» (السجدة: 24)۔ پس اس دعا میں اللہ کی اطاعت پر عمل کرنے، اس کی نافرمانی اور اس کی تکلیف دہ تقدیروں پر صبر کرنے، اور ایسے کامل علم کی توفیق مانگنا شامل ہے جو اپنے حامل کو یقین کے درجے تک پہنچا دے۔

اس میں بہت سی بھلائیاں، بڑی عطا اور یہ دعا بھی ہے کہ وہ رسولوں کے بعد مخلوق کے بلند ترین مراتب میں ہوں۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

عباد الرحمن کے اوصاف ٭٭ عباد الرحمان کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، فسق و فجور نہیں کرتے، کفر سے الگ رہتے ہیں، لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، گانا نہیں سنتے، مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے، خیانت نہیں کرتے، بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے، شرابیں نہیں پیتے، شراب خانوں میں نہیں جاتے، اس کی رغبت نہیں کرتے۔

حدیث میں بھی ہے کہ سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ [مسند احمد:20/1:حسن]

بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔

اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ [صحیح بخاری:2654]

زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔ اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔

پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔

شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔

صفحہ نمبر6111 پھر ان بزرگ بندوں کی ایک دعا بیان ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں بھی ان کی طرح رب کی فرمانبردار، عبادت گزار، موحد اور غیر مشرک ہوں تاکہ دنیا میں بھی اس نیک اولاد سے ان کا دل ٹھنڈا رہے اور آخرت میں بھی۔ یہ انہیں اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔

اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔

کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔

اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔

مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ [مسند احمد:3/6:صحیح]

اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ [صحیح مسلم:3084] صفحہ نمبر6112

تفسیر البغوی

«اور وہ لوگ جو دعا کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے عطا فرما»۔ ابو عمرو، کسائی اور ابو بکر نے اسے الف کے بغیر پڑھا ہے، جبکہ باقی قراء نے الف کے ساتھ جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔

«آنکھوں کی ٹھنڈک» سے مراد نیک، پرہیزگار اولاد ہے؛ وہ کہتے ہیں: انہیں صالح بنا دے تاکہ اس کے سبب ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ قرظی نے کہا: مومن کے لیے اس سے زیادہ آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے والی کوئی چیز نہیں کہ وہ اپنی بیوی اور اولاد کو اللہ عزوجل کا فرمانبردار دیکھے۔ حسن نے بھی یہی کہا۔ «قُرَّة» کو واحد لایا گیا ہے، کیونکہ یہ مصدر ہے۔

اس کی اصل ٹھنڈک سے ہے، کیونکہ عرب گرمی سے تکلیف پاتے ہیں اور ٹھنڈک میں راحت محسوس کرتے ہیں۔ خوشی کے وقت «آنکھوں کی ٹھنڈک» اور غم کے وقت «آنکھوں کی گرمی» کہا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خوشی کے وقت آنکھ کا آنسو ٹھنڈا اور غم کے وقت گرم ہوتا ہے۔ ازہری نے کہا: «آنکھوں کی ٹھنڈک» کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دل کو ایسا شخص ملے جسے وہ پسند کرتا ہو، پھر اس کے سبب اس کی آنکھ دوسروں کی طرف دیکھنے سے بے نیاز ہو جائے۔

«اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا»؛ یعنی ایسے پیشوا بنا جن کی لوگ بھلائی میں پیروی کریں۔ یہاں «ائمہ» کے بجائے «امام» کہا گیا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «بے شک ہم تمام جہانوں کے رب کے رسول ہیں» (الشعراء: 16)۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں «امام» سے مراد «ائمہ» ہیں، جیسے فرمایا: «پس وہ میرے دشمن ہیں» (الشعراء: 77)، یعنی دشمن ہیں۔ اسی طرح کہا جاتا ہے: «ہمارا امیر یہ لوگ ہیں»، یعنی ہمارے امیر ہیں۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ صیغہ مصدر ہے، جیسے «صيام» اور «قيام»؛ کہا جاتا ہے: «أمَّ إماماً»، جیسے «قام قياماً» اور «صام صياماً» کہا جاتا ہے۔

حسن نے کہا: ہم متقیوں کی پیروی کریں اور متقی ہماری پیروی کریں۔ ابن عباس نے کہا: ہمیں ہدایت دینے والے پیشوا بنا، جیسا کہ فرمایا: «اور ہم نے انہیں امام بنایا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے» (السجدة: 24)، اور ہمیں گمراہی کے پیشوا نہ بنا، جیسا کہ فرمایا: «اور ہم نے انہیں امام بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے» (القصص: 41)۔ ایک قول یہ ہے کہ اس عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے؛ مطلب یہ ہے کہ متقیوں کو ہمارا پیشوا بنا اور ہمیں ان کی پیروی کرنے والا بنا۔ یہ مجاہد کا قول ہے۔

تائیدی حدیث

صحیح البخاری (حدیث نمبر 5065) میں نبی ﷺ سے روایت ہے: «دنیا محض عارضی فائدہ اٹھانے کی چیز ہے، اور اس کی بہترین متاع نیک بیوی ہے»۔

نشانیاں
  • #خاندانی خوشی
  • #نیک بیوی
  • #صالح اولاد
  • #تقویٰ
  • #امامت
  • #دعا

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →