دعا 41 شر سے حفاظت 22 منٹ مطالعہ

جہنم کے عذاب سے پناہ

رحمٰن کے بندے 25:65–66
عربی متن

رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ، إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا، إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا، وَمُقَامًا.

رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ الفرقان 25:65–66
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbana-srif ‘anna ‘adhaba Jahannama inna ‘adhabaha kana gharama. Innaha sa’at mustaqarran wa muqama.
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اور جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے واﻻ ہے.[1] بے شک وه ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے.

مفہوم اور خصوصیت

اس دعا میں «اِصْرِفْ» امر کا صیغہ ہے، جس کے معنی ہیں: دور فرما دے۔ رحمٰن کے بندوں کی بنیادی صفات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ نیک اعمال کے ساتھ عذاب کے خوف کو بھی جمع رکھتے ہیں۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

اور وہ لوگ جو کہتے ہیں: «اے ہمارے رب! ہم سے جہنم کا عذاب دور فرما دے»، یعنی اس کے اسباب سے محفوظ رکھ کر اور ہم سے جو ایسے کام سرزد ہوئے ہوں جو عذاب کے موجب بنتے ہیں، انہیں بخش کر اس عذاب کو ہم سے دور فرما دے۔ «بے شک اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے» یعنی وہ اس کے اہل کے ساتھ اس طرح لگا رہے گا جیسے قرض خواہ اپنے مقروض کے ساتھ لگا رہتا ہے۔

«بے شک وہ ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے۔» وہ یہ بات اپنے رب کے حضور عاجزی اور گڑگڑاتے ہوئے کہتے ہیں، اور اس کے سامنے اپنی شدید حاجت کا اظہار کرتے ہیں، کیونکہ وہ اس عذاب کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ نیز وہ اللہ کی اپنے اوپر نعمت کو یاد کرتے ہیں، کیونکہ سختی جتنی شدید اور ہولناک ہو، اس کا دور کیا جانا اتنا ہی بڑی نعمت ہوتا ہے اور اس سے نجات ملنے پر خوشی بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

مومنوں کا کردار ٭٭ اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔

جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔

آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔

سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔ صفحہ نمبر6094 فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔

آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636]

امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔

اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔

جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔

یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “ صفحہ نمبر6095 ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔

اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ]

پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔

رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔ صفحہ نمبر6096 فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔

دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔

جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»

یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔

انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔ صفحہ نمبر6097 مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔

یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔

عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔

سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔

اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ!

ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ!

بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف] صفحہ نمبر6098 پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔

نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔

اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف]

اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف]

بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف]

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔ صفحہ نمبر6099

مومنوں کا کردار ٭٭ اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔

جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔

آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔

سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔ صفحہ نمبر6094 فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔

آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636]

امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔

اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔

جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔

یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “ صفحہ نمبر6095 ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔

اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ]

پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔

رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔ صفحہ نمبر6096 فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔

دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔

جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»

یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔

انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔ صفحہ نمبر6097 مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔

یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔

عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔

سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔

اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ!

ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ!

بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف] صفحہ نمبر6098 پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔

نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔

اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف]

اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف]

بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف]

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔ صفحہ نمبر6099

تفسیر البغوی

«بے شک وہ ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے» یعنی قرار اور اقامت کی نہایت بری جگہ۔

اللہ عزوجل کا فرمان ہے: «اور وہ لوگ جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم سے جہنم کا عذاب دور فرما دے، بے شک اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔» یعنی ایسا عذاب جو مسلسل اور ہمیشہ لاحق رہنے والا ہے، اس سے جسے عذاب دیا جائے، یعنی کافروں سے، جدا نہیں ہوتا۔ اسی سے قرض خواہ کو «غریم» کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنا حق طلب کرتا، اصرار کرتا اور اپنے مقروض کے ساتھ لگا رہتا ہے۔

محمد بن کعب القرظی نے کہا: اللہ نے کافروں سے اپنی نعمتوں کا معاوضہ طلب کیا، لیکن انہوں نے ادا نہ کیا، تو اللہ نے انہیں اس کا تاوان لازم کر دیا، چنانچہ وہ آگ میں رہ گئے۔ حسن نے کہا: ہر قرض خواہ اپنے مقروض سے جدا ہو جاتا ہے، سوائے جہنم کے۔ «غرام» کے معنی ہیں: چمٹ جانے والی برائی؛ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہلاکت ہے۔

تائیدی حدیث

صحیح مسلم (حدیث نمبر 2742) میں روایت ہے کہ نبی محمد ﷺ ہر نماز کے آخر میں عذابِ جہنم سے پناہ مانگا کرتے تھے۔

نشانیاں
  • #جہنم
  • #عذاب
  • #دعا
  • #رحمٰن کے بندے
  • #تقویٰ
  • #آخرت

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →