رَبِّ اغْفِرْ، وَارْحَمْ، وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ.
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
اور کہو کہ اے میرے رب! تو بخش اور رحم کر اور تو سب مہربانوں سے بہتر مہربانی کرنے واﻻ ہے.
سورۂ مؤمنون کی آخری آیت ہے۔ اس میں «اِغْفِرْ» (بخش دے) اور «اِرْحَمْ» (رحم فرما) کے افعال آئے ہیں۔ یہ ایک مختصر اور بنیادی دعا ہے، جو گناہوں کی مغفرت اور رحمت کے نزول کو یکجا کرتی ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
اور اپنے رب سے خالص اسی کے لیے دین رکھتے ہوئے دعا کرتے ہوئے کہیے: «اے میرے رب! ہمیں بخش دے»، تاکہ تو ہمیں ناگوار چیزوں سے نجات دے، اور ہم پر رحم فرما، تاکہ اپنی رحمت سے ہمیں ہر بھلائی تک پہنچا دے۔ «اور تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر ہے»؛ پس جو بھی بندے پر رحم کرتا ہے، اللہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے۔ اللہ اپنے بندے پر اس کی ماں سے بھی زیادہ رحم فرمانے والا ہے، اور خود بندے کے اپنے آپ پر رحم کرنے سے بھی زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ کے فضل اور احسان سے سورۂ مؤمنون کی تفسیر مکمل ہوئی۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
دلائل کے ساتھ مشرک کا موحد ہونا ٭٭ مشرکوں کو اللہ واحد ڈرا رہا ہے اور بیان فرما رہا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور جواب شرط «فَاِنَّمَا» والے جملے کے ضمن میں ہے یعنی اس کا حساب اللہ کے ہاں ہے۔ کافر اس کے پاس کامیاب نہیں ہو سکتے۔ وہ نجات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ایک شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو کس کس کو پوجتا ہے؟ اس نے کہا صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کام آنے والا وہی ہے تو پھر اس کے ساتھ ان دوسروں کی عبادت کی کیا ضرورت ہے؟ کیا تیرا خیال ہے کہ وہ اکیلا تجھے کافی نہ ہو گا؟ جب اس نے کہا یہ تو نہیں کہہ سکتا، البتہ ارادہ یہ ہے کہ اوروں کی عبادت کر کے اس کا پورا شکر بجا لاسکوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سبحان اللہ! علم کے ساتھ یہ بےعلمی؟ جانتے ہو اور پھر انجان بنے جاتے ہو؟ اب کوئی جواب بن نہ پڑا۔ چنانچہ وہ مسلمان ہو جانے کے بعد کہا کرتے تھے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائل کر لیا۔ یہ حدیث مرسل ہے۔
ترمذی میں سنداً بھی مروی ہے۔ پھر ایک دعا تعلیم فرمائی گئی۔ غفر کے معنی جب وہ مطلق ہو تو گناہوں کو مٹا دینے اور انہیں لوگوں سے چھپا دینے کے آتے ہیں۔ اور رحمت کے معنی صحیح راہ پر قائم رکھنے اور اچھے اقوال و افعال کی توفیق دینے کے ہوتے ہیں۔ الحمدللہ سورۃ مومنون کی تفسیر ختم ہوئی۔ صفحہ نمبر5838
تفسیر البغوی
اور کہیے: «اے میرے رب! بخش دے، رحم فرما، اور تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر ہے۔»
صحیح البخاری (حدیث نمبر 6368) میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے سجدوں میں کثرت سے مغفرت اور رحمت کی دعا کیا کرتے تھے۔