آزمائش میں صبر کی دعا
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا، وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ.
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
اور تو نے ہم میں کونسا عیب دیکھا ہے بجز اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے[1] ، جب وه ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب! ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما[2] اور ہماری جان حالت اسلام پر نکال۔[3]
صیغے: «اَفْرِغْ» (أَفْرِغْ) اور «تَوَفَّنَا» (تَوَفَّنَا)۔ یہ فرعون کے ان سابق جادوگروں کی دعا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے معجزے کے بعد ایمان لے آئے تھے اور دردناک سزا کی دھمکی کے سامنے آ گئے تھے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
اور «تو ہم سے کیا عیب نکالتا ہے» یعنی ہماری طرف سے کون سی ایسی بات ہے جسے تو ناپسند کرتا ہے، جس کی وجہ سے تو ہمیں ملامت کرتا اور دھمکاتا ہے؟ ہمارا تو کوئی گناہ نہیں، سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے۔ پس اگر یہ ایسا گناہ ہے جس پر ملامت کی جائے اور اس کے کرنے والے سزا کے مستحق ہوں، تو یہی ہمارا گناہ ہے۔ پھر انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ انہیں ثابت قدم رکھے اور صبر عطا فرمائے۔
چنانچہ انہوں نے کہا: «اے ہمارے رب! ہم پر صبر نازل فرما» یعنی ہم پر بہت زیادہ صبر انڈیل دے، جیسا کہ لفظ کے نکرہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ بہت بڑی آزمائش ہے، جو جان لے سکتی ہے؛ اس لیے اس میں بہت زیادہ صبر درکار ہے، تاکہ دل ثابت قدم رہے، مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور اس کی شدید گھبراہٹ دور ہو جائے۔ «اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے» یعنی اپنے حکم کے تابع اور اپنے رسول کی پیروی کرنے والا بنا کر۔
ظاہر یہی ہے کہ فرعون نے ان پر وہی کچھ کیا جس کی اس نے دھمکی دی تھی، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان پر ثابت قدم رکھا۔ یہ فرعون، اس کے سردار اور ان کے پیروکار عام لوگ تھے، جنہوں نے اللہ کی آیات کے مقابلے میں تکبر کیا اور ظلم و سرکشی سے ان کا انکار کیا، جب وہ ہمارے پاس آئیں۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭ جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ [20-طه:71]
تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔
کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔
انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔
لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔ صفحہ نمبر3030 ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟
اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6]
اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔
تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟ صفحہ نمبر3031 یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔
اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔
کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔
ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ” تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔
کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔
اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ “ [20-طه:72-75]
سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔ صفحہ نمبر3032 صفحہ نمبر3033
تفسیر البغوی
«اور تو ہم سے کیا عیب نکالتا ہے» یعنی تو ہم سے کیا نفرت کرتا ہے؟ ضحاک اور دیگر اہلِ علم نے کہا: یعنی تو ہم پر کیا طعن کرتا ہے؟ عطاء نے کہا: ہمارے ذمے تیرے نزدیک ایسا کون سا گناہ ہے جس کی بنا پر تو ہمیں عذاب دے؟ «سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ایمان لے آئے، جب وہ ہمارے پاس آئیں۔»
پھر انہوں نے اللہ عزوجل کی پناہ لی اور کہا: «اے ہمارے رب! ہم پر صبر نازل فرما» یعنی انڈیل دے۔ «اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے۔» کلبی نے ذکر کیا ہے کہ فرعون نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر انہیں سولی پر چڑھا دیا تھا۔ ایک دوسرے قول کے مطابق وہ ان پر قابو نہ پا سکا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں ہے: «پس وہ تم دونوں تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ہماری آیات کے ساتھ تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے، غالب رہیں گے۔» (القصص: 35)
امام احمد کی «مسند» (حدیث نمبر 2410) میں ظالم حکمرانوں کے سامنے مومنوں کے ثابت قدم رہنے کی عظمت کے بارے میں روایات نقل ہوئی ہیں۔