موسیٰ کی قوم کے لیے دعا
أَنْتَ وَلِيُّنَا، فَاغْفِرْ لَنَا، وَارْحَمْنَا، وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ، وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ، إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ.
أَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمی اپنی قوم میں سے ہمارے وقت معین کے لیے منتخب کئے، سو جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا[1] تو موسیٰ (علیہ السلام) عرض کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار! اگر تجھ کو یہ منظور ہوتا تو اس سے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کر دیتا۔ کیا تو ہم میں سے چند بے وقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کردے گا؟ یہ واقعہ محض تیری طرف سے ایک امتحان ہے، ایسے امتحانات سے جس کو تو چاہے گمراہی میں ڈال دے اور جس کو چاہے ہدایت پر قائم رکھے۔ تو ہی تو ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیاده اچھا ہے۔[2] اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی، ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں[1] ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا عذاب اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے[2]۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻتے ہیں۔
اس دعا میں اللہ کی ولایت و سرپرستی کا اقرار اور «اغفر» (بخش دے)، «ارحمنا» (ہم پر رحم فرما) اور «اكتب» (لکھ دے، مقدر فرما) کے افعال ہیں۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی اپنے لوگوں کے لیے بچھڑے کی عبادت کے فتنے میں آزمائے جانے کے بعد کی دعا ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور راہِ راست کی طرف پلٹ آئے تو موسیٰ علیہ السلام نے ان میں سے ستر بہترین آدمیوں کو چنا، تاکہ وہ اپنے لوگوں کی طرف سے اپنے رب کے حضور معذرت کریں۔ اللہ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کیا جس میں وہ حاضر ہوں۔ جب وہ وہاں پہنچے تو کہنے لگے: «اے موسیٰ! ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھا دو۔»
یوں انہوں نے اللہ کے معاملے میں بہت بڑی جسارت کی اور اس کے حضور بے ادبی کی۔ پس انہیں زلزلے نے آ پکڑا، وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہو گئے۔
موسیٰ علیہ السلام برابر اللہ کے حضور گڑگڑاتے، عاجزی کرتے اور عرض کرتے رہے: «اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو انہیں اس سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا، اس سے پہلے کہ وہ حاضر ہوتے اور ایسی حالت میں پڑتے کہ انہیں اپنی قوم کے سامنے عذر پیش کرنا پڑتا۔» اب تو وہی ظالم بن گئے۔ «کیا تو ہمیں ان میں سے نادانوں کے کیے کی وجہ سے ہلاک کرے گا؟»
یعنی کمزور عقل اور ناپختہ سوچ والے لوگوں کے سبب؟ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حضور عاجزی کی اور معذرت کرتے ہوئے عرض کیا کہ اللہ کے معاملے میں جسارت کرنے والوں کی عقل پوری نہ تھی، جو انہیں ان کے قول و فعل سے روک سکتی۔ انہیں ایسی آزمائش پیش آئی جس میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے اور اپنے دین کے چھن جانے سے ڈرتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے کہا: «یہ تو بس تیری آزمائش ہے، جس کے ذریعے تو جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ہدایت دے۔
تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔» یعنی تو بخشنے والوں میں سب سے بہتر، رحم کرنے کا سب سے زیادہ سزاوار اور عطا و احسان کرنے والوں میں سب سے زیادہ کریم ہے۔ گویا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! بنیادی طور پر ہم سب کا مقصود تیری اطاعت اور تجھ پر ایمان لانا ہے۔
جسے عقل و ہدایت حاصل ہوئی اور وہ تیری عطا کردہ توفیق پر قائم رہا، وہ سیدھے راستے پر رہا؛ اور جس کی عقل کمزور تھی، رائے ناپختہ تھی اور آزمائش نے اسے پھیر دیا، اسی نے ان دونوں سببوں سے یہ کام کیا۔ اس کے باوجود تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور بہترین بخشنے والا ہے، پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی، انہیں موت کے بعد زندہ کیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنی دعا کے آخر میں کہا: «اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے» یعنی نفع بخش علم، کشادہ رزق اور نیک عمل؛ «اور آخرت میں بھی بھلائی» یعنی وہ ثواب جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ «بے شک ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں» یعنی ہم اپنے قصور کا اقرار کرتے ہوئے پلٹ آئے ہیں اور اپنے تمام معاملات میں تیری طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «میں اپنا عذاب جسے چاہتا ہوں پہنچاتا ہوں» یعنی اس مخلوق میں سے جو بدبخت ہو اور عذاب کے اسباب اختیار کرے۔ «اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے» یعنی عالمِ بالا اور عالمِ پست، نیک و بد، مومن و کافر—سب پر۔
کوئی مخلوق ایسی نہیں جس تک اللہ کی رحمت نہ پہنچی ہو اور اس کے فضل و احسان نے اسے نہ ڈھانپا ہو۔ لیکن خاص رحمت، جو دنیا و آخرت کی سعادت کا سبب بنتی ہے، ہر ایک کے لیے نہیں۔ اسی لیے فرمایا: «پس میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں» یعنی چھوٹے بڑے گناہوں سے بچتے ہیں؛ «اور زکوٰۃ دیتے ہیں» یعنی واجب زکوٰۃ اس کے مستحقین کو ادا کرتے ہیں؛ «اور جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔» اللہ کی آیتوں پر ایمان کا کمال یہ ہے کہ ان کے معانی کو پہچانا جائے اور ان کے تقاضوں پر عمل کیا جائے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری و باطنی پیروی، دین کے اصول اور فروع، سب شامل ہیں۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭ موسیٰ علیہ السلام نے حسب فرمان الٰہی اپنی قوم میں سے ستر شخصوں کو منتخب کیا اور جناب باری سے دعائیں مانگنا شروع کیں۔ لیکن یہ لوگ اپنی دعا میں حد سے تجاوز کر گئے۔ کہنے لگے: اللہ تو ہمیں وہ دے جو نہ ہم سے پہلے کسی کو دیا ہو، نہ ہمارے بعد کسی کو دے۔ یہ دعا اللہ تعالیٰ کو ناپسند آئی اور ان پر بھونچال آ گیا۔
[تفسیر ابن جریر الطبری:74/6] جس سے گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” انہیں لے کر آپ اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کی معذرت کرنے کے لئے گئے تھے۔ یہاں جب وہ پہنچے تو کہنے لگے: ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، ایمان نہ لائیں گے۔ ہم کلام سن رہے ہیں لیکن دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر کڑاکے کی آواز ہوئی اور یہ سب مر کھپ گئے۔
موسیٰ علیہ السلام نے رونا شروع کیا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ ان کے یہ بہترین لوگ تھے۔ اگر یہی منشاء تھی تو اس سے پہلے ہی ہمیں ہلاک کر دیا ہوتا۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:73/6]
امام محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ انہیں اس بت پرستی سے توبہ کرنے کیلئے بطور وفد کے آپ لے چلے تھے۔ ان سے فرما دیا تھا کہ پاک صاف ہو جاؤ، پاک کپڑے پہن لو اور روزے سے چلو۔ یہ اللہ کے بتائے ہوئے وقت پر طور سینا پہنچے۔ مناجات میں مشعول ہوئے تو انہوں نے خواہش کی کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ ہم بھی اللہ کا کلام سنیں۔
آپ نے دعا کی، جب حسب عادت بادل آیا اور موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ گئے اور بادل میں چھپ گئے۔ قوم سے فرمایا: تم بھی قریب آ جاؤ، یہ بھی اندر چلے گئے اور حسب عادت موسیٰ علیہ السلام کی پیشانی پر ایک نور چمکنے لگا جو اللہ کے کلام کے وقت برابر چمکتا رہتا تھا۔ اس وقت کوئی انسان آپ کے چہرے پر نگاہ نہیں ڈال سکتا تھا۔ آپ نے حجاب کر لیا، لوگ سب سجدے میں گر پڑے اور اللہ کا کلام شروع ہوا جو یہ لوگ بھی سن رہے تھے کہ فرمان ہو رہا ہے، یہ نہ کر وغیرہ۔
صفحہ نمبر3078 جب باتیں ہو چکیں اور ابر اٹھ گیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم تو جب تک اللہ کو خوب ظاہر نہ دیکھ لیں، ایمان نہیں لائیں گے تو ان پر کڑاکا نازل ہوا اور سب کے سب ایک ساتھ مر گئے۔ موسیٰ علیہ السلام بہت گھبرائے اور مناجات شروع کر دی۔ اس میں یہاں تک کہا کہ اگر ہلاک ہی کرنا تھا تو اس سے پہلے ہلاک کیا ہوتا۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام کو اور شبر، شبیر کو لے کر پہار کی گھاٹی میں گئے۔ ہارون ایک بلند جگہ کھڑے تھے کہ ان کی روح قبض کر لی گئی۔ جب آپ واپس بنی اسرائیل کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا کہ چونکہ آپ کے بھائی بڑے ملنسار اور نرم آدمی تھے آپ نے ہی انہیں الگ لے جا کر قتل کر دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: اچھا تم اپنے میں سے ستر آدمی چھانٹ کر میرے ساتھ کر دو۔
انہوں نے کر دیئے جنہیں لے کر آپ گئے اور ہارون علیہ السلام کی لاش سے پوچھا کہ آپ کو کس نے قتل کیا؟ اللہ کی قدرت سے وہ بولے: کسی نے نہیں بلکہ میں اپنی موت مرا ہوں۔ انہوں نے کہا: بس موسیٰ علیہ السلام، اب سے آپ کی نافرمانی ہرگز نہ کی جائے گی۔ اسی وقت زلزلہ آیا جس سے وہ سب مر گئے۔
اب تو موسیٰ علیہ السلام بہت گھبرائے، دائیں بائیں گھومنے لگے اور وہ عرض کرنے لگے جو قرآن میں مذکور ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی التجا قبول کر لی۔ ان سب کو زندہ کر دیا اور بعد میں وہ سب انبیاء بنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:74/6] لیکن یہ اثر بہت ہی غریب ہے۔ اس کا ایک راوی عمارہ بن عبد غیر معروف ہے۔
یہ بھی مروی ہے کہ ان پر اس زلزلے کے آنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ بچھڑے کی پرستش کے وقت خاموش تھے۔ ان پجاریوں کو روکتے نہ تھے۔ اس قول کی دلیل میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بالکل ٹھیک اترتا ہے کہ اے اللہ! ہم میں سے چند بیوقوفوں کے فعل کی وجہ سے تو ہمیں ہلاک کر رہا ہے؟
پھر فرماتے ہیں: یہ تو تیری طرف کی آزمائش ہی ہے، تیرا حکم چلتا ہے اور تیری ہی چاہت کامیاب ہے۔ صفحہ نمبر3079 ہدایت و ضلالت تیرے ہی ساتھ ہے . جس کو تو ہدایت دے , اسے کوئی بہکا نہیں سکتا اور جسے تو بہکائے , اس کی کوئی رہبری نہیں کر سکتا۔ تو جس سے روک لے , اسے کوئی دے نہیں سکتا اور جسے دے دے، اس سے کوئی چھین نہیں سکتا۔
ملک کا مالک تو اکیلا، حکم کا حاکم صرف تو ہی۔ خلق و امر تیرا ہی ہے، تو ہمارا ولی ہے۔ ہمیں بخش، ہم پر رحم فرما، تو سب سے اچھا معاف فرمانے والا ہے۔
غفر کے معنی ہیں: چھپا دینا اور پکڑ نہ کرنا۔ جب رحمت بھی اس کے ساتھ مل جائے تو یہ مطلب ہوتا ہے کہ آئندہ اس گناہ سے بچاؤ ہو جائے۔ گناہوں کا بخش دینے والا صرف تو ہی ہے۔ پس جس چیز سے ڈر تھا، اس کا بچاؤ طلب کرنے کے بعد اب مقصود حاصل کرنے کے لئے دعا کی جاتی ہے کہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما۔
اسے ہمارے نام لکھ دے۔ واجب و ثابت کر دے۔ «حسنہ» کی تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔ ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں، رغبت ہماری تیری ہی جانب ہے، ہماری توبہ اور عاجزی تیری طرف ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ” چونکہ انہوں نے «ھُدْنَا» کہا تھا، اس لیے انہیں یہودی کہا گیا ہے۔ “ لیکن اس روایت کی سند میں جابر بن یزید جعفی ہیں جو ضعیف ہیں۔ صفحہ نمبر3080
اللہ تعالٰی کی رحمت اور انسان ٭٭ چونکہ کلیم اللہ علیہ السلام نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ یہ محض تیری طرف سے آزمائش ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ عذاب تو صرف گنہگاروں کو ہی ہوتا ہے اور گنہگاروں میں سے بھی انہی کو جو میری نگاہ میں گنہگار ہیں، نہ کہ ہر گنہگار کو۔ میں اپنی حکمت، عدل اور پورے علم کے ذریعے سے جانتا ہوں کہ مستحق عذاب کون ہے؟ صرف اسی کو عذاب پہنچاتا ہوں۔
ہاں البتہ میری رحمت بڑی وسیع چیز ہے جو سب کو شامل، سب پر حاوی اور سب پر محیط ہے۔
چنانچہ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے اردگرد رہنے والے فرشتے فرماتے رہتے ہیں کہ اے رب! تو نے اپنی رحمت اور اپنے علم سے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی آیا۔ اونٹ بٹھا کر، اسے باندھ کر نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔
نماز سے فارغ ہو کر اونٹ کو کھول کر اس پر سوار ہو کر اونچی آواز سے دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور اپنی رحمت میں کسی اور کو ہم دونوں کا شریک نہ کر۔ آپ یہ سن کر فرمانے لگے: بتاؤ یہ خود راہ گم کردہ ہونے میں بڑھا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ تم نے سنا بھی، اس نے کیا کہا؟
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سن لیا۔ آپ نے فرمایا: اے شخص! تو نے اللہ کی بہت ہی کشادہ رحمت کو بہت تنگ چیز سمجھ لیا۔ سن! اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے صرف ایک حصہ مخلوق میں اتارا جو تمام مخلوق میں تقسیم ہوا یعنی انسان، حیوان، جنات سب میں اور ننانوے حصے اپنے لیے باقی رکھے۔
لوگو! بتاؤ یہ زیادہ راہ بہکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ [مسند احمد:312/4:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے: اللہ عز و جل نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے صرف ایک ہی حصہ دنیا میں اتارا۔ اسی سے مخلوق ایک دوسرے پر ترس کھاتی ہے اور رحم کرتی ہے، اسی سے حیوان بھی اپنی اولاد کے ساتھ نرمی اور رحم کا برتاؤ کرتے ہیں۔ باقی کے ننانوے حصے تو اس کے پاس ہی ہیں جن کا اظہار قیامت کے دن ہو گا۔ [صحیح مسلم:2753] صفحہ نمبر3081 اور روایت میں ہے کہ بروز قیامت اسی حصے کے ساتھ اور ننانوے حصے جو مؤخر ہیں، ملا دیئے جایں گے۔ [صحیح مسلم:2742]
ایک اور روایت میں ہے کہ اسی نازل کردہ ایک حصے میں پرند بھی شریک ہیں۔ [سنن ابن ماجه:4294، قال الشيخ الألباني:صحیح]
طبری میں ہے: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو اپنے دین میں فاجر ہے، جو اپنی معاش میں احمق ہے وہ بھی اس میں داخل ہے۔ اس کی قسم جو میری جان اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے! وہ بھی جنت میں جائے گا جو مستحق جہنم ہو گا۔ اس کی قسم جس کے قبضے میں میری روح ہے!
قیامت کے دن اللہ کی رحمت کے کرشمے دیکھ کر ابلیس بھی امیدوار ہو کر ہاتھ پھیلا دے گا۔ [طبرانی کبیر:3022:ضعیف] یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کا راوی سعد غیر معروف ہے۔
پس میں اپنی اس رحمت کو ان کے لیے واجب کر دوں گا اور یہ بھی محض اپنے فضل و کرم سے۔ جیسے فرمان ہے: ” تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔ “ [6-الأنعام:12]
پس جن پر رحمت رب واجب ہو جائے گی، ان کے جو اوصاف بیان فرمائے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد اس سے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو تقویٰ کریں یعنی شرک سے اور کبیرہ گناہوں سے بچیں، زکوٰۃ دیں یعنی اپنے ضمیر کو پاک رکھیں اور مال کی زکوٰۃ بھی ادا کریں۔ (کیونکہ یہ آیت مکی ہے) اور ہماری آیتوں کو مان لیں، ان پر ایمان لائیں اور انہیں سچ سمجھیں۔ صفحہ نمبر3082
تفسیر البغوی
اللہ تعالیٰ کا فرمان: «وَاخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُ» یعنی موسیٰ نے اپنی قوم میں سے چنا۔ یہاں حرفِ جر حذف کیا گیا ہے، اسی لیے لفظ «قومه» منصوب ہے۔ «سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقَاتِنَا»، یعنی ہمارے مقررہ وقت کے لیے ستر آدمیوں کو چنا۔ اس میں دلیل ہے کہ ان سب لوگوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی۔
سدی نے کہا: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کے ساتھ اس کے حضور آئیں، تاکہ بچھڑے کی عبادت کرنے پر عذر پیش کریں۔ پس موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی چنے۔
جب وہ اس مقام پر پہنچے تو کہنے لگے: «ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے، یہاں تک کہ اللہ کو کھلم کھلا دیکھ لیں۔» چنانچہ انہیں بجلی کی کڑک نے آ لیا اور وہ مر گئے۔ ابن اسحاق نے کہا: موسیٰ نے انہیں اس لیے چنا کہ وہ اپنے کیے پر اللہ سے توبہ کریں اور اپنی قوم کے ان لوگوں کے لیے توبہ کی درخواست کریں جنہیں پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ ان سب نے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔
قتادہ، ابن جریج اور محمد بن کعب نے کہا: «انہیں زلزلے نے آ پکڑا»، کیونکہ جب ان کی قوم نے بچھڑے کی عبادت کی تو یہ لوگ ان سے الگ نہ ہوئے، نہ انہیں نیکی کا حکم دیا اور نہ برائی سے روکا۔ ابن عباس نے کہا: جن ستر لوگوں نے کہا تھا: «ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے، یہاں تک کہ اللہ کو کھلم کھلا دیکھ لیں»، پھر انہیں بجلی کی کڑک نے آ لیا [البقرہ: 55]، وہ ان ستر لوگوں سے پہلے تھے جنہیں زلزلے نے آ پکڑا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ اپنی قوم میں سے ستر آدمی چنیں۔ موسیٰ نے انہیں چنا اور دعا کرنے کے لیے لے کر نکلے۔
ان کی دعاؤں میں یہ بھی تھا: «اے اللہ! ہمیں وہ عطا فرما جو ہم سے پہلے کسی کو نہ دیا ہو اور ہمارے بعد کسی کو نہ دینا۔» اللہ کو ان کی یہ دعا پسند نہ آئی، پس انہیں زلزلے نے آ پکڑا۔
وہب نے کہا: زلزلہ کسی آواز کا نام نہ تھا، بلکہ جب قوم نے وہ ہیبت دیکھی تو ان پر کپکپی طاری ہوئی، وہ بے چین ہوئے اور لرزنے لگے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ان کے جوڑ ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے۔ جب موسیٰ نے انہیں اس حال میں دیکھا تو ان پر رحم آیا اور انہیں موت کا خوف ہوا۔ ان کے چلے جانے سے وہ سخت غمگین ہوئے، کیونکہ وہ نیکی کے کاموں میں ان کے مددگار، بات سننے والے اور فرمانبردار تھے۔ تب انہوں نے دعا کی، روئے اور اپنے رب کے حضور فریاد کی۔
اللہ نے ان سے وہ لرزہ دور کر دیا، وہ مطمئن ہو گئے اور اپنے رب کا کلام سنا۔ یہی اللہ عزوجل کے اس فرمان کا مطلب ہے۔
فرمانِ الٰہی: «قَالَ» یعنی موسیٰ نے کہا: «رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ» اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو انہیں اس سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا؛ یعنی بچھڑے کی عبادت سے پہلے۔ «وَإِيَّايَ» اور مجھے بھی؛ یعنی قبطی کو قتل کرنے کے سبب۔ «أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا» کیا تو ہمیں ان میں سے نادانوں کے کیے کی وجہ سے ہلاک کرے گا؟
اس سے مراد بچھڑے کے پجاری ہیں۔ موسیٰ کا خیال تھا کہ انہیں بچھڑا بنانے کے سبب سزا دی گئی ہے، اور انہوں نے سوال کے انداز میں کہا: کیا تو ہمیں نادانوں کے کیے کی وجہ سے ہلاک کرے گا؟ مبرد نے کہا: «أَهْلَكْتَهُمْ بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا» میں یہ سوال دراصل شفقت اور التجا کے طور پر ہے، یعنی ہمیں ہلاک نہ کر۔ موسیٰ علیہ السلام جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ ایک شخص کے جرم کی وجہ سے دوسرے کو پکڑے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان: «إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ» یعنی جس آزمائش میں نادان مبتلا ہوئے، وہ تیری طرف سے آزمائش اور ابتلا ہی تھی۔ اس کے ذریعے تو نے ایک قوم کو گمراہ کیا تو وہ فتنے میں پڑ گئے، اور دوسری قوم کو ہدایت دی تو انہیں محفوظ رکھا، یہاں تک کہ وہ تیرے دین پر ثابت قدم رہے۔ یہی «تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ» کا مطلب ہے۔ «أَنْتَ وَلِيُّنَا» یعنی تو ہمارا مددگار اور محافظ ہے۔
«فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ» پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔
«وَاكْتُبْ لَنَا» یعنی ہمارے لیے لازم اور مقدر فرما۔ «فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً» یعنی نعمت اور عافیت؛ «وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً» یعنی آخرت میں بھلائی؛ اور اس سے مراد مغفرت اور جنت ہے۔ «إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ» یعنی ہم تیری طرف توبہ کرکے پلٹے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ» یعنی اپنی مخلوق میں سے جسے چاہوں۔ «وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ» یعنی میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ حسن اور قتادہ نے کہا: دنیا میں اللہ کی رحمت نیک و بد، سب کے لیے وسیع ہے، لیکن قیامت کے دن خاص طور پر متقیوں کے لیے ہوگی۔ عطیہ عوفی نے کہا: اللہ کی رحمت ہر چیز کو شامل ہے، لیکن لازم اور مخصوص رحمت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر کو بھی رزق ملتا ہے اور مومنوں کی وجہ سے اس سے بلا ٹالی جاتی ہے، چنانچہ اللہ کی رحمت کی وسعت کے سبب وہ بھی اس میں زندگی گزارتا ہے۔ لیکن جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو رحمت خاص طور پر مومنوں کے لیے ہوگی، جیسے کوئی شخص دوسرے کے چراغ کی روشنی سے فائدہ اٹھائے، پھر چراغ والا اپنا چراغ لے جائے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما، قتادہ اور ابن جریج نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ»، تو ابلیس نے کہا: میں بھی ان چیزوں میں شامل ہوں۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: «فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ»۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے بھی اس رحمت کی تمنا کی اور کہا: ہم تقویٰ اختیار کرتے، زکوٰۃ دیتے اور ایمان لاتے ہیں۔ پھر اللہ نے اسے اس امت کے لیے خاص فرما دیا، چنانچہ فرمایا: …
صحیح البخاری (حدیث نمبر 7405) میں حدیثِ قدسی روایت ہوئی ہے: «میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔»