دعا 47 امن و عافیت اور رزق 8 منٹ مطالعہ

اللہ کے سامنے کامل محتاجی

حضرت موسیٰ علیہ السلام 28:24
عربی متن

رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ، فَقِيرٌ.

رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ القصص 28:24
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbi innī limā anzalta ilayya min khayrin faqīr
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور کہنے لگے اے پروردگار! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں.[1]

مفہوم اور خصوصیت

یہ دعا اللہ تعالیٰ کے سامنے کامل محتاجی کے اظہار کا اسلوب ہے۔ فَقِیر (فقیر) کا مطلب ہے محتاج اور بے نیاز نہ ہونا۔ یہ رزق، پناہ اور مدد کی ایک لطیف دعا ہے، جس میں براہِ راست کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

موسیٰ علیہ السلام کو ان دونوں عورتوں پر شفقت آئی اور آپ نے ان پر رحم کرتے ہوئے (فَسَقَى لَهُمَا) ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ آپ نے نہ ان سے اجرت طلب کی اور نہ آپ کا کوئی مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے سوا تھا۔ جب آپ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا تو اس وقت سخت گرمی اور دن کا درمیانی حصہ تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (ثُمَّ تَوَلَّى إِلَى الظِّلِّ) سے معلوم ہوتا ہے۔ آپ تھکن کے بعد سائے میں آرام کرنے کے لیے چلے گئے۔

(فَقَالَ) اس حالت میں اپنے رب سے رزق طلب کرتے ہوئے آپ نے کہا: (رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ) یعنی: اے میرے رب! جو بھلائی تو میری طرف بھیجے اور میرے لیے آسان کرے، میں اس کا محتاج ہوں۔ یہ آپ کی حالت کے ذریعے کی گئی دعا تھی، اور حالت کے ذریعے سوال کرنا زبان سے سوال کرنے سے زیادہ بلیغ ہوتا ہے۔ آپ اسی حال میں اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے حضور عاجزی کرتے رہے۔ اور ان دونوں عورتوں نے اپنے والد کے پاس جا کر انہیں پیش آنے والے واقعے کی خبر دی۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

موسی علیہ السلام کا فرار ٭٭ فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گئے تو آپ علیہ السلام وہاں سے تن تنہا چپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ علیہ السلام کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جا رہے تھے کہ اے اللہ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ علیہ السلام کو راستہ دکھا گیا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

تھوڑی دیر میں آپ علیہ السلام جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے لگے مجھے ذات باری سے امید ہے کہ وہ راہ راست پر ہی لے جائے گا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کی امید بھی پوری کی۔ اور آخرت کی سیدھی راہ نہ صرف بتائی بلکہ اوروں کو بھی سیدھی راہ بتانے والا بنایا۔ مدین کے پاس کے کنویں پر آئے تو دیکھا کہ چرواہے پانی کھینچ کھینچ کر اپنے اپنے جانوروں کو پلا رہے ہیں۔

وہیں آپ علیہ السلام نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ دو عورتیں اپنی بکریوں کو ان جانوروں کے ساتھ پانی پینے سے روک رہی ہیں تو آپ علیہ السلام کو ان بکریوں پر اور ان عورتوں کی اس حالت پر کہ بیچاریاں پانی نکال کر پلا نہیں سکتیں اور ان چرواہوں میں سے کوئی اس کا روادار نہیں کہ اپنے کھینچے ہوئے پانی میں سے ان کی بکریوں کو بھی پلادے تو آپ علیہ السلام کو رحم آیا ان سے دریافت فرمایا کہ تم اپنے جانوروں کو اس پانی سے کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پانی نکال نہیں سکتیں جب یہ اپنے جانوروں کو پانی پلاکرچلے جائیں تو بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلادیں گی۔ ہمارے والد صاحب ہیں لیکن وہ بہت ہی بوڑھے ہیں۔

صفحہ نمبر6553 بکریوں کو پانی پلایا ٭٭ آپ علیہ السلام نے خود ہی ان جانوروں کو پانی کھینچ کر پلا دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ” اس کنویں کے منہ کو ان چرواہوں نے ایک بڑے پتھر سے بند کر دیا تھا۔ جس چٹان کو دو آدمی مل کر سرکا سکتے تھے آپ علیہ السلام نے تن تنہا اس پتھر کو ہٹا دیا اور ایک ڈول نکالا تھا جس میں اللہ نے برکت دی اور ان دونوں لڑکیوں کی بکریاں شکم سیر ہو گئیں۔ “

اب آپ علیہ السلام تھکے ہارے بھوکے پیاسے ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ مصر سے مدین تک پیدل بھاگے دوڑے آئے تھے۔ پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے کھانے کو کچھ پاس نہیں تھا درختوں کے پتے اور گھاس پھونس کھاتے رہے تھے۔ پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا اور گھاس کا سبز رنگ باہر سے نظر آ رہا تھا۔

آدھی کھجور سے بھی اس وقت آپ ترسے ہوئے تھے حالانکہ اس وقت کی ساری مخلوق سے زیادہ برگزیدہ اللہ کے نزدیک آپ تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ صفحہ نمبر6554 سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ” دو رات کا سفر کر کے میں مدین گیا اور وہاں کے لوگوں سے اس درخت کا پتہ پوچھا جس کے نیچے اللہ کے کلیم علیہ السلام نے سہارا لیا تھا۔ لوگوں ایک درخت کی طرف اشارہ کیا میں نے دیکھا کہ وہ ایک سرسبز درخت ہے۔ میرا جانور بھوکا تھا اس نے اس میں منہ ڈالا پتے منہ میں لے کر بڑی دیر تک بدقت چباتا رہا لیکن آخر اس نے نکال ڈالے۔

میں نے کلیم اللہ علیہ السلام کے لیے دعا کی اور وہاں سے واپس لوٹ آیا۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:56/10:ضعیف]

اور روایت میں ہے کہ آپ اس درخت کو دیکھنے کے لیے گئے تھے جس سے اللہ نے آپ علیہ السلام سے باتیں کی تھیں جیسے کہ آگے آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ببول کا درخت تھا۔ الغرض اس درخت تلے بیٹھ کر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ” اے رب میں تیرے احسانوں کا محتاج ہوں۔

“ عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ” اس عورت نے بھی آپ علیہ السلام کی دعا سنی۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:57/10:] صفحہ نمبر6555

تفسیر البغوی

(فَسَقَى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّى إِلَى الظِّلِّ) یعنی ایک درخت کے سائے کی طرف گئے اور سخت گرمی اور بھوک کی وجہ سے اس کے سائے میں بیٹھ گئے۔ (فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ) یعنی کھانے کے لیے۔ (فَقِيرٌ) اہلِ لغت کہتے ہیں کہ یہاں لام کا معنی ’’کی طرف‘‘ ہے۔ کہا جاتا ہے: وہ اس کے لیے محتاج ہے، اور وہ اس کی طرف محتاج ہے۔

مطلب یہ ہے کہ: اے میرے رب! جو بھلائی تو میری طرف بھیجے، یعنی کھانا، میں اس کا محتاج ہوں۔ وہ بھوک کی وجہ سے کھانا طلب کر رہے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: انہوں نے اللہ تعالیٰ سے روٹی کا ایک ٹکڑا مانگا تاکہ اس سے اپنی کمر سیدھی رکھ سکیں۔

باقر نے کہا: آپ نے یہ دعا اس وقت کی جب آپ کھجور کے ایک ٹکڑے کے بھی محتاج تھے۔ سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: (رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ)، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس کے نزدیک سب سے زیادہ معزز تھے؛ اور پھر بھی آپ کھجور کے ایک ٹکڑے کے محتاج تھے۔ مجاہد نے کہا: آپ نے صرف روٹی مانگی تھی۔ انہوں نے کہا: جب دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس واپس پہنچیں تو لوگوں سے پہلے جلدی آ گئی تھیں، جبکہ ان کے جانور خوب پانی پی کر پیٹ بھر چکے تھے۔

ان کے والد نے پوچھا: تم دونوں اتنی جلدی کیوں آ گئیں؟ انہوں نے کہا: ہمیں ایک نیک آدمی ملا جس نے ہم پر رحم کیا اور ہمارے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ تو ان کے والد نے ان میں سے ایک سے کہا: جاؤ اور اسے میرے پاس بلاؤ۔

تائیدی حدیث

جامع ترمذی (حدیث: 2482) میں روایت ہے: ’’جو اللہ کے سامنے اپنی محتاجی ظاہر کرے، اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔‘‘

نشانیاں
  • #دعا
  • #اللہ سے محتاجی
  • #رزق
  • #حضرت موسیٰ
  • #حسنِ دعا
  • #قرآن

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →