دعا 16 توبہ اور مغفرت 5 منٹ مطالعہ

توبہ اور مغفرت کی دعا

آدم اور حوا علیہما السلام 7:23
عربی متن

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا، وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا، وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ.

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ الأعراف 7:23
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbanā ẓalamnā anfusanā wa in lam taghfir lanā wa tarḥamnā lanakūnanna mina l-khāsirīn
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا، اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔[1]

مفہوم اور خصوصیت

دعا کی صورت: اپنی محتاجی بیان کرنا اور گناہ کا اعتراف کرنا (بِالذَّنْبِ إِقْرَارٌ)۔ یہ نوعِ انسانی کی پہلی دعا ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو توبہ کرنے کی تعلیم دی۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پر توبہ کی توفیق اور اسے قبول فرمانے کے ذریعے احسان کیا۔ انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کی، چنانچہ کہا: «اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے۔» یعنی: ہم نے وہ گناہ کیا جس سے تو نے ہمیں منع فرمایا تھا، اور گناہ کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا۔

اگر تو گناہ کے اثر اور اس کی سزا کو مٹا کر ہمیں نہ بخشے، اور توبہ قبول فرما کر اور ایسی خطاؤں سے محفوظ رکھ کر ہم پر رحم نہ کرے تو ہم نے اپنے لیے نقصان کا سبب اختیار کرلیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو بخش دیا۔ «اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی، تو وہ بھٹک گئے۔ پھر ان کے رب نے انہیں برگزیدہ کیا، ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں ہدایت دی۔» (طٰہٰ 20:121-122)

اور یہ سب اس حال میں ہوا کہ ابلیس اپنی سرکشی پر قائم رہا اور نافرمانی سے باز نہ آیا۔ پس جو شخص گناہ صادر ہونے پر اعتراف، مغفرت کی درخواست، ندامت اور گناہ چھوڑنے کے معاملے میں آدم علیہ السلام کی مشابہت اختیار کرے، اس کا رب اسے برگزیدہ فرماتا اور ہدایت دیتا ہے۔ اور جو شخص گناہ ہوجانے کے بعد ابلیس جیسا ہو، یعنی مسلسل نافرمانیوں میں بڑھتا رہے، تو وہ اللہ سے دوری ہی میں بڑھتا ہے۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

لغزش کے بعد کیا ہوا ؟ ٭٭ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” آدم علیہ السلام کا قد مثل درخت کھجور کے، بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، درخت کھانے سے پہلے انہیں اپنی شرمگاہ کا علم بھی نہ تھا، نظر ہی نہ پڑی تھی۔ لیکن اس خطا کے ہوتے ہی وہ ظاہر ہو گئی۔ بھاگنے لگے تو بال ایک درخت میں الجھ گئے، کہنے لگے: اے درخت!

مجھے چھوڑ دے۔ درخت سے جواب ملا کہ ناممکن ہے۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے آدم! مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کہنے لگے: یا اللہ! شرمندگی ہے، شرمسار ہوں۔ “ گو یہ روایت مرفوع بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہونا ہی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ” درخت کا پھل کھا لیا اور چھپانے کی چیز ظاہر ہو گئی، جنت کے پتوں سے چھپانے لگے، ایک کو ایک پر چپکا نے لگے، آدم علیہ السلام مارے غیرت کے ادھر ادھر بھاگنے لگے لیکن ایک درخت کے ساتھ الجھ کر رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ندا دی کہ آدم! مجھ سے بھاگتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یااللہ!

مگر شرماتا ہوں۔ جناب باری نے فرمایا: آدم جو کچھ میں نے تجھے دے رکھا تھا، کیا وہ تجھے کافی نہ تھا؟ آپ نے جواب دیا: بیشک کافی تھا لیکن یااللہ مجھے یہ علم نہ تھا کہ کوئی تیرا نام لے کر، تیری قسم کھا کر جھوٹ کہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب تو میری نافرمانی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور تکلیفیں اٹھانا ہوں گی۔

صفحہ نمبر2876 چنانچہ جنت سے دونوں کو اتار دیا گیا، اب اس کشادگی کے بعد کی یہ تنگی ان پر بہت گراں گزری، کھانے پینے کو ترس گئے -پھر انہیں لوہے کی صنعت سکھائی گئی، کھیتی کا کام بتایا گیا، آپ نے زمین صاف کی، دانے بوئے، وہ آگے بڑھے، بالیں نکلیں، دانے پکے، پھر توڑے گئے، پھر پیسے گئے، آٹا گندھا، پھر روٹی تیار ہوئی، پھر کھائی -جب جا کر بھوک کی تکلیف سے نجات پائی۔ تین کے پتوں سے اپنا آگا پیچھا چھپاتے پھرتے تھے جو مثل کپڑے کے تھے، وہ نورانی پردے جن سے ایک دوسرے سے یہ اعضاء چھپے ہوئے تھے، نافرمانی ہوتے ہی ہٹ گئے اور وہ نظر آنے لگے۔

آدم علیہ السلام اسی وقت اللہ کی طرف رغبت کرنے لگے، توبہ استغفار کی طرف جھک پڑے، بخلاف ابلیس کے کہ اس نے سزا کا نام سنتے ہی اپنے ابلیسی ہتھیار یعنی ہمیشہ کی زندگی وغیرہ طلب کی۔ اللہ نے دونوں کی دعا سنی اور دونوں کی طلب کردہ چیزیں عنایت فرمائی۔ “

مروی ہے کہ آدم علیہ السلام نے جب درخت کھا لیا، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس درخت سے میں نے تمہیں روک دیا تھا، پھر تم نے اسے کیوں کھایا؟ کہنے لگے: حواء نے مجھے اس کی رغبت دلائی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کی سزا یہ ہے کہ حمل کی حالت میں بھی تکلیف میں رہیں گی، بچہ ہونے کے وقت بھی تکلیف اٹھائیں گی۔ یہ سنتے ہی حواء نے نوحہ شروع کیا، حکم ہوا کہ یہی تجھ پر اور تیری اولاد پر لکھ دیا گیا۔

آدم علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی اور اللہ نے انہیں دعا سکھائی۔ انہوں نے دعا کی، جو قبول ہوئی، قصور معاف فرما دیا گیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ! صفحہ نمبر2877

تفسیر البغوی

«ان دونوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے۔»

تائیدی حدیث

الحاکم کی «المستدرک» (2/375) میں ایسی روایات نقل ہوئی ہیں جن میں بیان کیا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام جنت سے نکلنے کے بعد روئے اور یہ الفاظ کہتے رہے۔

نشانیاں
  • #توبہ
  • #مغفرت
  • #رحمت
  • #اعترافِ گناہ
  • #آدم علیہ السلام
  • #قرآنی دعائیں

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →