رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ.
رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
نوح (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر.[1]
اس دعا میں «انْصُرْنِي» (میری مدد فرما) کا صیغۂ امر آیا ہے۔ یہ مختصر مگر پُراثر دعا حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تک دعوت دینے کے بعد، ضد پر اڑے ہوئے مشرکین کے مقابلے میں مدد کے لیے کی۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
جب نوح علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کی نصیحت سے ان لوگوں کو بھاگنے کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہوتا تو انہوں نے کہا: «اے میرے رب! ان کے مجھے جھٹلانے کے سبب میری مدد فرما۔» پس انہوں نے اللہ کے غضب کی خاطر ان کے مقابلے میں اپنے رب سے مدد مانگی، کیونکہ انہوں نے اللہ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا۔ اور انہوں نے کہا: «اے میرے رب!
زمین پر کافروں میں سے کسی بسنے والے کو باقی نہ چھوڑ۔ بے شک اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی اولاد بھی بدکار اور سخت کافر ہی ہوگی۔» (سورۃ نوح 71:26–27) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اور یقیناً نوح نے ہمیں پکارا، تو ہم کیا ہی خوب دعا قبول کرنے والے ہیں!» (سورۃ الصافات 37:75)
امام ابن کثیر کی تفسیر
نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭ جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [ 54-القمر: 10 ] میرے پروردگار میں لاچار ہو گیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الٰہی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کر چکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو یہ سب غرق ہو جائیں گے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گا۔ اس کا پورا قصہ سورۃ ھود کی تفسیر میں گزر چکا ہے ہے اس لیے ہم نہیں دہراتے۔
جب تو اور تیرے مومن ساتھی کشتی پرسوار ہو جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [ 43-الزخرف:
12- 14 ] اللہ نے تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم سواری لے کر اپنے رب کی نعمت کو مانو اور سوار ہو کر کہو کہ وہ اللہ پاک ہے جس نے ان جانوروں کو ہمارے تابع بنا دیا ہے حالانکہ ہم میں خود اتنی طاقت نہ تھی بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے یہی کہا اور فرمایا «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11-هود: 41 ] آؤ اس میں بیٹھ جاؤ اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور ٹھیرنا ہے پس شروع چلنے کے وقت بھی اللہ کو یاد کیا۔
اور جب وہ ٹھیرنے لگی تب بھی اللہ کو یاد کیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے مبارک منزل پر اتارنا اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے اس میں یعنی مومنوں کی نجات اور کافروں کی ہلاکت میں انبیاء کی تصدیق کی نشایاں ہیں اللہ کی الوہیت کی علامتیں ہیں اس کی قدرت اس کا علم اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یقیناً رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش اور ان کا پورا امتحان کر لیتا ہے۔ صفحہ نمبر5720
تفسیر البغوی
«اے میرے رب! ان کے مجھے جھٹلانے کے سبب میری مدد فرما» یعنی ان کے مجھے جھٹلانے کی وجہ سے انہیں ہلاک کر کے میری مدد فرما۔
صحیح البخاری (حدیث نمبر 3337) میں حضرت نوح علیہ السلام، ان کی کشتی اور طوفانِ عظیم سے اہلِ ایمان کی نجات کا تفصیلی واقعہ بیان ہوا ہے۔