دعا 36 امن و عافیت اور رزق 5 منٹ مطالعہ

بابرکت مقام پر اترنے کی دعا

حضرت نوح علیہ السلام کی دعا 23:29
عربی متن

رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا، وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ.

رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ المؤمنون 23:29
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbi anzilnī munzalan mubārakan wa anta khayru al-munzilīn
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اور کہنا کہ اے میرے رب[1] ! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر ہے اتارنے والوں میں[2].

مفہوم اور خصوصیت

«أَنْزِلْنِي» (انزلنی) کا صیغہ امر ہے، یعنی مجھے اتار یا ٹھہرا دے۔ یہ دعا کسی نئے گھر، شہر، سفر یا زندگی کی نئی حالت میں داخل ہوتے وقت پڑھی جاتی ہے۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

اور کہیے: اے میرے رب! مجھے بابرکت مقام پر اتار اور تو اتارنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ یعنی تمہارے لیے ایک اور نعمت باقی ہے، پس اس کے لیے اللہ سے دعا کرو: وہ تمہارے لیے بابرکت ٹھکانا آسان فرما دے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اور معاملہ پورا کر دیا گیا، اور کشتی جودی پر ٹھہر گئی، اور کہا گیا: ظالم لوگوں کے لیے دوری ہو»۔ یہاں تک کہ فرمایا: «کہا گیا: اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اتر آؤ، تم پر بھی اور ان امتوں پر بھی جو تمہارے ساتھ ہیں»۔ (الآية)

امام ابن کثیر کی تفسیر

نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭ جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [ 54-القمر: 10 ] میرے پروردگار میں لاچار ہو گیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الٰہی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کر چکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو یہ سب غرق ہو جائیں گے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گا۔ اس کا پورا قصہ سورۃ ھود کی تفسیر میں گزر چکا ہے ہے اس لیے ہم نہیں دہراتے۔

جب تو اور تیرے مومن ساتھی کشتی پرسوار ہو جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [ 43-الزخرف:

12- 14 ] اللہ نے تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم سواری لے کر اپنے رب کی نعمت کو مانو اور سوار ہو کر کہو کہ وہ اللہ پاک ہے جس نے ان جانوروں کو ہمارے تابع بنا دیا ہے حالانکہ ہم میں خود اتنی طاقت نہ تھی بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے یہی کہا اور فرمایا «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11-هود: 41 ] آؤ اس میں بیٹھ جاؤ اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور ٹھیرنا ہے پس شروع چلنے کے وقت بھی اللہ کو یاد کیا۔

اور جب وہ ٹھیرنے لگی تب بھی اللہ کو یاد کیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے مبارک منزل پر اتارنا اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے اس میں یعنی مومنوں کی نجات اور کافروں کی ہلاکت میں انبیاء کی تصدیق کی نشایاں ہیں اللہ کی الوہیت کی علامتیں ہیں اس کی قدرت اس کا علم اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یقیناً رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش اور ان کا پورا امتحان کر لیتا ہے۔ صفحہ نمبر5720

تفسیر البغوی

«اور کہیے: اے میرے رب! مجھے بابرکت مقام پر اتار۔» ابو بکر نے عاصم سے «مُنْزَلًا» پڑھا ہے، میم پر زبر اور زے کے نیچے زیر کے ساتھ؛ اس سے مراد اترنے کی جگہ ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد سوار ہونے کے بعد کشتی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اترنے کے بعد زمین مراد ہے۔

یہ احتمال بھی ہے کہ مراد کشتی میں ٹھہرنا ہو، اور یہ بھی کہ کشتی سے نکلنے کے بعد کا مقام ہو۔ باقی قراء نے «مُنْزَلًا» پڑھا ہے، میم پر پیش اور زے پر زبر کے ساتھ، یعنی اتارنا۔ کشتی میں برکت سے مراد نجات ہے، اور اس سے نکلنے کے بعد اترنے میں برکت سے مراد آپ کے تین بیٹوں سے اولاد کی کثرت ہے۔ «اور تو اتارنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔»

تائیدی حدیث

صحیح مسلم (حدیث نمبر 2708) میں خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی بھی نئی جگہ پڑاؤ کرتے وقت اللہ کی پناہ مانگنے کی دعا کرنے کی ترغیب دی۔

نشانیاں
  • #دعا
  • #حضرت نوح
  • #برکت
  • #سفر
  • #محفوظ قیام
  • #قرآنی دعائیں

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →