رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِي فِي الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ.
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِي فِي الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
تو اے رب! تو مجھے ان ﻇالموں کے گروه میں نہ کرنا.[1]
اس دعا میں ممانعت کا صیغہ «فَلَا تَجْعَلْنِي» ہے۔ یہ گناہ گاروں اور ظلم کرنے والوں پر نازل ہونے والے عذاب سے نجات کی دعا ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
آیات ۹۳ اور ۹۴ کی تفسیر: جب اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کے سامنے اپنی عظیم نشانیاں واضح کر دیں، لیکن انہوں نے نہ ان کی طرف توجہ کی اور نہ انہیں تسلیم کیا، تو ان پر عذاب لازم ہو گیا اور انہیں اس کے نازل ہونے کی خبر دے دی گئی۔ اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت فرمائی کہ کہیں: «کہہ دیجیے: اے میرے رب! اگر تو مجھے وہ عذاب دکھا دے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے» یعنی جب بھی تو مجھے ان کا عذاب دکھائے اور اس وقت مجھے وہاں حاضر کرے، «تو اے میرے رب! مجھے ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا» یعنی مجھے ان گناہوں سے محفوظ رکھ اور مجھ پر رحم فرما جن میں تو نے انہیں مبتلا کیا، جو عذاب کا سبب بنتے ہیں۔
اور مجھے اس عذاب سے بھی بچا جو ان پر نازل ہو، کیونکہ جب عمومی سزا نازل ہوتی ہے تو اس کی لپیٹ میں نافرمانوں کے ساتھ دوسرے لوگ بھی آ جاتے ہیں۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭ سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔
جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔
لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔
دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔ صفحہ نمبر5803 شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭ انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔
استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔
ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔
«بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔ صفحہ نمبر5804
تفسیر البغوی
(رَبِّ) یعنی: اے میرے رب! (فَلَا تَجْعَلْنِي فِي الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ) یعنی: مجھے ان کے ساتھ ہلاک نہ کرنا۔
امام احمد کے «مسند» (نمبر ۲۲۱۲۵) میں نبی ﷺ کی یہ دعا نقل کی گئی ہے: «اے اللہ! اگر تو کسی قوم کے لیے آزمائش کا ارادہ فرمائے تو مجھے آزمائش میں مبتلا کیے بغیر اپنی طرف اٹھا لینا!»