دعا 38 شر سے حفاظت 9 منٹ مطالعہ

شیطانوں کے وسوسوں سے پناہ

اللہ سے پناہ مانگنے والا بندہ 23:97–98
عربی متن

رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَعُوذُ بِكَ. رَبِّ، أَنْ يَحْضُرُونِ.

رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ المؤمنون 23:97–98
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbi a‘ūdhu bika min hamazāti ash-shayāṭīn, wa-a‘ūdhu bika rabbi an yaḥḍurūn.
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اور دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناه چاہتا ہوں.[1] اور اے رب! میں تیری پناه چاہتا ہوں کہ وه میرے پاس آجائیں.[1]

مفہوم اور خصوصیت

اس دعا میں «أَعُوذُ بِكَ» کے الفاظ کے ساتھ دو مرتبہ اللہ کی پناہ طلب کی گئی ہے۔ یہ غصے کے وسوسوں، شیطانی اکساہٹ اور شیاطین کی موجودگی سے حفاظت کی مسنون دعا ہے۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

اور کہیے: «اے میرے رب! میں تیری پناہ لیتا ہوں» یعنی تیری قوت اور طاقت کے سہارے پناہ لیتا ہوں، اپنی قوت اور طاقت سے بری ہوتے ہوئے؛ «شیطانوں کی اکساہٹوں سے»۔

«اور اے میرے رب! میں تیری پناہ لیتا ہوں کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں» یعنی میں اس شر سے تیری پناہ لیتا ہوں جو ان کے براہِ راست اثر، اکساہٹ اور چھونے کے سبب مجھے پہنچتا ہے، اور اس شر سے بھی جو ان کی موجودگی اور وسوسوں سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہر طرح کے شر کے مادے اور اس کی اصل سے پناہ مانگنا ہے۔ اس میں شیطان کی ہر اکساہٹ، اس کے چھونے اور وسوسوں سے پناہ مانگنا بھی شامل ہے۔

جب اللہ اپنے بندے کو اس شر سے پناہ دے اور اس کی دعا قبول فرمائے تو وہ ہر شر سے محفوظ رہتا ہے اور ہر بھلائی کی توفیق پاتا ہے۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

برائی کے بدلے اچھائی ٭٭ سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔

جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔

لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔

دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔ صفحہ نمبر5803 شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭ انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔

استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔

ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔

«بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔ صفحہ نمبر5804

برائی کے بدلے اچھائی ٭٭ سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔

جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔

لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔

دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔ صفحہ نمبر5803 شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭ انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔

استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔

ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔

«بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔ صفحہ نمبر5804

تفسیر البغوی

«اور اے میرے رب! میں تیری پناہ لیتا ہوں کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں» یعنی میرے کسی بھی معاملے میں۔ یہاں ان کے حاضر ہونے کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ جب شیطان کسی کے پاس حاضر ہوتا ہے تو اسے وسوسے ڈالتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ یہ کافر، جو دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے ہیں، موت کو سامنے دیکھ کر دنیا میں واپس بھیجے جانے کی درخواست کریں گے۔ پھر فرمایا:

«اور کہیے: اے میرے رب! میں تیری پناہ لیتا ہوں» یعنی میں تیری پناہ میں آتا اور تجھ سے وابستہ ہوتا ہوں۔ «شیطانوں کی اکساہٹوں سے»۔ ابن عباس نے کہا: ان کی اکساہٹیں۔ حسن نے کہا: ان کے وسوسے۔ مجاہد نے کہا: ان کے پھونکنے اور پھونک مارنے سے۔

اہلِ معانی نے کہا: ان کا گمراہ کرکے گناہوں کی طرف دھکیلنا۔ «ہمز» کی اصل زور سے دھکیلنا ہے۔

تائیدی حدیث

سنن ابی داود (حدیث نمبر 3893) میں عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ صحابہ کو سوتے ہوئے ڈر جانے پر یہ کلمات پڑھنا سکھاتے تھے۔

نشانیاں
  • #دعا
  • #شیطان
  • #وسوسے
  • #پناہ
  • #حفاظت
  • #نیند کا خوف

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →