شرور سے اللہ کی پناہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ.
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، إِلَٰهِ النَّاسِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ، الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ، مِنَ الْجِنَّةِ، وَالنَّاسِ.
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَٰهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.[1] ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے.[1] اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے.[1] اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی).[1] اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے.[1] آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں.[1] لوگوں کے مالک کی[1] (اور). لوگوں کے معبود کی (پناه میں).[1] وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے.[1] جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے. (خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے.[1]
صورت: مصحف کی آخری سورتیں، معوذتین (پناہ مانگنے والی دو سورتیں)۔ مسلمان کے لیے نظر بد، جادو، حسد اور جنوں اور انسانوں میں سے شیاطین کے وسوسوں سے بچاؤ کی بنیادی ڈھال۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
«اور حسد کرنے والے کے شر سے، جب وہ حسد کرے»۔ حسد کرنے والا وہ ہے جو یہ پسند کرتا ہے کہ جس سے وہ حسد کرتا ہے، اس کی نعمت زائل ہو جائے؛ چنانچہ وہ اپنے بس میں آنے والے اسباب کے ذریعے اس نعمت کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے اللہ سے اس کے شر سے پناہ مانگنے اور اس کی چال کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ حسد کرنے والوں میں نظر لگانے والا بھی شامل ہے، کیونکہ نظر بد صرف ایسے حسد کرنے والے سے لگتی ہے جس کی طبیعت شرپسند اور باطن ناپاک ہو۔
پس یہ سورت تمام قسم کے شرور سے، عمومی اور خصوصی طور پر، پناہ مانگنے کو شامل ہے۔ یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جادو کی حقیقت ہے، اس کے نقصان کا خوف کیا جاتا ہے اور اس سے، نیز اس کے کرنے والوں سے، اللہ کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
یعنی: «کہہ دیجیے» پناہ مانگتے ہوئے: «میں پناہ مانگتا ہوں»؛ یعنی اللہ کی طرف رجوع کرتا، اسی کی پناہ لیتا اور اسی سے حفاظت طلب کرتا ہوں، «صبح کے رب کی»؛ یعنی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر نکالنے والے اور صبح کو نمودار کرنے والے کی۔
پھر عام حکم کے بعد ایک خاص بات بیان فرمائی: «اور اندھیری رات کے شر سے، جب وہ چھا جائے»؛ یعنی رات میں پیش آنے والے شر سے، جب وہ لوگوں پر چھا جاتی ہے اور اس میں بہت سی بدروحیں اور ایذا پہنچانے والے جانور پھیل جاتے ہیں۔
«اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی»؛ اس میں اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات، انسان، جن اور حیوانات شامل ہیں۔ ان مخلوقات میں موجود شر سے ان کے خالق کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
«اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے»؛ یعنی ان جادوگر عورتوں کے شر سے جو جادو کے لیے گرہیں باندھتی ہیں اور ان پر پھونکتی ہیں۔
یہ سورت لوگوں کے رب، ان کے مالک اور ان کے معبود کی پناہ مانگنے پر مشتمل ہے، اس شیطان سے جو تمام شرور کی جڑ اور سرچشمہ ہے۔ اس کے فتنے اور شر میں سے یہ ہے کہ وہ لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے، برائی کو خوش نما بنا کر دکھاتا ہے، اسے خوب صورت صورت میں ان کے سامنے لاتا ہے اور اسے کرنے کے ارادے کو ابھارتا ہے؛ جبکہ بھلائی کو ان کی نگاہ میں برا بنا دیتا، انہیں اس سے روکتا اور اس کی حقیقت کے خلاف صورت میں دکھاتا ہے۔ وہ ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہے: وسوسہ ڈالتا اور پیچھے ہٹتا رہتا ہے، یعنی جب بندہ اپنے رب کو یاد کرتا اور اسے دفع کرنے کے لیے اللہ سے مدد مانگتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
لہٰذا بندے کو چاہیے کہ اللہ کی ربوبیت کے ذریعے پناہ طلب کرے اور اسی سے مضبوطی حاصل کرے، کیونکہ اللہ تمام لوگوں کا رب ہے۔ تمام مخلوق اس کی ربوبیت اور بادشاہی کے تحت ہے؛ ہر چلنے والے جاندار کی پیشانی اسی کے قبضے میں ہے۔ اسی طرح اللہ کی الوہیت کے ذریعے بھی پناہ مانگنی چاہیے، جس کے لیے اس نے مخلوق کو پیدا کیا۔ یہ مقصد اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جب ان کے دشمن کے شر کو دفع کیا جائے؛ وہ دشمن انہیں اس مقصد سے کاٹ دینا، ان کے اور اس مقصد کے درمیان حائل ہونا اور انہیں اپنے گروہ میں شامل کرکے بھڑکتی آگ والوں میں سے بنانا چاہتا ہے۔
وسوسہ جنوں میں سے بھی ہوتا ہے اور انسانوں میں سے بھی، اسی لیے فرمایا: «جنوں اور انسانوں میں سے»۔
یہ سورت لوگوں کے رب، ان کے مالک اور ان کے معبود کی پناہ مانگنے پر مشتمل ہے، اس شیطان سے جو تمام شرور کی جڑ اور سرچشمہ ہے۔ اس کے فتنے اور شر میں سے یہ ہے کہ وہ لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے، برائی کو خوش نما بنا کر دکھاتا ہے، اسے خوب صورت صورت میں ان کے سامنے لاتا ہے اور اسے کرنے کے ارادے کو ابھارتا ہے؛ جبکہ بھلائی کو ان کی نگاہ میں برا بنا دیتا، انہیں اس سے روکتا اور اس کی حقیقت کے خلاف صورت میں دکھاتا ہے۔ وہ ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہے: وسوسہ ڈالتا اور پیچھے ہٹتا رہتا ہے، یعنی جب بندہ اپنے رب کو یاد کرتا اور اسے دفع کرنے کے لیے اللہ سے مدد مانگتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
لہٰذا بندے کو چاہیے کہ اللہ کی ربوبیت کے ذریعے پناہ طلب کرے اور اسی سے مضبوطی حاصل کرے، کیونکہ اللہ تمام لوگوں کا رب ہے۔ تمام مخلوق اس کی ربوبیت اور بادشاہی کے تحت ہے؛ ہر چلنے والے جاندار کی پیشانی اسی کے قبضے میں ہے۔ اسی طرح اللہ کی الوہیت کے ذریعے بھی پناہ مانگنی چاہیے، جس کے لیے اس نے مخلوق کو پیدا کیا۔ یہ مقصد اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جب ان کے دشمن کے شر کو دفع کیا جائے؛ وہ دشمن انہیں اس مقصد سے کاٹ دینا، ان کے اور اس مقصد کے درمیان حائل ہونا اور انہیں اپنے گروہ میں شامل کرکے بھڑکتی آگ والوں میں سے بنانا چاہتا ہے۔
وسوسہ جنوں میں سے بھی ہوتا ہے اور انسانوں میں سے بھی، اسی لیے فرمایا: «جنوں اور انسانوں میں سے»۔
تمام جہانوں کے رب اللہ ہی کے لیے اول و آخر، ظاہر و باطن ہر حال میں حمد ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنی نعمت پوری فرمائے اور ہمارے ان گناہوں کو معاف کرے جو ہمیں اس کی بہت سی برکتوں سے محروم رکھنے کا سبب بنے، اور ان خطاؤں اور خواہشات کو بھی معاف کرے جنہوں نے ہمارے دلوں کو اس کی آیات میں غور و فکر کرنے سے ہٹا دیا۔ ہم اس سے امید رکھتے اور آس لگاتے ہیں کہ وہ ہمارے اپنے اعمال کی برائی کے سبب ہمیں اپنے پاس کی بھلائی سے محروم نہ کرے؛ کیونکہ اللہ کی رحمت سے صرف کافر لوگ مایوس ہوتے ہیں اور اس کی رحمت سے صرف گمراہ لوگ ناامید ہوتے ہیں۔
اللہ اپنے رسول محمد، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر ہمیشہ اور مسلسل درود و سلام نازل فرمائے، ہر وقت۔ تمام نیکیاں اللہ ہی کی نعمت سے مکمل ہوتی ہیں، اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے۔
اللہ کی مدد اور اس کی بہترین توفیق سے اللہ کی کتاب کی تفسیر مکمل ہوئی۔ اسے جمع کرنے اور لکھنے والے عبد الرحمن بن ناصر بن عبد اللہ، المعروف ابن سعدی، ہیں۔ اللہ ان کی، ان کے والدین اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔ یہ کام ہجرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ہزار تین سو چوالیسویں سال، ماہِ ربیع الاول کی پہلی تاریخ کو مکمل ہوا۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
مضبوط پناہ گاہیں ناقابل تسخیر مدافعت اور شافی علاج: مسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس سورت کو اور اس کے بعد کی سورت کو قرآن شریف میں نہیں لکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری گواہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» الخ، تو میں نے بھی یہی کہا۔ پھر کہا «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» الخ، تو میں نے یہی کہا پس ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو ان دونوں کو قرآن شریف میں سے کاٹ دیا کرتے تھے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھ سے کہا گیا کہو میں نے کہا “ پس ہم بھی کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند حميدي:374:قال الشيخ زبير علي زئي:صحيح ]
مسند میں بھی یہ روایت الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ] اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحيح بخاري:4977 ]
مسند ابویعلی وغیرہ میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے اور نہ قرآن میں انہیں شمار کرتے تھے، [طبراني كبير:9152] بلکہ قاریوں اور فقہیوں کے نزدیک مشہور بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے، شاید انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو اور تواتر کے ساتھ ان تک نہ پہنچا ہو، پھر یہ اپنے اس قول سے رجوع کر کے جماعت کے قول کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان سورتوں کو قرآن میں داخل کیا جس کے نسخے چاروں طرف پھیلے، «ولله الحمد والمنه»
صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم نے نہیں دیکھا چند آیتیں مجھ پر اس رات ایسی نازل ہوئی ہیں جن جیسی کبھی دیکھی نہیں گئیں، “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی، یہ حدیث مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم:814 ]
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں آپ کی سواری کی نکیل تھامے چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” اب آؤ تم سوار ہو جاؤ “ ، میں نے اس خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانوں گا تو نافرمانی ہو گی سوار ہونا منظور کر لیا، تھوڑی دیر کے بعد میں اتر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عقبہ میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ “ میں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ضرور سکھایئے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان ہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی پھر مجھ سے فرمایا: ” تو نے دیکھ لیا؟ سن جب تو سوئے اور جب کھڑا ہوا نہیں پڑھ لیا کر “ ، ترمذی ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:1462،قال الشيخ الألباني:صحيح] مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا۔ [سنن ابوداود:1523،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث بھی ابوداؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ان جیسی سورتیں تو نے پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد:146/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد ضعیف]
عقبہ والی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ آپ کا ہونا مذکور ہے اس کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورتیں بتائیں، تو مجھے کچھ زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھ کر فرمایا کہ شاید تو انہیں چھوٹی سی سورتیں سمجھتا ہے، سن نماز کے قیام میں ان جیسی سورتوں کی قرأت اور ہے ہی نہیں۔ [مسند احمد:151/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد حسن]
نسائی شریف کی حدیث میں ہے کہ ان جیسی سورتیں کسی پناہ پکڑنے والے کے لئے اور نہیں [نسائی فی السنن الکبری:5433:حسن]
۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عقبہ سے یہ سورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائیں پھر فرمایا: ” نہ تو دعا کی ان جیسی اور سورتیں ہیں، نہ تعویذ کی “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7838:حسن]
ایک روایت میں ہے صبح کی فرض نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی دونوں سورتوں سے پڑھائی ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7850:حسن]
اور حدیث میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے جاتے ہیں اور آپ کے قدم پر ہاتھ رکھ کر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ! مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف پڑھائے، آپ نے فرمایا: ” اللہ کے پاس نفع دینے والی کوئی سورت «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» سے زیادہ نہیں ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7839:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ” میں تمہیں بتاؤں کہ پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے ان دونوں سورتوں سے افضل سورت اور کوئی نہیں “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7841:حسن]
پس بہت سی حدیثیں اپنے تواتر کی وجہ سے اکثر علماء کے نزدیک قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی کہ آپ نے ان دونوں سورتوں اور سورۃ اخلاص کی نسبت فرمایا کہ چاروں کتابوں میں ان جیسی سورتیں نہیں اتریں، نسائی وغیرہ میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے سواریاں کم تھیں باری باری سوار ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اور فرمایا: ” جب نماز پڑھو، تو انہیں پڑھا کرو۔ [مسند احمد:479/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:اسنادہ صحیح] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔
«واللہ اعلم» عبداللہ بن سلام کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں سمجھے؟ وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسی طرح پناہ مانگا کر، اس جیسی پناہ مانگنے کی اور سورت نہیں “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7845:حسن]
نسائی کی اور حدیث میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ سے یہ دونوں سورتیں آپ نے پڑھوائیں پھر فرمایا: ” انہیں پڑھتا رہ ان جیسی سورتیں تو اور پڑھے گا “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7854:حسن] ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے سر چہرے اور سامنے کے جسم پر پھیر لیتے تھے ۔ [موطا امام مالك:10:صحیح]
موطا امام مالک میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری سخت ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معوذات پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھیں، اس عمل کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت کا ہوتا تھا ۔ [صحیح بخاری:5016]
سورۃ ن کی تفسیر کے آخر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی آنکھوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں اتریں تو آپ نے انہیں لے لیا اور باقی سب چھوڑ دیں ، امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2057،قال الشيخ الألباني:صحیح] بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» [6-الأنعام:96] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ 10924 امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔
«غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔
10925 ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ”اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ“ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح]
اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “ ، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ” اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے “ ۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا ۔
[مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق] 10926 صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ” عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟
کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ” الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا “ ۔
[صحیح بخاری:5765] 10927 دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا ، [صحیح بخاری:6064]
یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے،
گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔
10928 ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ” نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔ “ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10929
مضبوط پناہ گاہیں ناقابل تسخیر مدافعت اور شافی علاج: مسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس سورت کو اور اس کے بعد کی سورت کو قرآن شریف میں نہیں لکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری گواہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» الخ، تو میں نے بھی یہی کہا۔ پھر کہا «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» الخ، تو میں نے یہی کہا پس ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو ان دونوں کو قرآن شریف میں سے کاٹ دیا کرتے تھے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھ سے کہا گیا کہو میں نے کہا “ پس ہم بھی کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند حميدي:374:قال الشيخ زبير علي زئي:صحيح ]
مسند میں بھی یہ روایت الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ] اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحيح بخاري:4977 ]
مسند ابویعلی وغیرہ میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے اور نہ قرآن میں انہیں شمار کرتے تھے، [طبراني كبير:9152] بلکہ قاریوں اور فقہیوں کے نزدیک مشہور بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے، شاید انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو اور تواتر کے ساتھ ان تک نہ پہنچا ہو، پھر یہ اپنے اس قول سے رجوع کر کے جماعت کے قول کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان سورتوں کو قرآن میں داخل کیا جس کے نسخے چاروں طرف پھیلے، «ولله الحمد والمنه»
صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم نے نہیں دیکھا چند آیتیں مجھ پر اس رات ایسی نازل ہوئی ہیں جن جیسی کبھی دیکھی نہیں گئیں، “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی، یہ حدیث مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم:814 ]
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں آپ کی سواری کی نکیل تھامے چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” اب آؤ تم سوار ہو جاؤ “ ، میں نے اس خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانوں گا تو نافرمانی ہو گی سوار ہونا منظور کر لیا، تھوڑی دیر کے بعد میں اتر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عقبہ میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ “ میں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ضرور سکھایئے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان ہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی پھر مجھ سے فرمایا: ” تو نے دیکھ لیا؟ سن جب تو سوئے اور جب کھڑا ہوا نہیں پڑھ لیا کر “ ، ترمذی ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:1462،قال الشيخ الألباني:صحيح] مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا۔ [سنن ابوداود:1523،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث بھی ابوداؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ان جیسی سورتیں تو نے پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد:146/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد ضعیف]
عقبہ والی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ آپ کا ہونا مذکور ہے اس کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورتیں بتائیں، تو مجھے کچھ زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھ کر فرمایا کہ شاید تو انہیں چھوٹی سی سورتیں سمجھتا ہے، سن نماز کے قیام میں ان جیسی سورتوں کی قرأت اور ہے ہی نہیں۔ [مسند احمد:151/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد حسن]
نسائی شریف کی حدیث میں ہے کہ ان جیسی سورتیں کسی پناہ پکڑنے والے کے لئے اور نہیں [نسائی فی السنن الکبری:5433:حسن]
۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عقبہ سے یہ سورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائیں پھر فرمایا: ” نہ تو دعا کی ان جیسی اور سورتیں ہیں، نہ تعویذ کی “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7838:حسن]
ایک روایت میں ہے صبح کی فرض نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی دونوں سورتوں سے پڑھائی ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7850:حسن]
اور حدیث میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے جاتے ہیں اور آپ کے قدم پر ہاتھ رکھ کر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ! مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف پڑھائے، آپ نے فرمایا: ” اللہ کے پاس نفع دینے والی کوئی سورت «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» سے زیادہ نہیں ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7839:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ” میں تمہیں بتاؤں کہ پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے ان دونوں سورتوں سے افضل سورت اور کوئی نہیں “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7841:حسن]
پس بہت سی حدیثیں اپنے تواتر کی وجہ سے اکثر علماء کے نزدیک قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی کہ آپ نے ان دونوں سورتوں اور سورۃ اخلاص کی نسبت فرمایا کہ چاروں کتابوں میں ان جیسی سورتیں نہیں اتریں، نسائی وغیرہ میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے سواریاں کم تھیں باری باری سوار ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اور فرمایا: ” جب نماز پڑھو، تو انہیں پڑھا کرو۔ [مسند احمد:479/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:اسنادہ صحیح] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔
«واللہ اعلم» عبداللہ بن سلام کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں سمجھے؟ وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسی طرح پناہ مانگا کر، اس جیسی پناہ مانگنے کی اور سورت نہیں “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7845:حسن]
نسائی کی اور حدیث میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ سے یہ دونوں سورتیں آپ نے پڑھوائیں پھر فرمایا: ” انہیں پڑھتا رہ ان جیسی سورتیں تو اور پڑھے گا “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7854:حسن] ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے سر چہرے اور سامنے کے جسم پر پھیر لیتے تھے ۔ [موطا امام مالك:10:صحیح]
موطا امام مالک میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری سخت ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معوذات پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھیں، اس عمل کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت کا ہوتا تھا ۔ [صحیح بخاری:5016]
سورۃ ن کی تفسیر کے آخر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی آنکھوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں اتریں تو آپ نے انہیں لے لیا اور باقی سب چھوڑ دیں ، امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2057،قال الشيخ الألباني:صحیح] بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» [6-الأنعام:96] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ 10924 امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔
«غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔
10925 ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ”اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ“ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح]
اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “ ، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ” اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے “ ۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا ۔
[مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق] 10926 صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ” عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟
کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ” الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا “ ۔
[صحیح بخاری:5765] 10927 دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا ، [صحیح بخاری:6064]
یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے،
گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔
10928 ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ” نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔ “ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10929
مضبوط پناہ گاہیں ناقابل تسخیر مدافعت اور شافی علاج: مسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس سورت کو اور اس کے بعد کی سورت کو قرآن شریف میں نہیں لکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری گواہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» الخ، تو میں نے بھی یہی کہا۔ پھر کہا «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» الخ، تو میں نے یہی کہا پس ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو ان دونوں کو قرآن شریف میں سے کاٹ دیا کرتے تھے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھ سے کہا گیا کہو میں نے کہا “ پس ہم بھی کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند حميدي:374:قال الشيخ زبير علي زئي:صحيح ]
مسند میں بھی یہ روایت الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ] اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحيح بخاري:4977 ]
مسند ابویعلی وغیرہ میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے اور نہ قرآن میں انہیں شمار کرتے تھے، [طبراني كبير:9152] بلکہ قاریوں اور فقہیوں کے نزدیک مشہور بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے، شاید انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو اور تواتر کے ساتھ ان تک نہ پہنچا ہو، پھر یہ اپنے اس قول سے رجوع کر کے جماعت کے قول کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان سورتوں کو قرآن میں داخل کیا جس کے نسخے چاروں طرف پھیلے، «ولله الحمد والمنه»
صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم نے نہیں دیکھا چند آیتیں مجھ پر اس رات ایسی نازل ہوئی ہیں جن جیسی کبھی دیکھی نہیں گئیں، “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی، یہ حدیث مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم:814 ]
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں آپ کی سواری کی نکیل تھامے چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” اب آؤ تم سوار ہو جاؤ “ ، میں نے اس خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانوں گا تو نافرمانی ہو گی سوار ہونا منظور کر لیا، تھوڑی دیر کے بعد میں اتر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عقبہ میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ “ میں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ضرور سکھایئے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان ہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی پھر مجھ سے فرمایا: ” تو نے دیکھ لیا؟ سن جب تو سوئے اور جب کھڑا ہوا نہیں پڑھ لیا کر “ ، ترمذی ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:1462،قال الشيخ الألباني:صحيح] مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا۔ [سنن ابوداود:1523،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث بھی ابوداؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ان جیسی سورتیں تو نے پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد:146/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد ضعیف]
عقبہ والی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ آپ کا ہونا مذکور ہے اس کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورتیں بتائیں، تو مجھے کچھ زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھ کر فرمایا کہ شاید تو انہیں چھوٹی سی سورتیں سمجھتا ہے، سن نماز کے قیام میں ان جیسی سورتوں کی قرأت اور ہے ہی نہیں۔ [مسند احمد:151/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد حسن]
نسائی شریف کی حدیث میں ہے کہ ان جیسی سورتیں کسی پناہ پکڑنے والے کے لئے اور نہیں [نسائی فی السنن الکبری:5433:حسن]
۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عقبہ سے یہ سورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائیں پھر فرمایا: ” نہ تو دعا کی ان جیسی اور سورتیں ہیں، نہ تعویذ کی “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7838:حسن]
ایک روایت میں ہے صبح کی فرض نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی دونوں سورتوں سے پڑھائی ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7850:حسن]
اور حدیث میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے جاتے ہیں اور آپ کے قدم پر ہاتھ رکھ کر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ! مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف پڑھائے، آپ نے فرمایا: ” اللہ کے پاس نفع دینے والی کوئی سورت «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» سے زیادہ نہیں ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7839:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ” میں تمہیں بتاؤں کہ پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے ان دونوں سورتوں سے افضل سورت اور کوئی نہیں “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7841:حسن]
پس بہت سی حدیثیں اپنے تواتر کی وجہ سے اکثر علماء کے نزدیک قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی کہ آپ نے ان دونوں سورتوں اور سورۃ اخلاص کی نسبت فرمایا کہ چاروں کتابوں میں ان جیسی سورتیں نہیں اتریں، نسائی وغیرہ میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے سواریاں کم تھیں باری باری سوار ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اور فرمایا: ” جب نماز پڑھو، تو انہیں پڑھا کرو۔ [مسند احمد:479/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:اسنادہ صحیح] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔
«واللہ اعلم» عبداللہ بن سلام کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں سمجھے؟ وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسی طرح پناہ مانگا کر، اس جیسی پناہ مانگنے کی اور سورت نہیں “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7845:حسن]
نسائی کی اور حدیث میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ سے یہ دونوں سورتیں آپ نے پڑھوائیں پھر فرمایا: ” انہیں پڑھتا رہ ان جیسی سورتیں تو اور پڑھے گا “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7854:حسن] ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے سر چہرے اور سامنے کے جسم پر پھیر لیتے تھے ۔ [موطا امام مالك:10:صحیح]
موطا امام مالک میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری سخت ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معوذات پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھیں، اس عمل کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت کا ہوتا تھا ۔ [صحیح بخاری:5016]
سورۃ ن کی تفسیر کے آخر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی آنکھوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں اتریں تو آپ نے انہیں لے لیا اور باقی سب چھوڑ دیں ، امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2057،قال الشيخ الألباني:صحیح] بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» [6-الأنعام:96] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ 10924 امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔
«غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔
10925 ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ”اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ“ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح]
اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “ ، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ” اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے “ ۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا ۔
[مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق] 10926 صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ” عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟
کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ” الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا “ ۔
[صحیح بخاری:5765] 10927 دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا ، [صحیح بخاری:6064]
یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے،
گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔
10928 ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ” نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔ “ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10929
مضبوط پناہ گاہیں ناقابل تسخیر مدافعت اور شافی علاج: مسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس سورت کو اور اس کے بعد کی سورت کو قرآن شریف میں نہیں لکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری گواہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» الخ، تو میں نے بھی یہی کہا۔ پھر کہا «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» الخ، تو میں نے یہی کہا پس ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو ان دونوں کو قرآن شریف میں سے کاٹ دیا کرتے تھے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھ سے کہا گیا کہو میں نے کہا “ پس ہم بھی کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند حميدي:374:قال الشيخ زبير علي زئي:صحيح ]
مسند میں بھی یہ روایت الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ] اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحيح بخاري:4977 ]
مسند ابویعلی وغیرہ میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے اور نہ قرآن میں انہیں شمار کرتے تھے، [طبراني كبير:9152] بلکہ قاریوں اور فقہیوں کے نزدیک مشہور بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے، شاید انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو اور تواتر کے ساتھ ان تک نہ پہنچا ہو، پھر یہ اپنے اس قول سے رجوع کر کے جماعت کے قول کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان سورتوں کو قرآن میں داخل کیا جس کے نسخے چاروں طرف پھیلے، «ولله الحمد والمنه»
صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم نے نہیں دیکھا چند آیتیں مجھ پر اس رات ایسی نازل ہوئی ہیں جن جیسی کبھی دیکھی نہیں گئیں، “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی، یہ حدیث مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم:814 ]
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں آپ کی سواری کی نکیل تھامے چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” اب آؤ تم سوار ہو جاؤ “ ، میں نے اس خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانوں گا تو نافرمانی ہو گی سوار ہونا منظور کر لیا، تھوڑی دیر کے بعد میں اتر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عقبہ میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ “ میں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ضرور سکھایئے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان ہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی پھر مجھ سے فرمایا: ” تو نے دیکھ لیا؟ سن جب تو سوئے اور جب کھڑا ہوا نہیں پڑھ لیا کر “ ، ترمذی ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:1462،قال الشيخ الألباني:صحيح] مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا۔ [سنن ابوداود:1523،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث بھی ابوداؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ان جیسی سورتیں تو نے پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد:146/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد ضعیف]
عقبہ والی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ آپ کا ہونا مذکور ہے اس کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورتیں بتائیں، تو مجھے کچھ زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھ کر فرمایا کہ شاید تو انہیں چھوٹی سی سورتیں سمجھتا ہے، سن نماز کے قیام میں ان جیسی سورتوں کی قرأت اور ہے ہی نہیں۔ [مسند احمد:151/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد حسن]
نسائی شریف کی حدیث میں ہے کہ ان جیسی سورتیں کسی پناہ پکڑنے والے کے لئے اور نہیں [نسائی فی السنن الکبری:5433:حسن]
۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عقبہ سے یہ سورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائیں پھر فرمایا: ” نہ تو دعا کی ان جیسی اور سورتیں ہیں، نہ تعویذ کی “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7838:حسن]
ایک روایت میں ہے صبح کی فرض نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی دونوں سورتوں سے پڑھائی ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7850:حسن]
اور حدیث میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے جاتے ہیں اور آپ کے قدم پر ہاتھ رکھ کر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ! مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف پڑھائے، آپ نے فرمایا: ” اللہ کے پاس نفع دینے والی کوئی سورت «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» سے زیادہ نہیں ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7839:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ” میں تمہیں بتاؤں کہ پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے ان دونوں سورتوں سے افضل سورت اور کوئی نہیں “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7841:حسن]
پس بہت سی حدیثیں اپنے تواتر کی وجہ سے اکثر علماء کے نزدیک قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی کہ آپ نے ان دونوں سورتوں اور سورۃ اخلاص کی نسبت فرمایا کہ چاروں کتابوں میں ان جیسی سورتیں نہیں اتریں، نسائی وغیرہ میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے سواریاں کم تھیں باری باری سوار ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اور فرمایا: ” جب نماز پڑھو، تو انہیں پڑھا کرو۔ [مسند احمد:479/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:اسنادہ صحیح] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔
«واللہ اعلم» عبداللہ بن سلام کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں سمجھے؟ وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسی طرح پناہ مانگا کر، اس جیسی پناہ مانگنے کی اور سورت نہیں “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7845:حسن]
نسائی کی اور حدیث میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ سے یہ دونوں سورتیں آپ نے پڑھوائیں پھر فرمایا: ” انہیں پڑھتا رہ ان جیسی سورتیں تو اور پڑھے گا “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7854:حسن] ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے سر چہرے اور سامنے کے جسم پر پھیر لیتے تھے ۔ [موطا امام مالك:10:صحیح]
موطا امام مالک میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری سخت ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معوذات پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھیں، اس عمل کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت کا ہوتا تھا ۔ [صحیح بخاری:5016]
سورۃ ن کی تفسیر کے آخر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی آنکھوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں اتریں تو آپ نے انہیں لے لیا اور باقی سب چھوڑ دیں ، امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2057،قال الشيخ الألباني:صحیح] بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» [6-الأنعام:96] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ 10924 امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔
«غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔
10925 ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ”اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ“ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح]
اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “ ، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ” اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے “ ۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا ۔
[مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق] 10926 صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ” عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟
کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ” الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا “ ۔
[صحیح بخاری:5765] 10927 دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا ، [صحیح بخاری:6064]
یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے،
گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔
10928 ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ” نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔ “ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10929
مضبوط پناہ گاہیں ناقابل تسخیر مدافعت اور شافی علاج: مسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس سورت کو اور اس کے بعد کی سورت کو قرآن شریف میں نہیں لکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری گواہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» الخ، تو میں نے بھی یہی کہا۔ پھر کہا «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» الخ، تو میں نے یہی کہا پس ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو ان دونوں کو قرآن شریف میں سے کاٹ دیا کرتے تھے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھ سے کہا گیا کہو میں نے کہا “ پس ہم بھی کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند حميدي:374:قال الشيخ زبير علي زئي:صحيح ]
مسند میں بھی یہ روایت الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ] اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحيح بخاري:4977 ]
مسند ابویعلی وغیرہ میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے اور نہ قرآن میں انہیں شمار کرتے تھے، [طبراني كبير:9152] بلکہ قاریوں اور فقہیوں کے نزدیک مشہور بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے، شاید انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو اور تواتر کے ساتھ ان تک نہ پہنچا ہو، پھر یہ اپنے اس قول سے رجوع کر کے جماعت کے قول کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان سورتوں کو قرآن میں داخل کیا جس کے نسخے چاروں طرف پھیلے، «ولله الحمد والمنه»
صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم نے نہیں دیکھا چند آیتیں مجھ پر اس رات ایسی نازل ہوئی ہیں جن جیسی کبھی دیکھی نہیں گئیں، “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی، یہ حدیث مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم:814 ]
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں آپ کی سواری کی نکیل تھامے چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” اب آؤ تم سوار ہو جاؤ “ ، میں نے اس خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانوں گا تو نافرمانی ہو گی سوار ہونا منظور کر لیا، تھوڑی دیر کے بعد میں اتر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عقبہ میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ “ میں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ضرور سکھایئے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان ہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی پھر مجھ سے فرمایا: ” تو نے دیکھ لیا؟ سن جب تو سوئے اور جب کھڑا ہوا نہیں پڑھ لیا کر “ ، ترمذی ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:1462،قال الشيخ الألباني:صحيح] مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا۔ [سنن ابوداود:1523،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث بھی ابوداؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ان جیسی سورتیں تو نے پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد:146/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد ضعیف]
عقبہ والی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ آپ کا ہونا مذکور ہے اس کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورتیں بتائیں، تو مجھے کچھ زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھ کر فرمایا کہ شاید تو انہیں چھوٹی سی سورتیں سمجھتا ہے، سن نماز کے قیام میں ان جیسی سورتوں کی قرأت اور ہے ہی نہیں۔ [مسند احمد:151/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد حسن]
نسائی شریف کی حدیث میں ہے کہ ان جیسی سورتیں کسی پناہ پکڑنے والے کے لئے اور نہیں [نسائی فی السنن الکبری:5433:حسن]
۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عقبہ سے یہ سورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائیں پھر فرمایا: ” نہ تو دعا کی ان جیسی اور سورتیں ہیں، نہ تعویذ کی “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7838:حسن]
ایک روایت میں ہے صبح کی فرض نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی دونوں سورتوں سے پڑھائی ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7850:حسن]
اور حدیث میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے جاتے ہیں اور آپ کے قدم پر ہاتھ رکھ کر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ! مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف پڑھائے، آپ نے فرمایا: ” اللہ کے پاس نفع دینے والی کوئی سورت «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» سے زیادہ نہیں ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7839:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ” میں تمہیں بتاؤں کہ پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے ان دونوں سورتوں سے افضل سورت اور کوئی نہیں “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7841:حسن]
پس بہت سی حدیثیں اپنے تواتر کی وجہ سے اکثر علماء کے نزدیک قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی کہ آپ نے ان دونوں سورتوں اور سورۃ اخلاص کی نسبت فرمایا کہ چاروں کتابوں میں ان جیسی سورتیں نہیں اتریں، نسائی وغیرہ میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے سواریاں کم تھیں باری باری سوار ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اور فرمایا: ” جب نماز پڑھو، تو انہیں پڑھا کرو۔ [مسند احمد:479/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:اسنادہ صحیح] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔
«واللہ اعلم» عبداللہ بن سلام کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں سمجھے؟ وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسی طرح پناہ مانگا کر، اس جیسی پناہ مانگنے کی اور سورت نہیں “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7845:حسن]
نسائی کی اور حدیث میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ سے یہ دونوں سورتیں آپ نے پڑھوائیں پھر فرمایا: ” انہیں پڑھتا رہ ان جیسی سورتیں تو اور پڑھے گا “ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7854:حسن] ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے سر چہرے اور سامنے کے جسم پر پھیر لیتے تھے ۔ [موطا امام مالك:10:صحیح]
موطا امام مالک میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری سخت ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معوذات پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھیں، اس عمل کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت کا ہوتا تھا ۔ [صحیح بخاری:5016]
سورۃ ن کی تفسیر کے آخر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی آنکھوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں اتریں تو آپ نے انہیں لے لیا اور باقی سب چھوڑ دیں ، امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2057،قال الشيخ الألباني:صحیح] بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» [6-الأنعام:96] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ 10924 امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔
«غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔
10925 ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ”اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ“ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح]
اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “ ، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ” اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے “ ۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا ۔
[مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق] 10926 صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ” عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟
کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ” الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا “ ۔
[صحیح بخاری:5765] 10927 دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا ، [صحیح بخاری:6064]
یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے،
گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔
10928 ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ” نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔ “ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10929
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ” ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے “ ۔
[صحیح مسلم:2814] 10934 بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ” سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں “ ، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے “ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے “ ، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے ۔
10935 مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے “ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔
پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ 10936 اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“ ۔ 10937 مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” نماز پڑھی؟
“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ” کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو “ ، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “ ، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ!
نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ” بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے “ ، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ” کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے “ ، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا “ ، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟
فرمایا: ” باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا “ ، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ” آدم علیہ السلام “ ، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ!
رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ” تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت “ اور کبھی فرمایا: ” تین سو پندرہ “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔
«فَاللهُ اَعْلَمُ» 10938 مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا “ ، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» 10939 اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ» 10940
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ” ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے “ ۔
[صحیح مسلم:2814] 10934 بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ” سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں “ ، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے “ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے “ ، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے ۔
10935 مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے “ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔
پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ 10936 اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“ ۔ 10937 مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” نماز پڑھی؟
“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ” کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو “ ، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “ ، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ!
نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ” بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے “ ، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ” کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے “ ، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا “ ، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟
فرمایا: ” باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا “ ، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ” آدم علیہ السلام “ ، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ!
رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ” تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت “ اور کبھی فرمایا: ” تین سو پندرہ “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔
«فَاللهُ اَعْلَمُ» 10938 مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا “ ، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» 10939 اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ» 10940
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ” ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے “ ۔
[صحیح مسلم:2814] 10934 بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ” سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں “ ، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے “ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے “ ، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے ۔
10935 مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے “ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔
پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ 10936 اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“ ۔ 10937 مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” نماز پڑھی؟
“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ” کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو “ ، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “ ، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ!
نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ” بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے “ ، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ” کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے “ ، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا “ ، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟
فرمایا: ” باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا “ ، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ” آدم علیہ السلام “ ، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ!
رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ” تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت “ اور کبھی فرمایا: ” تین سو پندرہ “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔
«فَاللهُ اَعْلَمُ» 10938 مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا “ ، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» 10939 اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ» 10940
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ” ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے “ ۔
[صحیح مسلم:2814] 10934 بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ” سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں “ ، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے “ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے “ ، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے ۔
10935 مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے “ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔
پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ 10936 اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“ ۔ 10937 مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” نماز پڑھی؟
“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ” کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو “ ، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “ ، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ!
نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ” بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے “ ، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ” کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے “ ، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا “ ، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟
فرمایا: ” باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا “ ، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ” آدم علیہ السلام “ ، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ!
رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ” تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت “ اور کبھی فرمایا: ” تین سو پندرہ “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔
«فَاللهُ اَعْلَمُ» 10938 مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا “ ، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» 10939 اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ» 10940
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ” ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے “ ۔
[صحیح مسلم:2814] 10934 بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ” سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں “ ، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے “ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے “ ، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے ۔
10935 مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے “ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔
پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ 10936 اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“ ۔ 10937 مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” نماز پڑھی؟
“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ” کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو “ ، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “ ، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ!
نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ” بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے “ ، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ” کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے “ ، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا “ ، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟
فرمایا: ” باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا “ ، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ” آدم علیہ السلام “ ، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ!
رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ” تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت “ اور کبھی فرمایا: ” تین سو پندرہ “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔
«فَاللهُ اَعْلَمُ» 10938 مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا “ ، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» 10939 اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ» 10940
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ” ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے “ ۔
[صحیح مسلم:2814] 10934 بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ” سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں “ ، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے “ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے “ ، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے ۔
10935 مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے “ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔
پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ 10936 اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“ ۔ 10937 مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” نماز پڑھی؟
“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ” کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو “ ، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “ ، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ!
نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ” بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے “ ، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ” کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے “ ، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا “ ، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟
فرمایا: ” باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا “ ، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ” آدم علیہ السلام “ ، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ!
رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ” تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت “ اور کبھی فرمایا: ” تین سو پندرہ “ ، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔
«فَاللهُ اَعْلَمُ» 10938 مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا “ ، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» 10939 اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ» 10940
تفسیر البغوی
«اور اندھیری رات کے شر سے، جب وہ چھا جائے»۔ ہمیں ابو الحسن سرخسی نے خبر دی، انہوں نے زاہر بن احمد سے، انہوں نے جعفر بن محمد مغلّس سے، انہوں نے ہارون بن اسحاق ہمدانی سے، انہوں نے وکیع سے، انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے اپنے ماموں حارث بن عبد الرحمن سے، انہوں نے ابو سلمہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا، چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: «اے عائشہ! اندھیری رات کے شر سے، جب وہ چھا جائے، اللہ کی پناہ مانگو۔ یہ ہے اندھیری رات، جب وہ چھا جائے۔»
یہاں اس سے مراد چاند ہے، جب اسے گرہن لگے، وہ سیاہ ہو جائے اور «چھا جائے» یعنی گرہن میں داخل ہو، غروب ہونے لگے اور تاریک ہو جائے۔ ابن عباس نے کہا: غاسق سے مراد رات ہے، جب وہ مشرق سے اپنی تاریکی سمیت آتی، ہر چیز میں داخل ہوتی اور اسے تاریک کر دیتی ہے۔ غَسَق کا مطلب تاریکی ہے۔ کہا جاتا ہے: «غَسَقَ اللَّيْلُ» اور «أَغْسَقَ» یعنی رات تاریک ہوگئی۔
یہی حسن اور مجاہد کا قول ہے؛ ان کے نزدیک مراد رات کا آنا اور داخل ہونا ہے۔ وُقوب کے معنی داخل ہونا ہیں، اور یہاں اس سے مراد سورج غروب ہونے کے ساتھ رات کا داخل ہونا ہے۔ مقاتل نے کہا: اس سے مراد رات کی تاریکی ہے، جب اس کی سیاہی دن کی روشنی میں داخل ہو جاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق رات کو غاسق اس لیے کہا گیا کہ وہ دن سے زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے، اور غَسَق کا معنی سردی بھی ہے۔
ابن زید نے کہا: اس سے مراد ثریا ہے، جب وہ غروب ہو۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے غروب کے وقت بیماریاں زیادہ ہوتی ہیں اور اس کے طلوع کے وقت کم ہو جاتی ہیں۔
«اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے»؛ یعنی جادوگر عورتیں، جو ان گرہوں میں پھونکتی ہیں جنہیں وہ منتر پڑھتے ہوئے باندھتی ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا: ان سے مراد لبید بن اعصم کی بیٹیاں ہیں، جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا تھا۔
«اور حسد کرنے والے کے شر سے، جب وہ حسد کرے»؛ یعنی یہود، کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حسد کرتے تھے۔ یہ مدنی سورت ہے۔
«کہہ دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔» ابن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا: یہودیوں میں سے ایک لڑکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ یہودی مسلسل اس کے پیچھے لگے رہے، یہاں تک کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بالوں میں سے کچھ بال اور کنگھی کے چند دندانے لے لیے اور یہودیوں کو دے دیے۔ لبید بن اعصم نامی یہودی نے انہی چیزوں کے ذریعے آپ پر جادو کیا۔
اسی واقعے کے بارے میں دونوں سورتیں نازل ہوئیں۔ ہمیں ابو حامد احمد بن عبد اللہ صالحی نے خبر دی، انہوں نے ابو سعید محمد بن موسیٰ صیرفی سے، انہوں نے ابو العباس محمد بن یعقوب اصم سے، انہوں نے محمد بن عبد اللہ سے، انہوں نے انس بن عیاض سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا، یہاں تک کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے، حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔ آپ نے اپنے رب سے دعا کی، پھر فرمایا: «کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے اس معاملے میں مجھے وہ بات بتا دی ہے جو میں نے اس سے دریافت کی تھی؟» عائشہ نے عرض کیا: «یا رسول اللہ!
وہ کیا ہے؟» آپ نے فرمایا: «دو آدمی میرے پاس آئے؛ ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔ ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: اس شخص کو کیا تکلیف ہے؟ دوسرے نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے۔ اس نے پوچھا: کس نے جادو کیا؟
اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ پوچھا: کس چیز میں؟ کہا: کنگھی، بالوں اور نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں۔ پوچھا: وہ کہاں ہے؟ کہا: ذروان میں»۔ ذروان بنی زریق کا ایک کنواں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لے گئے، پھر عائشہ کے پاس واپس آئے اور فرمایا: «اللہ کی قسم!
اس کا پانی مہندی کے جوشاندے جیسا ہے اور اس کے کھجور کے درخت شیطانوں کے سروں جیسے ہیں۔» میں نے عرض کیا: «یا رسول اللہ! آپ نے اسے نکال کیوں نہ دیا؟» آپ نے فرمایا: «اللہ نے مجھے شفا دے دی ہے، اس لیے میں نے پسند نہ کیا کہ اس کے ذریعے لوگوں میں کوئی شر اٹھاؤں۔»
روایت ہے کہ وہ چیز کنویں میں ایک چٹان کے نیچے تھی۔ چٹان اٹھائی گئی تو کھجور کے خوشے کا غلاف نکالا گیا؛ اس میں آپ کے سر کے بال اور کنگھی کے دندانے تھے۔
ہمیں مطہر بن علی فارسی نے خبر دی، انہوں نے محمد بن ابراہیم صالحانی سے، انہوں نے عبد اللہ بن محمد بن جعفر، ابو الشیخ حافظ سے، انہوں نے ابن ابی عاصم سے، انہوں نے ابو بکر بن ابی شیبہ سے، انہوں نے ابو معاویہ سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے یزید بن حیان سے، انہوں نے زید بن ارقم سے روایت کیا کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا اور آپ کئی دن بیمار رہے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: «ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے اور آپ کے لیے گرہیں باندھی ہیں۔» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کو بھیجا، انہوں نے وہ چیز نکال کر آپ کے پاس لائی۔ آپ جب بھی ایک گرہ کھولتے، اپنی تکلیف میں ہلکا پن محسوس کرتے۔
پھر آپ اس طرح اٹھ کھڑے ہوئے، گویا بندھن سے آزاد ہو گئے ہوں۔ آپ نے اس بات کا ذکر یہودیوں سے نہ کیا، اور انہوں نے آپ کے چہرے پر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔ مقاتل اور کلبی نے کہا: جادو ایک دھاگے میں تھا، جس پر گیارہ گرہیں باندھی گئی تھیں۔ ایک قول کے مطابق گرہیں سوئی سے چبھو کر باندھی گئی تھیں۔
پس اللہ نے یہ دونوں سورتیں نازل فرمائیں، جن کی آیات کی تعداد گیارہ ہے: سورۂ فلق کی پانچ آیات اور سورۂ ناس کی چھ آیات۔ جب بھی ایک آیت پڑھی جاتی، ایک گرہ کھل جاتی، یہاں تک کہ تمام گرہیں کھل گئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اٹھ کھڑے ہوئے، گویا بندھن سے آزاد ہو گئے ہوں۔ روایت ہے کہ جادو کا اثر آپ پر چھ ماہ رہا، اور تین راتوں میں آپ پر شدت ہوئی، تو معوذتین نازل ہوئیں۔
ہمیں اسماعیل بن عبد القاہر نے خبر دی، انہوں نے عبد الغافر بن محمد سے، انہوں نے محمد بن عیسیٰ جلودی سے، انہوں نے ابراہیم بن محمد بن سفیان سے، انہوں نے مسلم بن حجاج سے، انہوں نے بشر بن ہلال صواف سے، انہوں نے عبد العزیز بن صہیب سے، انہوں نے ابو نضرہ سے، انہوں نے ابو سعید سے روایت کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: «اے محمد! کیا آپ بیمار ہیں؟» آپ نے فرمایا: «ہاں۔» جبرائیل نے کہا: «اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے، ہر جان یا حسد کرنے والی نظر کے شر سے۔
اللہ آپ کو شفا دے۔ اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، اور اللہ ہی شفا دیتا ہے۔»
اللہ عزوجل کا فرمان: «کہہ دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔» یہاں «فلق» سے مراد صبح ہے۔ یہی جابر بن عبد اللہ، حسن، سعید بن جبیر، مجاہد، قتادہ اور اکثر مفسرین کا قول ہے، اور یہ عوفی کی ابن عباس سے روایت ہے۔ اس کی دلیل اللہ کا فرمان ہے: «صبح کو پھاڑ کر نکالنے والا»۔
ابن عباس سے ایک قول یہ منقول ہے کہ اس سے مراد جہنم کا ایک قید خانہ ہے۔ کلبی نے کہا: جہنم کی ایک وادی۔ ضحاک نے کہا: اس سے مراد مخلوق ہے، اور یہ والبی کی ابن عباس سے روایت ہے۔ پہلا قول معروف ہے۔ «اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔» یہ مدنی سورت ہے۔ «کہہ دیجیے: میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔»
«جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے»؛ یعنی پوشیدہ بات کے ذریعے، جس کا مفہوم سنے بغیر دل تک پہنچ جاتا ہے۔ «لوگوں کے بادشاہ»۔ «لوگوں کے معبود»۔
«پیچھے ہٹ جانے والے وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے»؛ اس سے مراد شیطان ہے۔ «وسواس» مصدر اور اسم دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ زجاج نے کہا: اس کا مطلب ہے، وسوسہ ڈالنے والا شیطان، یعنی وسوسے کا مالک۔ «خناس» کا معنی بار بار پیچھے ہٹنے والا ہے۔
وہ شیطان انسان کے دل پر دبک کر بیٹھا رہتا ہے؛ جب انسان اللہ کو یاد کرتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور جب غافل ہوتا ہے تو وسوسہ ڈالتا ہے۔ قتادہ نے کہا: اس کی سونڈ کتے کی سونڈ جیسی ہے، جو انسان کے سینے میں ہوتی ہے؛ جب بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا سر سانپ کے سر جیسا ہے، اور اس نے اپنا سر دل کے پھل پر رکھا ہوتا ہے؛ وہ انسان کو امیدیں دلاتا اور باتیں کرتا ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور جب ذکر نہ کیا جائے تو واپس آکر اپنا سر رکھ دیتا ہے۔
«جنوں اور انسانوں میں سے»؛ یعنی وہ جن کے اندر بھی داخل ہو کر وسوسہ ڈالتا ہے اور انسانوں کے اندر بھی، اور جنوں کو بھی اسی طرح وسوسہ ڈالتا ہے جیسے انسانوں کو۔ کلبی نے یہ کہا ہے۔ «لوگوں کے سینوں میں» سے مراد وہی ہیں جن کا ذکر آگے ہوا ہے، یعنی جن اور انسان۔ اس طرح جنوں کو بھی «لوگ» کہا گیا، جیسے انہیں «مرد» کہا گیا ہے: «اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ مرد جنوں میں سے کچھ مردوں کی پناہ لیا کرتے تھے» (الجن، 72:6)۔
بعض عربوں سے نقل ہے کہ وہ بات کرتے ہوئے کہنے لگا: جنوں کا ایک گروہ آیا اور بیٹھ گیا۔ پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم جنوں میں سے کچھ لوگ ہیں۔ یہ فراء کے قول کا مفہوم ہے۔ بعض نے کہا: انسانوں کے لیے وسوسہ انسان کی طرف سے بھی ثابت ہے، جیسے شیطان کی طرف سے وسوسہ ہوتا ہے۔
اس بنا پر «وسواس» کو جنوں اور انسانوں، دونوں کا فعل قرار دیا، جیسا کہ اللہ نے فرمایا: «اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین کو دشمن بنایا» (الأنعام، 6:112)۔ گویا حکم دیا گیا کہ جنوں اور انسانوں، دونوں کے شر سے پناہ مانگی جائے۔
ہمیں اسماعیل بن محمد نے خبر دی، انہوں نے محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے ابراہیم بن محمد بن سفیان سے، انہوں نے مسلم بن حجاج سے، انہوں نے قتیبہ بن سعید سے، انہوں نے جریر سے، انہوں نے بیان سے، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے، انہوں نے عقبہ بن عامر سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «کیا تم نے وہ آیات نہیں دیکھیں جو آج رات نازل ہوئی ہیں؟ ان جیسی آیات کبھی نہیں دیکھی گئیں: “کہہ دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں” اور “کہہ دیجیے: میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں”۔»
ہمیں ابو سعید محمد بن ابراہیم شریخی نے خبر دی، انہوں نے ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم ثعلبی سے، انہوں نے ابو الحسن عبد الرحمن بن ابراہیم عادل سے، انہوں نے ابو العباس محمد بن یعقوب سے، انہوں نے ابو العباس بن ولید بن مرثد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اوزاعی سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے، انہوں نے عقبہ بن عامر جہنی سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «کیا میں تمہیں ان بہترین کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں جن کے ذریعے پناہ مانگنے والے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں؟» میں نے عرض کیا: «کیوں نہیں۔»
آپ نے فرمایا: «کہہ دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں» اور «کہہ دیجیے: میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔»
ہمیں ابو محمد عبد اللہ بن عبد الصمد جوزجانی نے خبر دی، انہوں نے ابو القاسم علی بن احمد خزاعی سے، انہوں نے ابو سعید ہیثم بن کلیب شاشی سے، انہوں نے ابو عیسیٰ ترمذی سے، انہوں نے قتیبہ سے، انہوں نے مفضل بن فضالہ سے، انہوں نے عقیل سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان میں پھونکتے، پھر ان میں «قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ»، «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھتے۔
پھر اپنے جسم پر جہاں تک ممکن ہوتا، دونوں ہاتھ پھیرتے، سر، چہرے اور جسم کے سامنے والے حصے سے ابتدا کرتے۔ آپ ایسا تین مرتبہ کرتے تھے۔
ہمیں ابو الحسن سرخسی نے خبر دی، انہوں نے زاہر بن احمد سے، انہوں نے ابو اسحاق ہاشمی سے، انہوں نے ابو مصعب سے، انہوں نے مالک سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے۔ جب آپ کی بیماری شدید ہوگئی تو میں آپ پر پڑھتی اور آپ کے ہاتھ سے آپ کے جسم پر مسح کرتی، اس کے ہاتھ میں برکت کی امید رکھتے ہوئے۔
ہمیں امام ابو علی حسین بن محمد قاضی اور ابو حامد احمد بن عبد اللہ صالحی نے خبر دی، ان دونوں نے کہا: ہمیں ابو بکر احمد بن حسین حیری نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن احمد بن معقل میدانی سے، انہوں نے محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے عبد الرزاق سے، انہوں نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابن عمر سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حسد صرف دو آدمیوں کے معاملے میں جائز ہے: ایک وہ شخص جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کے مطابق عمل کرتا ہے، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ رات اور دن کے اوقات میں اس میں سے خرچ کرتا ہے۔»
ہمیں عبد الواحد ملیحی نے خبر دی، انہوں نے احمد بن عبد اللہ نعیمی سے، انہوں نے محمد بن یوسف سے، انہوں نے محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے ابراہیم بن حمزہ سے، انہوں نے ابن ابی حازم سے، انہوں نے یزید، یعنی ابن الہاد، سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «اللہ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے وہ اس نبی کو سنتا ہے جو خوش آواز ہو اور قرآن بلند آواز سے ترنم کے ساتھ پڑھتا ہو۔»
صحیح البخاری (حدیث نمبر 5017) میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر شام سونے سے پہلے اپنی دونوں ہتھیلیوں پر دم کرتے، سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھتے، پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے پورے جسم پر پھیرتے تھے۔