سواری پر سوار ہونے کی دعا
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَىٰ. رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ.
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر سوار ہوا کرو[1] پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر ٹھیک ٹھاک بیٹھ جاؤ، اور کہو پاک ذات ہے اس کی جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا حاﻻنکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی[2] طاقت نہ تھی. اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں.[1]
نوعیت: تسبیح، اور سواری پر بیٹھتے وقت انسان کی کمزوری کا اعتراف؛ خواہ سواری گھوڑا، اونٹ، گاڑی یا ہوائی جہاز ہو۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
یہ کلام کشتیوں کے اوپر سوار ہونے اور مویشیوں پر سوار ہونے، دونوں کو شامل ہے، یعنی تاکہ تم ان پر ٹھہر کر بیٹھو۔ «پھر جب تم اس پر ٹھیک سے بیٹھ جاؤ تو اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو»—اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہ اسی نے اسے تمہارے لیے مسخر کیا، اور اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہوئے۔ اسی لیے فرمایا: «اور کہو: پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں رکھنے کی طاقت نہ رکھتے تھے»؛ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے کشتیوں اور مویشیوں کو ہمارے لیے مسخر نہ کیا ہوتا تو ہم اس کی طاقت اور قدرت نہ رکھتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے انہیں مسخر اور تابع کر دیا اور ان کے اسباب آسان فرما دیے۔
اس کا مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ جس رب نے بندوں پر بیان کردہ نعمتیں نازل فرمائی ہیں، وہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کے لیے نماز پڑھی جائے اور اسے سجدہ کیا جائے۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
آیات ۱۱ تا ۱۴ اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہو جائے کھیتیاں اور باغات سرسبز رہیں پھلیں پھولیں اور پانی تمہارے اور تمہارے جانوروں کے پینے میں بھی آئے پھر اس مینہ سے مردہ زمین زندہ کر دی خشکی تری سے بدل گئی جنگل لہلہا اٹھے پھل پھول اگنے لگے اور طرح طرح کے خوشگوار میوے پیدا ہو گئے پھر اسی کو مردہ انسانوں کے جی اٹھنے کی دلیل بنایا۔
اور فرمایا ” اسی طرح تم قبروں سے نکالے جاؤ گے اس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے کھیتیاں پھل پھول ترکاریاں اور میوے وغیرہ طرح طرح کی چیزیں اس نے پیدا کر دیں۔ “
مختلف قسم کے حیوانات تمہارے نفع کے لیے پیدا کئے کشتیاں سمندروں کے سفر کے لیے اور چوپائے جانور خشکی کے سفر کے لیے مہیا کر دئیے ان میں سے بہت سے جانوروں کے گوشت تم کھاتے ہو بہت سے تمہیں دودھ دیتے ہیں بہت سے تمہاری سواریوں کے کام آتے ہیں۔ تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں تم ان پر سواریاں لیتے ہو اور خوب مزے سے ان پر سوار ہوتے ہو۔ اب تمہیں چاہیئے کہ جم کر بیٹھ جانے کے بعد اپنے رب کی نعمت یاد کرو کہ اس نے کیسے کیسے طاقتور وجود تمہارے قابو میں کر دئیے۔ اور یوں کہو کہ وہ اللہ پاک ذات والا ہے جس نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا اگر وہ اسے ہمارا مطیع نہ کرتا تو ہم اس قابل نہ تھے نہ ہم میں اتنی طاقت تھی۔
اور ہم اپنی موت کے بعد اسی کی طرف جانے والے ہیں اس آمدورفت سے اور اس مختصر سفر سے سفر آخرت یاد کرو۔ جیسے کہ دنیا کے توشے کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے توشے کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا ” توشہ لے لیا کرو لیکن بہترین توشہ آخرت کا توشہ ہے “ اور دنیوی لباس کے ذکر کے موقعہ پر اخروی لباس کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا ” لباس تقوٰی افضل و بہتر ہے ـ“ صفحہ نمبر8208 سواری پر سوار ہوتے وقت دعاؤں کی حدیثیں ٭٭ ” سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعاؤں کی حدیثیں:
“ حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اپنی سواری پر سوار ہونے لگے تو رکاب پر پیر رکھتے ہی فرمایا «بِسْمِ اللَّـهِ» جب جم کر بیٹھ گئے تو فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ» پھر تین مرتبہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» پھر فرمایا «سُبْحَانك لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْت نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي» پھر ہنس دئیے۔ میں نے پوچھا امیر المؤمنین آپ ہنسے کیوں؟
فرمایا ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ کیا پھر ہنس دئیے تو میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جب بندے کے منہ سے اللہ تعالیٰ سنتا ہے کہ وہ کہتا ہے «رَبّ اِغْفِرْ لِي» میرے رب مجھے بخش دے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔ [سنن ابوداود:2602،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ابوداؤد ترمذی نسائی اور مسند احمد میں بھی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ٹھیک جب بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» کہا تین مرتبہ «سُبْحَانَ الله» اور ایک مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہا پھر اس پر چت لیٹنے کی طرح ہو کر ہنس دئیے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے ” جو شخص کسی جانور پر سوار ہو کر اس طرح کرے جس طرح میں نے کیا تو اللہ عزوجل اس کی طرف متوجہ ہو کر اسی طرح ہنس دیتا ہے جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنسا۔
[مسند احمد:330/1:ضعیف] صفحہ نمبر8209 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی اپنی سواری پر سوار ہوتے تین مرتبہ تکبیر کہہ کر ان دونوں آیات قرآنی کی تلاوت کرتے پھر یہ دعا مانگتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرّ وَالتَّقْوَى وَمِنْ الْعَمَل مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَر وَاطْوِ لَنَا الْبَعِيد اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِب فِي السَّفَر وَالْخَلِيفَة فِي الْأَهْل اللَّهُمَّ اِصْحَبْنَا فِي سَفَرنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلنَا» یا اللہ میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا طالب ہوں اور ان اعمال کا جن سے تو خوش ہو جائے اے اللہ
ہم پر ہمارا سفر آسان کر دے اور ہمارے لیے دوری کو لپیٹ لے پروردگار تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا نگہبان ہے میرے معبود ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے گھروں میں ہماری جانشینی فرما۔ اور جب آپ سفر سے واپس گھر کی طرف لوٹتے تو فرماتے «آيِبُونَ تَائِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّه عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» یعنی واپس لوٹنے والے توبہ کرنے والے ان شاءاللہ عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے۔
[صحیح مسلم:1342] صفحہ نمبر8210 ابو لاس خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سواری کے لیے ہمیں عطا فرمایا کہ ہم اس پر سوار ہو کر حج کو جائیں ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نہیں دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس پر سوار کرائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! ہر اونٹ کی کوہان میں شیطان ہوتا ہے تم جب اس پر سوار ہو تو جس طرح میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کرو پھر اسے اپنے لیے خادم بنا لو، یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی سوار کراتا ہے۔ [مسند احمد:221/4:حسن] سیدنا ابولاس رضی اللہ عنہ کا نام محمد بن اسود بن خلف ہے۔
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر اونٹ کی پیٹھ پر شیطان ہے تو تم جب اس پر سواری کرو تو اللہ کا نام لیا کرو پھر اپنی حاجتوں میں کمی نہ کرو۔ [مسند احمد:494/3:حسن صحیح] صفحہ نمبر8211
آیات ۱۱ تا ۱۴ اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہو جائے کھیتیاں اور باغات سرسبز رہیں پھلیں پھولیں اور پانی تمہارے اور تمہارے جانوروں کے پینے میں بھی آئے پھر اس مینہ سے مردہ زمین زندہ کر دی خشکی تری سے بدل گئی جنگل لہلہا اٹھے پھل پھول اگنے لگے اور طرح طرح کے خوشگوار میوے پیدا ہو گئے پھر اسی کو مردہ انسانوں کے جی اٹھنے کی دلیل بنایا۔
اور فرمایا ” اسی طرح تم قبروں سے نکالے جاؤ گے اس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے کھیتیاں پھل پھول ترکاریاں اور میوے وغیرہ طرح طرح کی چیزیں اس نے پیدا کر دیں۔ “
مختلف قسم کے حیوانات تمہارے نفع کے لیے پیدا کئے کشتیاں سمندروں کے سفر کے لیے اور چوپائے جانور خشکی کے سفر کے لیے مہیا کر دئیے ان میں سے بہت سے جانوروں کے گوشت تم کھاتے ہو بہت سے تمہیں دودھ دیتے ہیں بہت سے تمہاری سواریوں کے کام آتے ہیں۔ تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں تم ان پر سواریاں لیتے ہو اور خوب مزے سے ان پر سوار ہوتے ہو۔ اب تمہیں چاہیئے کہ جم کر بیٹھ جانے کے بعد اپنے رب کی نعمت یاد کرو کہ اس نے کیسے کیسے طاقتور وجود تمہارے قابو میں کر دئیے۔ اور یوں کہو کہ وہ اللہ پاک ذات والا ہے جس نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا اگر وہ اسے ہمارا مطیع نہ کرتا تو ہم اس قابل نہ تھے نہ ہم میں اتنی طاقت تھی۔
اور ہم اپنی موت کے بعد اسی کی طرف جانے والے ہیں اس آمدورفت سے اور اس مختصر سفر سے سفر آخرت یاد کرو۔ جیسے کہ دنیا کے توشے کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے توشے کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا ” توشہ لے لیا کرو لیکن بہترین توشہ آخرت کا توشہ ہے “ اور دنیوی لباس کے ذکر کے موقعہ پر اخروی لباس کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا ” لباس تقوٰی افضل و بہتر ہے ـ“ صفحہ نمبر8208 سواری پر سوار ہوتے وقت دعاؤں کی حدیثیں ٭٭ ” سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعاؤں کی حدیثیں:
“ حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اپنی سواری پر سوار ہونے لگے تو رکاب پر پیر رکھتے ہی فرمایا «بِسْمِ اللَّـهِ» جب جم کر بیٹھ گئے تو فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ» پھر تین مرتبہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» پھر فرمایا «سُبْحَانك لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْت نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي» پھر ہنس دئیے۔ میں نے پوچھا امیر المؤمنین آپ ہنسے کیوں؟
فرمایا ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ کیا پھر ہنس دئیے تو میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جب بندے کے منہ سے اللہ تعالیٰ سنتا ہے کہ وہ کہتا ہے «رَبّ اِغْفِرْ لِي» میرے رب مجھے بخش دے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔ [سنن ابوداود:2602،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ابوداؤد ترمذی نسائی اور مسند احمد میں بھی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ٹھیک جب بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» کہا تین مرتبہ «سُبْحَانَ الله» اور ایک مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہا پھر اس پر چت لیٹنے کی طرح ہو کر ہنس دئیے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے ” جو شخص کسی جانور پر سوار ہو کر اس طرح کرے جس طرح میں نے کیا تو اللہ عزوجل اس کی طرف متوجہ ہو کر اسی طرح ہنس دیتا ہے جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنسا۔
[مسند احمد:330/1:ضعیف] صفحہ نمبر8209 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی اپنی سواری پر سوار ہوتے تین مرتبہ تکبیر کہہ کر ان دونوں آیات قرآنی کی تلاوت کرتے پھر یہ دعا مانگتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرّ وَالتَّقْوَى وَمِنْ الْعَمَل مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَر وَاطْوِ لَنَا الْبَعِيد اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِب فِي السَّفَر وَالْخَلِيفَة فِي الْأَهْل اللَّهُمَّ اِصْحَبْنَا فِي سَفَرنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلنَا» یا اللہ میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا طالب ہوں اور ان اعمال کا جن سے تو خوش ہو جائے اے اللہ
ہم پر ہمارا سفر آسان کر دے اور ہمارے لیے دوری کو لپیٹ لے پروردگار تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا نگہبان ہے میرے معبود ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے گھروں میں ہماری جانشینی فرما۔ اور جب آپ سفر سے واپس گھر کی طرف لوٹتے تو فرماتے «آيِبُونَ تَائِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّه عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» یعنی واپس لوٹنے والے توبہ کرنے والے ان شاءاللہ عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے۔
[صحیح مسلم:1342] صفحہ نمبر8210 ابو لاس خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سواری کے لیے ہمیں عطا فرمایا کہ ہم اس پر سوار ہو کر حج کو جائیں ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نہیں دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس پر سوار کرائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! ہر اونٹ کی کوہان میں شیطان ہوتا ہے تم جب اس پر سوار ہو تو جس طرح میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کرو پھر اسے اپنے لیے خادم بنا لو، یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی سوار کراتا ہے۔ [مسند احمد:221/4:حسن] سیدنا ابولاس رضی اللہ عنہ کا نام محمد بن اسود بن خلف ہے۔
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر اونٹ کی پیٹھ پر شیطان ہے تو تم جب اس پر سواری کرو تو اللہ کا نام لیا کرو پھر اپنی حاجتوں میں کمی نہ کرو۔ [مسند احمد:494/3:حسن صحیح] صفحہ نمبر8211
تفسیر البغوی
«تاکہ تم اس کی پشتوں پر سوار ہو»—یہاں مؤنث ضمیر اس لیے لائی گئی ہے کہ «ما» کی طرف لوٹتی ہے۔
«پھر جب تم اس پر ٹھیک سے بیٹھ جاؤ تو اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو»—خشکی اور سمندر میں سواریوں کو تمہارے لیے مسخر کرنے کے سبب۔
«اور کہو: پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا»—یعنی اسے ہمارے لیے رام اور تابع کر دیا۔
«حالانکہ ہم اسے قابو میں رکھنے کی طاقت نہ رکھتے تھے»—یعنی اس کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور کہا گیا ہے: اسے قابو میں کرنے والے نہ تھے۔
«اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں»—یعنی قیامت کے دن لوٹ کر اسی کی طرف جانے والے ہیں۔ ہمیں احمد بن عبد اللہ الصالحی نے خبر دی، انہیں ابو الحسین علی بن محمد بن عبد اللہ بن بشران نے، انہیں اسماعیل بن محمد الصفار نے، انہیں احمد بن منصور الرمادی نے، انہوں نے کہا: ہمیں عبد الرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں معمر نے ابو اسحاق سے خبر دی، انہوں نے کہا: علی بن ربیعہ نے مجھے بتایا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے، جب وہ سواری پر سوار ہوئے۔ جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو کہا: «بسم اللہ»؛ پھر جب اچھی طرح بیٹھ گئے تو کہا: «الحمد للہ»۔
اس کے بعد کہا: «پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں رکھنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔» پھر تین مرتبہ الحمد للہ کہا اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: «اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔» پھر وہ ہنس پڑے۔
ان سے پوچھا گیا: اے امیرالمؤمنین، آپ کیوں ہنسے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی کرتے دیکھا جو میں نے کیا، اور وہی کہتے سنا جو میں نے کہا؛ پھر آپ بھی ہنسے۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی، آپ کیوں ہنسے؟ آپ نے فرمایا: «بندے کی بات پر» یا فرمایا: «مجھے بندے پر تعجب ہوتا ہے، جب وہ کہتا ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا—وہ جانتا ہے کہ گناہوں کو بخشنے والا صرف وہی ہے۔»
صحیح مسلم (حدیث نمبر 1342) میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر سوار ہوتے وقت تین مرتبہ «اللہ اکبر» کہتے، پھر یہی آیات پڑھتے تھے۔