دعا 52 اخوت اور حسنِ خاتمہ 39 منٹ مطالعہ

مومنوں کے لیے فرشتوں کی دعا

عرش اٹھانے والے فرشتے 40:7–9
عربی متن

رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً، وَعِلْمًا، فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا، وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ، وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ. رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي، وَعَدْتَهُمْ، وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ، وَأَزْوَاجِهِمْ، وَذُرِّيَّاتِهِمْ، إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ، وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ، وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ، فَقَدْ رَحِمْتَهُ، وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ.

رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ غافر 40:7–9
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbanā wasiʿta kulla shayʾin raḥmatan wa ʿilman faghfir lilladhīna tābū wattabaʿū sabīlaka wa qihim ʿadhāba al-jaḥīm. Rabbanā wa adkhilhum jannāti ʿadnin allatī waʿadtahum wa man ṣalaḥa min ābāʾihim wa azwājihim wa dhurriyyātihim innaka anta al-ʿazīzu al-ḥakīm. Wa qihimu al-sayyiʾāti wa man taqi al-sayyiʾāti yawmaʾidhin faqad raḥimtahu wa dhālika huwa al-fawzu al-ʿaẓīm.
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

عرش کے اٹھانے والے اور اسکے آس پاس کے (فرشتے) اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استفغار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راه کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے.[1] اے ہمارے رب! تو انہیں ہمیشگی والی جنتوں میں لے جا جن کا تو نے ان سے وعده کیا ہے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اوﻻد میں سے (بھی) ان (سب) کو جو نیک عمل ہیں[1] ۔ یقیناً تو تو غالب و باحکمت ہے. انہیں برائیوں سے بھی محفوظ رکھ[1] ، حق تو یہ ہے کہ اس دن تونے جسے برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے رحمت کر دی اور بہت بڑی کامیابی تو یہی ہے.[2]

مفہوم اور خصوصیت

بڑے فرشتوں (حَمَلَةُ العَرْشِ) کی زمین پر اہلِ ایمان کے حق میں شفاعت، اور ان کے لیے «اغْفِرْ» (بخش دے)، «قِهِمْ» (انہیں بچا) اور «أَدْخِلْهُمْ» (انہیں داخل کر) کے الفاظ کے ساتھ دعا۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

«اور انہیں برائیوں سے بچا» یعنی برے اعمال اور ان کی سزا سے، کیونکہ وہ انسان کو رنجیدہ کرتے ہیں۔ «اور جسے تو اس دن برائیوں سے بچا لے» یعنی قیامت کے دن، «تو یقیناً تو نے اس پر رحم فرمایا» کیونکہ تیری رحمت بندوں پر ہمیشہ جاری رہتی ہے؛ اسے صرف بندوں کے گناہ اور برائیاں روک دیتے ہیں۔ پس جسے تو برائیوں سے محفوظ رکھے، اسے نیکیوں اور ان کے اچھے بدلے کی توفیق بھی عطا فرماتا ہے۔ «اور یہی» یعنی برائیوں سے بچا کر ناپسندیدہ چیز کا دور ہو جانا اور رحمت کے حصول سے محبوب چیز مل جانا، «بہت بڑی کامیابی ہے» جس جیسی کوئی کامیابی نہیں، اور مقابلہ کرنے والے اس سے بہتر کسی چیز کے لیے مقابلہ نہیں کرتے۔

فرشتوں کی اس دعا میں اپنے رب کی کامل معرفت، اللہ کے پسندیدہ اسمائے حسنیٰ کے ذریعے اس کی طرف وسیلہ اختیار کرنا، اور دعا کے مضمون کے مطابق مناسب دعا مانگنا شامل ہے۔ جب ان کی دعا رحمت کے حصول اور ان اثرات کے دور ہونے کے لیے تھی جن کا تقاضا انسانی طبیعت کرتی ہے—اور اللہ اس کے نقص اور گناہوں وغیرہ کی طرف اس کے میلان کو جانتا ہے، نیز ان ابتدائی اسباب کو بھی جانتا ہے جن کا اس نے احاطہ کر رکھا ہے—تو فرشتوں نے «رحیم» اور «علیم» کے وسیلے سے دعا کی۔

اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے کامل ادب کا بھی اظہار ہے: انہوں نے اس کی ربوبیت کا اقرار کیا، جو ان کے حق میں عام بھی ہے اور خاص بھی، اور یہ بھی کہ معاملے میں ان کا کوئی اختیار نہیں۔ ان کی دعا اپنے رب کے حضور ہر پہلو سے محتاج ہستی کی دعا ہے، جو کسی حالت کو اپنے رب پر حجت نہیں بناتی؛ یہ تو صرف اللہ کا فضل، کرم اور احسان ہے۔

اس دعا میں فرشتوں کی اپنے رب سے کامل موافقت بھی شامل ہے: وہ ان اعمال سے محبت کرتے ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے، یعنی ایسی عبادات جنہیں وہ خود انجام دیتے اور محبت کرنے والوں کی طرح ان میں بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ اور وہ ان بندوں سے بھی محبت کرتے ہیں جنہیں اللہ اپنی مخلوق میں سے پسند کرتا ہے، یعنی اہلِ ایمان۔ تمام مکلف مخلوق میں سے اللہ مؤمنوں کے سوا باقیوں سے بغض رکھتا ہے۔ فرشتوں کی مؤمنوں سے محبت ہی ہے کہ وہ ان کے لیے اللہ سے دعا کرتے اور ان کے حالات کی بہتری کے لیے کوشش کرتے ہیں، کیونکہ کسی شخص کے لیے دعا کرنا اس سے محبت کی سب سے واضح دلیلوں میں سے ہے؛ انسان اسی کے لیے دعا کرتا ہے جس سے محبت کرتا ہو۔

اللہ تعالیٰ کے فرمان «اور وہ ایمان والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں» کے بعد ان کی دعا کی وضاحت اور تفصیل میں اس بات کی لطیف رہنمائی ہے کہ اللہ کی کتاب میں تدبر کیسے کیا جائے۔ تدبر کرنے والے کو صرف لفظ کے الگ تھلگ مفہوم تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ پہلے لفظ کے معنی کو اس کے صحیح مفہوم کے مطابق سمجھنا چاہیے، پھر عقل کے ذریعے اس معاملے، اس تک پہنچانے والے راستوں، ان چیزوں اور اسباب پر غور کرنا چاہیے جن کے بغیر وہ معاملہ مکمل نہیں ہوتا، اور یقین کر لینا چاہیے کہ اللہ نے ان سب کو مراد لیا ہے، جیسے وہ لفظ کے خاص دلالت والے معنی کے مراد ہونے کا یقین کرتا ہے۔

اس بات پر یقین کے دو اسباب ہیں کہ اللہ نے ان معانی کو بھی مراد لیا ہے: ایک یہ کہ آدمی جانتا اور پختہ یقین رکھتا ہو کہ وہ اس معنی کے لوازم اور اس پر موقوف امور میں سے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اسے معلوم ہو کہ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، اور اس نے اپنے بندوں کو اپنی کتاب میں تدبر اور غوروفکر کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان معانی کے لازمی امور کو جانتا ہے۔ اسی نے خبر دی ہے کہ اس کی کتاب ہدایت، نور اور ہر چیز کی وضاحت ہے، اور کلاموں میں سب سے زیادہ فصیح اور وضاحت میں سب سے بلند ہے۔

اس طرح بندے کو عظیم علم اور بہت سی بھلائی حاصل ہوتی ہے، جس قدر اللہ اسے توفیق عطا فرمائے۔ ہماری اس تفسیر میں بھی اس نوعیت کی بہت سی باتیں ہیں، جن کا اللہ نے ہم پر احسان فرمایا ہے۔ بعض آیات میں اس کا پہلو ایسے شخص پر پوشیدہ رہ سکتا ہے جو غور نہیں کرتا یا جس کی سوچ درست نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنی رحمت کے خزانوں میں سے ہمارے لیے ایسی چیز کھول دے جو ہمارے اور مسلمانوں کے حالات کی اصلاح کا سبب ہو۔

ہمارے لیے اس کے کرم سے وابستہ ہونے اور اس کے احسان کا وسیلہ اختیار کرنے کے سوا کچھ نہیں، جس میں ہم ہر وقت اور ہر لمحہ ڈوبے رہتے ہیں۔ ہم اس سے اس کا فضل مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ہمارے نفس کے شر سے محفوظ رکھے، جو اس کی رحمت کے پہنچنے میں رکاوٹ اور مانع ہے۔ بے شک وہ کریم اور بہت عطا کرنے والا ہے، جس نے اسباب اور ان کے نتائج دونوں میں فضل فرمایا۔

اس دعا میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان کا قریبی ساتھی، مثلاً شریکِ حیات، اولاد یا دوست، اپنے قرین کی وجہ سے سعادت پاتا ہے، اور اس کا اس سے تعلق اس کے لیے ایسی بھلائی کا سبب بن جاتا ہے جو اس کے اپنے عمل اور اس کے عمل کے سبب سے باہر ہوتی ہے؛ جیسے فرشتے مؤمنوں اور ان کے آباء، ازواج اور اولاد میں سے نیک لوگوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے نیک ہونے کا موجود ہونا ضروری ہے، کیونکہ فرمایا: «اور ان میں سے جو نیک ہوں»۔ اس صورت میں یہ ان کے اپنے عمل کا نتیجہ ہوگا، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں پر اپنے کامل لطف کی خبر دیتا ہے، اور ان کی سعادت کے اسباب میں ایسے اسباب بھی مہیا فرماتا ہے جو ان کے اختیار سے باہر ہیں: مقرب فرشتے ان کے لیے مغفرت طلب کرتے اور ان کے دین و آخرت کی بھلائی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ ضمنی طور پر اس میں عرش اٹھانے والے فرشتوں اور اس کے گرد رہنے والے فرشتوں کے شرف، اپنے رب سے ان کے قرب، ان کی کثرتِ عبادت اور اللہ کے بندوں کے ساتھ ان کی خیرخواہی کا بیان بھی ہے؛ وہ جانتے ہیں کہ اللہ ان کے اس عمل کو پسند فرماتا ہے۔

پس اللہ نے فرمایا: «جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں» یعنی رحمان کا عرش، جو مخلوقات کی چھت، سب سے عظیم، وسیع اور حسین ہے، اور اللہ تعالیٰ کے قریب ترین ہے؛ اسی نے زمینوں، آسمانوں اور کرسی کو وسعت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو اپنا عظیم عرش اٹھانے پر مقرر کیا ہے، لہٰذا اس میں شک نہیں کہ وہ سب سے بڑے، عظیم اور طاقتور فرشتوں میں سے ہیں۔ عرش اٹھانے کے لیے اللہ کا انہیں منتخب کرنا، ذکر میں انہیں مقدم رکھنا اور انہیں اپنے قریب کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ فرشتوں کی بہترین جماعت ہیں، ان پر سلام ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اور اس دن تمہارے رب کا عرش ان کے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے» (الحاقہ 69:17)۔

«اور جو اس کے اردگرد ہیں» یعنی مرتبے اور فضیلت میں مقرب فرشتے، «وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں»۔ یہ ان کی اللہ تعالیٰ کی کثرتِ عبادت کی تعریف ہے، خصوصاً تسبیح و تحمید کی۔ باقی تمام عبادات بھی اللہ کی تسبیح اور تحمید میں داخل ہیں، کیونکہ ان میں عبادت کو غیر اللہ کے لیے کرنے سے اس کی تنزیہ ہے اور اس کے لیے حمد ہے۔ بلکہ حمد خود اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔

بندے کا کہنا «سبحان اللہ وبحمدہ» بھی اسی میں شامل اور عبادات میں سے ہے۔

«اور ایمان والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں»۔ ایمان کے بہت سے فوائد اور فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ بے گناہ فرشتے اہلِ ایمان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں؛ پس مؤمن اپنے ایمان کے سبب اس عظیم فضیلت کا ذریعہ بنتا ہے۔ پھر چونکہ مغفرت کے کچھ لوازم ہیں جن کے بغیر وہ مکمل نہیں ہوتی—اس کے برخلاف جو بہت سے ذہنوں میں آتا ہے کہ مغفرت مانگنے کا مقصد صرف گناہوں کی بخشش ہے—اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مغفرت کی دعا کی صفت بیان کرتے ہوئے وہ بات ذکر فرمائی جس کے بغیر مغفرت مکمل نہیں ہوتی: «اے ہمارے رب! تیری رحمت اور علم نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے»۔

تیرا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے؛ کوئی چیز تجھ سے پوشیدہ نہیں، اور نہ زمین یا آسمان میں ذرہ برابر کوئی چیز تیرے علم سے باہر ہے، نہ اس سے چھوٹی نہ بڑی۔ تیری رحمت نے بھی ہر چیز کو گھیر رکھا ہے؛ اوپر اور نیچے کی پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بھری ہوئی ہے، اس نے ان سب کو گھیر رکھا ہے اور تیری مخلوق جہاں تک پہنچی ہے وہاں تک تیری رحمت بھی پہنچی ہے۔

«پس ان لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی» یعنی شرک اور گناہوں سے، «اور تیرے راستے کی پیروی کی» یعنی تیرے رسولوں کی پیروی کرتے ہوئے تیری توحید اور اطاعت اختیار کی، «اور انہیں جہنم کے عذاب سے بچا» یعنی انہیں خود عذاب سے بھی بچا اور عذاب کے اسباب سے بھی محفوظ رکھ۔

«اے ہمارے رب! اور انہیں ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے» اپنے رسولوں کی زبان سے۔ «اور ان میں سے جو نیک ہوں» یعنی ایمان اور نیک اعمال کے ذریعے نیک بنے ہوں، «ان کے آباء اور ازواج» یعنی ان کے شوہروں اور بیویوں، ساتھیوں اور رفیقوں میں سے، «اور ان کی اولاد کو بھی»۔ «بے شک تو ہی غالب ہے» ہر چیز پر غالب، پس اپنی عزت کے ذریعے ان کے گناہ بخش دے، ناپسندیدہ چیز کو ان سے دور فرما اور انہیں ہر بھلائی تک پہنچا۔

«حکمت والا» ہے، جو چیزوں کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے ایسی چیز نہیں مانگتے جس کے خلاف تیری حکمت ہو؛ بلکہ تیری حکمت میں، جس کی خبر تو نے اپنے رسولوں کی زبان سے دی اور جس کا تقاضا تیرا فضل کرتا ہے، مؤمنوں کی مغفرت بھی شامل ہے۔

امام ابن کثیر کی تفسیر

اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے ٭٭ عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایماندار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔

چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتے ان گناہوں کی معافی طلب کرنے کیلئے مقرر کر دیئے جو ان کے بن دیکھے ہر وقت ان کی تقصیروں کی معافی طلب کیا کرتے ہیں۔ صفحہ نمبر7906 صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کیلئے اس کی غیر حاضری میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کی دعا پر آمین کہتا ہے اور اس کیلئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی یہی دے جو تو اس مسلمان کیلئے اللہ سے مانگ رہا ہے۔ [صحیح مسلم:2732]

مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے «زحل و ثور تحت وجل یمینہ» و «النسر للاخری و لیث مرصد» یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا و «الشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد» یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہو جاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے۔ [مسند احمد:256/1:ضعیف]

اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ صفحہ نمبر7907 جیسے قرآن مجید میں ہے «وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 17 ] ہاں اس آیت کے مطلب اور اس حدیث کے استدلال میں ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ابوداؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ بطحاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ایک ابر کو گزرتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا کہ اس کا کیا نام ہے؟ انہوں نے کہا سحاب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اسے مزن بھی کہتے ہیں؟

کہا ہاں! فرمایا عنان بھی؟ عرض کیا ہاں!۔ صفحہ نمبر7908 پوچھا جانتے ہو آسمان و زمین میں کس قدر فاصلہ ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نہیں، فرمایا اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا راستہ پھر اس کے اوپر کا آسمان بھی پہلے آسمان سے اتنے ہی فاصلے پر اسی طرح ساتوں آسمان ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے جس کی اتنی ہی گہرائی ہے پھر اس پر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت کے ہیں جن کے کھر سے گھٹنے کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے ان کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے جس کی اونچائی بھی اسی قدر ہے۔

پھر اس کے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ [سنن ابوداود:4723،قال الشيخ الألباني:ضعیف]

ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ سیدنا شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى حِلْمِكَ بَعْدَ عِلْمِكَ» یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔

اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ على عَفْوك بَعْدَ قُدْرَتِکَ» یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہرچیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔ صفحہ نمبر7909 بنی آدم کے تمام گناہ ان کی کل خطاؤں پر تیری رحمت چھائے ہوئے ہے، اسی طرح تیرا علم بھی ان کے جملہ اقوال و افعال کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ ان کی کل حرکات و سکنات سے تو بخوبی واقف ہے۔

پس تو ان کے برے لوگوں کو جب وہ توبہ کریں اور تیری طرف جھکیں اور گناہوں سے باز آ جائیں اور تیرے احکام کی تعمیل کریں نیکیاں کریں بدیاں چھوڑیں بخش دے، اور انہیں جہنم کے درد ناک گھبراہٹ والے عذابوں سے نجات دے۔ انہیں مع ان کے والدین بیویوں اور بچوں کو جنت میں لے جا تاکہ ان کی آنکھیں ہر طرح ٹھنڈی رہیں۔ گو ان کے اعمال ان جتنے نہ ہوں تاہم تو ان کے درجات بڑھا کر اونچے درجے میں پہنچا دے۔

جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے، «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» [ 52- الطور: 21 ] ، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کر دیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کر دیں گے۔

حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مومن جنت میں جا کر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لیے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت «رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [ 40- غافر: 8 ] کی تلاوت فرمائی۔

صفحہ نمبر7910 سیدنا مطرف بن عبداللہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ایمانداروں کی خیر خواہی فرشتے بھی کرتے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی۔ اور شیاطین ان کی بدخواہی کرتے ہیں۔ تو ایسا غالب ہے جس پر کوئی غالب نہیں اور جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جو تو چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا۔

تو اپنے اقوال و افعال شریعت و تقدیر میں حکمت والا ہے، تو انہیں برائیوں کے کرنے سے دنیا میں اور ان کے وبال سے دونوں جہان میں محفوظ رکھ، قیامت کے دن رحمت والا وہی شمار ہوسکتا ہے جسے تو اپنی سزا سے اور اپنے عذاب سے بچالے حقیقتاً بڑی کامیابی پوری مقصد دری اور ظفریابی یہی ہے۔ صفحہ نمبر7911

اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے ٭٭ عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایماندار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔

چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتے ان گناہوں کی معافی طلب کرنے کیلئے مقرر کر دیئے جو ان کے بن دیکھے ہر وقت ان کی تقصیروں کی معافی طلب کیا کرتے ہیں۔ صفحہ نمبر7906 صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کیلئے اس کی غیر حاضری میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کی دعا پر آمین کہتا ہے اور اس کیلئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی یہی دے جو تو اس مسلمان کیلئے اللہ سے مانگ رہا ہے۔ [صحیح مسلم:2732]

مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے «زحل و ثور تحت وجل یمینہ» و «النسر للاخری و لیث مرصد» یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا و «الشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد» یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہو جاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے۔ [مسند احمد:256/1:ضعیف]

اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ صفحہ نمبر7907 جیسے قرآن مجید میں ہے «وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 17 ] ہاں اس آیت کے مطلب اور اس حدیث کے استدلال میں ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ابوداؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ بطحاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ایک ابر کو گزرتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا کہ اس کا کیا نام ہے؟ انہوں نے کہا سحاب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اسے مزن بھی کہتے ہیں؟

کہا ہاں! فرمایا عنان بھی؟ عرض کیا ہاں!۔ صفحہ نمبر7908 پوچھا جانتے ہو آسمان و زمین میں کس قدر فاصلہ ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نہیں، فرمایا اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا راستہ پھر اس کے اوپر کا آسمان بھی پہلے آسمان سے اتنے ہی فاصلے پر اسی طرح ساتوں آسمان ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے جس کی اتنی ہی گہرائی ہے پھر اس پر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت کے ہیں جن کے کھر سے گھٹنے کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے ان کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے جس کی اونچائی بھی اسی قدر ہے۔

پھر اس کے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ [سنن ابوداود:4723،قال الشيخ الألباني:ضعیف]

ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ سیدنا شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى حِلْمِكَ بَعْدَ عِلْمِكَ» یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔

اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ على عَفْوك بَعْدَ قُدْرَتِکَ» یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہرچیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔ صفحہ نمبر7909 بنی آدم کے تمام گناہ ان کی کل خطاؤں پر تیری رحمت چھائے ہوئے ہے، اسی طرح تیرا علم بھی ان کے جملہ اقوال و افعال کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ ان کی کل حرکات و سکنات سے تو بخوبی واقف ہے۔

پس تو ان کے برے لوگوں کو جب وہ توبہ کریں اور تیری طرف جھکیں اور گناہوں سے باز آ جائیں اور تیرے احکام کی تعمیل کریں نیکیاں کریں بدیاں چھوڑیں بخش دے، اور انہیں جہنم کے درد ناک گھبراہٹ والے عذابوں سے نجات دے۔ انہیں مع ان کے والدین بیویوں اور بچوں کو جنت میں لے جا تاکہ ان کی آنکھیں ہر طرح ٹھنڈی رہیں۔ گو ان کے اعمال ان جتنے نہ ہوں تاہم تو ان کے درجات بڑھا کر اونچے درجے میں پہنچا دے۔

جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے، «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» [ 52- الطور: 21 ] ، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کر دیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کر دیں گے۔

حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مومن جنت میں جا کر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لیے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت «رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [ 40- غافر: 8 ] کی تلاوت فرمائی۔

صفحہ نمبر7910 سیدنا مطرف بن عبداللہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ایمانداروں کی خیر خواہی فرشتے بھی کرتے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی۔ اور شیاطین ان کی بدخواہی کرتے ہیں۔ تو ایسا غالب ہے جس پر کوئی غالب نہیں اور جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جو تو چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا۔

تو اپنے اقوال و افعال شریعت و تقدیر میں حکمت والا ہے، تو انہیں برائیوں کے کرنے سے دنیا میں اور ان کے وبال سے دونوں جہان میں محفوظ رکھ، قیامت کے دن رحمت والا وہی شمار ہوسکتا ہے جسے تو اپنی سزا سے اور اپنے عذاب سے بچالے حقیقتاً بڑی کامیابی پوری مقصد دری اور ظفریابی یہی ہے۔ صفحہ نمبر7911

اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے ٭٭ عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایماندار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔

چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتے ان گناہوں کی معافی طلب کرنے کیلئے مقرر کر دیئے جو ان کے بن دیکھے ہر وقت ان کی تقصیروں کی معافی طلب کیا کرتے ہیں۔ صفحہ نمبر7906 صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کیلئے اس کی غیر حاضری میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کی دعا پر آمین کہتا ہے اور اس کیلئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی یہی دے جو تو اس مسلمان کیلئے اللہ سے مانگ رہا ہے۔ [صحیح مسلم:2732]

مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے «زحل و ثور تحت وجل یمینہ» و «النسر للاخری و لیث مرصد» یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا و «الشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد» یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہو جاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے۔ [مسند احمد:256/1:ضعیف]

اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ صفحہ نمبر7907 جیسے قرآن مجید میں ہے «وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 17 ] ہاں اس آیت کے مطلب اور اس حدیث کے استدلال میں ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ابوداؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ بطحاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ایک ابر کو گزرتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا کہ اس کا کیا نام ہے؟ انہوں نے کہا سحاب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اسے مزن بھی کہتے ہیں؟

کہا ہاں! فرمایا عنان بھی؟ عرض کیا ہاں!۔ صفحہ نمبر7908 پوچھا جانتے ہو آسمان و زمین میں کس قدر فاصلہ ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نہیں، فرمایا اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا راستہ پھر اس کے اوپر کا آسمان بھی پہلے آسمان سے اتنے ہی فاصلے پر اسی طرح ساتوں آسمان ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے جس کی اتنی ہی گہرائی ہے پھر اس پر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت کے ہیں جن کے کھر سے گھٹنے کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے ان کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے جس کی اونچائی بھی اسی قدر ہے۔

پھر اس کے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ [سنن ابوداود:4723،قال الشيخ الألباني:ضعیف]

ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ سیدنا شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى حِلْمِكَ بَعْدَ عِلْمِكَ» یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔

اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ على عَفْوك بَعْدَ قُدْرَتِکَ» یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہرچیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔ صفحہ نمبر7909 بنی آدم کے تمام گناہ ان کی کل خطاؤں پر تیری رحمت چھائے ہوئے ہے، اسی طرح تیرا علم بھی ان کے جملہ اقوال و افعال کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ ان کی کل حرکات و سکنات سے تو بخوبی واقف ہے۔

پس تو ان کے برے لوگوں کو جب وہ توبہ کریں اور تیری طرف جھکیں اور گناہوں سے باز آ جائیں اور تیرے احکام کی تعمیل کریں نیکیاں کریں بدیاں چھوڑیں بخش دے، اور انہیں جہنم کے درد ناک گھبراہٹ والے عذابوں سے نجات دے۔ انہیں مع ان کے والدین بیویوں اور بچوں کو جنت میں لے جا تاکہ ان کی آنکھیں ہر طرح ٹھنڈی رہیں۔ گو ان کے اعمال ان جتنے نہ ہوں تاہم تو ان کے درجات بڑھا کر اونچے درجے میں پہنچا دے۔

جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے، «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» [ 52- الطور: 21 ] ، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کر دیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کر دیں گے۔

حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مومن جنت میں جا کر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لیے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت «رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [ 40- غافر: 8 ] کی تلاوت فرمائی۔

صفحہ نمبر7910 سیدنا مطرف بن عبداللہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ایمانداروں کی خیر خواہی فرشتے بھی کرتے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی۔ اور شیاطین ان کی بدخواہی کرتے ہیں۔ تو ایسا غالب ہے جس پر کوئی غالب نہیں اور جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جو تو چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا۔

تو اپنے اقوال و افعال شریعت و تقدیر میں حکمت والا ہے، تو انہیں برائیوں کے کرنے سے دنیا میں اور ان کے وبال سے دونوں جہان میں محفوظ رکھ، قیامت کے دن رحمت والا وہی شمار ہوسکتا ہے جسے تو اپنی سزا سے اور اپنے عذاب سے بچالے حقیقتاً بڑی کامیابی پوری مقصد دری اور ظفریابی یہی ہے۔ صفحہ نمبر7911

تفسیر البغوی

«اے ہمارے رب! انہیں ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، اور ان کے آباء، ان کی ازواج اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں انہیں بھی۔ بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔» سعید بن جبیر نے کہا: مؤمن جنت میں داخل ہوگا تو کہے گا: میرے والد کہاں ہیں؟

میری والدہ کہاں ہیں؟ میری اولاد کہاں ہے؟ میری زوجہ کہاں ہے؟ جواب دیا جائے گا: انہوں نے تم جیسے اعمال نہیں کیے۔ وہ کہے گا: میں اپنے لیے بھی عمل کرتا تھا اور ان کے لیے بھی۔ پھر کہا جائے گا: انہیں جنت میں داخل کر دو۔

اللہ عزوجل کا فرمان: «جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے گرد ہیں» یعنی عرش اٹھانے والے اور اس کے گرد طواف کرنے والے، اور وہ کروبین ہیں، جو فرشتوں کے سردار ہیں۔ ابن عباس نے کہا: عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ہر ایک کے گھٹنے سے قدموں کے نیچے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ روایت ہے کہ ان کے قدم زمینوں کی تہہ میں ہیں اور زمینیں اور آسمان ان کی کمر تک ہیں۔ وہ کہتے ہیں: «عزت اور جبروت والے کی پاکی ہے؛ بادشاہی اور ملکوت والے کی پاکی ہے؛ اس زندہ کی پاکی ہے جو نہیں مرتا؛ فرشتوں اور روح کے رب کی پاکی اور تقدیس ہے۔»

میسرہ بن عروبہ نے کہا: ان کے پاؤں سب سے نچلی زمین میں ہیں اور ان کے سر عرش کو پھاڑ کر اس سے اوپر نکل گئے ہیں۔ وہ خشوع کے عالم میں ہیں اور اپنی نگاہ نہیں اٹھاتے۔ ان کا خوف اہلِ ساتویں آسمان سے زیادہ ہے، اور اہلِ ساتویں آسمان کا خوف ان سے زیادہ ہے جو اس سے قریب تر آسمان میں ہیں، اور ہر قریب تر آسمان والے کا خوف اس کے اوپر والے سے زیادہ ہے۔ مجاہد نے کہا: فرشتوں اور عرش کے درمیان نور کے ستر پردے ہیں۔

محمد بن منکدر نے جابر سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مجھے اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے بارے میں بیان کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جو عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ہے۔ اس کے کان کی لو سے اس کے کندھے تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت ہے۔»

جعفر بن محمد نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا: عرش کے ایک پایے اور دوسرے پایے کے درمیان تیز اڑنے والے پرندے کی پرواز کے تیس ہزار سال کی مسافت ہے۔ عرش کو ہر روز نور کے ستر ہزار رنگوں سے آراستہ کیا جاتا ہے، اور اللہ کی مخلوق میں سے کوئی مخلوق اس کی طرف دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ عرش کے مقابلے میں تمام چیزیں بیابان میں پڑے ایک حلقے کی مانند ہیں۔ مجاہد نے کہا: ساتویں آسمان اور عرش کے درمیان نور کے ستر ہزار پردے ہیں، پھر اندھیرے کا ایک پردہ، نور کا ایک پردہ اور اندھیرے کا ایک پردہ ہے۔

وہب بن منبہ نے کہا: عرش کے گرد فرشتوں کی ستر ہزار صفیں ہیں، ایک صف دوسری صف کے پیچھے، وہ عرش کا طواف کرتے ہیں؛ ان میں سے ایک جماعت آگے بڑھتی اور دوسری پیچھے ہٹتی ہے۔ جب ان میں سے بعض ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں تو ایک جماعت «لا الٰہ الا اللہ» کہتی ہے اور دوسری تکبیر کہتی ہے۔ ان کے پیچھے فرشتوں کی ستر ہزار صفیں کھڑی ہیں، ان کے ہاتھ ان کی گردنوں تک اٹھے اور کندھوں پر رکھے ہوئے ہیں۔ جب وہ پہلی جماعت کی تکبیر اور تہلیل سنتے ہیں تو اپنی آوازیں بلند کر کے کہتے ہیں: «اے اللہ!

تیری پاکی اور تیری حمد ہے، تو کتنا عظیم اور بلند ہے! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو سب سے بڑا ہے، تمام مخلوق تیری ہی طرف لوٹنے والی ہے۔»

ان کے پیچھے فرشتوں کی ایک لاکھ صفیں ہیں، جنہوں نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا ہوا ہے۔ ان میں سے ہر ایک ایسی حمد کے ساتھ تسبیح کرتا ہے جس کے ساتھ دوسرا تسبیح نہیں کرتا۔ ان میں سے ہر ایک کے دو پروں کے درمیان تین سو سال کی مسافت ہے، اور اس کے کان کی لو سے کندھے تک چار سو سال کی مسافت ہے۔ اللہ نے عرش کے گرد موجود فرشتوں سے ستر پردے آگ کے، ستر اندھیرے کے، ستر نور کے، ستر سفید موتی کے، ستر سرخ یاقوت کے، ستر زرد یاقوت کے، ستر سبز زبرجد کے، ستر برف کے، ستر پانی کے اور ستر اولوں کے حائل کیے ہیں، اور ایسے پردے بھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

راوی نے کہا: عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ہر ایک کے اور اس کے گرد رہنے والوں کے چار چہرے ہیں: بیل کا چہرہ، شیر کا چہرہ، عقاب کا چہرہ اور انسان کا چہرہ۔ ان میں سے ہر ایک کے چار پر ہیں۔ دو پروں سے وہ اپنا چہرہ ڈھانپتے ہیں، اس خوف سے کہ عرش کی طرف دیکھیں تو بے ہوش ہو جائیں؛ اور دو پروں سے وہ ہوا لیتے ہیں۔ ان کی گفتگو تسبیح، تحمید، تکبیر اور تمجید کے سوا کچھ نہیں۔

اللہ عزوجل کا فرمان: «وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں» یعنی وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ ہمیں عبد الواحد ملیحی نے خبر دی، انہوں نے ابو منصور سمعانی سے، انہوں نے ابو جعفر ریانی سے، انہوں نے حمید بن زنجویہ سے، انہوں نے عمر بن عبداللہ رقاشی سے، انہوں نے جعفر بن سلیمان سے، انہوں نے ہارون بن رباب سے، انہوں نے شہر بن حوشب سے روایت کیا کہ عرش اٹھانے والے آٹھ ہیں: ان میں سے چار کہتے ہیں: «اے اللہ! تیری پاکی اور تیری حمد ہے؛ تیرے حلم پر تیرے علم کے باوجود تیری ہی حمد ہے۔» اور باقی چار کہتے ہیں: «اے اللہ!

تیری پاکی اور تیری حمد ہے؛ تیری قدرت کے باوجود تیرے عفو پر تیری ہی حمد ہے۔» انہوں نے کہا: گویا وہ ابنِ آدم کے گناہوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

اللہ عزوجل کا فرمان: «اور وہ ایمان والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں»؛ «اے ہمارے رب» یعنی وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! «تیری رحمت اور علم نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے»۔ کہا گیا ہے کہ «رحمت اور علم» منصوب اس لیے ہیں کہ یہ تمییز ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نقل کے سبب منصوب ہیں؛ یعنی تیری رحمت اور تیرے علم نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ «پس ان لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی» یعنی تیرے دین کی پیروی کی، «اور انہیں جہنم کے عذاب سے بچا۔»

مطرف نے کہا: اللہ کے بندوں میں مؤمنوں کے لیے سب سے زیادہ خیرخواہ فرشتے ہیں، اور مخلوق میں مؤمنوں کے ساتھ سب سے زیادہ بدخواہ شیاطین ہیں۔

«اور انہیں برائیوں سے بچا» یعنی سزاؤں سے۔ «اور جسے تو برائیوں سے بچا لے» یعنی جسے تو سزاؤں سے محفوظ رکھے؛ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد برے اعمال کی سزا ہے۔ «اس دن تو یقیناً اس پر رحم فرما چکا، اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔»

تائیدی حدیث

صحیح مسلم (حدیث نمبر 2732) میں روایت ہے: «مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کی گئی دعا قبول ہوتی ہے، اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے جو کہتا ہے: “آمین! اور تمہارے لیے بھی اسی جیسا ہو۔”»

نشانیاں
  • #فرشتوں کی دعا
  • #مومنوں کی مغفرت
  • #رحمت الٰہی
  • #جنت عدن
  • #عذاب جہنم
  • #عرش اٹھانے والے فرشتے

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →