عذاب دور کرنے کی دعا
رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ، إِنَّا مُؤْمِنُونَ.
رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہ آفت ہم سے دور کر ہم ایمان قبول کرتے ہیں.[1]
اس دعا میں «اِکْشِفْ» (دور فرما، ہٹا دے) کا صیغۂ امر استعمال ہوا ہے۔ یہ خشک سالی، وباؤں، جنگوں اور سخت مصیبتوں سے نجات مانگنے کی دعا ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
شیخ سعدی لکھتے ہیں: جب کسی شخص کو کوئی سختی یا بیماری لاحق ہو تو اسے چاہیے کہ اللہ سے دعا کرے کہ وہ اس سے یہ مصیبت دور فرما دے، اور اپنے ایمان اور اللہ پر توکل کا اظہار کرے۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
روز آخرت توبہ نہیں ٭٭ اور آیت میں ہے «وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ» [ 14-إبراهيم: 44 ] لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دیدے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کر لیں۔ پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں؟
ان کے پاس میرے پیغمبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا، ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہو گیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لیے نصیحت کہاں ہے؟
اور جگہ فرمایا ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [ 34- سبأ: 52 ] ، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا «وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 75 ] ،
یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہو جائیں گے اور جیسے فرمایا «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6- الانعام: 28 ] ، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آ جانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے۔
اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» [ 10-يونس: 98 ] قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہو چکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔
صفحہ نمبر8329 «قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» [ 7-الأعراف: 88،
89 ] چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہو گا؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:229/11:]
بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہو چکا مانتی ہے وہ تو [ بطشہ ] کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا۔
ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔ صفحہ نمبر8330
تفسیر البغوی
محمد بن اسماعیل نے یحییٰ سے، انہوں نے وکیع سے، انہوں نے اعمش سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: لوگوں نے کہا: «اے ہمارے رب! ہم سے عذاب دور فرما، بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں۔» تو اس سے کہا گیا: اگر ہم ان سے عذاب دور کر دیں تو وہ پھر اپنے کفر کی طرف لوٹ جائیں گے۔ پھر اس نے اپنے رب سے دعا کی، چنانچہ اللہ نے ان سے عذاب دور کر دیا، مگر وہ پھر لوٹ گئے؛ پس اللہ نے جنگِ بدر کے دن ان سے انتقام لیا۔
یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے: «پس انتظار کرو اس دن کا جب آسمان واضح دھواں لے کر آئے گا» سے لے کر «بے شک ہم انتقام لینے والے ہیں» تک۔
ہمیں عبد الواحد الملیحی نے خبر دی، انہیں احمد بن عبد اللہ نعیمی نے، انہیں محمد بن یوسف نے؛ انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، انہیں یحییٰ نے، انہیں وکیع نے اعمش سے، انہوں نے مسلم سے، انہوں نے مسروق سے، اور انہوں نے عبد اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا: پانچ چیزیں گزر چکی ہیں: لزام، رومیوں کا واقعہ، سخت گرفت، چاند اور دھواں۔
اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ وہ دھواں ہے جو قیامت قائم ہونے سے پہلے آئے گا اور ابھی نہیں آیا۔ وہ کافروں اور منافقوں کے کانوں میں داخل ہوگا، یہاں تک کہ ان کے سر بھنے ہوئے سر کی طرح ہو جائیں گے۔ مومن کو اس سے زکام جیسی کیفیت لاحق ہوگی، اور پوری زمین ایسی ہو جائے گی جیسے کوئی گھر جس میں آگ جلائی گئی ہو۔ یہ ابن عباس، ابن عمر اور حسن کا قول ہے۔
ہمیں ابو سعید شریخی نے خبر دی، انہیں ابو اسحاق ثعلبی نے، انہیں عقیل بن محمد جرجانی نے؛ انہوں نے کہا: ہمیں ابو الفرج معافی بن زکریا بغدادی نے بیان کیا، انہیں محمد بن جریر طبری نے، انہیں عصام بن رواد بن جراح نے، انہیں ان کے والد نے، انہیں ابو سفیان بن سعید نے، انہیں منصور بن معتمر نے ربعی بن حراش سے، انہوں نے کہا: میں نے حذیفہ بن یمان کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «سب سے پہلی نشانیوں میں دھواں، عیسیٰ بن مریم کا نزول، اور عدنِ ابین کے نچلے حصے سے نکلنے والی آگ ہے، جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانکے گی؛ جب وہ قیلولہ کریں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی۔» حذیفہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دھواں کیا ہے؟
آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «جس دن آسمان واضح دھواں لے کر آئے گا۔» وہ مشرق سے مغرب تک کے درمیانی حصے کو بھر دے گا اور چالیس دن اور رات ٹھہرا رہے گا۔ مومن کو اس سے زکام جیسی کیفیت لاحق ہوگی، جبکہ کافر کی حالت نشے میں دھت شخص جیسی ہوگی؛ وہ اس کے نتھنوں، کانوں اور پچھلے راستے سے نکلے گا۔
صحیح البخاری (حدیث: 1007) میں مسروق سے روایت ہے کہ ابن مسعود نے قریش پر آنے والے دھوئیں اور قحط کے بارے میں بیان کیا۔