والدین اور اولاد کے لیے دعا
رَبِّ أَوْزِعْنِي، أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ، وَعَلَىٰ، وَالِدَيَّ، وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ، وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ، وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ.
رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا[1] ۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے[2]۔ یہاں تک کہ جب وه پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا[3] تو کہنے لگا اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے[4] کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اوﻻد بھی صالح بنا، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں.
اس دعا میں «أَوْزِعْنِي» (مجھے توفیق دے) اور «أَصْلِحْ لِي» (میرے لیے اصلاح فرما) کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ چالیس سال کی عمر کو پہنچنے والے پختہ انسان کی دعا ہے؛ یہ عمر عقل کی پختگی اور ذمہ داری کا اہم مرحلہ ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پر لطف و مہربانی اور والدین کے ساتھ احسان کا شکر ہے کہ اس نے اولاد کو وصیت فرمائی اور پابند کیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نرم اور شائستہ گفتگو، نرم کلامی، مال خرچ کرنے اور دیگر طریقوں سے حسن سلوک کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کی طرف توجہ دلائی جو اس حسن سلوک کو لازم کرتا ہے۔ چنانچہ اس نے بیان فرمایا کہ ماں نے اولاد کے باعث کیا کچھ برداشت کیا اور حمل کے دوران کن تکالیف سے گزری، پھر ولادت کی بڑی مشقت جھیلی، اس کے بعد دودھ پلانے اور پرورش کرنے کی مشقت اٹھائی۔
یہ مذکورہ مدت ایک یا دو گھنٹے جیسی مختصر نہیں، بلکہ طویل مدت ہے جس کی مقدار (ثَلَاثُونَ شَهْرًا) یعنی تیس مہینے ہے: حمل کے تقریباً نو مہینے اور باقی مدت دودھ پلانے کی؛ عموماً یہی ہوتا ہے۔
اس آیت سے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ: (وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ) [اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں]، یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے؛ کیونکہ دودھ پلانے کی مدت، یعنی دو سال، تیس مہینوں سے نکال دی جائے تو حمل کے لیے چھ مہینے باقی رہتے ہیں۔
(حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ) یعنی اپنی قوت، جوانی اور عقل کی پختگی کی انتہا کو پہنچ گیا، (وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي) اور چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر کہنے لگا: اے میرے رب! مجھے الہام فرما اور توفیق دے (أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ) کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر انعام فرمائی۔ اس سے مراد دین اور دنیا کی نعمتیں ہیں۔
نعمتوں کا شکر یہ ہے کہ انہیں نعمت عطا کرنے والے اور مالک کی اطاعت میں صرف کیا جائے، اس کے احسان کا اعتراف کیا جائے، شکر ادا کرنے سے اپنی عاجزی تسلیم کی جائے اور اس نعمت کے سبب اللہ کی بہت تعریف کی جائے۔ والدین پر ہونے والی نعمتیں ان کی اولاد اور نسل کے لیے بھی نعمتیں ہیں؛ کیونکہ وہ لازماً ان نعمتوں، ان کے اسباب اور اثرات سے فائدہ پاتے ہیں، خصوصاً دین کی نعمتیں، کیونکہ علم و عمل کے ذریعے والدین کی درستگی ان کی اولاد کی اصلاح کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے۔
(وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ) اور یہ کہ میں ایسا نیک عمل کروں جسے تو پسند فرمائے؛ یعنی وہ عمل اپنی اصلاح و بہتری کے تمام پہلو جمع کیے ہوئے اور اسے بگاڑنے والی چیزوں سے محفوظ ہو۔ یہی وہ عمل ہے جسے اللہ پسند فرماتا، قبول کرتا اور اس پر ثواب دیتا ہے۔ (وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي) اور میری اولاد میں میرے لیے اصلاح فرما۔ جب اس نے اپنے لیے اصلاح کی دعا کی تو اپنی اولاد کے لیے بھی دعا کی کہ اللہ ان کے احوال درست فرمائے۔
اس نے یہ بھی بیان کیا کہ ان کی اصلاح کا فائدہ ان کے والدین کو پہنچتا ہے، جیسا کہ اس کے فرمان (وَأَصْلِحْ لِي) سے معلوم ہوتا ہے۔ (إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ) بے شک میں نے گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کرکے تیری طرف رجوع کیا، (وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ) اور بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
والدین سے بہترین سلوک کرو ٭٭ اس سے پہلے چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کے اخلاص کا اور اس پر استقامت کرنے کا حکم ہوا تھا اس لیے یہاں ماں باپ کے حقوق کی بجا آوری کا حکم ہو رہا ہے۔ اسی مضمون کی اور بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔
جیسے فرمایا «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا» [17-الإسراء:23] یعنی ” تیرا رب یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو “ ۔
اور آیت میں ہے «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14] یعنی ” میرا شکر کر اور اپنے والدین کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے “ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔
پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا» [29-العنكبوت:8] ” ہم نے انسان کو حکم کیا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ان سے تواضع سے پیش آؤ “ ۔ صفحہ نمبر8449 ابوداؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ نے آپ سے کہا کہ کیا ماں باپ کی اطاعت کا حکم اللہ نے نہیں دیا؟ سن میں نہ کھانا کھاؤں گی، نہ پانی پیوں گی، جب تک تو اللہ عزوجل کے ساتھ کفر نہ کرے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے انکار پر اس نے یہی کیا کہ کھانا پینا چھوڑ دیا یہاں تک کہ لکڑی سے اس کا منہ کھول کر جبراً پانی وغیرہ چھوا دیتے، اس پر یہ آیت اتری یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے ۔ [صحیح مسلم:1748]
ماں نے حالت حمل میں کیسی کچھ تکلیفیں برداشت کی ہیں؟ اسی طرح بچہ ہونے کے وقت کیسی کیسی مصیبتوں کا وہ شکار بنی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے اور اس کے ساتھ سورۃ لقمان کی آیت «وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۔ [31-لقمان:14]
اور اللہ عزوجل کا فرمان «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» [2-البقرة:233] یعنی مائیں اپنے بچوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں ان کے لیے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہیں ملا کر استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ یہ استدلال بہت قوی اور بالکل صحیح ہے۔
صفحہ نمبر8450 سیدنا عثمان اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت نے بھی اس کی تائید کی ہے معمر بن عبداللہ جہنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے جہنیہ کی ایک عورت سے نکاح کیا چھ مہینے پورے ہوتے ہی اسے بچہ تولد ہوا اس کے خاوند نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا آپ نے اس عورت کے پاس آدمی بھیجا وہ تیار ہو کر آنے لگی تو ان کی بہن نے گریہ و زاری شروع کر دی اس بیوی صاحبہ نے اپنی بہن کو تسکین دی اور فرمایا: کیوں روتی ہو، اللہ کی قسم!
اس کی مخلوق میں سے کسی سے میں نہیں ملی میں نے کبھی کوئی برا فعل نہیں کیا، تو دیکھو کہ اللہ کا فیصلہ میرے بارے میں کیا ہوتا ہے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آئیں تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے خلیفۃ المسلمین سے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اس عورت کو نکاح کے چھ مہینے کے بعد بچہ ہوا ہے جو ناممکن ہے۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟
فرمایا: ہاں پڑھا ہے فرمایا: کیا یہ آیت نہیں پڑھی «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] اور ساتھ ہی یہ آیت بھی «حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ» [2-البقرة:233] پس مدت حمل اور مدت دودھ پلائی دونوں کے مل کر تیس مہینے اور اس میں سے جب دودھ پلائی کی کل مدت دو سال کے چوبیس وضع کر دئیے جائیں تو باقی چھ مہینے رہ جاتے ہیں، تو قرآن کریم سے معلوم ہوا کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے اور اس بیوی صاحبہ کو بھی اتنی ہی مدت میں بچہ ہوا، پھر اس پر زنا کا الزام کیسے قائم کر رہے ہیں؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ!
یہ بات بہت ٹھیک ہے، افسوس میرا خیال ہے میں اس طرف نہیں گیا، جاؤ اس عورت کو لے آؤ پس لوگوں نے اس عورت کو اس حال پر پایا کہ اسے فراغت ہو چکی تھی۔ معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، واللہ! ایک کوا دوسرے کوے سے اور ایک انڈا دوسرے انڈے سے بھی اتنا مشابہ نہیں ہوتا جتنا اس عورت کا یہ بچہ اپنے باپ سے مشابہ تھا، خود اس کے والد نے بھی اسے دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! اس بچے کے بارے میں مجھے اب کوئی شک نہیں رہا اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک ناسور کے ساتھ مبتلا کیا جو اس کے چہرے پر تھا وہ ہی اسے گھلاتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا ۔
ابن ابی حاتم [الدالمنثورللسیوطی9/6] صفحہ نمبر8451 یہ روایت دوسری سند سے «فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] کی تفسیر میں ہم نے وارد کی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کسی عورت کو نو مہینے میں بچہ ہو تو اس کی دودھ پلائی کی مدت اکیس ماہ کافی ہیں اور جب سات مہینے میں ہو تو مدت رضاعت تئیس ماہ اور جب چھ ماہ میں بچہ ہو جائے تو مدت رضاعت دو سال کامل اس لیے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔
جب وہ اپنی پوری قوت کے زمانے کو پہنچا یعنی قوی ہو گیا، جوانی کی عمر میں پہنچ گیا، مردوں کی گنتی میں آیا اور چالیس سال کا ہوا، عقل پوری آئی، فہم و کمال کو پہنچا، حلم اور بردباری آ گئی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ چالیس سال کی عمر میں جو حالت اس کی ہوتی ہے عموماً پھر باقی عمر وہی رہتی ہے۔ مسروق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ انسان کب اپنے گناہوں پر پکڑا جاتا ہے؟ تو فرمایا: جب تو چالیس سال کا ہو جائے تو اپنا بچاؤ مہیا کر لے۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” جب مسلمان بندہ چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے اور جب ساٹھ سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف جھکنا نصیب فرماتا ہے اور جب ستر سال کی عمر کا ہو جاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں ثابت رکھتا ہے اور اس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور جب نوے سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرماتا ہے اور اس کے گھرانے کے آدمیوں کے بارے میں اسے شفاعت کرنے والا بناتا ہے اور آسمانوں میں لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی زمین میں اس کا قیدی ہے ۔ [مجمع الزوائد204/10ضعیف]
یہ حدیث دوسری سند سے مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:217/3:ضعیف]
بنو امیہ کے دمشقی گورنر حجاج بن عبداللہ حکمی فرماتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں تو میں نے نافرمانیوں اور گناہوں کو لوگوں کی شرم و حیاء سے چھوڑا تھا اس کے بعد گناہوں کے چھوڑنے کا باعث خود ذات اللہ سے حیاء تھی۔ عرب شاعر کہتا ہے بچپنے میں ناسمجھی کی حالت میں تو جو کچھ ہو گیا ہو گیا لیکن جس وقت بڑھاپے نے منہ دکھایا تو سر کی سفیدی نے خود ہی برائیوں سے کہہ دیا کہ اب تم کوچ کر جاؤ۔
پھر اس کی دعا کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا میرے پرورودگار میرے دل میں ڈال کہ تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام فرمائی اور میں وہ اعمال کروں جن سے تو مستقبل میں خوش ہو جائے اور میری اولاد میں میرے لیے اصلاح کر دے یعنی میری نسل اور میرے پیچھے والوں میں، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میرا اقرار ہے کہ میں فرنبرداروں میں ہوں۔ اس میں ارشاد ہے کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر انسان کو پختہ دل سے اللہ کی طرف توبہ کرنی چاہیئے اور نئے سرے سے اللہ کی طرف رجوع و رغبت کر کے اس پر جم جانا چاہیئے۔
صفحہ نمبر8452 ابوداؤد میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم التحیات میں پڑھنے کے لیے اس دعا کی تعلیم کیا کرتے تھے «اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا، وَأَزْوَاجِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمِكَ مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْكَ، قَابِلِينَ لَهَا، وَأَتِمِمْهَا عَلَيْنَا» یعنی، اے اللہ!
ہمارے دلوں میں الفت ڈال اور ہمارے آپس میں اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہیں دکھا اور ہمیں اندھیروں سے بچا کر نور کی طرف نجات دے اور ہمیں ہر برائی سے بچا لے، خواہ وہ ظاہر ہو، خواہ چھپی ہوئی ہو اور ہمیں ہمارے کانوں میں اور آنکھوں میں اور دلوں میں اور بیوی بچوں میں برکت دے اور ہم پر رجوع فرما، یقیناً تو رجوع فرمانے والا مہربان ہے اے اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار اور ان کے باعث اپنا ثنا خواں اور نعمتوں کا اقراری بنا اور اپنی بھرپور نعمتیں ہمیں عطا فرما ۔
[سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح] صفحہ نمبر8453 پھر فرماتا ہے یہ جن کا بیان گزرا جو اللہ کی طرف توبہ کرنے والے اس کی جانب میں جھکنے والے اور جو نیکیاں چھوٹ جائیں انہیں کثرت استغفار سے پا لینے والے ہی وہ ہیں جن کی اکثر لغزشیں ہم معاف فرما دیتے ہیں اور ان کے تھوڑے نیک اعمال کے بدلے ہم انہیں جنتی بنا دیتے ہیں ان کا یہی حکم ہے جیسے کہ وعدہ کیا اور فرمایا یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بروایت روح الامین علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” انسان کی نیکیاں اور بدیاں لائی جائیں گی اور ایک کو ایک کے بدلے میں کیا جائے گا پس اگر ایک نیکی بھی بچ رہی تو اللہ تعالیٰ اسی کے عوض اسے جنت میں پہنچا دے گا۔ “ راوی حدیث نے اپنے استاد سے پوچھا اگر تمام نیکیاں ہی برائیوں کے بدلے میں چلی جائیں تو؟ آپ نے فرمایا: ” ان کی برائیوں سے اللہ رب العزت تجاوز فرما لیتا ہے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:286/11:ضعیف] صفحہ نمبر8454 دوسری سند میں یہ بفرمان اللہ عزوجل مروی ہے۔
یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند بہت پختہ ہے، یوسف بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بصرہ پر غالب آئے اس وقت میرے ہاں مجمد بن حاطب رحمہ اللہ آئے۔ ایک دن مجھ سے فرمانے لگے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور اس وقت سیدنا عمار، صعصعہ، اشتر، محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ بعض لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نکالا اور کچھ گستاخی کی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، ہاتھ میں چھڑی تھی۔
حاضرین مجلس میں سے کسی نے کہا کہ آپ کے سامنے تو آپ کی اس بحث کا صحیح محاکمہ کرنے والے موجود ہی ہیں، چنانچہ سب لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: عثمان ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ» [46-الأحقاف:16] قسم اللہ کی یہ لوگ جن کا ذکر اس آیت میں ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے ساتھی، تین مرتبہ یہی فرمایا۔
راوی یوسف کہتے ہیں میں نے محمد بن حاطب رحمہ اللہ سے پوچھا: سچ کہو، تمہیں اللہ کی قسم تم نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، قسم اللہ کی میں نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سنا ہے ۔ صفحہ نمبر8455
تفسیر البغوی
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: (وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا) «اہلِ کوفہ نے “إِحْسَانًا” پڑھا ہے۔»
(حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا) اس سے دردِ زہ کی شدت مراد ہے۔ اہلِ حجاز اور ابو عمرو نے دونوں جگہ «كَرْهًا» کاف کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے، اور دوسرے قراء نے دونوں جگہ کاف کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔
(وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ) یعنی اس کا دودھ چھڑانا۔ یعقوب نے «وَفَصْلُهُ» الف کے بغیر پڑھا ہے۔
(ثَلَاثُونَ شَهْرًا) اس سے حمل کی کم سے کم مدت مراد ہے، جو چھ مہینے ہے، جبکہ دودھ پلانے کی زیادہ سے زیادہ مدت چوبیس مہینے ہے۔ عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب عورت نو مہینے حمل رکھتی ہے تو اکیس مہینے دودھ پلاتی ہے، اور جب چھ مہینے حمل رکھتی ہے تو چوبیس مہینے دودھ پلاتی ہے۔
(حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ) یعنی اپنی قوت کی انتہا، جوانی کی آخری حد اور پختگی کو پہنچ گیا۔ یہ عمر اٹھارہ سے چالیس سال کے درمیان ہے۔ یہی مراد ہے اس فرمان سے: (وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً) «اور وہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا۔»
سدی اور ضحاک نے کہا: یہ آیت سعد بن ابی وقاص کے بارے میں نازل ہوئی، اور اس کا واقعہ پہلے گزر چکا ہے۔ دوسرے لوگوں نے کہا: یہ آیت ابو بکر صدیق، ان کے والد ابو قحافہ عثمان بن عمرو، اور ان کی والدہ ام الخیر بنت صخر بن عمرو کے بارے میں نازل ہوئی۔ علی بن ابی طالب نے فرمایا: یہ آیت ابو بکر کے بارے میں نازل ہوئی؛ ان کے والدین دونوں اسلام لائے، اور مہاجرین میں ان کے سوا کسی اور کے والدین دونوں اسلام پر جمع نہ ہوئے۔ اللہ نے انہیں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرمائی، اور ان کے بعد بھی یہ حکم لازم رہا۔
ابو بکر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، اس وقت وہ اٹھارہ سال کے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیس سال کے؛ یہ شام کی ایک تجارتی مہم تھی۔ جب ابو بکر چالیس سال کے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا ہوئی تو وہ آپ پر ایمان لائے اور اپنے رب سے دعا کی:
(قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي) یعنی «اے میرے رب! مجھے الہام فرما۔»
(أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ) یعنی ہدایت اور ایمان کے ذریعے تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر جو نعمت فرمائی، اس کا شکر ادا کروں۔
(وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ) اور ایسا نیک عمل کروں جسے تو پسند فرمائے۔ ابن عباس نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ان کی دعا قبول فرمائی؛ انہوں نے اللہ کی راہ میں عذاب دیے جانے والے نو مومنوں کو آزاد کیا، اور جب بھی انہوں نے کسی نیکی کا ارادہ کیا تو اللہ نے اس میں ان کی مدد فرمائی۔ انہوں نے یہ دعا بھی کی:
(وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي) اور میری اولاد میں میرے لیے اصلاح فرما۔ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی؛ ان کی کوئی اولاد ایسی نہ تھی جو سب کی سب ایمان نہ لائی ہو۔ چنانچہ ان کے والدین اور ان کی تمام اولاد کا اسلام جمع ہوگیا۔ ابو قحافہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا، اسی طرح ان کے بیٹے ابو بکر، ابو بکر کے بیٹے عبدالرحمٰن بن ابی بکر، اور عبدالرحمٰن کے بیٹے ابو عتیق، ان سب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔ صحابہ میں کسی اور کو یہ شرف حاصل نہ تھا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان: (إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ) اسی طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان: (وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا) [اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو] (البقرة: 83)۔
تفسیر ابن کثیر میں نقل کیا گیا ہے کہ یہ آیت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی؛ ان کے والدین اور ان کی تمام اولاد نے اسلام قبول کیا تھا۔