رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا، وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ، وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا. رَبَّنَا، إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ.
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال[1] ، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت ومہربانی کرنے واﻻ ہے.
اس دعا میں «اغْفِرْ لَنَا» (ہمیں بخش دے) فعلِ امر اور «لَا تَجْعَلْ» (نہ ڈال) نہی کا صیغہ ہے۔ بعد میں آنے والے تمام مسلمان صحابۂ کرام کے لیے دعا کرتے ہیں اور اپنے دلوں کو حسد اور کینے سے پاک رکھنے کی التجا کرتے ہیں۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
بعد میں آنے والوں کے لیے فضیلت کی یہی کافی بات ہے کہ وہ ان کے نقشِ قدم پر چلیں اور ان کی ہدایت کی پیروی کریں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد آنے والوں میں سے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو ان کی پیروی کرتے اور ان کے پیچھے چلتے ہیں، چنانچہ فرمایا: «اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے» یعنی مہاجرین اور انصار کے بعد۔ وہ اپنے اور تمام اہلِ ایمان کے لیے خیرخواہی کرتے ہوئے کہتے ہیں: «اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔»
یہ دعا تمام اہلِ ایمان کو شامل ہے: پہلے گزر جانے والے صحابہ، ان سے پہلے کے لوگ اور ان کے بعد آنے والے۔ ایمان کی فضیلتوں میں سے یہ ہے کہ اہلِ ایمان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے اور ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں، کیونکہ ایمان میں شرکت مؤمنین کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کرتی ہے۔ اس اخوت کے تقاضوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور ایک دوسرے سے محبت رکھیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دعا میں دل سے کینے کی نفی کا ذکر فرمایا، جس میں تھوڑا اور زیادہ، دونوں طرح کا کینہ شامل ہے۔ جب کینہ زائل ہو جاتا ہے تو اس کی ضد، یعنی مؤمنین کے درمیان محبت، دوستی، خیرخواہی اور اسی طرح کے دوسرے امور ثابت ہوتے ہیں جو اہلِ ایمان کے باہمی حقوق میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کے بعد آنے والوں کو ایمان کے ساتھ موصوف کیا، کیونکہ ان کا یہ کہنا کہ «وہ ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں» ایمان میں شرکت اور عقائدِ ایمان اور ان کے اصول میں صحابہ کی پیروی پر دلالت کرتا ہے۔ یہی اہلِ سنت والجماعت ہیں، کیونکہ یہ کامل وصف انہی پر صادق آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے گناہوں کا اقرار کرنے، ان سے مغفرت طلب کرنے، ایک دوسرے کے لیے بخشش مانگنے اور اپنے مؤمن بھائیوں کے حق میں دلوں سے کینہ اور عداوت دور کرنے کی بھرپور کوشش کرنے والوں کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ ان کا یہ دعا کرنا ان باتوں کو لازم کرتا اور ان پر مشتمل ہے جن کا ہم نے ذکر کیا؛ یعنی ان کا ایک دوسرے سے محبت کرنا، اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرنا جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور حاضر و غائب، زندہ و مردہ، ہر حال میں اس کی خیرخواہی کرنا۔ یہ آیتِ کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یہ سب مؤمنین کے باہمی حقوق میں شامل ہیں۔
پھر انہوں نے اپنی دعا کا اختتام اللہ تعالیٰ کے دو مبارک ناموں سے کیا، جو اس کی کامل رحمت، اپنے بندوں پر بے پایاں شفقت اور ان کے ساتھ احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے، بلکہ سب سے عظیم احسان، انہیں اللہ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دینا ہے۔
یہ تینوں جماعتیں اس امت کے طبقات ہیں اور یہی اس مالِ فَے کے مستحق ہیں جس کے مصارف اسلام کے مفادات کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہی اس کے اہل ہیں؛ اللہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان میں شامل فرمائے۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
رافضی کو مال فے نہیں ملے گا ٭٭ ایک حدیث میں ہے جس نے زکوٰۃ ادا کی اور مہمانداری کی اور اللہ کی راہ کے ضروری کاموں میں دیا وہ اپنے نفس کی بخیلی سے دور ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33883]
پھر مال فے کے مستحقین لوگوں کی تیسری قسم کا بیان ہو رہا ہے کہ انصار اور مہاجر کے فقراء کے بعد ان کے تابع جو ان کے بعد کے لوگ ہیں ان میں سے مساکین بھی اس مال کے مستحق ہیں جو اللہ تعالیٰ سے اپنے سے اگلے باایمان لوگوں کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں جیسے کہ سورۃ برات میں ہے «وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ» [9-التوبة:100] یعنی ” اول اول سبقت کرنے والے مہاجر و انصار اور ان کے بعد کے وہ لوگ جو
احسان میں ان کے متبع ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے خوش ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں۔ “ یعنی یہ بعد کے لوگ ان اگلوں کے آثار حسنہ اور اوصاف جمیلہ کی اتباع کرنے والے اور انہیں نیک دعاؤں سے یاد رکھنے والے ہیں گویا ظاہر باطن ان کے تابع ہیں۔
اس دعا سے امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے کتنا پاکیزہ استدلال کیا ہے کہ رافضی کو مال فے سے امام وقت کچھ نہ دے کیونکہ وہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کرنے کی بجائے انہیں گالیاں دیتے ہیں۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ” ان لوگوں کو دیکھو کس طرح قرآن کے خلاف کرتے ہیں قرآن حکم دیتا ہے کہ مہاجر و انصار کے لیے دعائیں کرو اور یہ گالیاں دیتے ہیں “ ، پھر یہی آیت «وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [59-الحشر:10] آپ نے تلاوت فرمائی۔
[ابن ابی حاتم:ضعیف] صفحہ نمبر9409 اور روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہ امت ختم نہ ہو گی یہاں تک کہ ان کے پچھلے ان کے پہلوں کو لعنت کریں گے [بغوی فی التفسیر:321/4:اسنادہ ضعیف]
ابوداؤد میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا «وَمَا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَـكِنَّ اللَّـهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [59-الحشر:6] میں جس مال فے کا بیان ہے وہ تو خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔
اسی طرح اس کے بعد کی «مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ» [59-الحشر:7] والی نے عام کر دیا ہے تمام مسلمانوں کو اس میں شامل کر لیا ہے اب ایک مسلمان بھی ایسا نہیں جس کا حق اس مال میں نہ ہو سوائے تمہارے غلاموں کے، اس حدیث کی سند میں انقطاع ہے۔ [سنن ابوداود:2966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں ہے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے «نَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ» [9-التوبة:60] تک پڑھ کر فرمایا ” مال زکوٰۃ کے مستحق تو یہ لوگ ہیں۔ “
پھر «وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ» [8-الأنفال:41] والی پوری آیت کو پڑھ کر فرمایا مال غنیمت کے مستحق یہ لوگ ہیں۔
پھر یہ «مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ» [59-الحشر:7] پڑھ کر فرمایا ” مال فے کے مستحقین کو بیان فرماتے ہوئے اس آیت نے تمام مسلمانوں کو اس مال فے کا مستحق کر دیا ہے، سب اس کے مستحق ہیں۔
اگر میں زندہ رہا تو تم دیکھو گے کہ گاؤں گوٹھوں کے چرواہے کو بھی اس کا حصہ دوں گا جس کی پیشانی پر اس مال کے حاصل کرنے کے لیے پسینہ تک نہ آیا ہو۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:33861:صحیح] صفحہ نمبر9410
تفسیر البغوی
اللہ عزوجل کے فرمان «اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے» سے مراد تابعین ہیں؛ یعنی وہ لوگ جو مہاجرین اور انصار کے بعد قیامت تک آئیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ اپنے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان میں ان سے پہلے گزر چکے ہیں، دعا اور مغفرت طلب کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا: «وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، اور ان لوگوں کے بارے میں ہمارے دلوں میں کینہ نہ ڈال جو ایمان لائے ہیں۔» یہاں «غِلّ» سے مراد خیانت، حسد اور بغض ہے۔
«اے ہمارے رب! بے شک تو نہایت شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔»
جس شخص کے دل میں صحابہ میں سے کسی کے لیے کینہ ہو اور وہ ان سب کے لیے رحمت کی دعا نہ کرے، وہ ان لوگوں میں شامل نہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مراد لیا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو تین طبقات میں تقسیم فرمایا ہے: مہاجرین، انصار اور تابعین، جنہیں ان اوصاف سے موصوف کیا گیا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا۔ پس جو شخص تابعین کی ان صفات پر نہ ہو، وہ مؤمنین کے ان طبقات سے باہر ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا: لوگ تین طبقات ہیں: فقیر مہاجرین، وہ لوگ جنہوں نے مدینہ کو ٹھکانا بنایا اور ایمان کو اختیار کیا، اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے۔ پس کوشش کرو کہ ان طبقات سے باہر نہ رہ جاؤ۔
ہمیں ابو سعید الشریحی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو اسحاق الثعلبی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن حامد نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں احمد بن عبداللہ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں ابن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے اسماعیل بن ابراہیم سے، انہوں نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے مسروق سے، اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: تمہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا، مگر تم نے انہیں برا بھلا کہا۔
میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: «یہ امت اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک اس کے آخری لوگ اس کے پہلے لوگوں پر لعنت نہ کریں۔»
مالک بن مغول نے کہا: عامر بن شراحیل الشعبی نے کہا: اے مالک! یہود و نصاریٰ نے رافضہ پر فضیلت پائی۔ یہودیوں سے پوچھا گیا: تمہارے دین والوں میں سب سے بہتر کون ہیں؟ انہوں نے کہا: موسیٰ علیہ السلام کے صحابہ۔ نصاریٰ سے پوچھا گیا: تمہارے دین والوں میں سب سے بہتر کون ہیں؟
انہوں نے کہا: عیسیٰ علیہ السلام کے حواری۔ اور رافضہ سے پوچھا گیا: تمہارے دین والوں میں سب سے بدتر کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ۔ انہیں صحابہ کے لیے استغفار کا حکم دیا گیا تھا، مگر انہوں نے انہیں برا بھلا کہا۔
لہٰذا ان کے خلاف قیامت تک تلوار کھنچی رہے گی؛ ان کا کوئی جھنڈا سربلند نہیں ہوگا، ان کے قدم ثابت نہ رہیں گے اور ان کی جماعت متحد نہ ہوگی۔ جب بھی وہ جنگ کی آگ بھڑکائیں گے، اللہ ان کے خون بہا کر، ان کی جمعیت منتشر کرکے اور ان کی دلیل باطل کرکے اسے بجھا دے گا۔ اللہ ہمیں اور آپ کو گمراہ کن خواہشات سے محفوظ رکھے۔
مالک بن انس نے کہا: جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی سے بغض رکھے یا اس کے دل میں ان کے خلاف کینہ ہو، مسلمانوں کے مالِ فَے میں اس کا کوئی حق نہیں۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تلاوت کیا: «جو مال اللہ نے بستیوں والوں سے اپنے رسول کو لوٹایا» یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچے: «فقراء مہاجرین کے لیے، اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے مدینہ کو ٹھکانا بنایا اور ایمان کو اختیار کیا، اور ان لوگوں کے لیے جو ان کے بعد آئے» سے لے کر «نہایت شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا» تک۔
صحیح مسلم (حدیث نمبر 2541) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا۔