اللہ پر توکل اور رجوع
رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا، وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ. رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا، وَاغْفِرْ لَنَا. رَبَّنَا، إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ.
رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
آڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ کوشش کریں۔
(مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے[1] ، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں[2]۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ﻇاہر ہوگئی[3] لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی[4] کہ میں تمہارے لیے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لیے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے[5] اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے. اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال[1] اور اے ہمارے پالنے والے ہماری خطاؤں کو بخش دے، بیشک تو ہی غالب، حکمت واﻻ ہے.
دعا کے اس حصے میں توکل (تَوَكُّل) اور اللہ کی طرف رجوع (إِنَابَة) کے الفاظ ہیں، جن کے بعد «لَا تَجْعَلْنَا» کے ذریعے ممانعت اور پھر مغفرت کی درخواست آتی ہے۔
شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر
اے اہلِ ایمان! یقیناً تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں میں بہترین نمونہ اور ایسی نیک پیروی ہے جو تمہیں فائدہ پہنچائے گی، کیونکہ تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ یکسو ہو کر ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: «ہم تم سے اور ان سے جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، بیزار ہیں» یعنی ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھ اہلِ ایمان نے اپنی مشرک قوم اور ان معبودوں سے براءت کا اظہار کیا جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے۔
پھر انہوں نے اپنی دشمنی بالکل واضح کرتے ہوئے کہا: «ہم نے تمہارا انکار کیا، اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا» یعنی دلوں کا بغض اور محبت کا ختم ہوجانا، اور جسمانی طور پر دشمنی۔ اس دشمنی اور بغض کا نہ کوئی وقت مقرر ہے نہ کوئی حد، بلکہ یہ «ہمیشہ» رہے گا، جب تک تم اللہ وحدہٗ پر ایمان نہ لے آؤ۔ جب تم صرف اللہ پر ایمان لے آؤ گے تو دشمنی اور بغض ختم ہو کر محبت اور دوستی میں بدل جائیں گے۔ پس اے اہلِ ایمان!
ایمان اور توحید قائم کرنے، ان کے تقاضوں کو پورا کرنے اور ہر اس عبادت میں جو صرف اللہ کے لیے کی جائے، ابراہیم اور ان کے ساتھ والوں کے لیے تمہارے پاس نمونہ ہے۔
البتہ ایک بات میں ان کی پیروی نہیں ہے، اور وہ ہے «ابراہیم کا اپنے باپ سے کہنا»—یعنی مشرک، کافر اور حق کے مقابلے میں اڑ جانے والے آزر سے، جب ابراہیم نے اسے ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے انکار کردیا، تو ابراہیم نے کہا: «میں ضرور تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں گا»؛ حالاں کہ «میں اللہ کے مقابلے میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا»۔ البتہ میں اپنے رب سے دعا کرتا ہوں کہ شاید اپنے رب سے دعا کرنے کے سبب محروم نہ رہوں۔ لہٰذا اس موقع پر ابراہیم کی پیروی کرتے ہوئے مشرکین کے لیے دعا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں، اور یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس معاملے میں ہم ملتِ ابراہیم کی پیروی کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ابراہیم کا عذر بیان فرمایا ہے: «اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرنا صرف اس وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے اس سے کیا تھا، پھر جب ان پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگئے۔ بے شک ابراہیم بہت آہ و زاری کرنے والے، بردبار تھے۔»
اور ابراہیم اور ان کے ساتھ والوں میں تمہارے لیے بہترین نمونہ اس وقت بھی ہے جب انہوں نے اللہ سے دعا کی، اسی پر بھروسا کیا، اسی کی طرف رجوع کیا اور اپنی بے بسی اور کوتاہی کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا: «اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسا کیا» یعنی نفع پہنچانے والی چیزیں حاصل کرنے اور نقصان دہ چیزوں کو دور کرنے کے لیے ہم نے تجھ ہی پر اعتماد کیا، اور اس معاملے میں تجھ پر یقین رکھا، اے ہمارے رب! «اور تیری ہی طرف رجوع کیا» یعنی ہم تیری اطاعت، تیری رضا اور ہر اس کام کی طرف لوٹ آئے جو ہمیں تیرے قریب کرے۔
ہم اسی کے لیے کوشش کرتے اور نیک کام کرنے میں محنت کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے، اس لیے ہم تیرے حضور حاضر ہونے کی تیاری کرتے اور وہ کام کرتے ہیں جو ہمیں تیرے قرب کی منزل تک پہنچائیں۔
«اے ہمارے رب! ہمیں کافروں کے لیے آزمائش نہ بنا» یعنی ہمارے گناہوں کے سبب انہیں ہم پر مسلط نہ کر، کہ وہ ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور ایمان کے ان اعمال سے روک دیں جن پر انہیں قدرت حاصل ہے۔ وہ خود بھی اس طرح آزمائش میں پڑیں گے، کیونکہ جب وہ اپنی فتح دیکھیں گے تو سمجھیں گے کہ وہ حق پر اور ہم باطل پر ہیں، چنانچہ ان کے کفر اور سرکشی میں اضافہ ہوجائے گا۔ «اور ہمیں بخش دے» ان گناہوں اور برائیوں کو جو ہم نے کیے، اور ان فرائض کی ادائیگی میں جو کوتاہی ہوئی۔
«اے ہمارے رب! بے شک تو ہی غالب ہے» یعنی ہر چیز پر غالب، «حکمت والا» یعنی ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے والا۔ پس اپنی عزت اور حکمت کے وسیلے سے ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری کوتاہیوں کی اصلاح فرما۔
امام ابن کثیر کی تفسیر
عصبیت دین ایمان جز لاینفک ہیں ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کفار سے موالات اور دوستی نہ کرنے کی ہدایت فرما کر ان کے سامنے اپنے خلیل اور ان کے اصحاب کا نمونہ پیش کر رہا ہے کہ انہوں نے صاف طور پر اپنے رشتہ کنبے اور قوم کے لوگوں سے برملا فرما دیا کہ ہم تم سے اور جنہیں تم پوجتے ہو ان سے بیزار، بری الذمہ اور الگ تھلگ ہیں، ہم تمہارے دین اور طریقے سے متنفر ہیں، جب تک تم اسی طریقے اور اسی مذہب پر ہو، تم ہمیں اپنا دشمن سمجھو، ناممکن ہے کہ برادری کی وجہ سے ہم تمہارے اس کفر کے باوجود تم سے بھائی چارہ اور دوستانہ تعلقات رکھیں،
ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تم اللہ وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لے آؤ اس کی توحید کو مان لو اور اسی ایک کی عبادت شروع کر دو اور جن جن کو تم نے اللہ کا شریک اور ساجھی ٹھہرا رکھا ہے اور جن جن کی پوجا پاٹ میں مشغول ہو ان سب کو ترک کر دو اپنی اس روش کفر اور طریق شرک سے ہٹ جاؤ، تم پھر بیشک ہمارے بھائی ہو، ہمارے عزیز ہو، ورنہ ہم میں تم میں کوئی اتحاد و اتفاق نہیں، ہم تم سے اور تم ہم سے علیحدہ ہو، ہاں یہ یاد رہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے جو استغفار کا وعدہ کیا تھا اور پھر اسے پورا کیا اس میں ان کی اقتداء نہیں،
اس لیے کہ یہ استغفار اس وقت تک رہا جس وقت تک کہ اپنے والد کا دشمن اللہ ہونا ان پر وضاحت کے ساتھ ظاہر نہ ہوا تھا جب انہیں یقینی طور پر اس کی اللہ سے دشمنی کھل گئی تو اس سے صاف بیزاری ظاہر کر دی،
بعض مومن اپنے مشرک ماں باپ کے لیے دعا و استغفار کرتے تھے اور سند میں ابراہیم علیہ السلام کا اپنے والد کے لیے دعا مانگنا پیش کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فرمان «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّـهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» [9-التوبہ:113-114] پوری دو آیتوں تک نازل فرمایا اور یہاں بھی اسوہ ابراہیمی میں سے اس کا استثناء کر لیا کہ اس بات میں ان کی پیروی تمہارے لیے ممنوع ہے اور ابراہیم علیہ السلام کے اس استغفار کی تفصیل بھی کر دی اور اس کا خاص سبب اور خاص وقت بھی بیان فرما دیا،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، مقاتل بن حیان، ضحاک رحمہا اللہ علیہم وغیرہ نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ قوم سے براءت کر کے اب اللہ کی بارگاہ میں آتے ہیں اور جناب باری میں عاجزی اور انکساری سے عرض کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ تمام کاموں میں ہمارا بھروسہ اور اعتماد تیری ہی پاک ذات پر ہے، ہم اپنے تمام کام تجھے سونپتے ہیں، تیری طرف رجوع و رغبت کرتے ہیں، دار آخرت میں بھی ہمیں تیری ہی جانب لوٹنا ہے۔ صفحہ نمبر9445
مومنوں کی دعا ٭٭ پھر کہتے ہیں الٰہی تو ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا، یعنی ایسا نہ ہو کہ یہ ہم پر غالب آ کر ہمیں مصیبت میں مبتلا کر دیں، اسی طرح یہ بھی نہ ہو کہ تیری طرف سے ہم پر کوئی عتاب و عذاب نازل ہو اور وہ ان کے اور بہکنے کا سبب بنے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو اللہ انہیں عذاب کیوں کرتا؟ اگر یہ کسی میدان میں جیت گئے تو بھی ان کے لیے یہ فتنہ کا سبب ہو گا وہ سمجھیں گے کہ ہم اس لیے غالب آئے کہ ہم ہی حق پر ہیں، اسی طرح اگر یہ ہم پر غالب آ گئے تو ایسا نہ ہو کہ ہمیں تکلیفیں پہنچا پہنچا کر تیرے دین سے برگشتہ کر دیں۔
پھر دعا مانگتے ہیں کہ الٰہی ہمارے گناہوں کو بھی بخش دے، ہماری پردہ پوشی کر اور ہمیں معاف فرما، تو عزیز ہے تیری جناب میں پناہ لینے والا نامراد نہیں پھرتا، تیرے در پر دستک دینے والا خالی ہاتھ نہیں جاتا، تو اپنی شریعت کے تقرر میں، اپنے اقوال و افعال میں اور قضاء و قدر کے مقدر کرنے میں حکمتوں والا ہے، تیرا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔
پھر بطور تاکید کے وہی پہلی بات دہرائی جاتی ہے کہ ان میں تمہارے لیے نیک نمونہ ہے جو بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے آنے کی حقانیت پر ایمان رکھتا ہو اسے ان کی اقتداء میں آگے بڑھ کر قدم رکھنا چاہیئے اور جو احکام اللہ سے روگردانی کرے وہ جان لے کہ اللہ اس سے بےپرواہ ہے، وہ لائق حمد و ثناء ہے، مخلوق اس خالق کی تعریف میں مشغول ہے، جیسے اور جگہ ہے «إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-ابراھیم:8] ” اگر تم اور تمام روئے زمین کے لوگ کفر پر اور اللہ کے نہ ماننے پر اتر آئیں تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ تعالیٰ سب سے غنی سب سے بے نیاز اور سب سے بےپرواہ ہے اور وہ تعریف کیا گیا ہے “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غنی اسے کہا جاتا ہے جو اپنی غنا میں کامل ہو۔ اللہ تعالیٰ ہی کی یہ صفت ہے کہ وہ ہر طرح سے بے نیاز اور بالکل بےپرواہ ہے کسی اور کی ذات ایسی نہیں، اس کا کوئی ہمسر نہیں اس کے مثل کوئی اور نہیں، وہ پاک ہے، اکیلا ہے، سب پر حاکم، سب پر غالب، سب کا بادشاہ ہے، حمید ہے یعنی مخلوق اسے سراہ رہی ہے، اپنے جمیع اقوال میں تمام افعال میں وہ ستائشوں اور تعریفوں والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے سوا کوئی پالنے والا نہیں، رب وہی ہے معبود وہی ہے۔ صفحہ نمبر9446
تفسیر البغوی
«تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے» یعنی بہترین پیشوا۔ «ابراہیم اور ان کے ساتھ والوں میں» یعنی اہلِ ایمان میں۔ «جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا» یعنی اپنی مشرک قوم سے: «ہم تم سے بیزار ہیں»۔ «بَرِيء» کی جمع «بُرَآء» ہے۔ «اور ان سے بھی جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو؛ ہم نے تمہارا انکار کیا» یعنی تمہارے دین کو جھٹلایا اور اس سے براءت ظاہر کی۔
«اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا، یہاں تک کہ تم اللہ وحدہٗ پر ایمان لے آؤ۔» اللہ تعالیٰ حاطب اور اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ مشرکین سے براءت کے معاملے میں ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھ اہلِ ایمان کی پیروی کریں۔
«سوائے ابراہیم کے اپنے باپ سے کہنے کے: میں ضرور تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں گا» یعنی ابراہیم اور ان کے معاملات میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے، مگر ان کے اپنے مشرک باپ کے لیے استغفار کرنے میں نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے کہا تھا: میں ضرور تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں گا، پھر اس سے براءت اختیار کرلی—جیسا کہ ہم نے سورۂ توبہ میں ذکر کیا ہے۔ «اور میں اللہ کے مقابلے میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا» یعنی ابراہیم اپنے باپ سے کہہ رہے ہیں: اگر تم اللہ کی نافرمانی اور اس کے ساتھ شرک کرو تو میں تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور نہ تم سے اللہ کا عذاب دور کرسکتا ہوں۔
«اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسا کیا» یہ ابراہیم اور ان کے ساتھ اہلِ ایمان نے کہا۔ «اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔»
«اے ہمارے رب! ہمیں کافروں کے لیے آزمائش نہ بنا۔» زجاج نے کہا: انہیں ہم پر غالب نہ کر، ورنہ وہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور یوں آزمائش میں پڑ جائیں گے۔ مجاہد نے کہا: ہمیں ان کے ہاتھوں عذاب نہ دے اور نہ اپنی طرف سے کسی عذاب میں مبتلا کر، ورنہ وہ کہیں گے: اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو انہیں یہ مصیبت نہ پہنچتی۔ «اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب! بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔»
صحیح البخاری (حدیث نمبر 4519) میں خالق پر توکل کرنے کے معاملے میں ابراہیم علیہ السلام کے نمونے کا ذکر روایت کیا گیا ہے۔