دعا 58 شر سے حفاظت 10 منٹ مطالعہ

آسیہ کی جنت کی دعا

آسیہ بنت مزاحم 66:11
عربی متن

رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ، وَعَمَلِهِ، وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ.

رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

عربی متن اعراب کے ساتھ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ التحريم 66:11
دعا سنیں 0:00 0:00
آواز
نقلِ صوتی Rabbi ibni li ‘indaka baitan fil-jannati wa najjini min Fir‘awna wa ‘amalihi wa najjini minal-qawmiz-zalimin
بامحاورہ ترجمہ
Muhammad JunagarhiUR

اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی[1] جبکہ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ﻇالم لوگوں سے خلاصی دے.

مفہوم اور خصوصیت

افعال: «اِبْنِ لِي» (میرے لیے بنا دے) اور «نَجِّنِي» (مجھے نجات دے)۔ ایسی عظیم خاتون کی مثال، جس نے مصر کے تمام خزانوں پر جنت میں اللہ تعالیٰ کی قربت کو ترجیح دی۔

تفسیر اور اسباق

شیخ عبدالرحمن السعدی کی تفسیر

اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی۔ وہ آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا تھیں۔ جب انہوں نے کہا: «اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے، اور مجھے ظالم لوگوں سے بچا لے۔»

اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف ایمان، اپنے رب کے حضور عاجزی اور اپنے رب سے سب سے بڑی مراد مانگنے کے ساتھ بیان فرمایا، اور وہ جنت میں داخل ہونا اور کریم رب کی قربت حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعا کی کہ اللہ انہیں فرعون کے فتنے اور اس کے ناپاک اعمال سے، اور ہر ظالم کے فتنے سے نجات دے۔ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی، چنانچہ وہ کامل ایمان، پختہ ثابت قدمی اور فتنوں سے نجات کے ساتھ زندگی گزارتی رہیں۔

اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بہت سے مرد کمال کو پہنچے، لیکن عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم اور خدیجہ بنت خویلد کمال کو پہنچیں؛ اور عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔»

امام ابن کثیر کی تفسیر

سعادت مند آسیہ (فرعون کی بیوی) ٭٭ یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے مثال بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ” اگر یہ اپنی ضرورت پر کافروں سے خلط ملط ہوں تو انہیں کچھ نقصان نہ ہو گا “ ۔

جیسے اور جگہ ہے «لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّـهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً» [3-آل عمران:28] الخ ” ایمانداروں کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے سوا اوروں سے دوستیاں نہ کریں، جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی بھلائی میں نہیں، ہاں اگر بطور بچاؤ اور دفع الوقتی کے ہو تو اور بات ہے “ ۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” روئے زمین کے تمام تر لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش فرعون تھا لیکن اس کے کفر نے بھی اس کی بیوی کو کچھ نقصان نہ پہنچایا اس لیے کہ وہ اپنے زبردست ایمان پر پوری طرح قائم تھیں اور رہیں۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل حاکم ہے وہ ایک گناہ پر دوسرے کو نہیں پکڑتا۔

“ صفحہ نمبر9620 سلمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” فرعون اس نیک بخت بیوی کو طرح طرح سے ستاتا تھا، سخت گرمیوں میں انہیں دھوپ میں کھڑا کر دیتا لیکن پروردگار اپنے فرشتوں کے پروں کا سایہ ان پر کر دیتا اور انہیں گرمی کی تکلیف سے بچا لیتا بلکہ ان کے جنتی مکان کو دکھا دیتا جس سے ان کی روح کی تازگی اور ایمان کی زیادتی ہو جاتی، فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کی بابت یہ دریافت کرتی رہتی تھیں کہ کون غالب رہا تو ہر وقت یہی سنتیں کہ موسیٰ علیہ السلام غالب رہے، بس یہی ان کے ایمان کا باعث بنا اور یہ پکار اٹھیں کہ میں موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے رب پر ایمان لائی۔

فرعون کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ جو بڑی سے بڑی پتھر کی چٹان تمہیں ملے اسے اٹھا لاؤ اسے چت لٹاؤ اور اسے کہو کہ اپنے اس عقیدے سے باز آئے اگر باز آ جائے تو میری بیوی ہے عزت و حرمت کے ساتھ واپس لاؤ اور اگر نہ مانے تو وہ چٹان اس پر گرا دو اور اس کا قیمہ قیمہ کر ڈالو، جب یہ لوگ پتھر لائے انہیں لے گئے لٹایا اور پتھر ان پر گرانے کے لیے اٹھایا تو انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی پروردگار نے حجاب ہٹا دیئے اور جنت کو اور وہاں جو مکان ان کے لیے بنایا گیا تھا اسے انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لیا اور اسی میں ان کی روح پرواز کر گئی جس وقت پتھر پھینکا گیا اس وقت ان میں روح تھی ہی نہیں، اپنی شہادت کے وقت دعا مانگتی ہیں کہ ” اللہ!

جنت میں اپنے قریب کی جگہ مجھے عنایت فرما “ ، اس دعا کی اس باریکی پر بھی نگاہ ڈالئے کہ پہلے اللہ کا پڑوس مانگا جا رہا ہے پھر گھر کی درخواست کی جا رہی ہے۔ “ اس واقعہ کے بیان میں مرفوع حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔ [طبرانی:4379:ضعیف] صفحہ نمبر9621 پھر دعا کرتی ہیں کہ ” مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے میں اس کی کفریہ حرکتوں سے بیزار ہوں، مجھے اس ظالم قوم سے عافیت میں رکھ “ ، ان بیوی صاحبہ کا نام آسیہ رضی اللہ عنہا بنت مزاحم تھا۔

ان کے ایمان لانے کا واقعہ ابوالعالیہ رحمہ اللہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ” فرعون کے داروغہ کی عورت کا ایمان ان کے ایمان کا باعث بنا، وہ ایک روز فرعون کی لڑکی کا سر گوندھ رہی تھی، اچانک کنگھی ہاتھ سے گر گئی اور ان کے منہ سے نکل گیا کہ کفار برباد ہوں اس پر فرعون کی لڑکی نے پوچھا کہ کیا میرے باپ کے سوا تو کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے؟ اس نے کہا: میرا اور تیرے باپ کا اور ہر چیز کا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس نے غصہ میں آ کر انہیں خوب مارا پیٹا اور اپنے باپ کو اس کی خبر دی، فرعون نے انہیں بلا کر خود پوچھا کہ کیا تم میرے سوا کسی اور کی عبادت کرتی ہو؟

جواب دیا کہ ہاں میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہے، میں اسی کی عبادت کرتی ہوں، فرعون نے حکم دیا اور انہیں چت لٹا کر ان کے ہاتھ پیروں پر میخیں گڑوا دیں اور سانپ چھوڑ دیئے جو انہیں کاٹتے رہیں، پھر ایک دن آیا اور کہا: اب تیرے خیالات درست ہوئے؟ وہاں سے جواب ملا کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہی ہے، فرعون نے کہا: اب تیرے سامنے میں تیرے لڑکے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا ورنہ اب بھی میرا کہا مان لے اور اس دین سے باز آ جا، انہوں نے جواب دیا کہ جو کچھ تو کر سکتا ہو کر ڈال، اس ظالم نے ان کے لڑکے کو منگوایا اور ان کے سامنے اسے مار ڈالا، جب اس بچہ کی روح نکلی تو اس نے کہا: اے ماں!

خوش ہو جا، تیرے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے ثواب تیار کر رکھے ہیں اور فلاں فلاں نعمتیں تجھے ملیں گی۔ انہوں نے اس روح فرسا سانحہ کو بچشم خود دیکھا لیکن صبر کیا اور راضی بہ قضاء ہو کر بیٹھی رہیں، فرعون نے انہیں پھر اسی طرح باندھ کر ڈلوا دیا اور سانپ چھوڑ دیئے پھر ایک دن آیا اور اپنی بات دہرائی بیوی صاحبہ نے پھر نہایت صبر و استقلال سے وہی جواب دیا اس نے پھر وہی دھمکی دی اور ان کے دوسرے بچے کو بھی ان کے سامنے ہی قتل کرا دیا۔

صفحہ نمبر9622 اس کی روح نے بھی اسی طرح اپنی والدہ کو خوشخبری دی اور صبر کی تلقین کی، فرعون کی بیوی صاحبہ نے بڑے بچہ کی روح کی خوشخبری سنی تھی، اب اس چھوٹے بچے کی روح کی بھی خوشخبری سنی اور ایمان لے آئیں، ادھر ان بیوی صاحبہ کی روح اللہ تعالیٰ نے قبض کر لی اور ان کی منزل و مرتبہ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تھا وہ حجاب ہٹا کر فرعون کی بیوی کو دکھا دیا گیا۔

یہ اپنے ایمان و یقین میں بہت بڑھ گئیں یہاں تک کہ فرعون کو بھی ان کے ایمان کی خبر ہو گئی، اس نے ایک روز اپنے درباریوں سے کہا تمہیں کچھ میری بیوی کی خبر ہے؟ تم اسے کیا جانتے ہو؟

سب نے بڑی تعریف کی اور ان کی بھلائیاں بیان کیں فرعون نے کہا: تمہیں نہیں معلوم وہ بھی میرے سوا دوسرے کو اللہ مانتی ہے، پھر مشورہ ہوا کہ انہیں قتل کر دیا جائے، چنانچہ میخیں گاڑی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دیا گیا، اس وقت آسیہ علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ ” پروردگار میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا “ ، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حجاب ہٹا کر انہیں ان کا جنتی درجہ دکھا دیا جس پر یہ ہنسنے لگیں، ٹھیک اسی وقت فرعون آ گیا اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر کہنے لگا، لوگو!

تمہیں تعجب نہیں معلوم ہوتا کہ اتنی سخت سزا میں یہ مبتلا ہے اور پھر ہنس رہی ہے یقیناً اس کا دماغ ٹھکانے نہیں، الغرض انہی عذابوں میں یہ بھی شہید ہوئیں “ «رضی اللہ عنہا» ۔ صفحہ نمبر9623

تفسیر البغوی

پھر اللہ نے خبر دی کہ کسی دوسرے کی نافرمانی ایمان والے کو نقصان نہیں پہنچاتی، جب وہ خود فرمانبردار ہو۔ چنانچہ فرمایا: «اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی۔» وہ آسیہ بنت مزاحم تھیں۔ مفسرین نے کہا ہے: جب موسیٰ علیہ السلام جادوگروں پر غالب آگئے تو فرعون کی بیوی ایمان لے آئیں۔

جب فرعون پر ان کا اسلام ظاہر ہوگیا تو اس نے ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو چار میخوں سے باندھ دیا اور انہیں دھوپ میں ڈال دیا۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: فرعون کی بیوی کو دھوپ میں عذاب دیا جاتا، اور جب عذاب دینے والے وہاں سے ہٹ جاتے تو فرشتے ان پر سایہ کرتے۔ «جب انہوں نے کہا: اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔»

تو اللہ نے ان کے سامنے جنت میں ان کا گھر ظاہر کردیا، یہاں تک کہ انہوں نے اسے دیکھ لیا۔ اس قصے میں ہے کہ فرعون نے حکم دیا کہ ان پر ایک بہت بڑا پتھر پھینکا جائے۔ جب لوگ وہ پتھر لے کر آئے تو انہوں نے کہا: «اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔»

پس انہوں نے جنت میں موتیوں کا ایک سفید گھر دیکھا۔ ان کی روح قبض کرلی گئی، پھر پتھر ان کے ایسے جسم پر پھینکا گیا جس میں روح نہ تھی، اس لیے انہیں کوئی تکلیف محسوس نہ ہوئی۔ حسن اور ابن کیسان نے کہا: اللہ نے فرعون کی بیوی کو جنت میں اٹھا لیا، چنانچہ وہ وہاں کھاتی پیتی ہیں۔ «اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے۔»

مقاتل نے کہا: اس کے عمل سے مراد شرک ہے۔ ابن عباس سے ابو صالح نے روایت کیا کہ «اس کے عمل» سے مراد اس کی جماع ہے۔ «اور مجھے ظالم لوگوں سے بچا لے۔» یعنی کافروں سے۔

تائیدی حدیث

صحیح البخاری (حدیث نمبر 3411) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے: «بہت سے مرد کمال کو پہنچے، لیکن عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کمال کو پہنچیں۔»

نشانیاں
  • #آسیہ بنت مزاحم
  • #فرعون
  • #ایمان
  • #جنت
  • #دعا
  • #ظالم لوگ

دعاؤں میں تلاش

موضوع، سورت، ترجمے، تفسیر یا عربی متن سے تلاش کریں۔ عربی میں بھی تلاش کر سکتے ہیں—اعراب ضروری نہیں۔

↑ ↓ navigate · ↵ open · esc close نتائج →